Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

جو نقشہ ایکس پر شیئر کیا تھا، وہ تاریخی پختونخوا ہے اور اس کو پھر سے تاریخی پختونخوا بنائیں گے۔ نئے صوبے بنیں گے تو کسی ایلچی کے اعلان سے نہیں بلکہ اس سرزمین کے وارثون کی مرضی سے بنیں گے۔ ہم تمام قومیتوں کے ساتھ ہیں، ہزارہ کو...

185,289 görüntüleme • 11 gün önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان کا سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں ایف آئی اے کی جانب سے بے بنیاد الزامات میں گرفتار کسٹم کلکٹر ڈاکٹر کرم الہی بارے اظہار خیال 🟥ڈاکٹر کرم الہی جس کا تعلق پختونخوا کے ضلع دیر سے ہے، ایک نہایت ایماندار کسٹم کلکٹر ہے 🟥عوامی نیشنل پارٹی سے ان کا کوئی تعلق نہیں، نظریاتی طور پر ان کا گھرانہ جماعت اسلامی سے وابستہ ہے 🟥اس کو بلوچستان ٹرانسفر کیا گیا، وہ ایک دیانتدار آفیسر تھا اور کسی دباؤ میں نہیں آرہا تھا 🟥اس سے روابط ہوئے مگر اس نےکوئی بھی غیر قانونی کام سے انکارکیا 🟥دباؤ نہ ماننے کی پاداش میں آج اس کو نشان عبرت بنانے کی کوشش ہورہی ہے 🟥پہلے تو وہ غائب کردیا گیا، کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں پر ہے 🟥اس کی فیملی کو ہراساں کیا گیا، اس کا ایک بھائی یونیورسٹی لیکچرر ہے، اس کو بھی اذیت دی گئی 🟥اس کا قصور یہ تھا کہ اس نے 600 کلو غیر قانونی چاندنی پکڑی تھی 🟥چاندنی پکڑنے کے بعد اس کو پختونخوا ٹرانسفر کیا گیا 🟥600 کلو کی چاندنی کی لاہور منتقلی کے وقت 200 کلو نقلی چاندنی کے ساتھ تبدیل کی گئی 🟥اگر اس نے کرپشن کی تھی تو گرفتاری کا بھی ایک طریقہ کار اور ادارے ہیں 🟥مگر یہاں تو 20 دن اس کا پتہ تک نہیں چل رہا تھا کہ وہ کہاں اور کس کے پاس ہے 🟥اگر اس نے کرپشن کی بھی ہے تو اس کے گھر والوں کا کیا قصور تھا کہ ان کو ہراساں کیا گیا 🟥آج وہ ایف آئی اے کی کسٹڈی میں ہے کیونکہ اس نے غیرت کی تھی اور غیر قانونی کام سے انکار کیا تھا #AimalWaliKhan | #ANP

Awami National Party

38,959 görüntüleme • 11 gün önce

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,199 görüntüleme • 14 gün önce

خیبر پختونخوا اسمبلی میں نئے وزیراعلی کے انتخاب کے بعد عوامی نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی نثار باز کی میڈیا سے گفتگو: صوبے میں پچھلے چار دنوں سے جو صورتحال جاری ہے، اس سے معاملات آئینی بحران کی طرف بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ گورنر نے گزشتہ رات وزیراعلی کے استعفی پر اعتراضات لگا کر واپس کیا ہے جبکہ صوبائی اسمبلی میں آج نئے وزیراعلی کا انتخاب ہوا۔ ایک طرف صوبے میں وزیرستان سے لے کر باجوڑ تک بدامنی ہے تو دوسری جانب ڈیورنڈ لائن پر بھی پاکستان اور افغانستان کے بیچ تناؤ ہے۔ موجودہ حالات سے صوبہ بھر میں بیوروکریسی غیر فعال ہے۔ اس قسم کے فیصلوں سے عوام اور صوبے کو نقصان ہوگا۔ عوامی نیشنل پارٹی نے اپنا موقف بہت پہلے واضح کیا تھا کہ ہم کسی بھی غیر جمہوری عمل اور ہارس ٹریڈنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ ہمارا اصولی موقف ہے کہ جس پارٹی کے پاس ایوان میں اکثریت ہے ان کو اپنا وزیراعلی منتخب کرانے کا حق ہے۔ لیکن اب جو صورتحال بنی ہے یہ انتہائی افسوسناک ہے۔ وزیراعلی اور گورنر کے بیچ لڑائی میں نقصان پختونخوا کے عوام کا ہوگا۔ ہم کسی بھی غیر آئینی اقدام کا حصہ نہیں بنیں گے۔ پختونخوا میں نت نئے تجربات سے صوبے کا عوام متاثر ہورہے ہیں، صوبے میں بدامنی، بے روزگاری، غربت اور مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے۔ گورنر کہہ رہا ہے کہ میں نے استعفی منظور نہیں کیا ہے مگر نئے وزيراعلی کا انتخاب ہوگیا۔ ان حالات میں صوبے کا نظام اور مشینری کس طرح چلے گی؟

Awami National Party

44,503 görüntüleme • 10 ay önce

خیبر پختونخوا میں شادی کی ایک تقریب پر ڈرون حملہ ہوا ہے، اور یہ اُس وقت ہوا جب ہمارے صوبے میں ایک بڑے قومی امن جرگے کا انعقاد کیا گیا، جس میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام سمیت صوبے کی تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت، سول سوسائٹی، قبائلی مشران اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے تمام افراد نے مل بیٹھ کر 15 نکاتی اعلامیہ جاری کیا۔میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا خیبر پختونخوا کے عوام اس ملک کے باشندے نہیں ہیں. اگر وہ اس ملک کے باشندے ہیں اور وہ ایک قومی جرگہ سے متفقہ اعلامیہ جاری کرتے ہیں تو وفاقی حکومت اس کو کوئی اہمیت کیوں نہیں دیتی.میں یہ بھی پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کے نمائندے وہاں موجود تھے، تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندے بیٹھے تھے۔ یہ خیبر پختونخوا کے عوام کی توہین ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام اس کا حساب لیں گے۔ ہمیں کسی صورت ڈرون حملے قبول نہیں، اور نہ ہی ہمیں Collateral Damage قابلِ قبول ہے۔

Asad Qaiser

73,272 görüntüleme • 9 ay önce

فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ایوان صدر میں آل پارٹیز کانفرنس/ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان کا خطاب: پاکستان امریکہ کی مرضی کے خلاف ایک فیصلہ نہیں کرسکتا یہ آج کا مسئلہ نہیں، پاکستان میں یہ ایوب خان کے دور سے ہورہا ہے آج پاکستان امریکہ کی مرضی کے خلاف فیصلہ کرے گا، کل آئی ایم ایف قرضے کی قسط نہیں دے گا ہم کو اس پر توجہ دینی ہوگی کہ فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کا خاتمہ کیسے ممکن ہے کیا اسرائیل کو نہ ماننے سے فسلطینیوں پر ہونے والے مظالم رک جائیں گے جب ظلم اور مظلومیت کی بات ہوگی تو فلسطین اور کشمیر کا نا م آئے گا ہمیں ہمیشہ بتایا گیا ہے کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے لیکن وہ شہ رگ ہم کھو چکے ہیں اگر ہم فلسطین کی آزادی کی بات کریں گے تو کشمیر کی آزادی کی بات بھی ضرور کریں گے کشمیر کے تین حصوں پر تین الگ الگ قبضے ہیں، تینوں کو اپنا قبضہ چھوڑنا ہوگا ،کشمیر کا فیصلہ کشمیر کی مرضی سے ہوگا ان دونوں ممالک کے ساتھ ساتھ ایک مظلوم ملک افغانستان بھی ہے کیا پاکستان کے اندر ایک مسلح جھتے کو ماننے کیلئے کوئی تیار ہوسکتا ہے؟ نظریاتی طور پر تمام مسلح ملیشیا ایک ہی بات کرتی ہے اور اسکو جہاد کا نام دیتی ہے پاکستان ہو، افغانستان ہو یا عرب ممالک مسلح جھتے ایک ہی بات کررہے ہیں اگر ہم پاکستان میں ٹی ٹی پی کو ماننے کیلئے تیار نہیں تو کسی بھی اور مسلح جھتے کی حمایت بھی نہیں کرنی چاہیئے ہمیں فلسطین سمیت تمام مظلوموں کی فکر کرنی چاہیئے لیکن ہمیں اپنے ملک کیلئے بھی فکرمند ہونا چاہیئے اس ملک میں پچاس سال سےدو صوبے پختونخوا اور بلوچستان غزہ کی مثال پیش کررہے ہیں یہاں بتایا گیا کہ فلسطین میں پچاس ہزار لوگ شہید ہوئے ہیں کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ بلوچستان اور پختونخوا میں کتنے لوگ شہید ہوئے؟ جو رونا ہم فلسطین کیلئے رو رہے ہیں خدانخواستہ پچاس سال بعد یہی رونا ہم پختونخوا اور بلوچستان کے لئے کریں گے پچاس سال سے اس ملک نے جہاد اور جہادی عناصر کی حمایت کی ہے پختون سرزمین پر پچھلے پچاس سال سے جو لوگ جہاد کررہے ہیں ان سے گزارش ہے کہ اب جہاد اسرائیل جاکر کریں

Awami National Party

42,681 görüntüleme • 1 yıl önce