Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

جھگڑا اپنا مقدمہ خود لڑرہا 🚨 جس ویڈیو کا ذکر ہورہا وہ اسلام آباد کی ہے .ریڈیو پاکستان کیس کی فائلیں 1500 سے زائد صفحات پر مشتمل ہیں، اور ان میں کہیں بھی ہمارا نام شامل نہیں۔ بغیر نامزدگی کے کسی شخص کو میڈیا میں مجرم ثابت کرنا قانون،...

15,231 views • 7 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

احمد رضا ڈار پر آپ نے ریپ کا کیس نہیں ڈالا، اسے بچا لیا گیا ہے، اور اسے ریپ کے الزام سے بچایا گیا ہے؟ میری تمام انویسٹیگیٹو جرنلسٹس سے گزارش ہے کہ ہمارے پاس ان خواتین کے رابطہ نمبرز موجود ہیں۔ آپ ان خواتین سے بھی بات کر سکتے ہیں اور ان کے والدین سے بھی بات کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو پاکستان کے اداروں پر یقین نہیں ہے، تو شاید آپ کو بیرونِ ملک موجود ان افراد کی بات پر زیادہ یقین ہو۔ آپ ان سے بھی بات کر لیں۔ہم نے ان خواتین کو ایک ایک ملزم کی تصویر دکھائی تھی، اور انہوں نے جو بیان جج کے سامنے دیا، اس میں ایک خاتون کا چار صفحات پر مشتمل بیان ہے جبکہ دوسری خاتون کا بیان تین صفحات پر مشتمل ہے۔ 164 کا بیان اور میڈیکل کسی کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ جب جج 164 کے تحت بیان ریکارڈ کر رہا ہوتا ہے تو وہ بار بار یہ پوچھتا ہے اور سرٹیفکیٹ پر دستخط بھی کرواتا ہے کہ آپ جو بیان دے رہے ہیں، وہ بعد میں آپ کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ Muzamal Suharwardy Lahore Police Official

Muzamal Suharwardy Team

28,871 views • 1 month ago

پاکستان میں انتخابات میں حصہ لینا اور اپنے ملک کے اندر سیاست کرنا پاکستان کی ہر خاتون کا بنیادی انسانی حق ہے۔ پاکستان کا آئین اور قانون خواتین کو جمہوریت کے اندر پارلیمان میں پاکستان کے عوام کی نمائندگی کرنے کا حق دیتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی خواتین نے پچھلے دو سال میں مشکلات، ظلم اور جبر کا مقابلہ کیا اور اب عام انتخابات میں انکو بڑی تعداد میں ٹکٹس ملی ہیں۔ کنول شوذب Kanwal Shauzab MNA پاکستان کی سب سے بڑی جمہوری جماعت کی ویمن ونگ کی صدر ہیں اور ایک بہادر اور نڈر خاتون ہے جس نے ہمیشہ وفاداری اور بردباری سے کام لیا ہے۔ پاکستان کی خواتین کیلئے ایک رول ماڈل ہیں اور ہمیشہ اپنے کام سے اور اپنی عوامی خدمت سے انہوں نے سیاسی میدان میں اپنا نام جمایا ہے۔ کنول شوذب این اے 166 بہاولپور سے انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔ میں اپنی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں، بزرگوں اور بھائیوں کو کہنا چاہتی ہوں کہ کنول شوذب کو ووٹ دیکر اور رولر کوسٹر پر 8 فروری کو ڈھپہ لگا کر انصاف، خوداری اور بہادری کو جتوائے۔

Barrister Maleeka Bokhari

88,174 views • 2 years ago

لیبیا میں ایک خاتون کو سرِعام 100 کوڑوں کی سزا دینے کی وڈیو سامنے آئی ہے۔یہ صرف ایک قانونی سزا کا معاملہ نہیں بلکہ انسانی وقار، بنیادی انسانی حقوق اور ریاستی اختیار کی حدود پر ایک سنجیدہ سوال ہے۔ کسی بھی جرم کے الزام میں انصاف کا تقاضا ہے کہ ملزم کو شفاف عدالتی کارروائی، دفاع کا حق اور منصفانہ سماعت حاصل ہو۔ لیکن سزا کا ایسا طریقہ جس میں انسان کو مجمع کے سامنے جسمانی اذیت اور تذلیل کا سامنا کرنا پڑے، انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں سے شدید تصادم پیدا کرتا ہے۔ مذہب، قانون اور ثقافت کے نام پر ہونے والی ہر کارروائی کو تنقید سے بالاتر نہیں سمجھا جا سکتا۔ انسانی وقار ایک بنیادی قدر ہے، اور ریاست کی طاقت کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ سزا دیتے ہوئے بھی انسان کی عزت کو برقرار رکھے۔ جرم کی سزا ضروری ہو سکتی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا انصاف کا مقصد انسان کو درست کرنا ہے یا اسے سب کے سامنے ذلیل کرنا؟ ایک مہذب معاشرے میں قانون کی حکمرانی کے ساتھ انسانی حقوق، شفاف انصاف اور انسانی وقار کا تحفظ بھی لازم ہے۔

Ather Salem®

40,066 views • 14 days ago

احمدیوں پر آئینی پابندیاں اپنی جگہ لیکن مذہبی انتہاپسندوں کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کس نے دی ؟؟ پاکستان کے آئین میں آرٹیکل 260(3) کے تحت احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے، جبکہ آرڈیننس XX (1984) کے مطابق احمدی کوئی بھی اسلامی شعار اپنانے، خود کو مسلمان کہنے یا اپنے عبادتی مقامات کو مسجد کہنے کے مجاز نہیں ہیں۔ آرٹیکل 14 (پرائیویسی اور انسانی وقار کے تحفظ) آئینی نقطہِ نظر : پاکستان کا آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی، پرائیویسی اور بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔آرٹیکل 20 ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق دیتا ہے۔آرٹیکل 14 انسانی عزت و وقار اور پرائیویسی کی حفاظت کرتا ہے۔کسی کی پرائیوٹ پرالرٹی میں زبردستی گھس کر ان کی عبادت میں مداخلت کرنا اور ہتک آمیز سلوک روارکھنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔ پرائیویسی اور انسانی حقوق: کسی بھی فرد یا گروہ کا کسی کی عبادت گاہ میں گھس کر انہیں نشانہ بنانا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان دستخط کنندہ ہے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے (UDHR) کا، جس کی آرٹیکل 18 ہرانسان کے مذہبی آزادی کے حق کو تسلیم کرتی ہے،اور آرٹیکل 12 پرائیویسی کے حق کی حفاظت کرتی ہے یہ قوانین ریاستی سطح پر ایک مخصوص مذہبی گروہ کے عقیدے کو محدود کرتے ہیں، جبکہ احمدی خود کو غیر مسلم نہیں مانتے۔ یہی نکتہ بنیادی انسانی حقوق، مذہبی آزادی، اور بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہو جاتا ہے۔مسلۂ یہی سے شروع ہوتا ہے کہ اگر وہ اپنی عبادت اپنے گھروں یا اپنی عبادت گاہوں میں کریں، تو وہاں ریاست یا عوام کا دخل دینا آئین کے آرٹیکل 14 (پرائیویسی اور انسانی وقار کے تحفظ) کے خلاف جاتا ہے۔ جنازہ اور تدفین کا حق/قبر اور کتبے کی روایت: مذہب یا انسانی ارتقا؟ کسی بھی انسان کو دفنانے کا حق محض ایک اسلامی فریضہ نہیں بلکہ ایک عالمی انسانی قدر ہے۔ تدفین اور قبروں پر نشانات (کتبے) لگانے کی روایت صرف اسلام تک محدود نہیں بلکہ انسانی تہذیب کے آغاز سے موجود ہے۔ قدیم ترین انسانی معاشروں، جیسے مصر، میسوپوٹیمیا، یونان،رومن سلطنت،اور وادیٔ سندھ میں تدفین ایک عام رواج تھا۔ انسان ہمیشہ سے اپنے مُردوں کوعزت کے ساتھ دفنانے اوران کی قبروں کی نشاندہی کرنے کا طریقہ اپناتا آیا ہے، تاکہ وہ یادگار رہیں اورنسلیں بعد میں ان سے جُڑی رہیں۔ اسلامی نقطۂ نظر: اسلام نے تدفین کو اہمیت دی اور اس میں سادگی پر زور دیا، مگر قبروں کی بےحرمتی اور لاشوں کی بےعزتی کو سختی سے منع کیا۔ نبی اکرم ﷺ نے دشمنوں کی لاشوں تک کی بےحرمتی سے منع فرمایا اور انہیں دفنانے کا حکم دیا۔ ٹی ایل پی کا کسی بھی فرد کی تدفین میں مداخلت، قبروں کو مسمار کرنا، یا لاشوں کی بےحرمتی کرنا اسلامی تعلیمات، انسانی اقدار، اور قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ کسی کی قبر کو نقصان پہنچانا نہ صرف قرآن و حدیث کے خلاف ہے بلکہ یہ ایک وحشیانہ اور غیر انسانی فعل بھی ہے، کُجا کہ تازہ قبریں کھول کر اسلام کی خدمت سمجھنا۔ کسی بھی گروہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اسلام کے نام پر دوسروں کی تدفین روکے یا قبروں کو نقصان پہنچائے۔یہ نہ صرف اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ معاشرتی بربریت اور قانون شکنی کا مظہر بھی ہے یہ ایک سنگین مسئلہ ہے کہ عام شہری کسی بھی گروہ کے خلاف خود عدالت، پولیس اور جلاد بن بیٹھتے ہیں۔ قانونی لحاظ سے، کسی بھی جرم کی تحقیقات اور سزا کا اختیار عدالت کے پاس ہوتا ہے، نہ کہ کسی ہجوم یاگروہ کے پاس۔ مگر ہوتا کیا ہے؟ •شدت پسند گروہ (جیسے TLP) ایک ہجوم اکٹھا کرتے ہیں۔ •پولیس اکثر یا تو بے بس ہوتی ہے یا خود بھی ایسے گروہوں کے دباؤ میں آکر ان کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے۔ •عدالتیں بھی اکثر ان معاملات میں فوری ایکشن نہیں لیتیں، جس کی وجہ سے یہ رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ صورت حال ایک “موب جسٹس” کو فروغ دے رہی ہے،جس میں لوگ خود ہی جج، جیوری،اور جلاد بن جاتے ہیں، جو کہ ایک مکمل لاقانونیت (Anarchy) کی علامت ہے۔ •پولیس اکثر مذہبی انتہا پسند گروہوں کو کنٹرول کرنے کے بجائے ان کے دباؤ میں آکر ان کے احکامات پر چلتی ہے۔ •TLP جیسے گروہوں کو ریاست کبھی کبھار اپنے مفادات کے لیے بھی استعمال کرتی ہے۔ •اگر ریاست یا اسٹیبلشمنٹ کو کسی بڑے سیاسی یا سیکیورٹی معاملے سے عوام کی توجہ ہٹانی ہو، تو ایسے مذہبی گروہوں کو فعال کر دیا جاتا ہے تاکہ عوام کا غصہ کسی اور طرف منتقل ہو جائے۔ یہ ایک بڑا سوال ہے کہ کیا ریاست مذہبی شدت پسندی کو اپنے سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے؟ بلوچوں نے ٹرین پر حملہ کیا اور یرغمال بنایا، جو ریاست کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایسے وقت میں جب میڈیا اور عوام کا فوکس بلوچ مسئلے پر ہونا چاہیے تھا،اچانک TLPاور مذہبی شدت پسندی کے واقعات بڑھ جاتے ہیں۔ تحریر :سونیا خان خٹک

Sonia Khan khattak(SK)

31,678 views • 1 year ago

بلوچستان کے حالات پر نیشنل میڈیا کی ہٹ دھرمی برقرار ہے اور بلوچستان میں امن و امان سے متعلق خبروں کا مین سٹریم میڈیا پر مکمل بلیک آؤٹ جاری ہے، صوبے کے 20 سے زائد اضلاع میں حکومتی رٹ ختم ہو چکی ہے اور روازنہ کی بنیاد پر دھشتگردی کے واقعات ہو رہے ہیں، بلوچستان کا نوجوان مایوس ہے کیونکہ پاکستان کے کسی بھی شعبے اقتدار، سیاست، اختیار سے لے کر معیشت میں ہمارا حصہ نہیں ہے تو ہمارا مستقبل کیا ہے؟ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا چوالیس فیصد، معدنیات سے مالا مال اور آبادی کے لحاظ سے صرف 1 کروڑ 49 لاکھ والے صوبے میں امن و امان کی صورتحال بدترین ہو چکی ہے، ریکوڈک، سیندک، گوادر پورٹ اور تیل و گیس سے مالا مال صوبے کی عوام زندگی کی بنیادی سہولیات سے ہی محروم ہے، بجلی بلوچستان کو نہیں مل رہی صوبے سے جو گیس نکل رہی ہے وہ بھی بلوچستان کی عوام کو نہیں مل رہی ہے، بلوچستان پاکستان کے قیام ہی سے فوجی آپریشنز کی زد میں ہے، بلوچستان کے مسائل کا حل فوجی نہیں بلکہ سیاسی، معاشی اور آئینی ہے لوگوں کو ان کے حقوق دیئے بغیر بلوچستان کا مسلہ حل نہیں ہو سکتا بلکہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، بلوچستان کے لوگوں کو ان کے جائز آیینی حقوق، وفاق میں درست نمائندگی، وفاقی کوٹے میں مقرر کردہ نوکریوں اور بنیادی سہولیات دیئے بغیر ڈنڈے کے زور پر بلوچستان نہیں چل سکتا، ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو بلوچستان کو ایک کالونی کی طرح چلانا بند کرنا پڑے گا۔ #Balochistan #FascismUnderAsimLaw #PakistanUnderMartialLaw

Qasim Khan Suri

14,862 views • 12 days ago

میں اسٹیبلشمنٹ،بیوروکریسی،سیاست دانوں،حکمرانوں کو بھی بتانا چاہتا ہوں کہ جب 1977 میں پورے ملک میں الیکشن میں دھاندلی کی گئی، اس دھاندلی کے خلاف پورے ملک میں تحریک اٹھی، اس تحریک کی قیادت مفتی محمود نے کی تھی۔ چوری سے نتیجے برآمد کرنا، الیکشن میں دھاندلیاں کرنا اس کے خلاف سب سے پہلے بڑی تحریک کی قیادت میرے قائد نے کی تھی، مفکر اسلام نے کی تھی، ہماری گٹھی میں یہ بات ڈال دی ہے کہ ہم پاکستان میں چوری کا الیکشن تسلیم نہیں کریں گے۔ چوری ہوئی ہے 2018 میں بھی ہوئی، ہم نے کہا ہم تسلیم نہیں کرتے، 2024 میں ہوئی، پارلیمنٹ میں ہوئی، اس صوبے کی الیکشن میں چوری ہوئی، ہم نے نہ صوبے کی چوری کو تسلیم کیا نہ ہم نے وفاق کی چوری کو تسلیم کیا، لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ پاکستان کے عوام کو اس کے ووٹ کا حق واپس نہ دلا دے۔ یہ وہ سیاست ہے جس کے نام سے کانفرنس منعقد ہو رہی ہے وہی اس نظریے اور اس اصول کے رہبر تھے۔ اگر ہم واقعی ان کے پیروکار ہیں تو پھر ہمیں ثابت کرنا ہوگا کہ ہم نے اصول کی سیاست کرنی ہے، جمہوریت کی سیاست کرنی ہے، اخلاق کی سیاست کرنی ہے، شائستگی کی سیاست کرنی ہے۔ ہم اختلاف کرتے ہیں، ہم اختلاف کریں گے، لیکن ہماری سیاست گالیوں کی سیاست نہیں، بدتمیزی کی سیاست نہیں ہے، بد اخلاقی کی سیاست نہیں ہے، فحاشی اور عریانی کی سیاست نہیں ہے، اعلیٰ اسلامی اقدار کی سیاست ہے۔ ان شاءاللہ جو راستہ ہمیں اپنے راہبر نے دکھایا ہے، ہم اس راستے پر استقامت کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھیں گے اور ان شاءاللہ آج اس ڈیرہ کا شہر جو آج گزرگاہ ہے اگر اللہ نے چاہا اسی راستے سے اسلام آباد پہنچیں گے اور اسلام آباد ہماری منزل گاہ ہوگی۔قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,927 views • 10 months ago