Video wird geladen...
Video konnte nicht geladen werden
🚨🚨 جنوبی خیبر پختونخوا میں حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے باوجود بنوں میں سکیورٹی آپریشنز جاری ہیں۔ حالیہ کارروائی میں ایلیٹ فورس، سی ٹی ڈی، پولیس اور امن کمیٹی نے مشترکہ آپریشن کیا، جبکہ امن کمیٹی کے ارکان نے اب باقاعدہ وردی پہننا بھی شروع کر دی ہے۔ تاہم... show more
11,805 Aufrufe • vor 13 Tagen •via X (Twitter)
18 Kommentare

امن کمیٹیوں کی فعالیت اور مشترکہ آپریشنز سے ان شاء اللہ شدت پسندوں کا مکمل خاتمہ ہوگا۔

دہشت گردی کے خلاف فورسز اور عوام کا اتحاد ہی خطے میں مستقل امن کی ضامن ہے۔

جنوبی خیبر پختونخوا میں پائیدار امن کے لیے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ مقامی آبادی کے تحفظ اور قانون کی عملداری کو بھی مسلسل ترجیح دینا ضروری ہے۔

جنوبی خیبر پختونخوا میں پائیدار امن کی بحالی صرف سکیورٹی فورسز، مقامی امن کمیٹیوں اور عوام کے باہمی تعاون و یکجہتی سے ہی ممکن ہے۔

The continued targeting of police and security personnel shows the serious challenges faced in southern KP.

درپیش خطرات کے باوجود بنوں میں پولیس، سی ٹی ڈی، ایلیٹ فورس اور امن کمیٹی کا مشترکہ آپریشن فورسز کا مضبوط عزائم ظاہر کرتا ہے۔

پولیس اور سکیورٹی اہلکار اپنی جانیں دے کر امن قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کی قربانیاں نظر انداز نہیں ہونی چاہئیں

جنوبی اضلاع میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اس قسم کے مربوط اور منظم آپریشنز وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

بنوں میں سکیورٹی فورسز اور امن کمیٹی کا مشترکہ لائحہ عمل دہشت گردی کے خلاف مؤثر ثابت ہو رہا ہے

سکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر امن کمیٹی کے ارکان نے عزم اور حوصلے کی نئی مثال قائم کی ہے۔

امن کمیٹی کے ارکان نے اب باقاعدہ وردی پہننا بھی شروع کر دی ہے

پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانا انتہائی تشویشناک ہے، جن کے تحفظ کے لیے مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے.

بنوں میں مسلسل حملوں کے باوجود سکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری رکھنا قابلِ توجہ ہے

سکیورٹی اہلکار اب بھی شدت پسندوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔

پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کو درپیش خطرات کے باوجود کارروائیاں جاری رکھنا آسان نہیں، امن کے لیے اداروں کے درمیان تعاون اور عوامی حمایت اہم ہے۔

سیکیورٹی اہلکاروں کی قربانیاں ضائع نہیں جائیں گی، شریر عناصر کو جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

ٹارگٹ کلنگ کے چیلنجز کے باوجود جاری یہ سکیورٹی آپریشنز پائیدار امن کی بحالی کے لیے ناگزیر ہیں.

مشترکہ کارروائیاں امن کے قیام کی سنجیدہ کوشش ہیں، مگر پائیدار امن کے لیے سکیورٹی اہلکاروں کا تحفظ اور مؤثر انٹیلیجنس مزید ضروری ہے۔
