Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

جس طرح خیبر پختونخوا، پنجاب، اسلام آباد اور راولپنڈی کی عوام کو یرغمال بنایا گیا ہے، وہ انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ کیا آئین اور قانون عوام کو پُرامن احتجاج کا حق نہیں دیتا۔ حکومتی وزراء پریس کانفرنسیں کر رہے ہیں، ایک سادہ سا سوال ہے: کیا اس حکومت کو...

70,097 просмотров • 1 год назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

"ان سب لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو خیبر پختونخوا سے پرامن احتجاج کے لیے اسلام آباد گئے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی بربریت، آنسو گیس، ربڑ کی گولیاں اور راستے میں رکاوٹیں برداشت کیں، اور اس کے باوجود آگے بڑھتے رہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کے لوگ آج کہاں کھڑے ہیں، اور وہ کیوں عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وہ کیوں آج قانون، آئین، اپنے بنیادی حقوق، اور ایک آزاد عدلیہ کے لیے لڑ رہے ہیں۔ اس میں خاص کریڈٹ علی امین خان گنڈاپور کو جاتا ہے جنہوں نے اس احتجاج کی قیادت کی۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ علی امین خان گنڈاپور اس کے بعد چیف منسٹر ہاؤس گئے، اور کچھ خبریں آئیں کہ چیف منسٹر ہاؤس کا گھیراؤ رینجرز نے کیا۔ پھر یہ بھی اطلاع آئی کہ وفاقی حکومت نے علی امین خان گنڈاپور کو گرفتار کر لیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ابھی تک غائب ہیں۔ یہ بات ہر آزاد سوچ رکھنے والا شخص سوچے گا کہ یا تو علی امین خان گنڈاپور کو یرغمال بنایا گیا ہے یا وہ کسی قسم کے دباؤ میں ہیں۔ ان کا فوری طور پر سامنے آنا ضروری ہے، کیونکہ وہ صرف علی امین خان نہیں، خیبر پختونخوا کے چیف منسٹر ہیں، اور خیبر پختونخوا پاکستان کے چار فیڈریٹنگ یونٹس میں سے ایک ہے۔ یہ پہلے ہی ایک جرم ہے کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کی حدود میں ایک حملہ کیا اور وہاں کے چیف ایگزیکٹیو کو گرفتار کیا، باوجود اس کے کہ ان کے پاس ضمانت تھی۔ یہ ایک سیاسی چال تھی تاکہ عوام کا احتجاج، جو صرف عمران خان ختم کر سکتے ہیں، کسی طرح ختم ہو جائے۔ یہ ایک انتہائی خطرناک چال ہے، کیونکہ خیبر پختونخوا ایک حساس علاقہ ہے، اور یہاں امن و امان کی صورتحال بھی نازک ہے۔۔۔۔ ہم اس وقت کسی نئے احتجاج یا مزاحمت کے متحمل نہیں ہو سکتے۔" Taimur Saleem Khan Jhagra

PTI

57,490 просмотров • 1 год назад

اس وقت پاکستان میں طاقت حق بن چکی ہے، اور ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے کہ جس کی لاٹھی، اس کی بھینس۔ طاقتور اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے وہی ہو رہا ہے۔ جج خود فیصلے نہیں لکھ رہے، فیصلے لکھوائے جا رہے ہیں، ڈکٹیٹ ہو رہے ہیں، اور عدلیہ اپنی ساکھ اور استقلال کھو چکی ہے۔ پارلیمنٹ کے ذریعے عوام پر ظلم ہو رہا ہے، عدلیہ کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے، پولیس کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے۔ بے گناہوں کو قتل کیا جا رہا ہے، مبینہ پولیس مقابلے ہو رہے ہیں، اور یہ سب کچھ واضح طور پر اخبارات میں آ رہا ہے۔ پاکستان کے عوام بھی غیر متعلق کر دیے گئے ہیں، اور پاکستان کی پارلیمنٹ بھی غیر متعلق ہو چکی ہے۔ اب کوئی چیز اپنی جگہ پر باقی نہیں رہی۔ پاکستان میں جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ کھنڈر ہیں۔ عدلیہ کی جو عمارتیں ہمیں پیچھے نظر آتی ہیں، وہ بھی اس وقت کھنڈر بن چکی ہیں۔ یہاں عادل نہیں ملتا، یہاں عدل و انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر پاکستان کے عوام کے حق میں قانون سازی نہیں ہوتی، بلکہ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ پولیس کیا کر رہی ہے، عدالتیں کیا کر رہی ہیں، بیوروکریسی کیا کر رہی ہے—سب آپ کے سامنے ہے۔ ایک طرف پاکستان کی ریاست اور اس کی سالمیت پر یلغار ہے، اور دوسری طرف بدترین مہنگائی ہے۔ پھر ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جن سے عوام کو مزید تکلیف پہنچے۔ عمران خان صاحب کے ساتھ اس وقت پاکستان کے عوام کی نوّے فیصد اکثریت کھڑی ہے۔ جو بھی آج ان کا مخالف ہے، وہ دراصل انتہاکت واروں کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم سب ایک ہیں، اسی لیے ان کی پوری کوشش ہے کہ ہمیں مایوس کریں، ناامید کریں، اور لوگوں سے کہیں کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن حقیقت میں یہ ان کی بزدلی اور پریشانی کی علامت ہے۔ یہ لوگ ہار چکے ہیں، اور جو اپنے عوام سے لڑتے ہیں وہ کبھی جیت نہیں سکتے۔ پاکستان کے نظام پر عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، اور اس وقت پاکستان عوام کے بغیر چلایا جا رہا ہے۔ یہ لوگ دنیا میں جا کر جو فیصلے اور معاہدے کر رہے ہیں، ان کی دو ٹکے کی حیثیت بھی نہیں۔ پاکستان کے عوام انہیں قبول نہیں کرتے۔ ہم آج ہونے والے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ قابلِ مذمت ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جس طرح کے ٹرائل ہو رہے ہیں، جس طرح کی صورتحال بنائی جا رہی ہے—جنوری سے عمران خان صاحب کے کیسز ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہیں، ان کی سماعت نہیں ہو رہی۔ یہ پک اینڈ چوز کی صورتحال ہے، اپنی مرضی کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے فیصلے انہیں بچا لیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ استثنا لینے کے باوجود ان کا خوف ختم نہیں ہو رہا۔ ڈر کے سائے میں ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ خدا نہ کرے کسی ملک پر بزدل، حقیر اور چھوٹے لوگ مسلط ہو جائیں۔ یہ لوگ پست ترین سطح پر جا کر مخالفت کرتے ہیں۔ ہم خداوندِ عبدالمطلب کے بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ان ظالموں، بونوں اور حقیر لوگوں سے نجات عطا فرمائے۔ یہاں آئین کی بالادستی ہو، قانون کی حکمرانی ہو، اور پاکستان کے عوام کو انصاف اور ان کا حق ملے۔

Senator Allama Raja Nasir

29,309 просмотров • 9 месяцев назад