Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

جس بھی ن لیگ کے رہنما نے اس سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے اُسے کھڑے ہو کر سلام ہے تم خود کون ہو ؟ تمھاری گردن میں سریا نہیں ہے ؟ تم سیاستدانوں پر کیچڑ اچھالو اور اِن جیسے بے غیرتوں کو بٹھا کر ایک خاتون کی...

49,108 views • 1 month ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

🚨🚨 مریم نواز صاحبہ، یہ ایک عورت پر تشدد کا واقعہ ہے۔ اس کی انکوائری کروائیں۔ شفقت عباسی پی ٹی آئی کا ایم این اے ہے اور ایک بدمعاش کی مدد کے لیے آگیا ہے۔ میں نے میانوالی سے پتا کیا ہے کہ مرسلین خان ایک بدمعاش غنڈا ہے۔ وہ اور اس کا بیٹا اپنی بہو کو مار رہے تھے اسے گھر میں بند کر رکھا تھا ۔ اس نے 15 پر کال کی تو پولیس فوری آئی اور انہیں نے مزاحمت کی پولیس پر حملہ کیا جس پر اسے تھانے لے گے تھانے میں اس نے اپنے کپڑے اتار کر شرمگاہ پکڑی اور پولیس سے کہا: میرا یہ دیکھو، تم نے ہمارے گھر کے معاملے میں مداخلت کیوں کی؟ پھر گالی گلوچ شروع کر دی۔ جھگڑا ہوا تو تھانیدار نے پکڑ کر اس کی مونچھیں مونڈ دیں۔ یہ تھانے کی ویڈیو ہے، اس کی گالی گلوچ سنیں۔ مرسلین کا قبیلہ اور برادری میانوالی میں طاقتور ہے، اس لیے سب اس کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ ڈی ایس پی نے ایس ایچ او کو معطل کر دیا اور وہ مظلوم عورت جس پر تشدد ہوا، اس کی جان خطرے میں ہے۔ یہ ہے پنجاب میں عورت کی اوقات۔

RAShahzaddk

14,220 views • 3 months ago

سہیل وڑائچ کے فیلڈ مارشل کے انٹرویو پر قاری زاور بہادر صاحب کا تبصرہ، قاری صاحب نے انٹرویو میں کیے گئے بڑے بڑے دعوؤں پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے، قاری زاور بہادر صاحب نے انٹرویو میں کیے گئے اس موازنے کی شدید مذمت کی ہے کہ جس نے معافی نہیں مانگی وہ شیطان ہے اور جس نے مانگ لی وہ فرشتہ، قاری صاحب نے وضاحت کی ہے کہ شیطان نے اللہ کے سجدے کے حکم کی نافرمانی کی تھی جس پر اسے مردود کیا گیا، جبکہ فرشتوں نے اللہ کے حکم پر عمل کیا، یہ معافی مانگنا اور معاف کرنا صرف اللہ کا اختیار ہے کوئی شخص خود کو خدا کی جگہ پر فائز نہیں کر سکتا اور معافی کا اختیار صرف اللہ رب العالمین کے پاس ہے۔ قاری زاور بہادر صاحب نے تکبر کو ایک بڑا گناہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بڑے بڑے متکبر لوگ انجام کو پہنچے ہیں اور نصیحت کی ہے کہ معافی صرف اللہ کی ذات سے مانگنی چاہیے جو سب سے زیادہ معاف فرمانے والا ہے، قاری صاحب نےحضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان بیان فرمایا ہے کہ کسی کو مصیبت میں دیکھ کر خوشی کا اظہار نہ کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم خود اس مصیبت میں گرفتار ہو جاؤ۔

Qasim Khan Suri

23,134 views • 1 year ago

“میں روسٹر پر کھڑا ہوں، جو میرے لیے مسجد سے زیادہ مقدس ہے۔ مسجد اس کے آگے کچھ نہیں۔” راؤ عبدل رحم یہ الفاظ اُس شخص کے ہیں جس نے 400 سے زائد نوجوانوں پر “توہین مذہب ” “توہین رسالت ” اور توہین مقدسات “کے جھوٹے مقدمات بنائے۔ آج جب خود عدالت میں دفاع کرتے ہوئے اُن کے پاس دلیلیں ختم ہو گئیں، توبولا : “میں روسٹر پر کھڑا ہوں، جو میرے لیے مسجد سے زیادہ مقدس ہے۔ مسجد اس کے آگے کچھ نہیں۔” تو پھر بتاؤ راؤ عبدل رحیم جو توہین مذہب کے پہریدار ہو اور 295 تُمہاری ریڈ لائن — کیا اب تم پر 295-A نہیں لگتی؟ کیا اب تم نے خود ہی مسجد کی حرمت کو “کچھ نہیں” کہہ کر بھری عدالت میں توہین نہیں کی؟ یا تو یہ قانون صرف غریبوں کے لیے ہے جن کی جانوں کی قیمت پر تم “بلاسفیمی بزنس “ چلاتے ہو ؟ یا تمہاری زبان سے گستاخی بھی مقدس جذبہ کہلائے گی ؟ ——- یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے: •400 سے زائد نوجوانوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر اُن کی زندگیاں تاریک کر دیں۔ •عدالتوں، تفتیشی افسران، اور ایف آئی اے میں اثرو رسوخ کا استعمال کیا۔ •سادہ لوح والدین، بیٹیوں، بیویوں کو خوف و ہراس میں رکھ کر چپ کروا دیا۔ •اور جب اب ان خاندانوں نے تحقیقات کا مطالبہ کیا، تو یہ خود عدالت میں کھڑے ہو کر کہہ رہے ہیں: “عدالت میرے لیے مسجد سے زیادہ مقدس ہے، اس لیے میری بات پر یقین کریں۔” یہ بیان خود اُن کے پورے بیانیے کے منہ پر طمانچہ ہے۔ اگر عدالت کو “مسجد سے زیادہ مقدس” کہنا صرف زبان کی لفاظی نہیں بلکہ یقین دہانی ہے تو اب یہی الفاظ ان پر توہینِ مقدسات کے قانون کے تحت کیوں لاگو نہ ہوں؟ سونیا خان خٹک— (انصاف کے طلبگار خاندانوں کی آواز)

Sonia Khan khattak(SK)

73,736 views • 1 year ago