Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

جےیوآئی گڈاپ کے امیر کے ادارے پر قبضہ مافیا کا دھاوا قابل مذمت ہے ۔ شیدی ویلیج میں جےیوآئی گڈاپ ٹاؤن کے امیر مولانا عبدالقیوم صدیقی کے ادارے پر قبضہ مافیا کا دھاوا انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ اطلاعات کے مطابق قبضہ مافیا کے کارندوں نے پولیس کی...

13,429 görüntüleme • 1 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

ہماری مرضی کے بغیر سوال کیوں کیا؟ سہیل آفریدی کے گارڈز کا سینئر صحافی پر تشدد! ▪️لاہور میں صحافی پر تشدد کا واقعہ انتہائی قابلِ مذمت اور آزادیٔ صحافت پر براہِ راست حملہ ہے۔ ▪️سہیل آفریدی کے گارڈز نے لاہور آتے ہی غنڈہ گردی کا مظاہرہ کیا۔ ▪️سچ نیوز کے بیورو چیف اور سینئر اینکر قاسم پر سوال پوچھنے کی پاداش میں حملہ کیا گیا۔ ▪️صحافی کو مبینہ طور پر یرغمال بنا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ہونٹ زخمی ہوا۔ ▪️گردن میں درد پر معائنہ کروایا تو ڈاکٹر نے سینئر صحافی قاسم کو نیک کالر لگا دی۔ ⁉️کیا سہیل آفریدی صحافی کی تیمارداری کیلئے اُس کے گھر جائے گا؟ ⁉️ کیا سہیل آفریدی صحافی کمیونٹی سے معافی مانگے گا؟ ▪️خیبرپختونخواہ میں مبینہ طور پر دندناتے رہنے والے گارڈز کا لاہور میں بھی قانون کو ہاتھ میں لینا تشویشناک ہے۔ ▪️صحافیوں کو سوال پوچھنے پر تشدد کا نشانہ بنانا جمہوری اور صحافتی اقدار کے منافی ہے۔ ▪️تحریک انصاف کی قیادت سے سوال ہے کہ وہ اس طرح کے انتشار اور تشدد سے کیوں لاتعلقی اختیار نہیں کرتی؟ ▪️مطالبہ کیا جاتا ہے کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کے خلاف فوری اور شفاف قانونی کارروائی کی جائے۔ ▪️حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں۔

PakVocals

32,835 görüntüleme • 9 ay önce

اسلام آباد: 6 اپریل, 2026 اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف سے وفاقی وزیر برائے ریلویز حنیف عباسی نے ملاقات کی، جس میں پاکستان ریلویز کی مجموعی کارکردگی، جاری اصلاحات اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران وزیر ریلویز نے وزیراعظم کو پاکستان ریلویز کے آپریشنل امور پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خلیج کی صورتحال میں عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک بھر میں چلنے والی تمام آپریشنل ٹرینوں کے کرایوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا جا رہا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں حکومت عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے سے گریز کر رہی ہے اور ریلوے کے نظام کو بہتر بنا کر آمدن میں اضافہ کرنے پر توجہ دی جائے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر ہدایت کی کہ پاکستان ریلویز کو ایک جدید، محفوظ اور قابلِ اعتماد سفری نظام میں تبدیل کرنے کے لیے اصلاحاتی اقدامات کو تیز کیا جائے. وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت عوامی فلاح و بہبود کے ایجنڈے پر کاربند ہے اور تمام اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنا کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے وزیر ریلویز کو ہدایت کی کہ ریلوے کے جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے اور عوام کو بہتر، محفوظ اور سستی سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

Prime Minister's Office

12,798 görüntüleme • 5 ay önce

ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان بھارت کے صوبہ بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کے اس نہایت شرمناک، قابلِ مذمت اور غیر انسانی اقدام کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے، جس میں ایک سرکاری تقریب کے دوران ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کا نقاب/حجاب زبردستی ہٹایا گیا، جب وہ اپنی تقرری کا سرٹیفیکیٹ وصول کر رہی تھیں۔ یہ واقعہ محض ایک فرد کی توہین نہیں بلکہ انسانی وقار، مذہبی آزادی، خواتین کی ذاتی خودمختاری اور بنیادی انسانی حقوق پر کھلا حملہ ہے، جو کسی بھی مہذب، جمہوری اور نام نہاد سیکولر ریاست میں ناقابلِ قبول ہے۔ ہم واضح طور پر اعلان کرتے ہیں کہ: کسی بھی عورت کے جسم، لباس یا مذہبی شناخت میں زبردستی مداخلت انسانی وقار کی سنگین پامالی ہے۔ ایک مسلم خاتون کے حجاب کو سرِعام زبردستی ہٹانا مسلمان خواتین اور پوری مسلم اُمہ کے مذہبی جذبات کی کھلی توہین ہے۔ اس قسم کا غیر اخلاقی اور غیر انسانی رویہ خواتین کے تحفظ، مساوات اور مذہبی آزادی کے عالمی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ جمہوریت اور سیکولرازم کا دعویٰ کرنے والی ریاستوں میں ایسے اقدامات ریاستی جبر اور تعصب کی عکاسی کرتے ہیں۔ ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ: بھارتی حکومت اس واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائے۔ متاثرہ خاتون ڈاکٹر کو مکمل تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔ ذمہ دار افراد کے خلاف واضح اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اقوامِ متحدہ، جنرل اسمبلی اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس واقعے کا سخت نوٹس لیں اور مذہبی آزادی کی خلاف ورزی پر بھارت سے جواب طلب کریں۔ مزید برآں، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ بھارتی حکام متاثرہ خاتون سے ذاتی اور سرکاری سطح پر باضابطہ معافی مانگیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مضبوط قانونی و ادارہ جاتی اقدامات یقینی بنائیں۔ ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان ہر صورت خواتین کے وقار، مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کے دفاع کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہینگی #HumanRightsViolation #RespectHijab #WomenRights #ReligiousFreedom #StopIslamophobia #JusticeForMuslimWomen #HumanRightsCouncilPakistan #DignityOfWomen #UNTakeNotice

Human Rights Council of Pakistan

22,345 görüntüleme • 9 ay önce

شہید ظریف بلوچ کے گھر پر چھاپہ اور گھریلو املاک کی تباہی ریاستی جبر کے تسلسل کی عکاسی کرتی ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کل بروزِ جمعہ رات کے وقت شہید ظریف بلوچ کے گھر پر چھاپہ مارا گیا، جہاں فورسز کی جانب سے گھر کے اندر موجود قیمتی اشیاء، جن میں خواتین کے زیورات، کپڑے اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیاء شامل تھیں، اپنے ساتھ لے جائی گئیں۔ اس کے علاوہ گھر کے سامان کو نقصان پہنچایا گیا اور اہلِ خانہ کو خوف و ہراس کا سامنا کرنا پڑا۔ شہید ظریف بلوچ کو 26 دسمبر 2025 کو فورسز نے جبری طور پر حراست میں لیا تھا، اور ایک دن بعد ان کی مسخ شدہ لاش ان کے ہمسایے کے گھر کے قریب پھینکی گئی تھی۔ ان کی لاش پر انسانیت سوز تشدد کے نشانات موجود تھے، ان کی زبان کو بھی داغا گیا تھا۔ یہ نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی تھی بلکہ انسانی وقار اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کے منافی ایک انتہائی تشویش ناک عمل تھا۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی اس مسلسل ریاستی جبر، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، گھروں پر چھاپوں اور متاثرہ خاندانوں کو ہراساں کرنے کے واقعات کی شدید مذمت کرتی ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، سول سوسائٹی، وکلا تنظیموں اور ذرائع ابلاغ سے اپیل کرتی ہے کہ وہ بلوچ عوام کے خلاف جاری ریاستی جبر، و بربریت کے خلاف آواز بلند کریں، اور ریاست پر دباؤ ڈالیں کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں فوری طور پر بند کرے۔

Baloch Yakjehti Committee

19,690 görüntüleme • 4 ay önce

پولیس افسران کیمطابق پہلے پولیس ملازمین کو فوجی اہلکار کے بھائی سے غیر قانونی اسلحہ رکھنے پر اس کے گھر میں پوچھ گچھ کرنے کے دوران مبینہ ملزم کے بھائیوں بشمول فوجی اہلکار نے پولیس افسران و ملازمین کو یرغمال بنایا اور تشدد کیا۔ معاملہ بگڑنے پر فوجی اہلکار نے اپنے کمانڈر سے بات کی جس کے بعد آئی ایس آئی افسران بالخصوص میجر عبداللہ کے احکام پر الٹا پولیس اہلکاروں پر ہی ایف آئی آر کاٹ کر انہیں لاک اپ میں ڈال دیا گیا۔ مگر دوسرے روز کور کمانڈر بہاولپور کے بہاولنگر دورے کے بعد فوج نے منظم انداز میں تھانے پر دھاوا بولا، تھانے کے داخلی اور خارجی راستے بند کردیے گئے، دوکانیں بند کروائیں گئیں، ملوث پولیس افسر اور ملازمین کو لاک اپ سے زبردستی باہر نکالا اور شدید ترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ علاج کے لئے اسپتال بھی نا لے جانے دیا گیا۔ معاملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد آر پی او، بریگیڈ کمانڈر اور آئی ایس آئی والوں نے ہمیشہ کی طرح معاملے کو دبانے کے لئے زبردستی صلح نامہ کروایا جس کے بعد پولیس لائن میں محصور شدید زخمی پولیس ملازمین کا علاج کروایا جاسکا

Adil Raja

279,440 görüntüleme • 2 yıl önce