Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

کل کینٹ میں پچاس ساٹھ کے قریب ڈالوں پر پی ٹی آئی پرچم لگائے جا رہے تھے۔میرا مطالبہ ہے کہ اس کی تحقیقات کی جائیں کہ وہ ڈالے کہاں سے آئے تھے، کینٹ میں ان پر پرچم کون لگا رہا تھا کون ہے جو غلط فہمیاں پیدا کرنا چاہتا...

677,654 görüntüleme • 2 yıl önce •via X (Twitter)

8 Yorum

Muhafiz.🇵🇰❤️ profil fotoğrafı
Muhafiz.🇵🇰❤️2 yıl önce

سر اپ کے اس بندے سے تحقیقات کا مطالبہ کر رہے اس بندے سے جو خود ان تمام معاملات کو سرانجام دے رہا تھا

AHmaD AbRaR profil fotoğrafı
AHmaD AbRaR2 yıl önce

یاد رکھیں! انتخابی نتائج کو بندوق کے زور پر تبدیل کرکے آپ سیاسی ورکرز کو بھی بندوق اٹھانے کی طرف راغب کر رہے ہیں!

Crypto Fatguy Cr.🌐 profil fotoğrafı
Crypto Fatguy Cr.🌐2 yıl önce

یہ لوگ اپنے انجام کو پہنچ گئے ہیں ان شاءاللٰہ ایک ایک ظلم کا حساب دیں گے آج نہیں تو کل

Mian Naeem profil fotoğrafı
Mian Naeem2 yıl önce

حرامزادوں کے علاوہ اور کون یہ کام کر سکتا ہے

GHUMMAN Official profil fotoğrafı
GHUMMAN Official2 yıl önce

یہ ملٹری اسٹیبشمنت کا تحریک انصاف کے خلاف ایک اور مکروہ منصوبہ تھا۔

Andha Sach profil fotoğrafı
Andha Sach2 yıl önce

@MuzzammilAslam3 @nadeemmalik یہ خبر پیلے ہی آ گئی تھی اور حافظ صاحب کا پلان لیک ہو گیا تھا۔ اب وہ بہت ننگے ہو چکے ہیں۔

Arsalan Iqbal profil fotoğrafı
Arsalan Iqbal2 yıl önce

سر جی اس بارے میں تحقیقات کہاں کر سکتے ہیں وہ تو بس صرف پی ٹی ائی کے ورکرز پر ظلم اور تشدد کر سکتے ہیں

My Opinion ✌🏻 profil fotoğrafı
My Opinion ✌🏻2 yıl önce

یہ لوگ اپنے انجام کو پہنچ گئے ہیں ان شاءاللٰہ ایک ایک ظلم کا حساب دیں گے آج نہیں تو کل

Benzer Videolar

یہاں روایتی بحث ہو رہی ہے کہ خدا نخواستہ اگر ہم اپنی طرف دیکھیں، ہمارے بال بچے ہوں، یا یہ واقعہ ان وزراء صاحبان یا اراکینِ قومی اسمبلی کے بچوں کے ساتھ پیش آیا ہوتا تو اُن کے کیا احساسات ہوتے؟ آج ہم اپنی سیاست کے لیے تقریریں کر رہے ہیں، لیکن میں جو بات کر رہا ہوں، وہ دل سے کر رہا ہوں۔ مجھے اس واقعے پر تکلیف ہے اور مجھے اس بات کا احساس ہے کہ ان معصوم بچوں کے والدین کس کرب سے گزر رہے ہیں۔مجھے بتایا گیا ہے کہ ایک ڈپٹی کمشنر کے ماتحت ایک انکوائری کمیٹی بنائی گئی ہے جو اس واقعے کی تحقیقات کرے گی۔ یہ ایک مذاق ہے۔ یہ بہت بڑا سانحہ ہے اور اس کی تحقیقات کسی معمولی انتظامی کمیٹی کے ذریعے نہیں ہونی چاہئیں۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ صرف وزیرِ صحت استعفیٰ دیں۔ وزیرِ صحت کے پاس تو کوئی اخلاقی جواز نہیں کہ وہ اپنے عہدے پر رہیں، لیکن یہ اجتماعی ذمہ داری (Collective Responsibility) کا معاملہ ہے۔ اس سانحے کی ذمہ داری صرف ایک فرد پر عائد نہیں ہوتی بلکہ تمام متعلقہ حکام اور ذمہ دار اداروں کا بھی تعین ہونا چاہیے۔ میں پمز واقعے کی شفاف، غیر جانب دارانہ اور جامع تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہوں۔ میرا مطالبہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے، جو اس واقعے کی مکمل تحقیقات کرے، ذمہ داران اور مجرمان کا تعین کرے اور انہیں قانون کے مطابق سزا دلوائے۔ میں یہ بھی مطالبہ کرتا ہوں کہ پارلیمانی کمیٹی کی تحقیقاتی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے تاکہ حقائق قوم کے سامنے آئیں اور آئندہ ایسے افسوس ناک واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔

Asad Qaiser

16,522 görüntüleme • 1 ay önce

چئیرمین پی ٹی آئی کا اکاؤنٹ ان کی گرفتاری کے بعد بھی مسلسل استعمال میں ہے، یہ بات قابل تشویش ہے کہ ان کی غیر موجودگی میں کون ان کے ٹویٹر اکاؤنٹ کو چلا رہا ہے، چئیرمین پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ سے ملک دشمن پروپیگنڈے کا کام جاری ہے۔ چئیرمین پی ٹی آئی کا ٹویٹر اکاؤنٹ مسلسل ایک منظم منفی پروپیگنڈے کے تحت جعلی خبریں پھیلانے میں مصروف ہے جبکہ ان جعلی خبروں کا ٹارگٹ فوج اور اداروں کو بدنام کرنا اور چئیرمین پی ٹی آئی کی رہائی ہے۔ چئیرمین پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ سے کی جانے والی جعلی خبروں مثالیں متعدد خبریں ہیں جیسا کہ چئیرمین پی ٹی آئی نے متعدد بار 9 مئی کے واقعات کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے لکھا کہ 9 مئی دراصل چئیرمین پی ٹی آئی اور ان کی پارٹی کو ختم کرنے کے لئے منظم کریک ڈاؤن ہے جو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ٹویٹ میں ایک جعلی ویڈیو دکھائی گئی جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ 9 مئی دراصل پی ٹی آئی کے خلاف ایک پروپیگنڈا تھا جو ملکی اداروں نے پی ٹی آئی کو سبوتاژ کرنے کے لئے کیا۔ 9 مئی کے واقعات کی پوری مانیٹرینگ اور ہدایات چئیرمین پی ٹی آئی کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے جاری تھیں جبکہ دوسری جانب چئیرمین پی ٹی آئی نے بارہا 9 مئی کے واقعات میں آئی ایس آئی اور بیرونی قوتوں کے ملوث کونے کا کھلا الزام لگایا ہے اور اس بات کی تردید کی کہ پی ٹی آئی کے کارکنان ملوث ہیں۔ جناح ہاؤس لاہور پر حملے کے دوران بھی ویڈیوز میں یہ دیکھا گیا کہ ایک شخض بڑھ چڑھ کر فوج اور اداروں کے خلاف بکواس کرتے ہوئے انہیں دہشتگردی پر اکساتا رہا، چیئرمین پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ سے دعویٰ کیا گیا کہ یہ بندہ آئی ایس آئی کا ایجنٹ ہے جو بعد ازاں عمران محبوب کے نام سے ظاہر ہوا اور پی ٹی آئی کا سرگرم کارکن نکلا۔ چئیرمین پی ٹی آئی ایک طرف نہایت دیدہ دلیری سے یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ان کا 9 مئی کی دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں، ان کی جماعت ہمیشہ پرامن احتجاج کرتی ہے، جبکہ دوسری جانب ویڈیو آڈیو شواہد سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ یہ سب پلاننگ زمان پارک میں چئیرمین پی ٹی آئی کی زیر نگرانی ہوئی اور سب غنڈے چئیرمین پی ٹی آئی کے تیار کردہ تھے، اداروں بالخصوص آئی ایس آئی پر چئیرمین پی ٹی آئی کی جانب سے لگائے گئے الزامات سراسر غلط اور منفی پروپیگنڈگ کی عکاسی کرتے ہیں۔ تشویش ناک امر یہ ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے روزانہ کی بنیاد پر جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈوں کا سلسلہ جاری ہے، ایک بندہ جیل میں ہے تو اس کا اکاؤنٹ کون چلا رہا ہے، ایف آئی اے کو چائیے کہ وہ فوری تحقیقات عمل میں لاتے ہوئے چئیرمین پی ٹی آئی کے ٹویٹر اکاؤنٹ کا محاسبہ کرے اور ملک میں انارکی کی فضا کو ہوا دینے والوں کے خلاف سخت ایکشن لے۔

Architect Jalal Sherazi

35,531 görüntüleme • 3 yıl önce

آج بھی میگا پروجیکٹس پاکستان کے اندر معطل ہیں،گزرے کئی سالوں سے ملٹی نیشنل کمپنیاں درجنوں کے حساب سے ملک سے باہر جا چکی ہیں، سرمایہ یہاں سے منتقل کر دیا ہے،پاکستانی اپنا سرمایہ منتقل کر رہے ہیں اور کوئی باہر کی کمپنیاں پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ افغانستان کی سرحدات ہوں یا انڈیا کی سرحدات ہوں، شرق و غرب ہم نے اپنے اوپر بند کر دیے ہیں۔ تجارت نہیں ہے، کاروبار نہیں ہے، لوگوں کا آنا جانا مشکل ہو گیا ہے۔ چین کا ہم اعتماد کھو چکے ہیں، وہ پاکستان کے اندر سرمایہ کاری میں دلچسپی بھی نہیں لے رہا۔ تو پاکستان نے محصور ریاست کی شکل اختیار کر لی ہے۔ بدامنی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس اور فوجی جوانوں پر حملے ہو رہے ہیں اور ریاستی قوت دفاعی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ کتنی بری بات ہے یہ! ہم ماضی کے معاملات اور مشکلات، اس سے تو ہم نمٹ نہیں پا رہے۔ گھر میں آگ لگی ہوئی ہے، نئے نئے مسائل ہم پیدا کر رہے ہیں۔ کبھی صوبوں کے سوال چھیڑ دیتے ہیں، کبھی این ایف سی ایوارڈ کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں، کبھی معدنی ذخائر کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں۔ اور پہلے جو ملک جس مشکل میں گھرا ہوا ہے اور جو ہمارے سروں پر مشکلات ہیں، موت ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے، آگ برس رہی ہے، بارود جو ہے، ہم ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں، اور ان حالات میں نئے نئے مسائل کھڑے کرنا، اس سے بڑھ کر غیر سنجیدگی اور نہیں ہو سکتی۔ مسائل ڈسکس کیے جائیں، پارلیمنٹ میں لائے جائیں اور حکومت کا ایک حصہ وہ صوبوں کی بات کر رہا ہے، صوبوں کو ٹکڑے کرنے کی بات کر رہا ہے۔ حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟ وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔ اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔ حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟ آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔ پارلیمانی لیڈرز کا ایک بند کمرے کا اجلاس، میرے خیال میں، وہ کافی نہیں ہے اور اس میں اپوزیشن دلچسپی بھی نہیں لے رہی۔ تو اس اعتبار سے یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ اس وقت قوم تشویش میں ہے۔ سعودی عرب پر حملہ، معاہدہ ہو چکا ہے ہمارا ان کے ساتھ۔ گو کہ وہ جنگی معاہدہ نہیں ہے، وہ دفاعی معاہدہ ہے، لیکن جب اس کے ساتھ یہ لفظ وابستہ کیا گیا کہ کسی بھی ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا تو اس میں کچھ ذمہ داریاں آ جاتی ہیں، ہمارے اوپر بھی آتی ہیں۔ اب ترکی بھی اس میں شامل ہو گیا۔ اس کو آگے بڑھنا چاہیے تھا، اس میں مصر کو شامل ہونا چاہیے تھا، اس میں ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا، لیکن عالمی قوتوں نے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ وہ جو اسلامی اتحاد کے عمل کا ایک تسلسل تھا، وہ فلحال رک گیا ۔ قوم کو تو بتایا جائے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، پارلیمنٹ کو تو بتایا جائے،اس ساری صورتحال سے قوم کو بے خبر رکھا جا رہا ہے،اور ملک کے اندر تشویش بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اور پھر پیسہ نہیں آئے گا ملک کے اندر، پھر اسلحہ ملک کے اندر آئے گا۔ ملک کے اندر اسلحہ کے راستے بنائے جا رہے ہیں، اور حالات آپ کے رویوں کی وجہ سے بنتے چلے جا رہے ہیں۔ پھر شکایت کس سے؟ ہم نے ٹی ٹی پی سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے بی ایل اے سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے اتحاد المجاہدین سے امن کی درخواست نہیں کرنی۔ ہم نے امن کا مطالبہ حکومت سے کرنا ہے، ہم نے امن کا مطالبہ اپنے اداروں سے کرنا ہے، جو ہمارے قیامِ امن اور ہماری جان، مال و عزت و آبرو کے محافظ ہیں، اور یہ ان کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ ہم نے ان سے مطالبہ کرنا ہے کہ آپ ہمیں کیا امن دے رہے ہیں؟
6:46

Sensitive content

آج بھی میگا پروجیکٹس پاکستان کے اندر معطل ہیں،گزرے کئی سالوں سے ملٹی نیشنل کمپنیاں درجنوں کے حساب سے ملک سے باہر جا چکی ہیں، سرمایہ یہاں سے منتقل کر دیا ہے،پاکستانی اپنا سرمایہ منتقل کر رہے ہیں اور کوئی باہر کی کمپنیاں پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ افغانستان کی سرحدات ہوں یا انڈیا کی سرحدات ہوں، شرق و غرب ہم نے اپنے اوپر بند کر دیے ہیں۔ تجارت نہیں ہے، کاروبار نہیں ہے، لوگوں کا آنا جانا مشکل ہو گیا ہے۔ چین کا ہم اعتماد کھو چکے ہیں، وہ پاکستان کے اندر سرمایہ کاری میں دلچسپی بھی نہیں لے رہا۔ تو پاکستان نے محصور ریاست کی شکل اختیار کر لی ہے۔ بدامنی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس اور فوجی جوانوں پر حملے ہو رہے ہیں اور ریاستی قوت دفاعی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ کتنی بری بات ہے یہ! ہم ماضی کے معاملات اور مشکلات، اس سے تو ہم نمٹ نہیں پا رہے۔ گھر میں آگ لگی ہوئی ہے، نئے نئے مسائل ہم پیدا کر رہے ہیں۔ کبھی صوبوں کے سوال چھیڑ دیتے ہیں، کبھی این ایف سی ایوارڈ کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں، کبھی معدنی ذخائر کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں۔ اور پہلے جو ملک جس مشکل میں گھرا ہوا ہے اور جو ہمارے سروں پر مشکلات ہیں، موت ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے، آگ برس رہی ہے، بارود جو ہے، ہم ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں، اور ان حالات میں نئے نئے مسائل کھڑے کرنا، اس سے بڑھ کر غیر سنجیدگی اور نہیں ہو سکتی۔ مسائل ڈسکس کیے جائیں، پارلیمنٹ میں لائے جائیں اور حکومت کا ایک حصہ وہ صوبوں کی بات کر رہا ہے، صوبوں کو ٹکڑے کرنے کی بات کر رہا ہے۔ حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟ وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔ اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔ حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟ آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔ پارلیمانی لیڈرز کا ایک بند کمرے کا اجلاس، میرے خیال میں، وہ کافی نہیں ہے اور اس میں اپوزیشن دلچسپی بھی نہیں لے رہی۔ تو اس اعتبار سے یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ اس وقت قوم تشویش میں ہے۔ سعودی عرب پر حملہ، معاہدہ ہو چکا ہے ہمارا ان کے ساتھ۔ گو کہ وہ جنگی معاہدہ نہیں ہے، وہ دفاعی معاہدہ ہے، لیکن جب اس کے ساتھ یہ لفظ وابستہ کیا گیا کہ کسی بھی ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا تو اس میں کچھ ذمہ داریاں آ جاتی ہیں، ہمارے اوپر بھی آتی ہیں۔ اب ترکی بھی اس میں شامل ہو گیا۔ اس کو آگے بڑھنا چاہیے تھا، اس میں مصر کو شامل ہونا چاہیے تھا، اس میں ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا، لیکن عالمی قوتوں نے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ وہ جو اسلامی اتحاد کے عمل کا ایک تسلسل تھا، وہ فلحال رک گیا ۔ قوم کو تو بتایا جائے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، پارلیمنٹ کو تو بتایا جائے،اس ساری صورتحال سے قوم کو بے خبر رکھا جا رہا ہے،اور ملک کے اندر تشویش بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اور پھر پیسہ نہیں آئے گا ملک کے اندر، پھر اسلحہ ملک کے اندر آئے گا۔ ملک کے اندر اسلحہ کے راستے بنائے جا رہے ہیں، اور حالات آپ کے رویوں کی وجہ سے بنتے چلے جا رہے ہیں۔ پھر شکایت کس سے؟ ہم نے ٹی ٹی پی سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے بی ایل اے سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے اتحاد المجاہدین سے امن کی درخواست نہیں کرنی۔ ہم نے امن کا مطالبہ حکومت سے کرنا ہے، ہم نے امن کا مطالبہ اپنے اداروں سے کرنا ہے، جو ہمارے قیامِ امن اور ہماری جان، مال و عزت و آبرو کے محافظ ہیں، اور یہ ان کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ ہم نے ان سے مطالبہ کرنا ہے کہ آپ ہمیں کیا امن دے رہے ہیں؟

Maulana Fazl-ur-Rehman

23,845 görüntüleme • 7 gün önce

مجھے کل پتا چلا کہ یوریا کھاد کی کمپنیوں پر پابندی لگائی گئی ہے۔ اس وقت کسان انتہائی پریشان ہیں، فصلوں کے لیے اس وقت کھادوں کی بہت ضرورت ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ وفاقی حکومت کیوں خیبر پختونخوا کے عوام سے انتقام لے رہی ہے۔ کبھی سیکیورٹی کے نام پر سیکیورٹی آپ لوگوں سے سنبھالی نہیں جا رہی ہے، سیکیورٹی میں آپ نے کون سا ایکشن لیا ہے، اس وقت نیشنل ایکشن پلان پر کوئی عمل نہیں ہو رہا ہے، امن و امان کی صورتِ حال بد سے بدتر ہو رہی ہے۔ آپ روزگار کے مواقع ختم کر رہے ہیں۔ ابھی آپ کسان کو مار رہے ہیں تاکہ خیبر پختونخوا میں تھوڑا بہت رمک ہے، وہ بھی ختم ہو جائے۔ میں اس کی بھرپور مذمت کرتا ہوں اور اس پر اسمبلی اجلاس میں بات کروں گا۔ جو بھی اس پابندی کے ذمہ داران ہیں، وہ قوم کے دشمن ہیں، وہ زیادتی کر رہے ہیں، نفرتیں پیدا کر رہے ہیں۔ ہم نے ہر ممکن طریقے سے اس کا مقابلہ کرنا ہے، اس کے خلاف آواز اٹھانی ہے۔ اپنے کسان بھائیوں سے کہتا ہوں کہ میں آپ کے ساتھ ہوں، کل کے اسمبلی اجلاس میں اس معاملے کو اٹھاؤں گا۔

Asad Qaiser

20,433 görüntüleme • 1 ay önce

ذرا سوچیے! تعلقات کی جو نوعیت اور تعلقات میں کشیدگی کی جو نوعیت آج حکومتی پارٹیوں اور پی ٹی آئی کے درمیان نظر آ رہی ہے یہ کوئی میرے لیے آج پہلا منظر نہیں ہے، خواجہ آصف صاحب میرے محترم ہیں، میرے بڑے ہیں، مجھ سے عمر میں بھی بڑے ہیں، میں احترام کرتا ہوں یہ سب کچھ خوب جانتے ہیں، پرویز اشرف صاحب بیٹھے ہوئے ہیں، میرے لیے قابل احترام ہیں یہ سارے مناظر انہوں نے دیکھے ہیں، جو کشیدگی کی نوعیت اور ایک دوسرے کے خلاف روئیوں کی جو انتہا پسندی ہے یہ مناظر ہم نے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی بیچ میں نہیں دیکھے تھے، میاں نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے درمیان ہم نے نہیں دیکھے تھے، آج ہم انہی مناظر کو دوبارہ دوسرے شکل میں دہرا رہے ہیں، میں ان روئیوں کے حق میں نہیں ہوں، میں حجم کے مطابق رد عمل دینے کے حق ہوں، اگر عمل چیونٹی کے برابر ہے تو رد عمل چیونٹی کے برابر ہونا چاہیے، لیکن ہم ہیں کہ عمل چیونٹی کے برابر اور رد عمل ہاتھی کے برابر ہوتا ہے۔ مسائل کو اس کے اپنے خاص حدود کے اندر ہمیں سوچنا چاہیے، اپوزیشن کی جماعتیں بیٹھی ہیں، محمود خان اچکزئی ہمارے لیڈر آف دی اپوزیشن ہے، مجھ سے انہیں ووٹ نہیں مانگا لیکن میں نے ان کو سپورٹ کیا ہے اور میں آج بھی یہ سوچتا ہوں کہ جس طرح پرائم منسٹر صاحب نے خطاب کیا اور اس میں انہوں نے میثاق جمہوریت کی بات کی، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے درمیان دوریاں اور تلخ رویوں کی ایک تاریخ وہ میثاق جمہوریت پر جا کر ختم ہوئی، میں اس کا سگنیچری نہیں ہوں، غالباً عمران خان بھی اس کے سگنیچری نہیں ہیں، لیکن بعد کے جو سیمینارز ہوئے، آل پارٹیز ہوئے، ان کے جو اعلامیے سامنے آئے اس پہ ہم سب کی تائید اس کو حاصل ہوئی اور آج ایک متفقہ دستاویز ہے، ہم نے جو عہد کیا تھا، ہم نے جو میثاق کیا تھا کہ ہم اختلاف رائے کریں گے، جو حکومت کر رہی ہے اُس کو حکومت کرنے دیجیے، ملکی معاملات میں ہم تعاون کی ضرورت ہوگی تو وہ بھی کریں گے، ایک دوسرے کے حکومتوں کو گرائیں گے نہیں، اور اگر میں بڑی وضاحت کے ساتھ اس سے بھی اچھے واضح الفاظ کے ساتھ عرض کروں کہ اپوزیشن اپوزیشن کرے گی لیکن وہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے سہولت کار نہیں بنے گی، وہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے حکومت پر پریشر نہیں ڈالے گی، وہ اس کے لئے ہنگامے نہیں کھڑا کرے گی تاکہ وہ پھر حکومت کو منیج کر سکے، آج وہ ساری چیزیں بگڑ گئی، دوبارہ معاملات خراب کر دئیے گئے۔ میں تو آج بھی کہتا ہوں کہ عمران خان کو باہر آنے دیں، سیاست میں اگر ان کی گرفتاری کی وجہ سے تلخی ہے ہمیں ملک کی بہتری کے لئے اور ملک کے اندر مجموعی طور پر ایک برادرانہ اور ہم آہنگی کی فضاء پیدا کرنے کے لئے ایک شخص کی قربانی کوئی مسئلہ نہیں ہے، آجائیں باہر میدان میں سیاست کرتے ہیں، مجھے لوگ پوچھتے ہیں آپ عمران خان پر بہت تنقید کرتے تھے آج کل کیوں نہیں کر رہے؟ میں نے کہا یہ میرا مزاج نہیں مانتا کہ میرا مخالف جیل میں ہو اس کے ہاتھ پاؤں بندھے ہو اور میں کھل کر ان پر تنقید کرتا رہوں، او وہ بھی باہر آئیں گے، وہ بھی بات کریں گے، ہم بھی بات کریں گے۔ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے۔ آداب کے اندر کریں گے، یہی تعلقات میں حزب اختلاف اور حکومت کے بھی چاہتا ہوں، میثاق جمہوریت کی طرف آئیں ہم دوبارہ چلیں، اور اس کے لیے یقیناً اپوزیشن کو بھی مشورہ کرنا ہوگا وزیراعظم نے اگر کوئی بات کی ہے لیکن کچھ تو معاملات کے حل کے لیے ہمیں بتایا جائے کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ اور آپ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ اگر آپ کو یہ خطرہ ہے کہ ان کیمرہ میٹنگ ہوگی اور پی ٹی آئی والے کوئی ہنگامہ کریں گے میں اس فلور پر پی ٹی آئی والوں کی زمہ داری خود لیتا ہوں وہ کوئی ہنگامہ نہیں کریں گے۔ اسپیکر کے سوال پر کہ مولانا صاحب آپ کتنے بولیں گے؟ مولانا صاحب کا جواب: بولنے پر تو حضرت اتنے درد ہیں کہ ہر درد کے لیے گھنٹہ چاہیے۔ اور اب جب آپ کے اوپر ایک بوجھ آگیا ہے، ایک دباؤ آگیا تو مجھے آپ کے درد کا بھی احساس ہے، مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ یہ درد آپ کا اکیلا نہیں ہے، یہ درد کہیں سے آ جاتا ہے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا پارلیمنٹ میں خطاب #MaulanaInParliament

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,699 görüntüleme • 3 ay önce

9 مئی کا واقعہ مجھے لگتا ہے کہ مکمل طور پر پری پلان تھا۔ وہاں کچھ لوگ اکسا رہے تھے کہ ہمیں کور کمانڈر ہاؤس کی طرف جانا چاہیے۔ میں نے وہاں جو سب سے اہم چیز نوٹ کی، وہ یہ تھی کہ جو ورکرز تھے، ان کو کسی چیز کا علم نہیں تھا۔ وہ صرف روڈ بلاک کرنے اور نعرے بازی کرنے کے لیے موجود تھے۔ جو لوگ کور کمانڈر ہاؤس کی طرف اکسا رہے تھے، وہ ورکرز سے بالکل ہٹ کر تھے۔ ان کی باڈی لینگویج اور ان کا فزیکل اپیئرنس بالکل مختلف تھا۔ تو مجھے تھوڑی سی تشویش ہوئی کہ کیا کرنا چاہیے، پھر میں فوراً کور کمانڈر ہاؤس پہنچا۔ انہوں نے جو ڈنڈے پکڑے ہوئے تھے، وہ وہی تھے جو پولیس کے پاس ہوتے ہیں، لیکن وہ سول وردی میں تھے۔ اس کے علاوہ، میں اس سلیکشن سینٹر میں موجود تھا جب وہ جل رہا تھا۔ وہاں میں نے ریکارڈنگ کی، کیونکہ میڈیا کو بین کیا گیا تھا اور انہوں نے کوریج نہیں کرنی تھی۔ تو میں وہاں اُس وقت پہنچا جب وہ آگ لگا رہے تھے، اس کو جلا رہے تھے یا لوگوں کو اکسا رہے تھے۔ میں نے ان کی کوریج کی، جو توڑ پھوڑ کر رہے تھے، ان کی بھی کوریج کی، کیونکہ وہاں میڈیا موجود نہیں تھا۔ جب میں وہاں سے ویڈیو بنا کر باہر نکلا تو مجھے تین، چار بندوں نے گھیر لیا۔ وہ بالکل مختلف تھے۔ ان کی باڈی لینگویج، ان کے بولنے کا انداز اور ان کی مینٹیلٹی مختلف تھی۔ ان میں سے ایک بندے نے مجھے کہا کہ آپ ہماری ویڈیو ڈیلیٹ کریں۔ میں نے کہا کہ میں کیوں ڈیلیٹ کروں؟ اور میں سمجھتا ہوں کہ جو ورکر ہوتا ہے، وہ خود ویڈیو میں آنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی پارٹیسپیشن دکھاتا ہے۔ انہوں نے میرا کیمرہ مجھ سے چھین لیا اور اسے پھینکنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد میں نے بہت اصرار کیا کہ بھائی، آپ کیوں توڑ رہے ہیں؟ آپ ایسا کریں کہ میرا کیمرہ نہ توڑیں، صرف ویڈیو ڈیلیٹ کر لیں۔ تو ان میں سے ایک اور آدمی نے کہا کہ میں آئی ٹی کا بندہ ہوں اور مجھے پتا ہے کہ یہ دوبارہ ریکور ہو جائے گی۔ آپ ایسا کریں، یا تو اپنا کیمرہ مجھے دے دیں، یا پھر کیمرے میں سے جو کارڈ ہے وہ نکال کر دے دیں۔ میں نے بڑی کوشش کی کہ میں انہیں نہ دوں، لیکن وہ چار، پانچ بندے تھے اور کوئی ورکر نہیں تھے، کوئی اور لوگ تھے۔ اس کے بعد انہوں نے کارڈ لیا اور جلا دیا۔ اس صحافی کی ویڈیو سب کچھ واضح کر دیتی ہے۔ اس ویڈیو کو عمران خان نے بھی شیئر کیا تھا۔ 9 مئی کے فالس فلیگ آپریشن کی حقیقت، عینی شاہد صحافی انس نواز کی زبانی۔ Anas Nawaz انس نواز #May9th_FalseFlag

PTI North Punjab

28,063 görüntüleme • 4 ay önce