Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

جہاز پر کسی نے ہنی مون منایا یا کسی بیمار کو لیکر گیا یا پھر معائنے کے لیے گیا ان سوالوں پر غصہ ہونے کی بجائے اس جہاز پر کون گیا ہے اسکی پسنجر لسٹ ہوتی ہے بس وہ لسٹ شیئر کر دیں ارشاد بھٹی

47,958 просмотров • 5 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

ابھی حال ہی میں زیارت کے قریب ایک واقعہ پیش آیا، معلوم نہیں ایسا کیوں کیا گیا۔ لیویز اہلکاروں کو بلایا گیا اور انہیں کوئی واضح مقصد بتائے بغیر محض یہ حکم دیا گیا کہ فلاں مقام پر آپ نے جانا ہے۔ اور انہیں ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے ہمراہ صرف ایک یا دو میگزین لے کر جائیں۔ دو دو میگزین کے ساتھ ان کو بھیجا گیا۔وہاں ان پر حملہ ہو گیا۔ یہ حملہ کس نے کیا اور کہاں سے ہوا؟ بارہ بجے تک ان کے پاس جو کچھ کارتوس تھے وہ سب ختم ہو گئے۔ وہ اپنے متعلقہ افسران کو ٹیلی فون کرتے رہے کہ ہم پر حملہ ہو رہا ہے اور لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ دن دیہاڑے کوئٹہ چھاؤنی سے بالکل آدھے گھنٹے کے فاصلے پر تھے وہ لیکن امداد نہ پہنچی، یہ ہیلی کاپٹر یہ جہاز کس لیے ہیں؟ کتنے ہی لوگ شہید کردئیے گئے، کتنوں کو زندہ جلایا گیا مگر کسی بھی ذمہ دار شخص نے اس کوتاہی پر نہ تو استعفیٰ دیا، اور نہ ہی حکومت کے فیصلہ سازوں نے کسی ڈی سی، کمشنر، آئی جی یا کسی بریگیڈیئر کو معطل کیا، اور نہ ہی کسی سے بازپرس کی گئی۔ محمود خان اچکزئی اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی

PTI

55,830 просмотров • 1 месяц назад

ٹرمپ کون ہوتے ہیں کہ وہ کسی آزاد قوم اور ان کی سرزمین پر قبضہ کرنےکی بات کررہے ہیں ؟ ایک آزاد قوم کو دوسرے ملکوں میں مہاجر بنانے کی بات کررہے ہیں، ٹرمپ کا کا کٹھ پتلی پندرہ مہینے سے فلسطینیوں کا قتل عام کر کے انسانی جرم کا مرتکب ہوا ہے،اگر صرف دو تین شہروں میں فوجی کاروائی کے نتیجے میں قتل ہونے والوں کے پاداش میں صدام حسین کو لٹکایا جا سکتا ہے تو اس پاداش میں جہاں نیتن یاہو کو سرعام پھانسی ملنی چاہیے تھی اس کو آج امریکہ فلسطینیوں کے خون پر ان کو سپورٹ کر رہا ہے۔ جنگ عظیم اول کے بعد جب دنیا میں یہودی در بدر ہو گئے اور جرمنوں کے ہاتھوں پٹ گئے تو اس زمانے میں لیگ آف نیشنز اقوام متحدہ میں قرارداد پاس کی کہ ان دربدر شدہ یہود یوں کو جگہ دینا ان کو از سرِ نو بسانا یہ بین الاقوامی ذمہ داری ہے، بین الاقوامی ذمہ داری قرار دے کر صرف فلسطین کی سرزمین کو اس کے لیے کیوں خاص کیا گیا؟ کسی ملک نے ان کو جگہ نہیں دی اور سب کو اکٹھا کر کے فلسطین کی سرزمین میں لایا گیا، قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کسی شہری کو، کسی یہودی کو جبراً کہیں آباد نہیں کیا جائے گا، قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کسی سرزمین پر سرزمین والوں سے پوچھے بغیر جبرا ان کو آباد نہیں کیا جا سکتا، یہودیوں کو بھی جبراً لا کر آباد کیا گیا، فلسطین سے بھی جبراً زمین لی گئی اور وہاں ان کو آباد کیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ فلسطین Over Populated Area ہے یہاں مزید کسی کو آباد کرنے کی گنجائش نہیں ہے، اس کے باوجود Over Populated Area پر ان کو آباد کیا گیا، قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فلسطین معاشی لحاظ سے انتہائی کمزور ہے اس پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، اس معاشی لحاظ سے کمزور ترین ملک پر اتنی بڑی یہودی آبادی کا بوجھ ڈال دیا گیا، اور آج تک یہ صرف بوجھ ہی نہیں بلکہ ان کی پیٹھ میں گھونپا ہوا چھرا ہے، خنجر ہے جو آج بھی ہمارے جسم کو چھو رہا ہے اور ہمارے جسم سے لہو بہہ رہا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

33,921 просмотров • 1 год назад