Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

جس کا ڈر تھا وہی ہوا !!!! اگر اس کے بعد پولیس یا کوئی بھی ادارے (ISI, MI) والے قامی جرگہ میں آئے، تشدد یا کوئی مالی نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو ہم پھر اُن کے دفتروں اور گاڑیوں جلائنگیں۔ ریاست جان بوجھ کر پختون قوم کو بغاوت...

38,917 Aufrufe • vor 1 Jahr •via X (Twitter)

9 Kommentare

Profilbild von Wajeeha Afridi
Wajeeha Afridivor 1 Jahr

Malik saib the great

Profilbild von IMRANISM
IMRANISMvor 1 Jahr

اگر پختونخوا پولیس نے وفاق سے آرڈر لے کر آپریشن کیا تو یہ آپریشن تحریک انصاف پر کیوں نہیں ہورہا تحریک انصاف کے قافلے کے ساتھ تو پولیس پنجاب تک جاتی ہیں

Profilbild von Sajid Khan
Sajid Khanvor 1 Jahr

گنڈاپور آلہ کار ہے جالی انقلابی

Profilbild von MK.
MK.vor 1 Jahr

Gandapur da company barwa de haga na zamng da tama na wa che dumra low lar baaki!🥶 @FaisalAminKhan @YarMKNiazi @MeenakhanAfridi

Profilbild von الوازیر ⁦🕊️⁩
الوازیر ⁦🕊️⁩vor 1 Jahr

غدار نیازی اور خیبرپختونخوا حکومت

Profilbild von IMRANISM
IMRANISMvor 1 Jahr

بھائی صوبائی حکومت ملوث ہے

Profilbild von Sweeti khan kakar
Sweeti khan kakarvor 1 Jahr

@ManzoorPashteen ویسے بھی لاتوں کے بت باتوں سے نہیں مانتے

Profilbild von Pakistani🇵🇰
Pakistani🇵🇰vor 1 Jahr

Shit just hits the fan.

Profilbild von Abdullah Wazir
Abdullah Wazirvor 1 Jahr

Ya sab kpk ke begharat government awr begharat CM ka kehna per ho raha ha

Ähnliche Videos

میرے بیٹے کے قاتل کا نام قیوم تھا، وزیرستان سے اسکا تعلق تھا اور حکیم اللہ محسود و بیت اللہ محسود کے ساتھ ہوتا تھا وہ کراچی میں گرفتار ہوا تھا، دوران تفشیش اس نے میاں راشد حسین کی ٹارگٹ کلنگ کا انکشاف کیا میرے بیٹے کی شہادت کے بعد وہ ترقی پاکر کراچی میں کمانڈر بن گیا تھا گرفتاری کے کچھ عرصہ بعد خبر آئی کہ اسکی ضمانت ہونے جارہی ہے اطلاع دی گئی کہ اگر آپ اسکی رہائی نہیں چاہتے تو آپ اسکے خلاف دعویداری کرے مجھے اس کا کافی دکھ ہوا اور میں نے انکو بتایا کہ میری کسی کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے میرا بیٹا قوم کی جنگ میں شہید ہوا تھا، دہشتگردی کے خلاف ریاست کی ایک پالیسی تھی اور میں حکومت کا ایک نمائندہ تھا ہماری حکومت تھی، میں اطلاعات کا صوبائی وزیر تھا اور اسکی پاداش میں میرے بیٹے کو شہید کیا گیا تھا اگر کسی آپریشن کے دوران فوج، پولیس، ایف سی یا دیگر ادارے کا کوئی اہلکار شہید ہوجائے تو اسکی دعویداری ریاست کرتی ہے یا اسکا خاندان؟ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہید ہونے والے کا کیس آگے لیکر جائے اگر میں ذاتی دعویداری کروں گا تو یہ بیٹے کے خون سے غداری ہوگی میری کوئی بھی ذاتی دشمنی نہ پہلے تھی اور نہ اب ہے، ہم امن اور محبت کے پیروکار ہیں اس کے بعد معلوم نہیں کہ اس کیس میں اب تک کیا پیشرفت ہوئی ہے اگر کوئی ریاستی پالیسی کی راہ میں قربان ہوجائے تو اسکو تحفظ فراہم کرنا چاہيئے اور ریاست کو اس کی اونر شپ لینی چاہیئے ایسا کرنے سے دہشتگرد ذاتی طور پر کسی کو ٹارگٹ نہیں کریں گے اور ان کو پیغام جائے گا کہ یہ پوری قوم کی نمائندگی پر ہورہا ہے میاں افتخار حسین صدر عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا Mian Iftikhar Husain #ANP | #AwamiNationalParty | #MianIftikharHussain

Awami National Party

90,207 Aufrufe • vor 2 Jahren

چارسدہ: عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان کی ولی باغ میں پریس کانفرنس سے خطاب: سب کو کامیاب جرگے کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، ایمل ولی خان کل بذات خود میں پختون قومی جرگہ میں شرکت کرونگا اور قوم کی وکالت کروں گا آج خیبرمیں جو جرگہ ہورہا ہے یہ باچا خان کے سوچ کی عملی تصویر ہے گزشتہ 40 برسوں سے پختون بیلٹ دہشتگردی کی آگ میں جل رہا ہے عوامی نیشنل پارٹی نے دہشتگردوں کا نہ صرف مقابلہ کیا بلکہ امن کی قیام کیلئے قربانیاں دی آج بھی اگر کوئی سیاسی جماعت دہشتگردوں کے آنکھوں کا کانٹا ہے تو وہ اے این پی ہے کسی بھی پرامن تنظیم یا سیاسی جماعت پر پابندی لگانا مسئلے کا حل نہیں جرگہ میں جومتفقہ باتیں سامنے آئیں گی، اس کو ریاست کے سامنے رکھیں گے کل جو جرگہ ہوا ہے اس میں پختونستان کا کوئی مطالبہ نہیں ہوا سب کو یقین دلاتا ہوں کہ جرگے میں ایسی کوئی بات نہیں ہوگی جو آئین کے خلاف ہو خیبر جرگہ پختونوں کی مشکلات اور مسائل کے حل کیلئے ہورہا ہے ہم ریاست کو بھی مانتے ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ریاست ہمیں بھی مانے ہم نے گارنٹی دی ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوگی جس سے ریاست کو نقصان ہو ہم نے کل اپنی سیاست کو ایک سائیڈ پر رکھا اور امن کیلئے پی ٹی آئی کے ساتھ بھی بیٹھیں ہم پختونوں کے مسائل پر ہر کسی کے ساتھ چلنے اور بات کرنے کو تیار ہیں وزیراعلی کو بھی کل بتایا کہ اسی طرح ہر مسئلے پر دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے رکھیں اے این پی امن کیلئے تمام لوگوں کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے ہم پولیس اور فوج کے جوانوں کی شہادتوں کا بھی احترام کرتے ہیں جرگوں کا یہ تسلسل برقرار رہنا چاہیئے، کل جرگے میں پختون کی حیثیت سے جارہا ہوں کل جو بات چیت ہوئی اگر پہلے ہوئی ہوتی تو چار قیمتی جانوں کا نقصان نہیں ہوتا ایسی کوئی بات نہیں کرنا چاہتا جو حالات کو خرابی کی طرف لیکر جائیں #ANP | #AimalWaliKhan |#Khyber

Awami National Party

63,453 Aufrufe • vor 1 Jahr

"اس حمام میں سب ننگے ہیں " آج اسلام آباد میں یونیورسٹی میں جو ہوا اس پر سب سے زیادہ تشویشناک بات نہ فوجی کا گولی چلانا ہے نہ طلباء کا کسی خاتون پر آواز لگانا یا فوجی کی پھینٹی لگانا ہے - ان دونوں باتوں سے زیادہ تشویشناک بات صحافیوں اور سوشل میڈیا پر فریقین کے سپورٹرز کے دلائل ہیں جو اس قدر متعصب اور جذباتی ہیں کہ ان کے درمیان سات سمندروں کا فاصلہ ہے - ایک طرف ایک گروپ کے دلائل میں اس واقعہ سے زیادہ وہ حالات نظر آتے ہیں جن کا اس ملک کو پچھلے کئی سال سے سامنا ہے تو دوسری طرف کے گروپ کے دلائل میں خوشامد اور "غیرت " کا وہ منجن نظر آتا ہے جس کے مطابق آرمی جو بھی کرتی ہے "قوم کے وسیع تر مفاد میں کرتی ہے " اور ایسا کرنا "غیرت کی نشانی " تھا -- یوں یہ یونیورسٹی کا یہ جھگڑا اس ملک میں سویلین اور عسکری اداروں کی لڑائی معلوم ہونے لگتی ہے - چلیں اس ب دلائل کا پوسٹمارٹم کرتے ہیں - کرنل صاحب کے حق میں دلائل دینے والے بہت سے صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کی ایک یہ دلیل ہے کہ "کسی کی بھی بیوی کو جب ایک گروہ تنگ کریگا تو اس کی غیرت کا تقاضہ ہے کہ پھر وہ ایسا ہی کرے جیسا کرنل صاحب نے کیا " - ایسے ہی لوگوں کے ایسے غیرت والے "بے غیرت " قسم کے دلائل کی وجہ سے اس ملک سے "غیرت پر قتل " کا رواج آج تک قائم ہے کیوں کہ کوئی بھی غیر قانونی کام کرتے ہویے ان کی بھی یہی دلیل ہوتی ہے - غیرت کے علمبردار ان لوگوں سے مجھے یہ پوچھنا ہے کہ مئی 2023 کو ایک لڑکی طیبہ راجہ Tayyaba Rajah🇵🇰 کے بال ایک رینجرز نے کیمروں کے سامنے کھینچے تھے اور اسکو گھسیٹتا ہوا سڑک کے ایک طرف لے گیا تھا -پورے پاکستان نے یہ منظر دیکھا تھا - وہاں اگر طیبہ کا باپ یا بھائی اس رینجر پر پستول تان لیتا یا ہوائی فائر مارتا تو اس کو بھی یونہی غیرت مند کا ٹائٹل ملتا ؟ ہر گز نہیں - اس کو دہشت گرد کہ کر اس پر انسدادی دہشت گردی کا مقدمہ چلتا' اس کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہوتا اور اس کے بعد کوئی اس کی شکل نہ دیکھ پاتا - تو اگر غیرت بس فوجی کی بیوی یا بیٹی کی دفعہ ہی جاگتی ہے تو ایسے دلائل دینے والوں میں خود غیرت کا فقدان ہے جس کیلئے ان کو غیرت کے ٹیکے لگوانے چاہیے - ایک اور مثال دیتا ہوں - نومبر 2024 میں اسی اسلام آباد میں کنٹینر پر ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا - اس کو بغیر کسی دست درازی کے رینجرز نے اٹھا کر 25 فٹ کی بلندی سے نیچے پھینک دیا تھا - اس کو دیکھ کر اگر وہاں موجود مجمع "اسلامی غیرت " کے تحت ان رینجرز پر حملہ کر دیتا تو کیا آج بھی ان درباریوں اور حواریوں کی یہی دلیل ہوتی ؟ ہر گز نہی - تب ان لوگوں کو "آتنک وادی " اور "را کا ایجنٹ " کہا جاتا اور اس کے بعد وہ لاپتہ ہوجاتے - سو یہ کیسی غیرت ہے کہ جو بس صاحب اختیار کی ہو تو " مرد کی غیرت" ' اور کمزور کی ہو تو "مال غنیمت " - اس غیرت والے منجن کی دلیل دے کر یہ لوگ مستقبل میں اس بات کی رواج پیدا کردینگے کہ جس کی بھی بہن پر کوئی ہوٹنگ کرے ؛ وہ کالج میں ڈسپلن کمیٹی کے پاس جانے کی بجاے بندوق لے کر ہوائی فائرنگ شروع کردے - ان خاتون کو بھی وہاں کھڑی پولیس سے بات کرنا چاہیے تھی '- وہ ایک ڈاکٹر تھی ' پروفیسر تھیں - پروفیشنل تھیں - ان طلباء کے خلاف یونیورسٹی کی ڈسپلن کمیٹی بلانی چاہیے تھی پر انہوں نے بھی سیدھا ٹرپل ون بریگیڈ کو بلانا مناسب سمجھا جو ان کے اندر موجود اس احساس کا ترجمان ہے کہ "میرا شوہر کرنل ہے " - یونیورسٹی میں وردی پہن کر آنا غلط نہیں ' ایسا ہوسکتا ہے وہ کام پر جارہے ہوں اور وہاں سے آگیے ہوں - غلط اس وردی کا رعب جھاڑنا ہے اور اس کے زعم میں ہوائی فائر کرنا ہے جو سرحد پر زیادہ اچھے لگتے ہیں ' سویلین پر نہیں - ہر سڑک "ڈی چوک " اسلام آباد نہی ہوتی نہ ہر تاریخ نو مئی یا 26 نومبر ہوتی ہے - عادتیں بدلیں ؛ کہ اب لوگ بدلتے جارہے ہیں - اس پورے واقعہ کا ایک اور پہلو وہاں موجود پولیس کی اس فوجی کو روکنے اور بندوق چھیننے میں ہچکچاہٹ بھی ہے کیوں کہ اس ملک کا ماحول ہی ایسا ہے کہ کوئی بھی وردی والوں پر ہاتھ ڈالنے سے ڈرتا ہے چاہے وہ کتنا ہی قانون کیوں نہ توڑے - وہ کوئی سیاست دان ہو ؛ یا جج ہو یا صحافی ہو یا پولیس والا - قانون توڑنے والے اس ہاتھ کو روکنے سے ڈرتا ہے کیوں کہ ان کو بعد میں اپنے انجام سے ڈرلگتا ہے - مجھے یقین ہے وہاں کھڑے ان پولیس والوں کو بہاولنگر میں آرمی کے ہاتھوں پولیس والوں کی ٹھکائی ضرور یاد آتی رہی ہوگی - دوسری طرف یہ بھی ٹھیک نہیں ہوا کہ پورا مجمع ایک عورت اور ایک پروفیسر پر جملے بازی کرے - احتجاج کی حد تک ٹھیک تھا ' زبان درازی اگر ہوئی تو اس کی توجیح ہر گز نہیں دی جاسکتی اور ایسے سٹوڈنٹس کے خلاف بھی ڈسپلن کمیٹی کی کاروائی اور سسپینشن بنتی تھی - اگر ان سٹوڈنٹس نے بھی اس عورت کو محض اس لیے ہوٹنگ کا نشانہ بنایا کہ وہ ایک آرمی کے کرنل کی بیوی تھی تو یہ بھی انتہائی پست ذہنیت کی عکاسی ہے - سٹوڈنٹس کو اپنے غصے اور جذبات میں اس وقت کے واقعات کو حاوی رکھنا چاہیے ' کسی پرانے بغض یا اس عورت کے رشتے یا تعلقات کو نہیں - یہ جذباتی کمزوری (Emotional cowardice) کی نشانی ہے جو قابل مذمت ہے - اس پورے معاملے میں زیادہ ذمے داری کرنل صاحب پر عائد ہوتی ہے - وہ اس لئے کہ وہ ایک ادارے کا یونیفارم پہن کر یہ سب کر رہے تھے - وہ ادارہ جس سے لوگ ویسے ہی نالاں ہیں - غصے میں ہیں - یہ ان کا کینٹ نہیں تھا بلکہ ایک یونیورسٹی تھی جہاں جھگڑا ہو بھی جائے تو آرمی نہی آتی ' پولیس آتی ہے - وہاں پولیس موجود تھی - ان پولیس والوں کے سامنے پہلے لڑکے کو تھپڑ مارنے میں پہل کرنا ' سٹک سے مارنا اور پھر وردی میں آ کر پستول چلانا سیدھا سیدھا اختیارات کا ناجایز استعمال اور اپنی وردی کا غرور تھا ' کوئی غیرت یا سیلف ڈیفینس نہی -- یہ حرکت کسی سویلین تو دور کسی پولیس والے نے بھی آرمی والوں کے ساتھ کینٹ میں کی ہوتی تو اس کا ووہی حال ہوتا جیسا دو سال قبل بہاولنگر میں ہوا تھا جہاں آرمی کی پوری پلٹن نے جا کر پولیس والوں کو وردی میں ٹھڈوں سے مارا تھا اور بعد میں اس پر معافی بھی آئ جی پنجاب نے مانگی تھی - یہ بات کہ اس کرنل کو کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑیگا اور ملٹری اس کو سزا دے گی ' یہ تو اور بھی زیادہ قابل تنقید کیوں کہ یہ "کونفلیکٹ آف انٹرسٹ " "Conflict of interest" ہے - جب ایک سویلین کسی کینٹ میں جا کر کوئی دنگا فساد کرتا ہے تو اس کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہوتا ہے - رائٹ؟ ہم نے تو اس ملک کی عدالتوں سے یہی سیکھا ہے - تو پھر جب ایک کرنل کسی سویلین یونورسٹی میں جاکر وردی کا غلط استعمال کر کے ہوائی فائر کرتا ہے تو اس کو کسی تھانے میں کیوں نہیں بند کیا جاتا ' کسی سویلین کورٹ میں جہاں تاریخ بھی مہینوں بعد آتی ہے ' وہاں کسی فزیکل کسی جوڈیشل ریمانڈ پر کیوں نہیں دیا جاتا ؟ اگر میری بات میں وزن نہی تو وضاحت کردیں - اس پورے واقعہ نے صرف ہماری آرمی نہیں بلکہ ہر صاحب اختیار آدمی کی ذہنیت آشکار کی ہے - میں محض آرمی میں موجود چند آئین شکن افراد کے بغض میں یہ ہر گز نہی کہونگا کہ ایسا بس ہماری آرمی والے ہی کرتے ہیں - یہاں کوئی سیاست دان یا وڈیرہ بھی ہوتا ؛ کوئی بیوروکریٹ یا کمشنر بھی ہوتا ؛ کوئی ایس پی یا آئ جی بھی ہوتا ' وہ بھی ایسی ہی رعونت دکھاتا ' ایسے ہی اختیار یا وردی کا رعب جھاڑتا کیوں کہ اس ملک میں قانون اور آئین یا صرف کتابوں میں رٹا مارنے کیلئے ہیں یا پارلیمنٹ اور عدالتوں میں "شکن " ہونے کیلئے ہیں - - حقیقت میں قانون سامنے نیلی وردی میں کھڑا بھی ہو تو اختیار والا اپنی خاکی وردی کا رعب جھاڑنا نہیں بھولتا اور اس حمام میں کیا فوجی ؛ کیا ایس پی ' کیا چوہدری ' کیا ایڈووکیٹ ' کیا کمشنر کیا منسٹر -- ہم سب ہی ننگے ہیں - "قلم کی جسارت وقاص نواز " -------------------------------------------------------

Dr Waqas Nawaz

18,703 Aufrufe • vor 26 Tagen

مجھ سمیت میرے گھر کے تمام افراد بشمول محلے والے اس بات کے چشم دید گواہ ہیں کہ 21 اپریل کی شام کو پولیس کی وردی میں لوگ آئے، پولیس کی گاڑیوں میں ہمارے سامنے داد شاہ کو جبری طور پر اٹھا کر لے گئے۔ آج تین دفع تھانے جانے کے بعد اول تو پولیس کا رویہ ہم آہنگ نہیں تھا اور وہ زور دے رہے تھے کہ نامعلوم کے خلاف ایف آئی آر درج ہوگی۔ میں چشم دید گواہ ہوں، اس وقت تھانے میں موجود ہوں، اور گواہی دے رہی ہوں کہ وردی میں پولیس والے تھے تو جواب ملتا ہے، “آپ کے بلوچ لبریشن آرمی والے ہوں گے۔” اول تو پولیس ہمیں “آپ” کا مطلب سمجھائیں۔۔!! اور دوسرا یہ بتائیں کیا پاکستان کے باقی شہروں کے شہریوں کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوتا ہے؟ جب کوئی انصاف مانگنے پولیس کے پاس جائے ، تو کیا ان سے بھی یہی کہا جاتا ہے کہ “آپ” کے تحریک طالبان پاکستان یا “آپ” کے سپاہ صحابہ والے ہوں گے؟ یا یہ سوال صرف بلوچ ہونے کی بنیاد پر ہمارے لیے ہی مخصوص ہے؟ #StopBalochGenocide #EndEnforcedDisappearances #ReleaseDaadShahBaloch

Fozia Baloch Shashani

13,371 Aufrufe • vor 5 Monaten

خاموشی جرم ہے! دہشت گردوں کو پناہ دینے والے بھی مجرم ہیں! جب بھی کوئی دہشت گرد حملہ ہوتا ہے، سوال اٹھتا ہے کہ یہ قاتل کہاں سے آتے ہیں؟ انہیں پناہ کون دیتا ہے؟ ان کے لیے محفوظ راستے کون بناتا ہے؟ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ معاشرے کے کچھ عناصر جان بوجھ کر یا خوف کی وجہ سے ان شدت پسندوں کی مدد کرتے ہیں۔ مگر یہ خاموشی اور چشم پوشی مزید خون بہانے کا سبب بنتی ہے۔ یہ دہشت گرد کہیں باہر سے نہیں آتے—یہ ہمارے ہی شہروں، دیہاتوں، اور محلوں میں چھپے ہوتے ہیں۔ کوئی انہیں رہائش دیتا ہے، کوئی خوراک، اور کوئی ان کی نقل و حرکت پر خاموش رہ کر نادانستہ طور پر ان کے معاون بن جاتا ہے۔ مگر یاد رکھیں! جو دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو محفوظ سمجھتے ہیں، وہی ایک دن انہی کے ہاتھوں تباہ ہو جاتے ہیں۔ دہشت گرد کسی کے خیرخواہ نہیں! یہ عناصر نہ مذہب کے وفادار ہیں، نہ ملک کے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو ہمارے بچوں کو یتیم، ماں کو بے سہارا، اور گھروں کو ویران کرتے ہیں۔ مگر ان کے خلاف بروقت اطلاع نہ دینا، ان کی پشت پناہی کرنا، یا خوف کے مارے خاموش رہنا—یہ سب مجرمانہ غفلت ہے۔ اپنی پولیس اور فورسز کے ساتھ کھڑے ہوں! ہماری پولیس اور سیکیورٹی ادارے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں تاکہ ہم محفوظ رہیں، مگر ان کی کامیابی تبھی ممکن ہے جب عوام دہشت گردوں کے بارے میں بروقت اطلاع دیں۔ اگر کوئی مشکوک سرگرمی دیکھیں، اگر کوئی غیر متعلقہ شخص علاقے میں رہائش اختیار کرے، اگر کسی کی حرکات و سکنات مشکوک ہوں—تو فوراً پولیس یا متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں۔ اب فیصلہ کریں! آپ کس کے ساتھ ہیں؟ یہ جنگ صرف حکومت یا پولیس کی نہیں، بلکہ ہم سب کی ہے۔ اگر ہم نے آج آنکھیں بند رکھیں، تو کل کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ دہشت گردوں کی مدد نہ کریں، بلکہ ان کا راستہ روکیں! کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوراً دیں، کیونکہ خاموشی کا مطلب ہے کہ آپ خود اپنے شہر، اپنے ملک، اور اپنے بچوں کے مستقبل کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ “اب وقت آگیا ہے کہ ہم دہشت گردوں کے خلاف متحد ہوں! خاموشی جرم ہے!

Defense Intelligence

20,096 Aufrufe • vor 1 Jahr

بلوچ راج! اس ظالم اور جابر ریاست کی سفاکیت اور درندگیاں ہم سب کے سامنے واضع ہیں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ کیسے بلاجواز اور بلاتفریق ریاست نے ہمارے لیڈراں کو پابندِ سلاسل کیا ہے۔ یہ نوآبادکار اپنے طاقت کے نشے میں اس قدر اندھا ہو چکا ہے کہ اس کے سامنے جنس، عمر اور پیشہ وغیرہ کچھ بھی معنی نہیں رکھتے اگر وہ مارتے یا تشدد کرتے وقت کسی بھی چیز کا خیال رکھتا ہے تو وہ بلوچ شناخت ہے اور بلوچ کو مارنے یا بیگواہ کرنے کے لئے یہی شناخت کافی ہے۔ویسے تو کئی سالوں سے ہم یہ قیامت جھیلتے آ رہے ہیں لیکن اس مختصر دورانیے میں ہم نے ریاست کی بدترین شکل دیکھی ہے کہ اُس نے کیسے ہمارے نہتے مظاہریں پر گولیاں برسائی، آنسو گیس چلائے اور واٹر کینن سے پانی برسائے اور جب سے ہمارے توانا آوازیں ہمارے رہنما سلاخوں کے پیچھے ہیں اُس دن سے ریاست پورے بلوچستان میں اس گھمنڈ کے ساتھ خون کی ہولی کھیل رہی ہے کہ پیچھے کوئی آواز اٹھانے والا نہیں ہے اور ہم بھی نادانستہ طور پر آہستہ آہستہ ریاست کی سفاکیتوں کے سامنے خاموشی کا رواج اپنا رہے ہیں جو کہ ہمارے لئے باعث موت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ قریب ماضی میں جہان بھی کوئی شخص اٹھایا جاتا یا کسی کو ماورائے عدالت قتل کیا جاتا تو اس کے لواحقین فوراً سراپاء احتجاج ہوتے لیکن حالیہ دنوں میں ریاست ہماری خاموشی کا فاعدہ اٹھاتے ہوئے ہر روز کسی نہ کسی جگہ سے لوگوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنا رہی ہے اور مسخ شدہ لاشیں پھینک رہی ہے لیکن ہم خاموش ہیں کیوں؟ کیا ہم بالاچ مولابخش کی شہادت کو بھول چُکے ہیں کہ جس سے ایک تحریک وجود میں آئی، اس کی بھی بنیادی اکائی شہید بالاچ کے لواحقین تھے کہ جنہون نے خاموشی کا گلا گھونٹ دے کر ہم سب کو ایک آواز ہونے پر مجبور کیا، آج بھی حالت وہی ہیں آج بھی بالاچ مر رہے ہیں لیکن ہم خاموش ہیں کیا ہم اس خاموشی کو اپنا کر اپنے ہی شہداء کی وارثی سے کترا کر انکا مجرم تو نہیں بن رہے؟ بلوچ راج! ہم بارہا کہتے ہیں کہ بی وائی سی صرف ایک پارٹی نہیں اور نہ ہی اس قیادت تک محدود ہے بی وائی سی پوری قوم ہے وہ قوم جو ریاستی جبر کے سامنے لاشیں اٹھارہی ہے جو اپنے آنکھوں کے سامنے اپنے گھروں کو اجھڑتا دیکھ رہی ہے۔ ہر بلوچ جو اس جبر کو دیکھ رہا ہے اور اس کو محسوس کر رہا ہے اُس پر اتنی ہی زمہ داری عائد ہوتی ہے جتنی کہ بی وائی سی پر ہوتی ہے، تو پھر اس کٹھن حالت میں جہاں ہر طرف موت ہے اور مزاحمت کرکے زندہ رہنے کے علاوہ کوئی دوسرا کسر موجود ہی نہیں تو یہ خاموشی اور بے حسی کیسی؟ کیا ہم خود کو اور اپنے قوم کو اس چیز سے دھوکے میں نہیں ڈال رہے کہ خاموشی سے ہم بچ سکتے ہیں، لیکن ظالم کا ہمشہ سے یہی وطیرہ رہا ہے کہ وہ کبھی بھی اپنے غلام قوم یا زمین پر لوگوں میں تفریق نہیں کرتی۔ تو پھر ہم کیوں اس خوش فہمی میں رہیں؟ #ReleaseBYCLeaders #StopBalochGenocide

Baloch Yakjehti Committee

26,173 Aufrufe • vor 1 Jahr

کل شام کو تقریبا چھ بجے میں اپنے بچے کے ساتھ ریمو سینٹر کے قریب بال کٹوانے کے لیے گیا جب میں سیٹ پہ بیٹھا تھا تو وہاں دو لڑکے ائے انہوں نے کہا اٹھو میں نے وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا اٹھو ہم کو بال کٹوانے تو اس پر میرے نائی نے کہا کہ ان کا نمبر ہے ان کو کٹوانے دو ان کے بعد اپ کے بال کاٹ دوں گا تو انہوں نے گالی گلوج شروع کر دی کیونکہ وہ پولیس والے تھے جس میں سے ایک کا نام عمیر اور ایک کا نام فادی تھا جو دونوں ہیڈ کانسٹیبل تھے تو مجھے گھسیٹتے ہوئے باہر لیکر آئے گئے اور مجھ پہ تشدد کرنا شروع کر دیا دیکھ کر میرا بیٹا باہر ایا اور انہوں نے اس کن کو روکنے کی کوشش کی جس پر انہوں نے میرے بیٹے کے ساتھ بھی تشدد کیا جس کی وجہ سے میرا بیٹا ابھی تک اپنے ہوش حواس میں نہیں ہے اور مجھ پہ بھی اتنا تشدد کیا جو ویڈیو میں اپ دیکھ سکتے ہیں کیونکہ وہ پولیس والے تھے اس وجہ سے ان کے خلاف تھانے نبی بخش میں بھی کوئی کاروائی نہیں کی گئی وہ گارڈن ہیڈ کورٹر کے اہلکار تھے Karachi Police

Naqabpoush

25,819 Aufrufe • vor 1 Jahr