Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

جیل سے گاڑی تک بیبو کو بالوں سے گھسیٹتے ہوئے لے جایا گیا۔ جب اس کے بال ٹوٹ جاتے تو پولیس مزید بال پکڑ کر گھسیٹتی ، بیبو کے کپڑے تک پھٹ گئے۔ سوچیے اگر ایک سیاسی کارکن کے ساتھ یہ سلوک ہو سکتا ہے تو اُن بےنام بلوچ...

15,279 просмотров • 3 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

گزشتہ چھ مہینوں سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ، بیبرگ بلوچ، شاہ جی بلوچ، بیبو بلوچ اور گلزادی بلوچ کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے۔ ان کے خلاف پہلے تھری ایم پی او جیسے قانون کا غیر قانونی استعمال کیا گیا، پھر سیاسی ایف آئی آرز کے تحت بغیر کوئی رپورٹ پیش کیے ریمانڈ کا ایک طویل سلسلہ جاری رکھا گیا۔ اب، جب انہیں جوڈیشل کر دیا گیا ہے، تو ان کی آئندہ پیشیوں میں بلاوجہ تاخیر کی جا رہی ہے۔ مزید یہ کہ اب بغیر کوئی وجہ بتائے فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان کی باقی پیشیاں عدالت کے بجائے جیل کے اندر ہوں گی۔ یہ ہتھکنڈہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کے ذریعے عوامی آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان رہنماؤں کی عوامی پذیرائی سے خوفزدہ حکومت، جب جیل میں قید کے باوجود عدالت میں ان سے ملنے والی عوامی حمایت کو ختم نہ کر سکی، تو اب یہ نیا حربہ اختیار کیا گیا ہے کہ بغیر کسی قانونی جواز کے پیشیاں جیل میں کروائی جائیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی اس عمل کو غیر قانونی اور جابرانہ سمجھتی ہے اور اس عمل کے خلاف ایک آن لائن احتجاجی مہم کا آغاز کیا جا چکا ہے۔ آج سے تین روزہ احتجاجی مہم کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس مہم میں حصہ لے کر اپنا احتجاج ریکارڈ کریں اور جبر کے نظام کے خلاف آواز بلند کریں۔ #EndUnfairTrailOfBYCLeaders #ReleaseBYCLeaders

Baloch Yakjehti Committee

63,400 просмотров • 11 месяцев назад

🚨 راولپنڈی کے عوام، راولپنڈی پولیس اور متعلقہ حکام سے فوری اپیل 🚨 یہ ویڈیوز میں نے خود ریکارڈ کی ہیں۔ گزشتہ چند دنوں سے اپنے ایک دوست کے فلیٹ پر آنا جانا ہوا، جہاں کھڑکی سے سامنے والے ایک گھر میں تقریباً 8 سے 10 سال کے ایک معصوم بچے کے ساتھ مسلسل تشدد ہوتے دیکھا۔ کچھ دن پہلے میں نے اس گھر کے سربراہ کو اس بچے کو مارتے ہوئے دیکھا، اور تقریباً ایک ہفتے بعد آج اسی گھر کے ایک نوجوان بیٹے کو بھی اس بچے پر تشدد کرتے دیکھا۔ میری نظر میں یہ ایک بار کا واقعہ نہیں بلکہ بار بار ہونے والا رویہ معلوم ہوتا ہے۔ اس بچے سے مسلسل گھریلو کام کروایا جاتا ہے، اسے ڈانٹا جاتا ہے، ذلیل کیا جاتا ہے، اور متعدد مرتبہ میں نے اسے لوہے کی راڈ سے مارتے ہوئے بھی دیکھا۔ یہ سب رات کے وقت چھت پر میری آنکھوں کے سامنے ہو رہا تھا۔ یہ سوچ کر دل مزید دکھتا ہے کہ اگر کھلی جگہ پر اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے تو گھر کے اندر اس کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا۔ میں نے اس پوسٹ کے ساتھ ویڈیوز، گھر کی بیرونی تصویر اور لوکیشن بھی شامل کر دی ہے تاکہ متعلقہ حکام فوری طور پر موقع پر پہنچ کر اس بچے کی حفاظت یقینی بنائیں اور اگر تحقیقات میں یہ حقائق درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں۔ ایک معصوم بچے کے ساتھ ظلم کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ براہِ کرم اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ راولپنڈی پولیس اور متعلقہ اداروں تک جلد از جلد پہنچ سکے اور اس بچے کو مزید تشدد سے بچایا جا سکے۔ Sattelite block c Near punjab food authority office Opposite Hafiz abad motton shop Rawalpindi

Israr Ahmed Rajpoot

119,710 просмотров • 1 месяц назад