Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

جی او آر کالونی فٹسال گراؤنڈ طویل عرصے سے خستہ حالی کا شکار تھا جسے اب مرمت کرکے دوبارہ کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے فعال کردیا گیا ہے۔ ہماری اولین ترجیح ہے کہ دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے جہاں ممکن ہو کھیلوں کے میدانوں کو آباد کیا...

14,914 просмотров • 18 дней назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

مریم صفدر کے کمپلین سیل میں انصاف کی امید لے کر جانے والے ایک باپ کو شاید یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ دراصل ظلم کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ ایک ایسا نظام جہاں شکایت کرنا جرم بن چکا ہو، وہاں ایک معصوم بچے کی جان بھی محفوظ نہیں رہتی۔ یہ واقعہ صرف ایک خاندان کا المیہ نہیں بلکہ پورے نظام کی سفاکی اور بے حسی کا کھلا ثبوت ہے۔ ایک ڈاکٹر، جسے مسیحا ہونا چاہیے تھا، اگر انسانیت سے اس قدر گر جائے کہ ایک بچے کو تجربہ گاہ کا سامان بنا دے، تو پھر یہ صرف ایک فرد کا قصور نہیں رہتا بلکہ پورا نظام مجرم بن جاتا ہے۔ یہ وہی نظام ہے جس میں طاقتور کے لیے قانون ایک کھلونا اور کمزور کے لیے پھانسی کا پھندا بن چکا ہے۔ یہ ملک اب انصاف کا نہیں بلکہ طاقت اور بے رحمی کا اکھاڑا بن چکا ہے، جہاں حکمرانوں کے دل پتھر سے بھی زیادہ سخت اور ضمیر مردہ ہو چکے ہیں۔ ادارے، جو عوام کی حفاظت کے لیے تھے، اب ظلم کے سہولت کار بن گئے ہیں۔ انسانیت، اخلاق اور انصاف جیسے الفاظ صرف کتابوں میں رہ گئے ہیں۔ فارم 47 کی حکومت نے اس ملک کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں مظلوم کی چیخ بھی دب جاتی ہے اور ظالم مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔ عوام کی تکلیف ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی، کیونکہ اقتدار کی ہوس نے ان کی آنکھوں پر اندھے پن کی چادر ڈال دی ہے۔ ایسے حالات میں عوام کا غصہ اور مایوسی فطری ہے۔ لوگ ایک ایسی قیادت چاہتے ہیں جو ان کے درد کو سمجھے، انصاف بحال کرے، اور اس ظلم کے نظام کو توڑے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان کی رہائی اور واپسی کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں، کیونکہ عوام کو ایک ایسے رہنما کی تلاش ہے جو کم از کم ان کی آواز سن سکے۔ یہ کہانی صرف ایک واقعے کا ردعمل نہیں بلکہ ایک پورے نظام کے خلاف فردِ جرم ہے ایک ایسا نظام جو اگر نہ بدلا گیا تو مزید کتنی زندگیاں اس کی بھینٹ چڑھیں گی، اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ #نااہل_حکمراں_عوام_پریشان

PTI North Punjab

17,320 просмотров • 3 месяцев назад

ماورائے عدالت قتل۔۔۔ شہید حمدان کی بہن “یہ تصویر جو آپ میرے ہاتھ میں دیکھ رہے ہیں، یہ میرے بھائی شہید حمدان کی ہے، جسے 29 دسمبر 2025 کو گھر سے لاپتہ کیا گیا، اور تقریباً ایک ہفتے بعد اس پر جھوٹے الزامات لگا کر میڈیا میں پیش کیا گیا۔ اس کے بعد میرے بھائی کو تین مرتبہ عدالت میں بھی پیش کیا گیا، لیکن وہ ہر بار کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔ اسی ناکامی کو چھپانے کے لیے، اگلی پیشی کی تاریخ سے ایک دن پہلے، میرے بھائی حمدان اور دیگر تین بلوچ نوجوانوں کو اپنی کسٹڈی میں تشدد کرکے ماورائے عدالت قتل کیا گیا، اور پھر اسے مقابلے کا نام دیا گیا۔ اگر یہ مقابلہ تھا تو اس میں صرف بلوچ نوجوان ہی کیوں مارے گئے؟ آپ کے اہلکاروں کا ایک بندہ تک کیوں نہیں مرا؟ اور پھر اسی طرح، بنا ثبوت اور ناانصافی پر مبنی فیصلے کے تحت ڈاکٹر ماہ رنگ اور ان کی دیگر ساتھیوں کو آپ کی عدالت نے عمر قید سنائی ہے۔ میرا یہ ویڈیو بنانے کا مقصد یہ ہے کہ سرفراز بگٹی صاحب کہتے ہیں کہ اہلکار شبیر بلوچ کے لواحقین کے ساتھ انصاف ہوا ہے۔ اگر ایک واقعے پر مکمل طور پر ردِعمل آ سکتا ہے، اگر لوگوں کو سزائیں سنائی جا سکتی ہیں، تو پھر ہمارے بھائی حمدان بلوچ کے معاملے میں خاموشی کیوں ہے؟ کیوں ہمارے بھائی کے کیس کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے؟ اگر آپ کی عدالت بے گناہ لوگوں کو عمر قید کی سزا سنا سکتی ہے، تو اُن سی ٹی ڈی اہلکاروں کی کیا سزا ہونی چاہیے جنہوں نے بلوچ نوجوانوں کو اپنی کسٹڈی میں تشدد کرکے انہیں ماورائے عدالت قتل کیا؟ اگر بقولِ آپ کے شبیر کے لواحقین کو انصاف ملا ہے، تو حمدان بلوچ کے لواحقین کا انصاف کہاں ہے؟ اگر آپ انصاف کی بات کر رہے ہیں، تو ہمارے لیے آپ لوگوں کے منہ اور عدالتوں کے دروازے کیوں بند ہو جاتے ہیں؟ ہم بھی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ہمارے اہلِ خانہ کو انصاف دیا جائے اور ان سی ٹی ڈی اہلکاروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ اگر ان کو سزا نہیں دی گئی تو یہ آنے والی نسلوں کے لیے خطرہ ہے۔ اسی لیے ہمارے خاندان کو انصاف دیا جائے۔”

Baloch Yakjehti Committee

13,732 просмотров • 2 месяцев назад

بلوچستان میں کھیلوں کے فروغ اور نوجوانوں کی فٹبال صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے اسٹیون جیرارڈ اکیڈمی کے زیر اہتمام پہلا فٹبال ٹریننگ کیمپ قیوم پاپا اسٹیڈیم، کوئٹہ میں کامیابی کے ساتھ جاری ہے، تربیتی کیمپ کا انعقاد حکومت بلوچستان اور ڈی ایچ اے کوئٹہ کے باہمی اشتراک سے کیا جا رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد مقامی نوجوان کھلاڑیوں کو عالمی معیار کی فٹبال تربیت فراہم کرنا ہے،، یہ فٹبال ٹریننگ کیمپ 5 فروری 2026 تک جاری رہے گا، جس کے دوران شرکاء کو جدید کھیل کی تکنیک، جسمانی فٹنس، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ فٹبال مہارتوں پر مشتمل جامع تربیت دی جا رہی ہے،، برطانیہ سے تعلق رکھنے والے معروف اور تجربہ کار فٹبال کوچز کرسچین اور تھامس تربیتی سیشنز کی نگرانی اور قیادت کر رہے ہیں، جو کھلاڑیوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کرنے میں مصروف ہیں،، اس اقدام کا مقصد بلوچستان کے نوجوان کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کرنا اور انہیں مستقبل کے پیشہ ور فٹبالرز کے طور پر تیار کرنا ہے،، صوبے کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے نوجوان فٹبالرز کی بھرپور شرکت بلوچستان میں فٹبال کے بڑھتے ہوئے رجحان، نوجوانوں کے عزم اور کھیلوں سے وابستگی کی واضح عکاسی کرتی ہے،، اسٹیون جیرارڈ اکیڈمی کا یہ اقدام نچلی سطح پر ٹیلنٹ کی تلاش، اس کی تربیت اور صوبے میں کھیلوں کے کلچر کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے،،

Architect Jalal Sherazi

27,528 просмотров • 8 месяцев назад

ایک پاکستانی کی شہریت مشکوک کیسے ہو سکتی ہے؟ یہ صرف یارزمان ولد پائندہ خان کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک ایسے پاکستانی خاندان کی شناخت کا مسئلہ ہے جس کی جڑیں نسلوں سے اس وطن کی مٹی میں پیوست ہیں۔ یارزمان کا تعلق ضلع باجوڑ، تحصیل سلارزئی، علاقہ برسدین ٹی بستہ سے ہے۔ وہ روزگار کی تلاش میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں مزدوری کر رہا تھا کہ اس دوران اس کا شناختی کارڈ چوری ہو گیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اب اسے حراست میں لے کر بغیر مکمل تحقیقات کے ڈیپورٹ کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسے شخص کی شہریت کو کیسے مشکوک بنایا جا سکتا ہے جس کے پاکستانی ہونے کی گواہی صرف کاغذات نہیں بلکہ اس کے گاؤں، علاقے اور پوری قوم کے لوگ دیتے ہیں؟ برسدین کا بچہ بچہ، بزرگ، نوجوان، مرد اور خواتین اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یارزمان ولد پائندہ خان اور اس کا خاندان نسلوں سے پاکستانی شہری ہیں۔ اگر کسی کا شناختی کارڈ چوری ہو جائے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی شہریت بھی چھین لی جائے؟ کیا بغیر مکمل تحقیقات کے کسی محنت کش کو اپنے وطن سے محروم کرنا انصاف کہلائے گا؟ یہ صرف ایک فرد کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی بلکہ ایک پورے خاندان کی شناخت، عزت اور مستقبل کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہوگا۔ ریاستی اداروں سے گزارش ہے کہ جلد بازی میں کوئی فیصلہ کرنے کے بجائے اس معاملے کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں۔ ویڈیو میں علاقے کے معتبر افراد اور مقامی باشندے بھی یارزمان کی پاکستانی شہریت کی تصدیق کر رہے ہیں۔ لہٰذا متعلقہ حکام سے پرزور مطالبہ ہے کہ کسی بھی قسم کی کارروائی سے قبل تمام حقائق کا جائزہ لیا جائے اور ایک محنت کش پاکستانی شہری کو انصاف فراہم کیا جائے۔ ایک پاکستانی کی شناخت صرف ایک کارڈ نہیں، بلکہ اس کی پوری زندگی، اس کا خاندان، اس کی تاریخ اور اس کے وطن سے وابستگی ہوتی ہے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ یارزمان ولد پائندہ خان کو سنا جائے، اس کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور اسے اس کا جائز حق دیا جائے۔ Mohsin Naqvi Sohail Afridi Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa KP Police Government of KP

Zahid Jan

25,417 просмотров • 1 месяц назад

لیاری دہائیوں سے ریاستی جبر کا شکار ہے۔ لیاری کے سیاسی شعور کو ختم کرنے کے لئے لیاری کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہتھیار تھماکر انہیں گینگ وار کا نام دیا، پھر انہیں آپس میں لڑواکر سینکڑوں نوجوانوں کو قتل کروایا گیا اور آپریشن کا ڈرامہ کرکے سندھ رینجرز نے لیاری کے گھر گھر سے نوجوانوں کو جبری طور پر گمشدہ کیا اور جعلی مقابلوں میں نوجوانوں کو قتل کیا، اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ لیاری میں جبری طور پر گمشدہ اور ماروائے عدالت قتل کیے گئے بلوچ نوجوانوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے، جبکہ بلوچ نوجوانوں کو تباہ کرنے کے لئے ریاستی پولیس کے سربراہی میں گلی گلی میں منشیات کے اڈے کھولے گئے۔ ان تمام حربوں اور سازشوں کے مقاصد یہ تھے کہ سید ظہور شاہ ہاشمی، لالا لعل بخش رند، واجہ اکبر بارکزئی، واجہ یوسف نسکندی اور استاد صبا دشتیاری کے سیاسی شعور کو ختم کر سکے۔ لیکن ان سب کے باوجود لیاری کا سیاسی اور قومی شعور نہ صرف زندہ ہے بلکہ ہمارے لئے امید اور حوصلے کے باعث ہے۔ یہ تحریک لیاری سے تونسہ تک ہماری امید، حوصلہ اور جذبات کو توانائی اور طاقت فراہم کر رہی ہے۔ #IStandWithBalochMarch #MarchAganistBalochGenocide

Mahrang Baloch

100,003 просмотров • 2 лет назад

یہ مشرک ایسے ہی دھمکی نہیں دے رہے۔۔انہوں نے تیاری پوری کر لی ہے دوبارہ سے کسی بھی وقت جنگ شروع کرنے کی۔۔۔ پاکستانی قوم اور حکومت تو اپنی مستیوں میں لگے ہوئے ہیں، دشمن کی فوج اور اس کے سیاستدان اور حکمران پوری طرح سنجیدہ ہیں اور ان کے بیانات سے یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ بہت سخت بپھرے ہوئے ہیں اپنی پہلی ذلت کی وجہ سے اور انتقام لینا چاہتے ہیں۔ یہ ہم نے اپ کو بتایا تھا کہ مودی کو ایک چانس اور دیا جا رہا ہے اپنی عزت بچانے کا ورنہ اسے تبدیل کر کے یوگی کو لایا جائے گا۔ اس لیے مودی کو بھی جلدی ہے کہ پاکستان کے خلاف دوبارہ جنگ شروع کرے۔ ظاہر ہے اس مرتبہ اسرائیل دوبارہ اس کے ساتھ شامل ہوگا۔ پاکستانی قوم غیر معمولی غیر سنجیدہ مزاج اور موڈ میں ہے۔۔۔ اللہ نہ کرے ہم کو نقصان ہو جائے گا۔۔ اب کی دفعہ جنگ بہت بڑے پیمانے پر ہوگی اور ہمارے شہروں میں ہوگی۔ کراچی سے لے کر ازاد کشمیر گلگت بلتستان تک۔ یہ سارا فساد جو کشمیر میں کیا جا رہا ہے اسی حملے کی تیاری ہے ۔ کسی بھی دن شروع ہو سکتی ہے۔

اللہ کے بندے۔۔۔

49,271 просмотров • 11 месяцев назад

آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔ جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔ ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزاج بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔ لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔ ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟ اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔ آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔ جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔ صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟ نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔ ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔ اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

33,788 просмотров • 17 дней назад

فاؤنڈیشن یونیورسٹی اسلام آباد کے میڈیکل کالج کے ENT ڈیپارٹمنٹ نے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے—50 بچوں کی سماعت کو کوکلیئر امپلانٹ کے ذریعے بحال کر دیا گیا ہے۔ دو سال پہلے، فاؤنڈیشن یونیورسٹی اسلام آباد کے فاؤنڈیشن یونیورسٹی میڈیکل کالج نے ایک سنگ میل عبور کیا جب ENT اسپیشلسٹ پروفیسر ڈاکٹر نصرت رضا اور ان کی ٹیم نے پانچ سالہ انس کا کوکلیئر امپلانٹ کامیابی سے کیا، جس سے وہ سننے کے قابل ہو گیا۔ اب تک ڈاکٹر نصرت رضا اور ان کی ٹیم 50 بچوں کو دوبارہ سننے کی صلاحیت لوٹا چکی ہے۔ کوکلیئر امپلانٹ ایک جدید طریقۂ علاج ہے، جو پیدائشی یا کسی بیماری کی وجہ سے سماعت سے محروم افراد کے لیے امید کی کرن ہے۔ یہ آلہ اندرونی کان میں لگایا جاتا ہے تاکہ متاثرہ افراد دوبارہ سن سکیں، معمول کی زندگی گزار سکیں اور آوازوں کو پہچان سکیں۔ 3 مارچ، جو کہ عالمی یومِ سماعت ہے، اس موقع پر فاؤنڈیشن یونیورسٹی نے اپنے 50 ویں مریض کی سماعت کی بحالی کا جشن منایا۔ یہ کامیابی نہ صرف فاؤنڈیشن یونیورسٹی بلکہ پاکستان کے طبی شعبے کے لیے بھی ایک اہم سنگِ میل ہے۔ فاؤنڈیشن یونیورسٹی اعلیٰ معیاری تعلیم، جدید طبی تحقیق، اور عالمی معیار کی صحت کی سہولیات کی فراہمی میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ تدریسی اسپتال میں جدید ترین طبی آلات اور ماہرین کی موجودگی مریضوں کو مؤثر اور معیاری علاج کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ فاؤنڈیشن یونیورسٹی کا وژن تحقیق، معیاری تدریسی طریقوں، اور جدید طبی سہولیات کے ذریعے صحت اور تعلیم کے شعبے میں مثبت تبدیلی لانا ہے، اور کوکلیئر امپلانٹ پروگرام اس مشن کا عملی ثبوت ہے۔ تقریب میں ریکٹر، فاؤنڈیشن یونیورسٹی میڈیکل کالج اور فوجی فاؤنڈیشن اسپتال کی انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مزید مریضوں کو اس علاج سے مستفید کیا جائے گا۔ #WorldHearingDay #HearingCare #Health #Pakistan #WHO #FUI

Hina Sarwar

57,118 просмотров • 1 год назад

شمالی وزیرستان سے بنوں تک مکمل کرفیو تھاآج ، اور انہی حالات میں یہ ٹرک شمالی وزیرستان کے وسائل سے بھر کر بنوں پہنچائے جاتے ہے، جہاں سے انہیں پنجاب منتقل کیا جائے گا۔ ہمارے زمین پر کاروباری جنگ سے لوگ دربدر ہے ، یہ محض چند ٹرکوں کی نقل و حرکت نہیں ,یہ ایک بڑے سوال کی تصویر ہے ,ہماری سرزمین کے وسائل پر سب سے پہلا حق کس کا ہے؟ قدرت نے ہماری زمین کو وسائل سے نوازا، مگر افسوس کہ یہاں کے لوگوں کو اکثر انہی وسائل کے ثمرات سے محروم رکھا جاتا ہے۔ جب ہماری اپنی ضروریات پوری نہ ہوں، ہمارے نوجوان مسائل کا شکار ہوں، اور ہماری بستیوں میں بنیادی سہولیات کی کمی ہو، تو پھر یہ سوال اٹھانا ہمارا حق ہے کہ ہماری زمین سے نکلنے والی دولت آخر کہاں جا رہی ہے؟ اگر وسائل ہماری سرزمین کے ہیں، تو ان کے فوائد میں ہمارے لوگوں کا جائز حصہ بھی ہونا چاہیے۔ ترقی اور وسائل کی تقسیم انصاف، شفافیت اور مقامی لوگوں کے حق کو سامنے رکھ کر ہونی چاہیے۔ ہم کسی کے حق پر ڈاکا نہیں چاہتے، ہم صرف اپنے حق، اپنے وسائل اور اپنی سرزمین کے ساتھ انصاف چاہتے ہیں۔ #PashtunLivesMatter

Ismail pashteen

10,553 просмотров • 1 месяц назад