Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

🚨جنرل (ر) خالد نعیم لودھی: اگر جنگ دوبارہ ہوئی تو یہ بہت ہی lethal جنگ ہوگی۔ اور اس میں وہ ہتھیار استعمال ہوں گے جن کے بارے میں سوچنا بھی مشکل ہے۔ اس سے آگے میں کچھ نہيں کہنا چاہتا۔ اینکر: لیکن ایران کے پاس تو ایسا کچھ نہيں...

51,825 görüntüleme • 1 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

یہ مشرک ایسے ہی دھمکی نہیں دے رہے۔۔انہوں نے تیاری پوری کر لی ہے دوبارہ سے کسی بھی وقت جنگ شروع کرنے کی۔۔۔ پاکستانی قوم اور حکومت تو اپنی مستیوں میں لگے ہوئے ہیں، دشمن کی فوج اور اس کے سیاستدان اور حکمران پوری طرح سنجیدہ ہیں اور ان کے بیانات سے یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ بہت سخت بپھرے ہوئے ہیں اپنی پہلی ذلت کی وجہ سے اور انتقام لینا چاہتے ہیں۔ یہ ہم نے اپ کو بتایا تھا کہ مودی کو ایک چانس اور دیا جا رہا ہے اپنی عزت بچانے کا ورنہ اسے تبدیل کر کے یوگی کو لایا جائے گا۔ اس لیے مودی کو بھی جلدی ہے کہ پاکستان کے خلاف دوبارہ جنگ شروع کرے۔ ظاہر ہے اس مرتبہ اسرائیل دوبارہ اس کے ساتھ شامل ہوگا۔ پاکستانی قوم غیر معمولی غیر سنجیدہ مزاج اور موڈ میں ہے۔۔۔ اللہ نہ کرے ہم کو نقصان ہو جائے گا۔۔ اب کی دفعہ جنگ بہت بڑے پیمانے پر ہوگی اور ہمارے شہروں میں ہوگی۔ کراچی سے لے کر ازاد کشمیر گلگت بلتستان تک۔ یہ سارا فساد جو کشمیر میں کیا جا رہا ہے اسی حملے کی تیاری ہے ۔ کسی بھی دن شروع ہو سکتی ہے۔

اللہ کے بندے۔۔۔

49,271 görüntüleme • 10 ay önce

اللہ کی فوج کے ساتھ لاکھ سپاہیوں سے دوسرا سوال: آپ کے ادارے کے سربراہ اس سدیوں میں پیدا ہونے والے لیڈر کو torture کر رہے ہیں۔ یہ وہ بندہ ہے جس سے آپ کے ملک کی پہچان ہے اور جب آپ یہ وڈیو دیکھیں گے تو مانیں گے کہ یہ سچ میں ہماری قوم کے غریبوں کے لیے درد رکھتا ہے! آپ سب فوج میں آکر شاید اپنے آپ کو عام پاکستانیوں سے الگ سمجھنے لگے ہیں، اس لیے شاید درد نہیں ہوتا آپ کے دل میں جب قوم کے لیڈر کو اس طرح ٹارچر کیا جارہا ہو ؛ آج آپ شاید محفوظ ہوں مگر یہ جو نانصافی اور ظلم ہے ، یہ آپ کے گھر تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ بس پوچھنا یہ تھا کہ ادارے کے بڑوں کو خط یا WhatsApp بھیجنے کی اجازت ہے؟ اور اگر ہے تو کچھ گلہ کیا یا پھر یہ سمجھانے کی کوشش کی اتنا ظلم بےگناہوں پر نہیں کرنا چاہیے؟ اور اگر نہیں ہمت ہوئی یہ سب کہنے کی تو کس منہ سے اپنے بچوں کو بہادری اور حق بات کرنا سکھائیں گے؟ بندوق استعمال کرلینا بہادری نہیں ہوتی، وہ تو جنگ کے کچھ دنوں میں چلتی ہے، مگر روز مرہ زندگی میں تو اصولوں کی جنگ ہوتی ہے، کس منہ سے اصول سکھائیں گے؟ جب وہ بڑے ہو کر پچھلے تین سال کے واقعات پڑھ کر آپ سے پوچھیں گے کہ آپ کی ظالموں تک رسائی تھی مگر پھر بھی کچھ نہیں بولے ان کو! لوگوں کو بہت مان تھا آپ سب پر۔ ایک ظلم کو جھیلنے کا دکھ تو ہے ہی سب کو مگراس سے بڑا دکھ شاید مان ٹوٹنے کا ہے۔ کچھ کریں ناُ کریں، موقعہ ملے تو یہ ضرور پوچھیے گا اپنے بڑوں سے اور کچھ ساتھیوں سے کہ گولی کیوں چلائی اللہ کی فوج نے اللہ کے پر امن اور نہتے بندوں پر !

Jibran Ilyas

45,518 görüntüleme • 8 ay önce

اس وقت خطے میں جس ملک کے پاس جوہری ہتھیار ہیں وہ پاکستان ہے۔ اس کے پاس تقریباً 160 سے 170 جوہری میزائل ہیں اور یہ تقریباً 2750 کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائلوں سے بھی لیس ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ اسرائیل کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ​اب کیا اسرائیل ایسے ہتھیاروں کی موجودگی سے خوشی، سکون اور اطمینان محسوس کرتا ہے؟ بالکل بھی نہیں! اگر اسرائیل ابھی غزہ کی جنگ میں کامیاب ہو جاتا ہے اور ایران کو حملوں کا نشانہ بناتا ہے تو یہ پاکستان کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے، یا اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو وہ یقینی طور پر پاکستان پر بہت زیادہ دباؤ ڈالے گا، یہاں تک کہ ملک کو تقسیم کر کے اور انتشار پیدا کر کے؛ دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں میں ہتھیاروں کے جانے کے بہانے سے پاکستان کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔ ​اسرائیل نے بار بار یہ جملہ دہرایا ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار ایک خطرہ ہیں کیونکہ وہ غلط ہاتھوں میں جا سکتے ہیں۔ اب یہ ہتھیار غلط ہاتھوں میں کیسے جا سکتے ہیں؟ جب ملک میں انتشار اور عدم استحکام پیدا ہو جائے گا۔ تو پھر امریکہ آئے گا اور کہے گا: 'تم اب سو حصوں میں بٹ چکے ہو، آؤ ہمیں یہ ہتھیار دے دو تاکہ دنیا میں انتشار نہ پھیلے'۔ میرے خیال میں آخر کار ایک ایسا منصوبہ زیرِ عمل ہے جس کا مقصد پاکستان کو جوہری ہتھیاروں سے محروم اور خالی کرنا ہے تاکہ اسرائیل خطے پر غلبہ اور تسلط برقرار رکھ سکے۔ ​وضاح خنفر (اردن کے فلسطینی نژاد صحافی)

Taha

22,039 görüntüleme • 4 ay önce

میں ٹرمپ انتظامیہ کی ان کیمیرابریفنگ سے نکلا ہوں جہاں بند دروازوں کے پیچھے بھی وہی باتیں ہو رہی ہیں جو باہر ہو رہی ہیں۔ ٹرمپ اپنے شوق کی جنگ میں پڑ تو گیا ہے لیکن آگے اس کو کچھ نہیں پتہ کہ کیا کرنا ہے۔ اسکا دعوی ہے کہ حملہ اسلئے کیاکہ ایران ایٹمی طاقت حاصل کرنے جا رہا تھا ۔ یہ جھوٹ ہے! اگر ایران ایٹمی طاقت حاصل کرنے جا رہا تھا تو پچھلے سال ٹرمپ نے یہ دعوی کیوں کیا کہ اس نے ایران کا ایٹمی پروگرام Obliterate کر دیا ہے؟ ٹرمپ نے بھی یہ نہیں بتایا کہ اس نے امریکی قوم سے پرائی جنگوں میں نہ پڑنے کا وعدہ کیوں توڑا؟ ٹرمپ کہتا ہے کہ اس نے خامنائی کو قتل کر کے ایران کو آزاد کر دیا لیکن سی آئی اے کی رپورٹ ہے کہ خامنائی کے بعد ایران اور زیادہ radical ہو جائے گا۔اصل میں وجہ یہ ہے کہ نیتن یاہو 40سال سے ایران سے جنگ چاہتا تھا اور اسے چالیس سالوں میں ٹرمپ جیسا عقل سے پیدل صدر نہیں ملا تھا جو امریکہ کو پرائی جنگ میں دھکیلنے میں کامیاب ہو جائے۔ اب اسے ٹرمپ کی صورت میں مل گیا ہے۔ جسے یہ بھی نہیں معلوم کہ اس جنگ کی End Gameکیا ہو گی۔امریکی سینیٹر نے ٹرمپ کی آتما رول دی

Harmeet Singh

12,373 görüntüleme • 5 ay önce

آج پنجابی بھی بول رہا ہے کہ افغانی ہمارے بھائی ہیں وہ کہتے ہیں کہ ظلم ہو رہا ہے جس طریقے سے افغانوں کو نکالا جا رہا ہے، فوج پھر ہمیں ڈالری جنگ کی طرف بھیج رہی ہے، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کا جوان تو سمجھتا ہے لیکن آج عمران خان کی وجہ سے پنجاب کا نوجوان بھی یہ بات کہنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ اگر فوج افغانستان کے ساتھ لڑے گی تو وہ ظلم کرے گی اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں پاکستانی عوام کبھی بھی پاکستانی فوج کا ساتھ نہیں دے گی اگر وہ ڈالر کے لیے افغانستان کے خلاف لڑے گی، عوام کو پتا ہے کہ یہ ڈالری جنگ لڑی جائے گی یہ کسی اور کی جنگ ہم پر مسلط کریں گے، آج نوجوان اور عوام میں شعور آ چکا ہے یہ عمران خان کا دیا ہوا شعور ہے شعور کا جو جن بوتل سے باہر آ چکا ہے آپ اس کو واپس بوتل میں نہیں ڈال سکتے، دیکھیں یہ سری لنکا کی طرح ہے یہ جس طرح پوری دنیا میں ہو رہا ہے ابھی آپ نے دیکھا نیپال میں ہوا ہے، یہ وقت پاکستان میں بھی آئے گا آج غربت اتنی بڑھ چکی ہے پاکستان کے اندر آج روزگار نہیں رہا ہے، آپ دیکھیں گے کہ عمران خان جو باتیں کہہ رہا ہے یہ سب باتیں درست ثابت ہوں گی۔ #FascismUnderAsimLaw

Qasim Khan Suri

26,408 görüntüleme • 11 ay önce

پاکستان نے اس وقت جو ایران امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور اس کے جو دنیا میں مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، پاکستان کے اندر ان کو ہمیں سمیٹنا چاہیے، حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرز عمل کو اس کے مفادات کو سمیٹے، لیکن جہاں وہ باہر سے کما رہے ہیں پاکستان کے اندر اس کو گنوا رہے ہیں، یہاں حکومت کی ان کامیابیوں کے عوام پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہو رہے ہیں۔ یہاں امن و امان نہیں ہے اور خیبر پختونخوا، بلوچستان میں تو پہلے ہی امن و امان نہیں تھا، سندھ کے لوگ ڈاکوں کے ہاتھوں محکوم نظر آ رہے ہیں، لیکن اگر کشمیر کی بھی ایسی صورت حال بنتی ہے تو جہاں فوج کو یا بارڈرز پہ ہونا چاہیے یا بیرکوں پہ ہونا چاہیے آج وہ پاکستان کے صحراؤں میں پھیلے ہوئے ہیں، پاکستان کے پہاڑوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کے فوجی شہید ہو رہے ہیں، اور اس مشکل میں ریاست پھنسی ہوئی ہے کہ اس مشکل وقت میں انہیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ اگر ان حالات میں بھی حکومت کی طرف سے ایسے بیانات آئے کہ جس سے قوم تقسیم ہو، جس سے اپوزیشن کو سخت سے ردعمل دینا پڑے تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہ ملک کی یکجہتی کے لیے کوئی کردار ہوگا، بلکہ ملک کو تقسیم کرنے کا سبب بنے گا۔ بہت زیادہ اشتعال ہے ملک کے اندر، ہم نے پرسوں چارسدہ میں جلسہ کیا، ہم نے اس سے پہلے پشین میں جلسہ کیا، لاکھوں لوگ وہاں اکٹھے ہوئے، بہت ہی کامیاب اجتماعات، پبلک نے اتفاق کیا اور یہ وہ میدان ہے کہ اگر ایک سیاسی جماعت پبلک میں اترتی ہے اور تاحد نظر انسانوں کا سمندر اکٹھا کرتی ہے یہ ایک وہ سیاسی جنگ ہے کہ جہاں قوم کا مورال بلند ہوتا ہے اور آپ کے کارکنوں کا مورال بلند ہوتا ہے، امن پسندوں کا مورال بلند ہوتا ہے، اور مسلح قوتوں کا مورال گر جاتا ہے، تو میرے خیال میں ہم جس محاذ پر کام کر رہے ہیں، میں تو سمجھتا ہوں کہ ہمیں پبلک کی طرف سے زبردست قسم کا ایک مثبت ردعمل ملا ہے، کیا وہ ردعمل حکومتی پارٹی کو بھی مل سکتا ہے؟ میرے خیال میں اس وقت ان کے لئے وہ حالات نہیں ہیں۔ آپ کو وہ حالات بنانے ہوں گے، کہ ہم یکجہتی کا اظہار کریں۔ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا پارلیمنٹ ہاوس میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,120 görüntüleme • 1 ay önce

ہم نے کچھ عرصے پہلے سندھ میں زرداری کنگڈم پر ایک ڈاکیومنٹری اپلوڈ کی تھی ۔۔ جس پر لوگوں نے ہمیں بہت سراہا اور ہمت کی داد دی کہ سمجھ نہیں آتا پاکستان میں اتنی ہمت کا مظاہرہ کوئی کیسے کرسکتا ہے ۔۔۔ اور لوگوں نے ہمیں بہت پوچھا بھی کہ ڈر نہیں لگتا؟ جس پر ہم نے پمیشہ ایک ہی بات کی کہ اللہ کا حکم ہے کہ 'اے ایمان والوں حق کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہوجائے' تو ہم کچھ خاص نہیں کر رہے بس وہی کر رہے ہیں جس کا اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے ۔۔۔ لیکن آج یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ اس ویڈیو کے صرف یوٹیوب پر ہی دو ملین سے زائد ویوز ہیں جبکہ دیگر پلیٹ فارمز ملا کر تو 10 ملین سے زائد بنتے ہیں ۔۔ اب کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس میں کیا خاص بات ہے، تو جناب ہمارے لیے یہ نمبر اس لیے اہم ہے کہ یہ پاکستان میں اس مشکل دور میں ان لوگوں کی تعداد ہے جو نہ صرف حق اور سچ کو دیکھنا اور سننا چاہتے ہیں بلکہ اُس کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہونے کی ہمت بھی رکھتے ہیں ۔۔ اگر آپ نے ابھی تک یہ ڈاکیومنٹری نہیں دیکھی تو کمنٹس میں لنک موجود ہے لازمی دیکھیں

Raftar

42,772 görüntüleme • 9 ay önce

ان دنوں عاطف اسلم کی مسجد میں دی جانے والی اذان کی وڈیو بہت وائرل ہے۔ جس کے نیچے موجود بے شمار کمنٹس نے مجھے یہ پوسٹ لکھنے پر مجبور کیا ہے۔ ویسے تو میں یہ بات بہت عرصے سے کہنا چاہ رہی تھی لیکن آج سمجھ لیں کہ وہ موقع ہاتھ لگ ہی گیا۔ بہت عرصہ پہلے، یوں کہہ لیں کہ میرے جاہلیت کے زمانے میں، میں بھی میوزک اور ڈرامہ انڈسڑی میں کام کرنے والوں کے بارے میں کچھ اچھی رائے نہیں رکھتی تھی۔ خاص طور پر ان کے منہ سے نماز وغیرہ کا ذکر سننا بڑا عجیب لگتا اور میں بھی باقی کے لوگوں کی طرح انہیں جج کرتی تھی کہ اس انڈسٹری میں کام کرنے والے تو بہت گناہگار ہیں۔ اب اس پوسٹ میں، میں اس انڈسٹری کو جسٹیفائی نہیں کرنے لگی اور نہ ہی اس بات کو کہ اس انڈسٹری میں کام کرنا گناہ ہے یا نہیں۔ میں بات کرنے لگی ہوں ان لوگوں کی۔ بات یہ ہے کہ ہم ہر اس شخص کو گناہگار سمجھتے ہیں، جن کے گناہ سے ہم کمفرٹیبل نہیں ہوتے۔ وضاحت دیتی ہوں۔ ایک شخص ہے وہ بہت جھوٹا انسان ہے۔ وعدہ خلافی کرتا ہے۔ سود لیتا ہے۔ رشوت بھی لیتا ہے اور دیتا بھی ہے لیکن شراب نہیں پیتا۔ دوسرا شخص یہ سارے گناہ نہیں کرتا لیکن شراب پیتا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ پہلا شخص اپنے سارے گناہوں کے ساتھ کمفرٹیبل ہے، وہ انہیں برا نہیں سمجھتا۔ اس لیے اسے لگتا ہے کہ جو شرابی ہے، وہ تو بہت بڑا گناہگار ہے۔ اب دوسرا شخص پہلے والے کو گناہگار سمجھے گا کہ وہ تو سود کا کاروبار کرتا ہے۔ رشوت کا بھی لین دین ہے تو یہ تو بڑے گناہ کررہا ہے۔ ہم دوسروں کو ان گناہوں پر جج کرتے ہیں جن کے ساتھ ہم کمفرٹیبل نہیں ہوتے۔ ہم جھوٹ بہت آسانی سے بول لیتے ہیں لیکن اگر کوئی ہمارے سامنے چغلی کرلے تو ہم اسے اس کے گناہ پر پکڑ لیں گے۔ جھوٹ بولنے والے کو کبھی جھوٹ گناہ نہیں لگتا۔ چغلی کرنے والے کو کبھی چغلی گناہ نہیں لگتی۔ اس طرح ہم انڈسٹری میں کام کرنے والوں کی نماز اور قرآن کو بھی اسی بات پر جج کرتے ہیں لیکن ہو سکتا ہے کہ وہ ہم سے زیادہ صدقہ دینے والے ہوں۔ ہم سے زیادہ عبادت کرنے والے ہوں۔ ڈرامہ دیکھنا بھی اتنا ہی گناہ ہے جتنا ڈرامے میں کام کرنا۔ تو پھر ہم ڈرامہ دیکھتے وقت کیوں نہیں کہتے کہ ہمارا نماز سے کیا لینا دینا؟ یا یہ کہ اتنے ڈرامے دیکھنے کے بعد، اتنے جھوٹ بولنے کے بعد، اتنی چغلیاں کرنے کے بعد، اتنے گانے سننے کے بعد اب ہم نماز کی بات کیوں کر رہے ہیں؟ جیسے ہمیں لگتا تھا کہ عبایا میں موجود لڑکی یا داڑھی والا لڑکا بڑے نیک ہوں گے جبکہ جینز شرٹ پہننے والی لڑکی یا شیو والا لڑکا دین سے بہت دور ہو گا۔ لیکن میں نے حقیقت ان کے برعکس دیکھی ہے۔ ہم گناہ ثواب کا معاملہ کسی کے ظاہر کو دیکھ کر نہیں پرکھ سکتے۔ یہ لوگ سارا دن اسی سنگر کے گانے سنیں گے اور پھر جب اسے کوئی نیکی کرتے دیکھیں گے تو اس پر فتویٰ لگا دیں گے۔ کتنے منافق اور دوغلے لوگ ہیں۔ سارا دن ریلز دیکھنے والے ریلز بنانے والوں کو گناہگار بول رہے ہوتے ہیں۔ بلکہ میں تو کہتی ہوں کہ جسے نیکی کا موقع ملے وہ بڑا خوش قسمت ہے۔ کیونکہ اس دور میں نیکیاں کرنا بہت مشکل ہے۔ اللہ کے گھر میں اذان دینا ہر کسی کی قسمت میں نہیں ہوتا۔ نیکی وہی شخص کرتا ہے، جسے اللہ تعالیٰ چنتے ہیں۔ تو آج کے بعد اگر کسی کا گناہ آپ کو بہت بڑا لگ رہا ہے تو یاد رکھنا کہ آپ کے گناہ بھی کسی دوسرے کی نظر میں بہت بڑے ہوسکتے ہیں۔ گناہ ثواب کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہی رہنے دیں۔ اپنی عدالت نہ لگائیں بلکہ اگلی عدالت کی فکر کریں جس میں آپ کے بھی گناہ برابر تولے جائیں گے۔ کسی کو چھوٹ نہیں ملے گی۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آپ کو بخش دیں گے تو اللہ تعالی ان لوگوں کو بھی بخش دیں گے۔ کیونکہ وہ صرف آپ کا رب نہیں ہے۔ #atifaslam #atifaslamofficial

Eshaal زہـــرہ

12,698 görüntüleme • 5 ay önce