Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

جس دن منیرا گیا اور نیا چیف آیا تو سب سے پہلی سرخی ہوگی کہ نیا چیف "thorough professional soldier" ہے اور عباسی جیسے عسکری ٹاؤٹ سارا الزام منیر پر ڈال رہے ہوں گے کہ فوج ایسی نہیں یہ صرف ایک فرد اور جنرل کا عمل تھا۔ اور منیرے...

65,557 görüntüleme • 9 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

ایک بار پھر اڈیالہ جیل کے باہر کل رات ظلم کیا گیا لیکن کوئی نہیں پانی ہی تھا کیا ہوا لیکن جو ظلم ہماری خواتین کے ساتھ کیا گیا ان کو الفاظ میں بیان کرنا میرے لیئے نہ ممکن ہے جس دلیری کے ساتھ اب سب نے ان نامردوں کا مقابلہ کیا میں سب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔۔ میری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ جتنے بھی ہمارے ورکرز موقع پر موجود ہوتے ہیں آخری وقت تک ان سب کا دفاع کروں اور خیریت سے گھروں کو پہنچاوں یہ ہم سب مل کر روز اول سے کر رہے ہیں جب سے انہوں نے اڈیالہ کے باہر ہم پہ ظلم کرنا شروع کیا ہے۔ ہر ہفتے منگل کے دن جس طرح اڈیالہ جیل ہماری خواتین سمیت ورکرز کے ساتھ ظلم کیا جاتا ہے اس کے بعد میں یہ ضروری سمجھتا ہونکہ پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز، ٹکٹ ہولڈرز اور پارلیمینٹیرنز اور وکلاء کو پیغام دینا چاہتا ہونکہ کم از کم ایسی صورتحال میں میدان نہ چھوڑا کریں ہم نہیں کہتے کہ آپ ان سے لڑیں کیونکہ ہم سب نہتے لوگ ہیں ہمارا ان سے کوئی مقابلہ ہی نہیں بنتا اور نہ ہم ہم گولی کا مقابلہ کر سکتے ہیں لیکن ہم سب مل کر مزاحمت ضرور کر سکتے ہیں جس طرح رات ظلم کیا گیا اگر ہم 100 یا 200 کی تعداد میں ہوتے تو کم از کم ہم میدان میں کھڑے ہوکر بہترین مزاحمت کر سکتے تھے اور اپنی خواتین کو باحفاظت وہاں سے نکال سکتے تھے جس طرح اس بھائی نے واٹر کینین کا راستہ روکا حلانکہ میں ان کو جانتا بھی نہیں تھا بس اڈیالہ دیکھتا ہوں اور آخری میں ان کو میں زبردستی وہاں سے گھسیٹ کر لایا ورنہ یہ ابھی بھی آنےکو تیار نہیں تھے اس ویڈیو کو لگانے کا مقصد ہرگز اپنی تشہیر کرنا نہیں ہے بلکہ یہ بتانا ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر ہر رات کو کیا ہوتا ہے اسی طرح ہم بے بس ہوتے ہیں اور میری بے بسی کا اندازہ آپ اس ویڈیو سے لگا سکتے ہیں کہ ایک طرف خواتین تھی اور دوسری جانب یہ نواجون تھا سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ کس طرف جایا جائے اور کس کو بچایا جائے میں کر کچھ نہیں سکتا تھا لیکن کوشش کر سکتا تھا جو میں نے کی اور سب کو گاڑیوں تک پہنچایا بتانے کا مقصد صرف اتنا تھا کہ اگر ہم اگھٹے مل مزاحمت سے ان کا راستہ روکیں تو تو یہ مشکل نہیں کیونکہ انسان اپنی طرف سے کوشش کرتا ہے کامیابی اللہ دیتا یے۔۔ ہم اس وقت فسطائیت کے ندترین دور سے گزر رہے ہیں اور جتنا جلدی ہوسکے ہم اپنا یہ دماغ بنا لیں کہ مل کر اس کا مقابلہ کریں گے تو کامیابی ملی گی ورنہ یہ لوگ ہمیں ایسے ہی اکیلا اکیلا کر کہ ماریں گے اور اس میں ایک دن سب کی باری آئی گی اس لیئے سوچیں کہ زیادہ سے زیادہ یہ ہمیں ماریں گے یا جیل بھیج دیں گے اور آخری میں جان ہی رہ جاتی ہے انسان کے پاس لیکن یاد رکھیں حق اور سچ کے ساتھ دیتے ہوئے اگر آپ کی موت بھی آگئی تو اللہ کے ہاں سرخرو ہونگے۔ آخر میں یہ بتاتا چلو کہ عمران احمد خان نیازی کے خاندان کی حفاظت کرنا ہم سب کا فرض ہے ان کی تضلیل ہماری تضلیل ہے میری بات اگر کسی کو بری لگی تو میں معزرت خواہ ہوں اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ 🙏

Ch Awais Younas Adv

18,446 görüntüleme • 8 ay önce

یہ ویڈیو دیکھ کر دل کانپ جاتا ہے۔ لاہور موٹروے پر سردیوں کی ایک اور صبح۔ دھند اتنی گہری کہ چند قدم آگے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ اور اس دھند کے سینے میں گھسی ہوئی ایک ڈائیوو بس۔ جو اب بس نہیں رہی، بس کے چیتھڑے سڑک پر بکھرے پڑے ہیں۔ یہ حادثہ نہیں تھا۔ یہ لاپرواہی کا انجام تھا۔ سوال یہ نہیں کہ دھند کیوں تھی؟ سوال یہ ہے کہ دھند میں رفتار کیوں کم نہیں کی گئی؟ سوال یہ ہے کہ درجنوں جانوں کو ایک ڈرائیور کی انا اور جلد بازی کے حوالے کیوں کیا گیا؟ یہ بس ٹائم پر پہنچنے کی دوڑ میں تھی، مگر کسی نے یہ نہیں سوچا کہ دیر سے پہنچنا بہتر ہے یا لاش بن کر؟ سردیوں میں موٹروے پر ہر سال یہی کہانی دہرائی جاتی ہے: دھند، تیز رفتار بسیں، اوورٹیک، ہائی بیم، اور پھر ایک ویڈیو… جس میں چیخیں نہیں ہوتیں، بس خاموشی ہوتی ہے اور لوہے کے ٹکڑے۔ قانون موجود ہے، وارننگ بھی دی جاتی ہے، پیغامات بھی آتے ہیں۔ مگر جب تک کمرشل گاڑیوں کو یہ احساس نہیں دلایا جائے گا کہ ان کی ذرا سی غفلت درجنوں گھروں کو اجاڑ سکتی ہے، تب تک یہ مناظر بدلیں گے نہیں۔ یہ ویڈیو صرف ایک حادثے کی نہیں، یہ ایک سوال ہے ہم سب سے۔ کیا ہماری جانیں واقعی اتنی سستی ہیں کہ دھند میں بھی بسیں نہیں رک سکتیں؟ اللہ رحم کرے اور ہمیں عقل دے۔ ورنہ اگلی ویڈیوکسی اور کی ہوگی۔

منصور مصطفیٰ

63,519 görüntüleme • 8 ay önce

چونکہ پشاور جلسہ عمران خان کی خصوصی کال اور ہدایت پر منعقد ہوا اور جاری فاشزم کے خلاف تھا جس کا سب سے بڑا وکٹم عمران خان خود ہیں، تو اس جلسے میں علیمہ خان کو بطور انکی فیملی باقاعدہ دعوت دے کر اسٹیج پر بلایا جانا چاہیے تھا، ان سے درخواست کی جاتی کہ انہوں نے اڑھائی سال میں اپنے بھائی کے ساتھ پیش آنے والے معاملات دیکھے ہیں، ان سے ملاقاتیں کی ہیں انکی حالت ملاحظہ کی ہے انکی صحت کو ملاحظہ کیا ہے انکے ارادوں کی مضبوطی کو دیکھا ہے انکے پیغامات عوام تک unfiltered پہنچائے ہیں، وہ اپنے یہ تجربات، یہ سب کچھ سٹیج سے عوام کے ساتھ دوبارہ شیئر کریں، عمران خان کے پیغامات کا خلاصہ، نظریے اور سوچ کا خلاصہ، انکے ارادے اور لائحہ عمل لوگوں کو بتائیں۔ یوں جلسے کا اصل مقصد پورا ہوسکتا تھا۔ اس سے جلسے کا مومینٹم ہی کچھ اور ہوتا۔ لوگوں کے جذبات بھرپور ہوتے، خیالات میں مزید حدت پیدا ہوتی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ یا ہونے نہیں دیا گیا۔ حالانکہ جلسے میں شامل ہونے والے کئی درجن اور بھانت بھانت کے تمام رہنماؤں سے زیادہ عوام عمران خان کی بہنوں کو عزت اور احترام دے رہے تھے، انکی طرف متوجہ تھے، ان سے عقیدت اور جذباتی لگاؤ کا اظہار کررہے تھے، جیسے وہ عمران خان کیلیے کرتے ہیں۔ باقی کسی بھی پارٹی رہنما کو تو عوام اب کچھ سمجھتے ہی نہیں، رہنماؤں سے اُکتا چکے ہیں۔ نجانے کیوں علیمہ خان کو سٹیج پر نہ بلا کر یہ اہم ترین موقع ضائع کیا گیا، اور جلسے کو ایک لایعنی اور وقت کے ضیاع جیسی ایکٹویٹی بنا کر رکھ دیا گیا۔ انتظامات میں دیگر خرابیاں اور کوتاہیاں اسکے علاؤہ تھیں، اب رب جانے کہ یہ سب دانستہ تھا یا غیر دانستہ ہوا ہے۔

Obaid Bhatti

42,678 görüntüleme • 10 ay önce

یہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ جی عادل راجہ کے ذرائع کتنے سچے ہیں اور باوثوق ہیں صرف جھوٹ کا پلندہ ہے یہ شخص بھائی سب سے پہلے یہ تو بتائیے کہ کونسی اعلی قیادت کل سے ہسپتال عیادت کے لیے آئی یا فیملی کے پاس آئی ہو ؟ نام ضرور بتانا بھاگنا نہیں اب دوسرا یہ تھا وہ شاہانہ بند نما کمرہ جس میں صنم کو وارڈ میں علاج کے بعد شفٹ کیا گیا کبھی اس کی لائٹ بند تو کبھی پنکھا بند اور یہ ہے شاہانہ انداز میں ان کی فیملی کی ان سے پر سکون ملاقات ماں کیسے چیخ رہی ہے کسے چلارہی ہے کیوں کہ اس کی بیٹی کے دائیں ہاتھ سے شاہانہ انداز میں بہت خون بہہ رہا تھا اس واقعہ کے بعد ایم ایس صاحبہ اوپر آئی صنم کے ہاتھ پر مرہم کی اور جب باہر نکلی تو صنم کی والدہ نے درخواست کی کہ اس کو اپ وارڈ میں ہی شفٹ کردے کم از کم ادھر گرمی تو نہیں ہے لیکن انہوں نے صاف انکار کردیا اور کہا یہ اپ کا لیگل مسئلہ ہے ہم اس میں نہیں پڑے گے تم جیسے لوگ چند ویوز اور ڈالروں کے عوض اگلے کی ساری تکالیف اور قربانیوں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں کچھ شرم کرو اور شاباش اس غیرت مند قیادت کا نام بتانا جو کل اس شاہانہ جگہ پر آیا ہو ؟ لازمی

Saad dogar

102,646 görüntüleme • 3 ay önce