Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

"جنازے تو ہم اٹھا رہے ہیں کندھوں پر تو ہمارے بوجھ ہے،ہمارے لوگ شہید ہورہے ہیں،چاہے کسی بھی فرقے سے ہوں، کسی بھی وردی میں ہوں، کسی بھی صوبے سے ہوں ہمارے لوگ ہیں ہم ان کو own کرتے ہیں۔ تکلیف تو ہمیں ہے انہیں کیا ہے؟ وہ تو...

239,993 Aufrufe • vor 9 Tagen •via X (Twitter)

20 Kommentare

Profilbild von Shakila
Shakilavor 9 Tagen

ایسے لگ رہا ہے علی امین گنڈا پور اور سہیل افریدی ایک ہی پیج پر ہیں خان کو اندر رکھو اور حکومت کی یہ جاؤ

Profilbild von Faiz Muhammad
Faiz Muhammadvor 9 Tagen

بیغرت تم نے کون سے جنازے پڑھے، تم اپنا آقا خارجیوں کی بات تو نہیں کر رہے، تمھارے واث تو خارجی ہیں تم تو ان کے خلاف آپریشن بھی نہیں کرنے دیتے ہو، اور جو مجاہدین پاک فوج اور پولیس کے شہید ہوتے ہیں کسی کے جنازے پر گئے ہو بلکہ ان کے خلاف تو بھونکتے ہو،

Profilbild von kamran kayani
kamran kayanivor 9 Tagen

نہیں کرتے تیرہ سال سے جھک مار رہے ہو تم لوگوں کی حکومت ہے اپنے لوگوں کو تحفظ نہیں دے سکتے ہو تم سب مانی مینٹل لیگ کھیل رہے ہو

Profilbild von Noor Yaar
Noor Yaarvor 9 Tagen

آپ نے کتنے شہیدوں کے نماز جنازہ میں شرکت کی؟

Profilbild von Badar khan
Badar khanvor 9 Tagen

Pti

Profilbild von عام آدمی
عام آدمیvor 9 Tagen

جو پولیس، فوج یا عام عوام شہید ہو رہے ہیں۔ کوئی بھی پاکستانی انکی قربانیوں کا انکاری نہیں ہے۔جنرلوں کی غلط پالیسیوں کے خلاف ہے۔ چاہے وہ ضیاء الحق ہو یا مشرف یا اسکے اس پہلے یا بعد میں فوجی اسٹیبلشمنٹ نے جو جو فیصلے کئے۔ وہ پاکستان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی ہے۔

Profilbild von usmanfarooq
usmanfarooqvor 9 Tagen

TTP ka tu naam hi nahi le raha ueh wo tu khud oen kr raha kahum na kiya matlab yeh support krta TTP ko aur TTA ko bhi

Profilbild von Pirate Smurf
Pirate Smurfvor 9 Tagen

@ChKashifArain

Profilbild von Ahmad Waqas
Ahmad Waqasvor 9 Tagen

Madarchod ! Useless shit !

Profilbild von Muhammad Irshad
Muhammad Irshadvor 9 Tagen

وہی عمران خان والا چورن۔۔۔۔وہ بھی نواز شریف اور زرداری سے آگے نہیں جاتا تھا۔۔۔حالانکہ وہ بیچارے خود ڈھسے ہوئے ہیں۔

Profilbild von sajjad ali
sajjad alivor 9 Tagen

سی ایم صاحب یہی تو ہم اپ کو کتنی عرصے سے سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مفاہمت کے ساتھ پارلمانی طریقہ اختیار طریقہ اختیار کریں پارلیمنٹ کے اندر بیٹھ کے صوبائی اسمبلی کے اندر بیٹھ کے اپ مسئلوں کو ریزولو کرنے کی کوشش کریں پر اپ جو ہے انتشاری جو ہے کرتے جا رہے ہیں انتشار کے پیچھے پڑے

Profilbild von Tayyab
Tayyabvor 9 Tagen

@rahi5838 😂😂😂😂😂😂😂 بیغیرت جنگلی اخروٹ

Profilbild von Saqib I Khan
Saqib I Khanvor 9 Tagen

@OmarAyubKhan نشانہ اس کا بھی سیدھا نہی۔ مُلک پر قابض فوج سے آزادی لینی ہے اور یہ مریم نواز جیسی طوائف کو رگڑ رہا ہے

Profilbild von Rana Babbar
Rana Babbarvor 9 Tagen

سہیل آفریدی تم بھی اپنے لیڈر گھڑی چور کی طرح منافقت میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا بزدل گھڑی چور کی طرح تم بھی پاکستان کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والوں کے جنازے میں شرکت نہیں کرتا

Profilbild von Asif Hayat Kalyar
Asif Hayat Kalyarvor 9 Tagen

Kash wahan Beth k ap syasat na krty or Aaram se Kanazawa path k aa jaty to ketna Acha tha lekan ap jo dar hai apna

Profilbild von The Unseen Unit
The Unseen Unitvor 9 Tagen

اس کو بھی اون کر۔ غدار وطن۔

Profilbild von Sukaina Fatima
Sukaina Fatimavor 9 Tagen

What Ali Ameen is doing here ?

Profilbild von Shezibaba333
Shezibaba333vor 9 Tagen

Kuri yawayaaaa

Profilbild von 🇸🇦🇵🇰Sarfraz Ahmed🇸🇦 دل کی سادگی کے باوجود ہم
🇸🇦🇵🇰Sarfraz Ahmed🇸🇦 دل کی سادگی کے باوجود ہمvor 9 Tagen

Dall main kuch tu kala hai

Profilbild von Javeria
Javeriavor 9 Tagen

@BilalMi40925595 دو سانپ آزو بازو بٹھائے ہوئے ہیں

Ähnliche Videos

کارکنان بالکل راضی ہیں، کارکنان کو پتا ہے کہ یہ ٹیسٹ میچ ہے۔ کارکنان اس بات پر مطمئن رہیں کہ ہمارا لانگ مارچ، یعنی ٹیسٹ میچ، تقریباً شروع ہو گیا ہے۔ ٹاس ہم نے جیتا ہے، اب ہماری مرضی ہے کہ ہم پہلے بیٹنگ کریں یا فیلڈنگ کریں، یہ اختیار ابھی ہمارے پاس ہے۔ ہم لانگ مارچ اپنے مطالبات منوانے کے لیے کر رہے ہیں۔ ہم سیاسی لوگ ہیں۔ ہمارے لیڈر پوری دنیا کو کہتے ہیں کہ تمام مسائل ڈائیلاگ کے ذریعے حل ہونے چاہئیں، تو ہم بھی یہی چاہتے ہیں۔ لانگ مارچ کے بعد بھی ڈائیلاگ ہوں گے۔ لیکن یہ بات ہم بھی جانتے ہیں، پاکستان تحریک انصاف بھی جانتی ہے اور اسٹیبلشمنٹ بھی جانتی ہے کہ اس دفعہ جو لوگ نکلنے ہیں، وہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی بھی نہیں نکلے۔ اس دفعہ لوگوں کی آنکھوں میں جو غصہ اور نفرت پایا جا رہا ہے، وہ اپنی تقریباً 18، 20 سالہ سیاست میں، میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ اس دفعہ بہت زیادہ ہے۔ اس دفعہ 4 اکتوبر کو جو لوگ نکلیں گے، میں آپ کو لکھ کر دیتا ہوں کہ وہ پھر کسی کے کنٹرول میں نہیں ہوں گے۔ وہ پُرامن طریقے سے اپنے مطالبات منوائے بغیر وہاں سے کسی صورت واپس نہیں ہوں گے۔ Sohail Afridi #LongMarchOnOctober4th #مزاحمت_سے_ملے_گی_آزادی

PTI

83,394 Aufrufe • vor 11 Tagen

خیبرپختونخوا صوبائی اسمبلی کے ایک ممبر، جو ضلع دیر سے تعلق رکھتے ہیں، ذرا ان کی تقریر سنیے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے اپنے ایس پی نے کہا کہ لشکر بناؤ اور دہشت گردوں سے لڑو۔ میں وزیرستان کے پڑوس میں ہوں، بنوں کے پڑوس میں ہوں، لکی مروت کے پڑوس میں ہوں، ٹانک میں ہوں، ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوں۔ وہاں قوموں کو نہیں کہا جا رہا کہ لشکر بناؤ؟ اور پھر انہی لشکروں کو لڑایا گیا، اور بعد میں ہماری وہ قومیں، وہ برادریاں، جو معتبر برادریاں ہیں، انہی دہشت گردوں کے ساتھ بیٹھ کر جرگے کرنے پر مجبور ہو گئیں۔ جن کو آپ ملک دشمن کہتے ہیں، جن کو آپ خوارج کہتے ہیں، جن کے خلاف آپ جنگ لڑ رہے ہیں، جب عام لوگ ان کے ساتھ نبرد آزما ہوئے تو وہ اتنے مجبور ہو گئے کہ بالآخر انہیں ان کے ساتھ جرگے کرنے پڑے۔ اس ملک کے اندر آپ دیکھ رہے ہیں، ہمارے ناک کے نیچے سب کچھ ہو رہا ہے۔ اور جب بنگال میں جنگ چھڑ گئی تھی تو وہاں لشکر نہیں بنے؟ جماعتِ اسلامی کے البدر اور الشمس بھی لشکر تھے، جو عوام کی صفوں سے اٹھے ہوئے نوجوان تھے، اور آپ کے ملک کی فوج کے ساتھ شانہ بشانہ لڑ رہے تھے۔ لیکن آپ تو سرنڈر کر کے آ گئے، ترانوے ہزار لوگوں کو قیدی بنوا دیا۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں رہا کروایا، وہ واپس آئے۔ اور آج بھی، جب تک حسینہ واجد کی حکومت رہی، عوامی لیگ کی حکومت رہی، جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو پھانسیاں نہیں ملیں؟ یہ ہوتا ہے جب آپ عوامی لشکر نکالتے ہیں، اور فوج کہتی ہے کہ تم نکلو، تم نکلو۔ پھر وہ دشمنیاں نسلوں تک چلتی ہیں۔ اور دو تین سال پہلے تک بھی جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو وہاں پھانسیاں دی جاتی رہیں۔ کس پاداش میں؟ کیونکہ فوج تو آ گئی، تو یہاں بھی فوج چلی جائے گی، فوج نہیں ہوگی، کوئی اور آ جائے گا، ایک یونٹ جائے گا، دوسرا یونٹ آ جائے گا، لیکن مقامی آبادی تو وہی رہے گی۔ اور یہ بھی تو مقامی آبادی کے وہی لوگ ہیں۔ تو میں ان پہلوؤں کو سامنے رکھ کر بات کرتا ہوں۔ میں کسی کے خلاف بات نہیں کر رہا ہوتا۔ ان چیزوں پر گفتگو ہونی چاہیے، ان پر مکالمہ ہونا چاہیے۔ یہ جو حکومتی نظریات ہیں، اور اس قسم کے فلسفے ہمارے اوپر تھوپتے ہیں، ان کے مقابلے میں میرا ایک مکالمہ ہے، میرا ایک مؤقف ہے۔ میں کسی کے خلاف نہیں بول رہا، لیکن ایک نظریے، ایک طرزِ عمل، ایک حکمتِ عملی کو اپنی دلیل کے ساتھ کاؤنٹر کر رہا ہوں۔ تو دلیل کے ساتھ دلیل میں بات کرو، کردار کشی کیوں کرتے ہو؟ میں راستے بند نہیں کرتا۔ میں نے اب بھی کسی کا راستہ بند نہیں کیا۔ میرا راستہ بند کیا گیا ہے۔ مجھے بند گلی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تو مجھے دفاع پر مجبور کیا جا رہا ہے، اور اس وقت میں اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہا ہوں۔ سوشل میڈیا پر بھی اگر کوئی جنگ ہے تو وہ ایک دفاع کی جنگ ہے۔ پھر مجھ پر تنقید کا نشانہ بنائیں، کسی مسئلے پر مکالمہ شروع کریں، گالیاں کیوں دیتے ہو؟ تم نے جن لوگوں سے میرے خلاف بیان دلوائے، یہ کرائے کے باکو، یہ جو بولتے رہے ہیں، یہ سارے کے سارے جس زبان سے بولتے رہے ہیں، میری حب الوطنی کو مشکوک بنانا، اس وطن کے ساتھ میری وفاداری کو مشکوک بنانا، میری جماعت کی قربانیوں کو مشکوک بنانا، یہ ساری چیزیں... آج تک میں آپ پر اعتماد کرتا ہوں، لیکن اس کے جواب میں آپ مجھ پر اعتماد نہیں کر رہے۔ آپ میرے مدارس کی رجسٹریشن بحال نہیں کر رہے، آپ میرے مدارس کے اکاؤنٹس بحال نہیں کر رہے۔ تو تعاون، معاونت، یہ تو عربی الفاظ ہیں، اور ان میں دو طرفہ تعلق کا تصور ہوتا ہے۔ یہاں ایک طرفہ طور پر ہم آپ پر اعتماد کر رہے ہیں، ہم آپ کے ملک کا دفاع بھی کر رہے ہیں، ہم آپ کے شہداء کا احترام بھی کر رہے ہیں، اور آپ کی طرف سے مسلسل شکوک و شبہات، کبھی کردار کشی، کبھی کچھ اور۔ تو ہم تو ایک پگڈنڈی پر سفر کر رہے ہیں۔ ادھر جاتے ہیں تو بھی موت، اُدھر جاتے ہیں تو بھی موت۔ ایک طرف جان کا خطرہ، دوسری طرف سیاسی موت کا خطرہ۔ تو اس پگڈنڈی میں جمعیت علمائے اسلام سیاست کر رہی ہے، لیکن بڑی خود اعتمادی کے ساتھ کر رہی ہے۔ اور میں پوری پبلک کا، آپ کی وساطت سے پوری دنیا کے عوام، بالخصوص پاکستان کے عوام کا شکر گزار ہوں کہ نوّے فیصد آبادی نے ہمارے اس مؤقف کی حمایت کی، ہماری حوصلہ افزائی کی۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی صحافی آصف نثار سے گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

20,843 Aufrufe • vor 2 Monaten

جو کچھ اسلام آباد میں ہوا گزشتہ روز مجھے کسی پارٹی کے فیصلے سے کوئی غرض نہیں ہے وہ اپنے فیصلے کے خود ذمہ دار ہیں صحیح فیصلہ کرتے ہیں غلط فیصلہ کرتے ہیں ہاں اگر ہم سے مشورہ لیں گے تو دیانت کے ساتھ مشورہ دیں گے، المُستَشارُ مؤتَمَن، لیکن جب پورے ایک صوبے سے قافلے آرہے ہیں اس وقت تو آپ ان کے لیے راستے چھوڑ رہے ہیں پیچھے ہٹ رہے ہیں پھر احسان جتلاتے ہیں کہ ہم گولی نہیں چلانا چاہتے تھے پھر جب وہ ڈی چوک پہنچ گئے پھر گولی کیوں چلائی؟ سیاسی کارکن تھے دو چار روز بیٹھے رہتے تو بیٹھے رہتے، ہم اس حوالے سے بھی حکمرانوں کے اس پر تشدد رویے کی مذمت کرتے ہیں ہر پارٹی کو جلسہ کرنے مظاہرہ کرنے کا حق حاصل ہے، مجھے بھی حاصل ہے میرے مخالف کو بھی حاصل ہے لیکن جس صوبے سے آپ کو شکایت ہے کہ وہاں سے یلغار ہوتی ہے کوئی کہے نہ کہے میں بڑے واضح الفاظ میں کہتا ہوں کہ اس صوبے کی حکومت بھی تو تم نے بنوائی تھی وہ دھاندلی بھی تو آپ نے کرائی تھی جب نا اہلوں کو آپ حکمرانی دیں گے تو پھر یہی نتائج اس کے سامنے آئیں گے، تم نے جمعیۃ علماء اسلام کے ساتھ زیادتی کی تم نے جمیعۃ علماء کا مینڈیٹ چرایا اور اب حالات بھی قابو نہیں کر سکتے، کوئی حکومتی رٹ نہیں ہے، مسلح گروہ علاقوں پہ قابض ہوتے جا رہے ہیں حکومت کی کوئی رٹ موجود نہیں، بلوچستان کی یہی صورتحال ہے کہ وہاں پر امن و امان کی صورتحال وہ وہاں کے حکمرانوں کے بس کی بات نہیں رہی، ہمارے امن قائم کرنے والے ادارے وہ کس چیز کی تنخواہیں لے رہے ہیں؟ سیاسی لوگوں کے کارکن شہید ہوتے ہیں وہ بھی جنازے اٹھاتے ہیں وہ بھی کہتے ہیں ہمارے کارکن شہید ہو گئے اصول کے لیے شہید ہو گئے نظریے کے لیے شہید ہو گئے، آپ کی بھی دو چار شہداء آجاتے ہیں آپ بھی کندھوں پر اپنے شہداء اٹھائے پھرتے ہیں آپ بھی کہتے ہیں ہمارے جوان شہید ہو گئے بتاؤ عام لوگوں میں اور آپ کے فرائض میں کوئی فرق بھی ہے یا نہیں ہے! ملک کو سنبھالنا ہے یہ ملک ہمارا ملک ہے یہ ہم سب کا ملک ہے ہم اس ملک کے اندر رہتے ہوئے اور اس ملک کو مستحکم کرنے کی جدوجہد کرتے ہوئے اس کے اندر اپنے حقوق کی جنگ لڑیں گے، تو پاکستان زندہ باد پاکستان رہے گا ان شاءاللہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کا سکھر میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

18,240 Aufrufe • vor 1 Jahr

ہم پولیٹیکل لوگ ہیں، ڈائیلاگ پر یقین رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ تمام اسٹیک ہولڈرز، چاہے وہ ادارے ہوں یا سیاسی لوگ، سب کو بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔ مجھے کوئی شرم نہیں کہ میں اپنے اداروں کے ساتھ بیٹھوں اور انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کروں کہ اداروں اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ مضبوط ادارے مضبوط پاکستان کی علامت ہیں، لیکن مضبوط اداروں کے پیچھے عوام کا اعتماد بھی ہونا چاہیے۔ ہم اپنے اداروں کو اون کرتے ہیں، یہ میرے ملک کے ادارے ہیں، اس لیے چاہتے ہیں کہ ادارے مضبوط ہوں اور عوام کے ساتھ ان کا تعلق بھی مضبوط ہو۔ عمران خان صاحب کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے عوام میں اداروں کے حوالے سے ناراضی پیدا ہو رہی ہے، اور ہمیں اس فاصلے کو کم کرنے کے لیے بات کرنی چاہیے۔ 80 فیصد عوام عمران خان صاحب کے ساتھ جڑے ہیں اور عمران خان صاحب کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے لوگ اداروں سے ناراض ہیں۔ ہم اپنے اداروں کو اون کرتے ہیں، یہ میرے ملک کے ادارے ہیں، تو مجھے تو خوشی ہے کہ یہ ادارے مضبوط ہوں اور عوام کے ساتھ ان کا تعلق مضبوط ہو۔ اس سے پہلے بھی ہم ملے ہیں۔ جب بھی میاں صاحب نے ہاتھ بڑھانے کی کوشش کی، ہم نے بالکل ویلکم کیا، لیکن دوسرے دن ہمارے وارنٹ نکل جاتے تھے اور ہمیں مزید ایف آئی آرز میں ڈال دیا جاتا تھا۔ حکومت صرف باتوں سے نہیں، اپنے عمل سے ثابت کرے کہ اسے کیا کرنا ہے۔ ہمارے پاس ووٹ کا مینڈیٹ عمران خان کا ہے، تو یہ نہیں ہو سکتا کہ عمران خان صاحب کے مشورے کے بغیر ہم کوئی بات کریں۔ جب ووٹ اُن کا ہے، پہچان اُن کی وجہ سے ہے، مجھے ووٹ اُن کا ملا ہے اور مجھے اُن کی وجہ سے پیار ملتا ہے، تو میں کس طرح یہ بات کر سکتا ہوں؟ حکومت کو ہمارا اختیار دیکھنا ہے تو ہماری ملاقات عمران خان سے کروا دیں، انہیں پتہ چل جائے گا کہ ہمارے پاس بات کرنے کا اختیار ہے یا نہیں۔ بالکل، ہم پولیٹیکل لوگ ہیں۔ ہم خان سے بات کر سکتے ہیں، انہیں موجودہ زمینی حقائق سے آگاہ کر سکتے ہیں اور گائیڈ کر سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی میں جو جمہوری کلچر ہے، یہ اُن لوگوں سے پوچھیں جو پی ٹی آئی چھوڑ چکے ہیں۔ یہ جو غلط تاثر دیا جاتا ہے کہ خان صاحب بات نہیں سنتے، خان صاحب سنتے ہیں۔ آپ مسلم لیگ میں کسی سے پوچھ لیں، کیا کسی میں ہمت ہے کہ میاں صاحب کے سامنے اُن سے اختلاف کرے؟ میٹنگ میں میری اور خان صاحب کی لڑائی بھی ہوتی تھی۔ ہم انہیں کہتے تھے کہ آپ غلط ہیں، اس طرح نہیں، اس طرح ہونا چاہیے۔ یہ والا کلچر آپ کو کسی اور پارٹی میں نہیں ملتا۔ میں محسن نقوی صاحب کو وزیراعظمِ پاکستان سے بھی زیادہ مضبوط سمجھتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ اس حکومت میں اگر کسی بندے سے بات ہو سکتی ہے اور جو اپنی بات منوا سکتا ہے، تو وہ نقوی صاحب ہیں۔

Junaid Akbar

18,399 Aufrufe • vor 14 Tagen

اب نئی بحث چھڑ گئی کہ ہم نئے صوبے بنائیں گے۔ میں نے کہا، کوئی عقل بھی ہے تمہارے اندر، کم بختو! سوچو تو سہی، ایک گھر ہے، اس کے ایک حصے میں آگ لگی ہوئی ہے، دوسرے حصے میں آگ لگی ہوئی ہے۔ کیا اس ماحول میں بھائی بیٹھ کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ آئیے، ذرا مکان جو ہے، اس کو تقسیم کر لیں؟ ان شعلوں کے اندر آپ صوبوں کی بات کر رہے ہیں؟صوبے بنتے رہتے ہیں، دنیا میں بھی بنتے ہیں، انڈیا میں بھی بنتے ہیں، لیکن نہ ماحول اس وقت موجود ہے، نہ تیاری ہے۔ بس ایک ادارہ اور ایک ادارے کے سربراہ کی خواہش ہے اور وہ جبراً قوم پر مسلط کر رہا ہے۔ تو ہم نے اس کا مشاہدہ کیا ہے کہ فاٹا انضمام پر ہم چیخ رہے تھے کہ وقت نہیں ہے، ابھی تم تیار نہیں ہو، ماحول نہیں ہے۔ آپ نے کہا، نہیں، بن کے رہے گا۔ تو مجھے تو اس وقت بھی پتا ہے کہ اس کے پیچھے امریکہ تھا۔ تو میں کیسے نہیں کہوں گا کہ آج صوبوں کی تقسیم اور ملک کے اندر یہ افراتفری، اس کے لیے بیرونی دباؤ نہیں ہوگا؟ اور تم خود اتنے تگڑے ہو کہ ملک کے اندر یہ رسک لے رہے ہو اور صوبوں کو کیوں توڑا جا رہا ہے!اس لیے نہیں کہ اصولی طور پر یونٹ بنتے ہیں اور پوری دنیا میں ہو رہے ہیں اور انڈیا میں بھی ہو رہا ہے، اس لیے کہ اٹھارویں ترمیم میں این ایف سی ایوارڈ آئینی طور پر طے ہوا کہ محصولات میں صوبوں کے حصے میں اضافہ کیا جا سکے گا اور کمی نہیں کی جا سکے گی۔ اور اس وقت شاید انچاس فیصد محصولات کا صوبوں کے لیے تھا، بڑھتے بڑھتے شاید چھپن، ستاون فیصد تک ہو گیا ہے۔ یہ ہے وہ چیز جس کے لیے وہ صوبوں کو توڑنا چاہتے ہیں، تاکہ ازسرِنو ہم نیا این ایف سی ایوارڈ کریں گے۔ اور دوسرا یہ کہ جو صوبوں کے اندر معدنی ذخائر ہیں، ان پر صوبوں کے عوام کا حق ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے تحت وہ صوبوں کی ملکیت ہے۔ ان معدنی ذخائر کے لیے وہ ہمارے قبائل کو، ہمارے صوبوں کے عوام کو، عام آدمی کو مالک تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ان کو اپنے قبضے میں لینا چاہتے ہیں۔ ان دو مقاصد کے لیے صوبوں کو تقسیم کرنا بڑا ناگزیر ہو گیا ہے، بڑا ناگزیر ہو گیا ہے۔ تو ہم نہ ہی ایسی چیز کی حمایت کر سکتے اور نہ ہی آپ کی بس میں ہے کہ آپ جبراً قوم کے اوپر فیصلے مسلط کریں گے اور ہم اس کو مانتے رہیں گے۔ یہ کیسے ہوگا؟ بلوچستان میں آپ کی گرفت نہیں ہے۔ ہنہ اوڑک اور اس کے پہاڑ یہ چھاؤنی کے بالکل اوپر ہے اور وہاں لوگ چڑھ گئے اور لوگوں کو شہید کیا۔ زیارت میں یہی ہوا۔ آج جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلسِ عمومی کا جو اجلاس کراچی میں ہو رہا تھا، بلوچستان کی جماعت کی درخواست پر پشاور میں لایا گیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم کراچی نہیں پہنچ سکتے، ہمارے راستے نہیں ہیں اس قابل۔ کبھی ہم نے، آج سے، کسی جماعت نے اس حوالے سے کوئی عذر نہیں پیش کیا۔ میں خود پورے بلوچستان میں پھرا ہوں، ایک گاڑی کے اندر پھرتا رہا ہوں، مکران تک گیا ہوں، تربت تک گیا ہوں، پنجگور تک گیا ہوں، پسنی تک گیا ہوں، گوادر تک گیا ہوں۔ آج وہاں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ کراچی، کوئٹہ شاہراہ غیر محفوظ ہے، ہمارے ہاں کی شاہراہوں پر گھنٹوں گھنٹوں کے ناکے لگے ہوتے ہیں۔ ہم کیا زندگی گزار رہے ہیں؟ ہمیں ٹھنڈی زمین تو دو، ہمیں امن تو دو۔ تو صوبوں کے حوالے سے بھی ہم ان کو خیرخواہانہ مشورہ دے رہے ہیں کہ اس وقت صوبوں کو توڑنا، اس کو نئے صوبوں میں تبدیل کرنا، اور پھر لوگوں کو لالچ دیتے ہیں، پھر آپ کی حکومت ہوگی، پھر آپ کی حکومت ہوگی، پھر آپ کی حکومت ہوگی۔ جیسے ہم حکومت کے بھوکے ہیں! تو ان مشکلات سے ہم گزر رہے ہیں۔ بلوچ علاقوں میں خون ریزی ہو رہی ہے، جنگ ہے، پشتون علاقوں میں جنگ ہے، خیبر پختونخوا میں جنگ ہے۔ کشمیر میں، راولاکوٹ میں، تین مہینے ہو گئے ہیں لوگ بیٹھے ہیں، یہ ان سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کیا مقاصد ہیں؟ رفتہ رفتہ اس میں ان عناصر کو غلبہ مل رہا ہے جو خودمختار کشمیر کی بات کرتے ہیں۔ جذبات میں تبدیلی آ رہی ہے۔ کیا مقصد ہے؟ کیا اس ملک کو توڑنا ہے؟ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,972 Aufrufe • vor 1 Monat

عجیب بات ہے جرم بھی کرتے ہیں اور چونچ بھی اونچی رکھتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے اوپر تنقید نہ کرو تم پاک ہو تو ہم آپ کو پاک کہیں گے۔ ہندوستان نے حملہ کیا، آپ نے جواب دیا، ہم نے آپ کو سراہا ہے، اگر آپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی ہے ہم نے آپ کو سپورٹ کیا ہے ،ہم اپنے خطے میں جنگ نہیں چاہتے، لیکن یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ ہماری پالیسیاں کون بناتے ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کون ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کیا پالیسیاں بنا رہے ہیں؟ یہ ہماری عقل ہے، یہ پاکستان کا مفاد ہے کہ ہندوستان کا بارڈر مکمل بند، افغانستان کا بارڈر مکمل بند، مغرب کی طرف بھی آپ تجارت نہیں کرسکتے، کاروبار نہیں کرسکتے، مشرق کی طرف بھی آپ کاروبار نہیں کرسکتے اور ایک چین کا چھوٹا سا کوریڈور ہے وہ بھی آپ نے بند کر رکھا ہوا ہے، اس پر بھی کوئی فعالیت ادھر نہیں آرہی، ایران جن حالات میں ہے وہ آپ کے نہ اچھے کا نہ برے کا، ہر طرف آپ نے پاکستان کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، محصور کر دیا ہے، یہ کون سی عقل کی پالیسی ہے کہ آج پاکستان ایک محصور مملکت کی شکل اختیار کر گیا ہے؟ یہ کون سی سیاست ہے؟ یہ کون سی پالیسی ہے دہشتگردی کی خلاف ہم جنگ لڑ رہے ہیں تو دہشتگردی تو بڑھ رہی ہے، تو دہشتگردی کی خلاف تو تین چار دہائیوں سے آپ لڑ رہے ہیں، آپ نے سوات سے لے کر پورے خیبر پختونخوا میں کتنے آپریشنز کیے اور ہر آپریشنز کے نتیجے میں آپ ملک کے لئے لڑ رہے ہیں اور ہم شاید ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، کس کس بات کو روئے ہم آپ کے؟ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پشین میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,439 Aufrufe • vor 4 Monaten

اب تو سرکار کے ایوانوں میں بھی کہا جا رہا ہے کہ ہاں، ہم اسی سال کی کمزوریوں کا نشانہ ہیں۔ بابا! کس کے ہاتھوں؟ تیرے ہی ہاتھوں! جو لوگ کہتے ہیں کہ نظام فیل ہو چکا ہے، اور کسی ایک خاص زمانی کی بات نہیں کر رہا، میں تو اسی سالہ تاریخ کی بات کر رہا ہوں، تو ہم بھی آپ سے اسی سالہ تاریخ کی بات کر رہے ہیں۔ لیکن یہ اسی سال کی تباہی تمہاری وجہ سے ہے، کسی اور کی وجہ سے نہیں۔ قتل حسین بھی اور ہائے حسین بھی، یہ نہیں چلے گا۔ ملک کو تباہ کرنے کی تم نے ذمہ داری تسلیم کر لی ہے، اب چھپتے کس چیز کے پیچھے ہو؟ نظام تبدیل کرو۔ نظام کون سا؟ جو اسی سال آپ کے قبضے میں رہا، اب مزید کوئی نیا طریقہ اپنے قبضے میں رکھنے کا۔ تو میں نے کہا، ظالموں! انگریز کے زمانے کے پڑے ہوئے سبق اور وہی روّیے، کم از کم وہ تو تبدیل کر لو۔ اپنے مخالفین کے خلاف رویّوں میں کوئی تبدیلیاں تو لاؤ۔ اگر میری حکومت ہے تو میرے مخالف جیل میں ہونا چاہیے، اگر مخالف کی حکومت ہے تو مجھے جیل میں ہونا چاہیے۔ یہ کوئی سیاست ہے؟ کسی دوسری دنیا میں بھی اس طرح ہوتا ہے؟ تو طریقے تو تبدیل کر لو۔ ذرا معلوم تو کر لو کہ ہماری معیشت کہاں کھڑی ہے۔ ہمارا امن و امان کہاں کھڑا ہے؟ ہمارے دو صوبے جل رہے ہیں۔ دیہاتوں میں عام آدمی گھر سے باہر نہیں نکل سکتا، نہ وہ دکان پہ جا سکتا ہے، نہ بچوں کو سکول بھیج سکتا ہے، نہ کھیتوں میں جا سکتا ہے، نہ مزدوری کر سکتا ہے۔ دیہات خالی ہو گئے ہیں۔ کہیں تو زندگی گزارنی ہے۔ اور یہ کہتے ہیں، ہم بیس، پچیس سال سے آپریشن کر رہے ہیں۔ آپریشن پہ آپریشن، تو آپریشن پہ آپریشن! بھئی، کس چیز کا آپریشن؟ جتنا آپریشن کرتے ہو، مرض بڑھتا گیا۔ آپ کی حکمتِ عملی میں ڈیفالٹ کہیں، جھول ہے، کہیں کمزوری ہے۔ میری تنقید کو برا ماننے کی بجائے کہیں اپنی کمزوری بھی تو ٹٹولو۔ ایک دن ۔۔۔اپنے لیے صرف یہ کہ میرے اقتدار پر قبضہ کیسے رہے، بس! چاہے قوم برباد ہوتی رہے۔ ہم بھی مانتے ہیں ریاست اہم ہے، لیکن ریاست عوام سے بنتی ہے۔ عوام کے بغیر ریاست ایک خالی برتن ہے، خالی ڈول ہے۔ کیا حیثیت ہے اس کی؟ حکومت یہ لوگوں کے معاملات کا نظم و تدبیر، انتظام ہے۔ تو ریاست ہو، عوام ہو، حکومت ہو، ان تین چیزوں کے ساتھ ریاست مکمل ہو جاتی ہے۔ جہاں امن و امان نہیں ہے، وہاں معیشت کیا ہوگی؟ آج ہندوستان دنیا کی چوتھی معیشت بن گیا ہے، اور اس کے زرمبادلہ کے ذخائر سات سو ارب کے لگ بھگ پہنچ گئے ہیں۔ اور ہمارے ہاں لوگوں سے خیرات مانگ کر کوئی دس گیارہ ارب جمع ہو گئے ہوں گے،۔ کہاں دس گیارہ، کہاں سات سو ارب ڈالر ! امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا ضلع ساہیوال میں ورکرز کنونشن سے خطاب، 05 ستمبر 2026

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

14,279 Aufrufe • vor 1 Monat

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,368 Aufrufe • vor 1 Monat