Sensitive content

This media may contain sensitive content.

Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

جنھوں نے القادر ٹرسٹ کیس کا فیصلہ کیا اور کروایا ہے میرا رب دنیا میں پاگل کتوں کو ان پر مسلط کرے اور وہ اسی طرح عبرت کا نشان بنیں جیسے یہودی نبی ؑ کی بددعا کے نتیجے میں بنے تھے ، مولانا جمیل اظہر وتھرا آن فائر 🔥

189,235 views • 1 year ago •via X (Twitter)

10 Comments

Dr Naseem's profile picture
Dr Naseem1 year ago

آمین یا رب العالمین 🤲🤲

ksminnovation's profile picture
ksminnovation1 year ago

We’re so proud to share that Dr. Tal Patalon, our leader, Head of KSM, has been chosen as one of Forbes 2024 PowerWomen @TalPatalon @forbes

اُستاد's profile picture
اُستاد1 year ago

آمین ثمہ آمین

Rabia Khan's profile picture
Rabia Khan1 year ago

آمین ثم آمین

ملک's profile picture
ملک1 year ago

⚫💚✍️ *_ابھی القادر ادارے میں گوال منڈی کی ایک بدبودار طوائف سکھائے گی کہ ڈرائیور کو پکڑ کر گیراج میں کیسے چار مہینوں میں بچہ پیدا کرتے ہیں_*😉😉 ✍️💚⚫

بندہ صحرائی's profile picture
بندہ صحرائی1 year ago

آمین یارب العالمین

fa Mughal's profile picture
fa Mughal1 year ago

Aameen sum Aameen

Nosheen Aslam's profile picture
Nosheen Aslam1 year ago

Ameen

پیر سید دلدار بخاری's profile picture
پیر سید دلدار بخاری1 year ago

آمین ثم آمین یارب العالمین 🤲

Engr Hussain🇵🇰's profile picture
Engr Hussain🇵🇰1 year ago

Ameen

Related Videos

فرینک کیپریو وہ خوبصورت انسان تھے جنہوں نے انصاف کی کرسی پر بیٹھ کر فیصلے نہیں بلکہ دل جیتے۔ ان کا انداز یہ تھا کہ قانون کے ساتھ ساتھ انسانیت کی خوشبو بھی شامل ہو۔ آج وہ دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں لیکن ہر وہ شخص جس نے ان کے فیصلے دیکھے یا سنے، آنکھوں میں آنسو لیے ان کو یاد کر رہا ہے۔وہ لمحہ آج بھی دلوں کو چھو جاتا ہے جب ایک کیس کے دوران پشاور سے تعلق رکھنے والے جوڑے نے انہیں عدالت میں روایتی پکول پیش کیا اور وہ احتراماً اپنی کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ یہ منظر اس بات کا اعلان تھا کہ اصل انصاف وہی ہے جس میں انسان کی عزت سب سے اوپر ہو۔ اسی لیے تاریخ ہمیشہ کیپریو جیسے کرداروں کو سنہری الفاظ میں یاد کرتی ہے۔لیکن افسوس کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ اس سرزمین پر ایسے ججز بھی آئے جنہوں نے انصاف کو رسوا کیا۔ کبھی مولوی مشتاق جیسے جج جنہوں نے بھٹو کو پھانسی پر چڑھایا، کبھی ڈیم والے بابا ثاقب نثار، اور قاضی فائز عیسیٰ جنہوں نے آئین اور قانون کا جنازہ نکالا، اپنی منی پر کالک ملی اور تاریخ میں ہمیشہ کے لیے رسوا ہوگئے۔ یہ وہ کردار ہیں جو ہر جگہ اور ہر دور میں تضحیک کا شکار رہیں گے اور آنے والی نسلوں کے سامنے بھی عبرت کی مثال بنیں گے۔تاریخ نے فیصلہ سنادیا ہے: انسانیت والے جج امر ہوتے ہیں، اور طاقت کے غلام جج ذلت کی اندھیری کوٹھڑی میں دفن ہو جاتے ہیں۔ JUDGE FRANK CAPRIO

Harmeet Singh

35,722 views • 1 year ago

آج اس تاریخی اور فقید المثال اجتماع کا انعقاد کر کے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ سرزمین فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور اس سرزمین پر صہیونیت کا کوئی حق نہیں ہے، چند مہینے قبل یہاں اسی اجتماع میں جس اجتماع کو ہم نے طوفان اقصیٰ کا نام دیا تھا اور ہم نے اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا ہم آج بھی ان کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ہم ایک مضبوط موقف پہ قائم ہیں اور جس طرح آپ میدان جنگ میں ہیں ہم بھی پاکستان کی سرزمین پر آپ کے شانہ بشانہ اور قدم بقدم آپ کے جہاد میں شریک ہیں۔ امریکہ ہو یا مغربی دنیا انسانی حقوق کے علمبردار بنتے ہیں مجھے ان کی تاریخ بھی معلوم ہے مجھے ان کا کل بھی معلوم ہے اور آج بھی معلوم ہے۔ جنگ عظیم اول میں اسی مغربی دنیا نے کروڑوں انسانوں کا قتل عام کیا تھا، جنگ عظیم دوم میں اسی مغربی دنیا میں کروڑوں انسانوں کا قتل عام کیا تھا اور آج 20 سال تک افغانستان میں افغانوں کا قتل عام ہوتا رہا، عرب دنیا میں عرب مسلمانوں کا قتل عام ہوتا رہا، آج غزہ کے مسلمانوں پر بمباریاں ہو رہی ہیں، 50 ہزار کے قریب وہ اپنے شہداء دے چکے ہیں، اسرائیل مجاہدین کی مقابلے میں میدان میں نہیں ٹھہر پا رہا وہ معصوموں اور بے بس مسلمانوں پر بمباری کر رہے ہیں، اس وقت بھی اگر 50 ہزار شہدا ہیں جو 15 مہینوں میں دے چکے ہیں 75 فیصد اس میں چھوٹے بچے اور خواتین ہیں، آپ بتائیں کہ اس ظلم اور فلسطینیوں کی اس نسل کشی پر اگر امریکہ انہیں سپورٹ کر رہا ہے، اگر برطانیہ ان کو سپورٹ کر رہا ہے، اگر نیٹو ممالک ان کو سپورٹ کر رہے ہیں تو کیا ان کو آج کے بعد انسانی حقوق کی بات کرنے کا حق حاصل ہے؟ جن کے ہاتھوں انسانی حقوق کا قتل عام ہو رہا ہے، جن کے ہاتھوں انسان کی جان محفوظ نہیں، جن کے ہاتھوں انسان کا مال محفوظ نہیں، جن کے ہاتھوں انسانوں کی عزت و آبرو محفوظ نہیں اور چھوٹے چھوٹے شیر خوار بچے آج وہاں پر یہ نہیں سمجھ پائیں گے کل کہ ہم کس کی اولاد ہیں میرے باپ کا نام کیا تھا اور میری ماں کا نام کیا تھا۔ کیا ان کو بھی انسانی حقوق کی بات کرنے کا حق حاصل ہے؟ تمہارے ہاتھوں سے انسانوں کا خون ٹپک رہا ہے، انسانیت کا خون ٹپک رہا ہے، انسانی حقوق کا قتل عام ہو رہا ہے، تم انسانیت کے قاتل ہو۔ اگر صدام حسین کو اس بنیاد پر پھانسی دی جاتی ہے کہ آپ نے ایک شہر میں آپریشن کیا اور اتنے لوگ آپ نے قتل کیے تھے تو اتنی انسانیت کے قتل عام پر کیا نیتن یاہو کو پھانسی پہ چڑھانا ان کا حق نہیں بنتا؟ یہ انسانیت کا دشمن ہے۔ امریکہ اور مغربی دنیا انسانیت کے قاتل ہیں اور ان شاءاللہ ہم نے یہاں پر حق و انصاف کی آواز بلند کی ہے، ہم نے اس خطے میں انسانیت کو شعور عطا کیا ہے پتہ چل جائے کہ دنیا میں مظلوم کون ہے اور ظالم کون ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

30,555 views • 1 year ago