正在加载视频...

视频加载失败

”جس نے نو مئی کیا اُسے قوم سے معافی مانگنی چاہے، نو مئی کوئی پی ٹی آئی نے تو نہیں کیا“-Shafi Jan جیسے ہی شفیع جان نے 9 مئی پر بات شروع کی، ان کی آواز بند کر دی گئی۔ آزاد اور غیرجانبدار تحقیقات سے کون خوفزدہ ہے؟ کون...

39,908 次观看 • 8 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

چئیرمین پی ٹی آئی کا اکاؤنٹ ان کی گرفتاری کے بعد بھی مسلسل استعمال میں ہے، یہ بات قابل تشویش ہے کہ ان کی غیر موجودگی میں کون ان کے ٹویٹر اکاؤنٹ کو چلا رہا ہے، چئیرمین پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ سے ملک دشمن پروپیگنڈے کا کام جاری ہے۔ چئیرمین پی ٹی آئی کا ٹویٹر اکاؤنٹ مسلسل ایک منظم منفی پروپیگنڈے کے تحت جعلی خبریں پھیلانے میں مصروف ہے جبکہ ان جعلی خبروں کا ٹارگٹ فوج اور اداروں کو بدنام کرنا اور چئیرمین پی ٹی آئی کی رہائی ہے۔ چئیرمین پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ سے کی جانے والی جعلی خبروں مثالیں متعدد خبریں ہیں جیسا کہ چئیرمین پی ٹی آئی نے متعدد بار 9 مئی کے واقعات کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے لکھا کہ 9 مئی دراصل چئیرمین پی ٹی آئی اور ان کی پارٹی کو ختم کرنے کے لئے منظم کریک ڈاؤن ہے جو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ٹویٹ میں ایک جعلی ویڈیو دکھائی گئی جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ 9 مئی دراصل پی ٹی آئی کے خلاف ایک پروپیگنڈا تھا جو ملکی اداروں نے پی ٹی آئی کو سبوتاژ کرنے کے لئے کیا۔ 9 مئی کے واقعات کی پوری مانیٹرینگ اور ہدایات چئیرمین پی ٹی آئی کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے جاری تھیں جبکہ دوسری جانب چئیرمین پی ٹی آئی نے بارہا 9 مئی کے واقعات میں آئی ایس آئی اور بیرونی قوتوں کے ملوث کونے کا کھلا الزام لگایا ہے اور اس بات کی تردید کی کہ پی ٹی آئی کے کارکنان ملوث ہیں۔ جناح ہاؤس لاہور پر حملے کے دوران بھی ویڈیوز میں یہ دیکھا گیا کہ ایک شخض بڑھ چڑھ کر فوج اور اداروں کے خلاف بکواس کرتے ہوئے انہیں دہشتگردی پر اکساتا رہا، چیئرمین پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ سے دعویٰ کیا گیا کہ یہ بندہ آئی ایس آئی کا ایجنٹ ہے جو بعد ازاں عمران محبوب کے نام سے ظاہر ہوا اور پی ٹی آئی کا سرگرم کارکن نکلا۔ چئیرمین پی ٹی آئی ایک طرف نہایت دیدہ دلیری سے یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ان کا 9 مئی کی دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں، ان کی جماعت ہمیشہ پرامن احتجاج کرتی ہے، جبکہ دوسری جانب ویڈیو آڈیو شواہد سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ یہ سب پلاننگ زمان پارک میں چئیرمین پی ٹی آئی کی زیر نگرانی ہوئی اور سب غنڈے چئیرمین پی ٹی آئی کے تیار کردہ تھے، اداروں بالخصوص آئی ایس آئی پر چئیرمین پی ٹی آئی کی جانب سے لگائے گئے الزامات سراسر غلط اور منفی پروپیگنڈگ کی عکاسی کرتے ہیں۔ تشویش ناک امر یہ ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے روزانہ کی بنیاد پر جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈوں کا سلسلہ جاری ہے، ایک بندہ جیل میں ہے تو اس کا اکاؤنٹ کون چلا رہا ہے، ایف آئی اے کو چائیے کہ وہ فوری تحقیقات عمل میں لاتے ہوئے چئیرمین پی ٹی آئی کے ٹویٹر اکاؤنٹ کا محاسبہ کرے اور ملک میں انارکی کی فضا کو ہوا دینے والوں کے خلاف سخت ایکشن لے۔

Architect Jalal Sherazi

35,531 次观看 • 3 年前

آج ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اب عدالتی رویے کے خلاف احتجاج ہوگا، پوری قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ پیر کے دن اسلام آباد کی طرف روانہ ہوجائے ۔ سپریم کورٹ مدر ان لاء نہیں ہیں مدر آف لاء ہیں۔ ٹیڑھی آنکھ سے دیکھنے والوں کو ایسا جواب دیں گے کہ چھٹی کا دودھ یاد آ جائے گا ۔ اب ڈبے سے گھی ٹیڑھی انگلی سے نکالا جائے گا ۔ سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سہولیات دینا جرم کو تحفظ فراہم کرنے کے مترادف ہے ۔ جرم کرنے والے کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے انوکھا فیصلہ دیا گیا ہے کہ 9 مئی کے بعد کے کسی مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے اور عدلیہ نے جو مقدمہ اس کے علم میں نہیں ہے اس میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا ہے ۔ عدلیہ کہاں کھڑی ہے کس طرح وہ آئین اور قانون سے ماوراء فیصلے کر رہی ہے ۔ کیا یہ رعایت تین بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کو دی گئی ؟ اور جب نواز شریف کو جیل میں اطلاع دی گئی کہ ان کی اہلیہ آئی سی یو میں ہے انہوں نے منت سماجت کی کہ اہلیہ سے فون پر بات کرنے دیں مگر اجازت نہ ملی ۔ کیا یہ رعایت نواز شریف ،مریم نواز کو دی گئی ؟ کیا یہ رعایت فریال تالپور کو دی گئی ؟ عمران خان کو وی وی آئی پی پروٹوکول دیا جا رہا ہے ۔ ملک میں غنڈہ گردی دہشت گردی کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے ۔ ہم نے فیصلہ کر لیا ہے اب سپریم کورٹ کے رویے کے خلاف شدید احتجاج ہو گا ۔ پی ڈی ایم کی جانب سے پوری قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ پیر 15 مئی 2023 ء کو احتجاج کے لیے اسلام آباد پہنچیں ۔ سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا دیا جائے گا ۔ موثر طور پر عوام کو بتایا جائے گا کہ سپریم کورٹ مدر ان لاء نہیں ہیں مدر آف لاء ہیں ۔ پارلیمنٹ کو بالا دست سمجھنا ہو گا اس کے نمائندوں کو کیوں نا اہل قرار دیا جاتا ہے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان سن لو تین دو کا فیصلہ قبول نہیں ہے چار تین کا فیصلہ قانون کے مطابق ہے جس کے تحت چیف جسٹس کو ازخود نوٹس لینے کا اختیار نہیں ہے ۔ ایک ایک کارکن باہر نکلے ۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

289,748 次观看 • 3 年前