Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

حبیب اکرم 🔥🔥🔥 میں نے ملک گیر الیکشن سروے کیے تو مجھ پر پریشر ڈالا گیا کچھ لوگوں کی طرف سے اور چینل کی وجہ سے بھی کہ سرویز کے نمبر نہیں بتانے۔ نواز شریف کے حلقے کا سروے کیا تو وہ یاسمین راشد سے پیچھے تھے اور رزلٹ...

68,037 görüntüleme • 9 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

پی ٹی آئی کے باجوڑ سے رکن اسمبلی ڈاکٹر حمیدالرحمن کا بڑا دعوی ہفتے کے روز ضلع باجوڑ کی تحصیل خار میں سکیورٹی فورسز سپانسر لوگوں نے دہشتگردوں کی موجودگی کی بنا پر ایک گاؤں پر چھاپا مارا اور وہاں پر چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا اور اس چھوٹے بچے کو اپنی ماں کی گود میں شہید کر دیا اس کے ساتھ ساتھ اس گاؤں کے جتنے گھر تھے ان سب میں جتنا کچھ موجود تھا اسے مال غنیمت کے نام پر لے گئے جس میں سونا نقدی اور کپڑے بھی شامل ہیں اس کی تمام تفصیل بھی موجود ہے سید باچا کے گھر سے دو تولے سونا اور 72 ہزار روپے لے گئے فضل حیات کے گھر سے ایک لاکھ روپے ساتھ لے گئے اور اس کے ساتھ ساتھ گھروں سے کپڑے بھی لے گئے اس کے بعد اہداف بھی حاصل نہیں کیے گئے وہاں لوگوں نے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ ان لوگوں کے خلاف انکوائری ہو کیونکہ یہ ایک بار نہیں ہوا روزانہ کی بنیاد پر ان علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کے ادارے اور اہلکار مختلف شکلوں میں اور مختلف کپڑوں میں چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہیں اس کے علاوہ ہمارے علاقے چھوٹے ماموند میں مختلف علاقے ہیں جہاں روزانہ لاشیں اٹھانا معمول ہے اس پورے ایوان کو پتہ ہے کہ جون 2025 میں باجوڑ میں آپریشن کیا گیا علاقے کلیئر کیے گئے لوگ بھی گھر ہوئے خیموں میں جا کے رہے لیکن اس کے باوجود کلیر علاقوں میں آپریشن کر رہے ہیں اور تلاشی لے رہے ہیں اور ماٹر گولی فائر کر رہے ہیں اس کا کیا مطلب ہوا؟ ایک سال میں ابھی تک وہ علاقہ کلیئر نہیں ہو سکا رکن اسمبلی ڈاکٹر حمید الرحمن

Muhammad Faheem

11,320 görüntüleme • 5 ay önce

میں آج آپ سے کچھ شکایات کرنے آیا ہوں۔ سیاست میں ایسا ہوتا ہے پریس کے لوگ باتیں کرتے ہیں ان کا حق ہے اور پریس کی آزادی ہونی چاہیے۔ لیکن اونٹ پٹانگ قسم کی باتیں بے بنیاد باتیں اور بغیر ثبوت کے باتیں (مناسب نہیں)۔ ​میں گاؤں گیا ہوا تھا وہاں میں سن رہا تھا کہ میڈیا پر آ رہا ہے کہ 'لیڈر آف دی اپوزیشن' صاحب نے پتا نہیں اپنے خاندان کے لوگوں کو کہاں کہاں لگایا ہے بہت بڑی مراعات کا مطالبہ کیا ہے اور اسپیکر کو پتا نہیں کیا کیا خطوط لکھے ہیں۔ ​میں چاہتا تو اس پر 'پریولج موشن' (تحریکِ استحقاق) لا سکتا تھا، لیکن میں ان باتوں میں پڑتا نہیں۔ آج میں نے مختصر بات کی جو ان حالات میں ضروری باتیں تھیں، میں نے اس کا (مراعات کا) ذکر نہیں کیا۔ ​صرف وضاحت کے لیے عرض ہے کہ جب سے میں اپوزیشن لیڈر بنا ہوں، شاید میرا صرف ایک خط گیا ہو اسپیکر کے پاس اور وہ بھی بہت معمولی بات کے لیے تھا۔ ​لیڈر آف دی اپوزیشن کے لیے وہی مراعات ہوتی ہیں جو ایک وفاقی وزیر (Federal Minister) کی ہوتی ہیں۔ لیڈر آف دی اپوزیشن کو رہنے کے لیے گھر دیا جاتا ہے، پتا نہیں کتنی گاڑیاں دی جاتی ہیں۔ میں جب سے اپوزیشن لیڈر بنا ہوں، میں نے اپنے پولیس اسکاٹ (محافظ دستے) کو بھی کہہ دیا ہے کہ میرے ساتھ مت جاؤ۔ ​ مجھے تو جو گھر سرکاری ملا ہوا ہے وہ گھر پر تو رانا ثنا اللہ خان رہتا ہے میں نے تو اس کو بھی وہاں سے جانے کو نہیں کہا میں کرائے پہ بھی حکومت پاکستان کی طرف سے گھر لے سکتا تھا میں نے وہ بھی نہیں لیا. نہ ہی میں نے کوئی ذاتی لوگوں کو قومی اسمبلی میں بھرتی کروایا ہے نہ ہی ایسا ہو سکتا ہے دوسرا نہ ہی میں نے کوئی مرات لی ہے نہ ہی مجھے ضرورت ہے قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کا کچھ صحافیوں کی جانب سے کیے جانے والے نامناسب پروپیگنڈے پر جواب

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

34,798 görüntüleme • 5 ay önce

کل خواجہ آصف صاحب نے میرے حوالے سے ایک بات کی تھی۔ میں صرف خواجہ آصف سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب آپ کے ضمیر پر اتنا بوجھ تھا تو آپ صرف اتنا بتا دیں کہ 8 فروری کے الیکشن کے حوالے سے آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں ہے؟ کیا یہ الیکشن آپ جیت چکے ہیں؟ جس طرح 8 فروری کے الیکشن کو رِگ کیا گیا، جس طرح الیکشن لوٹا گیا، جس طرح ہمارے لوگوں کو بٹھایا گیا، یہاں اسمبلی میں ہمارے 100 تک اراکین تھے، انہیں نااہل کرکے دوسرے لوگوں کو لایا گیا، عدالتوں کو منیج کیا گیا، الیکشن کمیشن کو منیج کیا گیا۔ ہمارے لوگوں کو اسمبلی سے نکالا گیا اور جعلی لوگوں کو لایا گیا۔ کیا اس وقت آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں تھا؟ آپ کے اپنے ضلع کی ریحانہ ڈار کو پولیس نے سڑکوں پر گھسیٹا، اس وقت آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں تھا؟ گلگت بلتستان میں جو کچھ کیا گیا، کیا اس پر بھی آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں ہے؟ اگر ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنا ہے تو استعفیٰ دیں اور الیکشن کروا دیں، پھر پتہ چل جائے گا کہ آپ کی کیا حیثیت ہے۔

Asad Qaiser

48,217 görüntüleme • 3 ay önce

صحافی:جس دن مولانا فضل الرحمان اور آصف علی زرداری ایک میز پر بیٹھے تو اٹھارویں ترمیم وجود میں آئی اور 1973 کا چہرہ بحال ہو گیا۔ آج میں آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان کو دائیں اور بائیں کی سیاست کو پاکستان کے مفادات سے لاتعلق دیکھ رہا ہوں۔ ایسا کیا ہوا کہ جو یہ دو شخص مل کر اس ملک میں دائیں اور بائیں بازو کے مل کر اس ملک میں خلائی بالادستی کو روکنے کا ایک سامان پیدا کر رہے تھے، آج وہ آپ کی یکجہتی کہاں گئی؟ مولانا:میں آج بھی آصف علی زرداری کو دعوت دیتا ہوں، میں آج بھی اس کی پارٹی کو دعوت دیتا ہوں کہ آپ آئیں اس آئین کو بچائیں جو ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں بنا، جس پر میرے والد نے دستخط کیے۔ میں آج بھی انہیں کہنا چاہتا ہوں کہ آئیں اس اٹھارویں ترمیم کو محفوظ کریں جس پر آپ نے اور ہم نے بیٹھ کر دستخط کئے ہیں۔ اور آپ کو میں بتانا چاہتا ہوں کہ اٹھارویں ترمیم پاس ہونے کے بعد اس کمیٹی میں شریک تمام پارلیمنٹرینز کو آصف علی زرداری صاحب نے ستارہ امتیاز عطا کیا تھا، جسے صرف میں نے واپس کیا ہے، باقی سب نے قبول کیا تھا۔ تو میں ان کو دعوت دے رہا ہوں کہ آپ اپنا کردار اس وقت ادا کریں گے، اور ایوانِ صدر کی بلند عمارت میں بیٹھ کر تو میرے خیال میں شاید وہ تحفظ نہیں کر سکیں گے، اور وہاں سے اگر وہ نظام چلائیں گے تو اس طرح نظام نہیں چلے گا۔ اتر کر قصرِ عالی سے ہمارے روبرو آؤ بلندی سے ہمارے قد کا اندازہ نہیں ہوگا۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

59,653 görüntüleme • 4 ay önce

آپ کے میسج کا شکریہ۔ ویسے تو میں اس طرح کے ٹویٹس کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتا، لیکن چونکہ معاملہ ایک بچی کا ہے اس لیے چند باتیں واضح کرنا چاہتا ہوں۔ سب سے پہلے، اس بچی کی مکمل حوصلہ افزائی کی گئی تھی اور آج بھی ہم اپنی اس بات پر قائم ہیں کہ اُس نے بہت خوبصورت سنایا۔ لیکن یہ ایک ایڈلٹس (Adults) سنگنگ کمپٹیشن تھا، جبکہ ہر جگہ بچوں اور بڑوں کے مقابلے الگ الگ ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ جن 32 کنٹسٹنٹس کے نام فائنل ہوئے تھے 44 افراد میں سے ، اُن میں اس بچی کا نام شامل نہیں تھا، بعد میں اُسے فرمائشی موقع دیا گیا۔ اب اگر پہلے سے منتخب کنٹسٹنٹس کو سائیڈ پر رکھ کر کسی اور کو آگے لایا جاتا تو یہ باقی لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہوتی۔ جہاں تک ان دو افراد کا بار بار ذکر کیا جا رہا ہے کہ انہیں کیوں ہٹایا گیا، تو حقیقت یہ ہے کہ کسی کو “ہٹایا” نہیں گیا تھا۔ بیک اینڈ پر کافی مسائل چل رہے تھے، جن میں ایک ہوسٹ کا کنیکشن مسلسل اَن اسٹیبل تھا۔ اسپیس بیچ میں ایک مرتبہ گری بھی اور دوبارہ کنیکٹ ہوئی، جس کی وجہ سے کافی لوگوں کو مسائل پیش آئے۔ اسی لیے صرف یہ گزارش کی گئی کہ ہوسٹنگ وہ شخص سنبھال لے جس کا نیٹ ورک زیادہ مستحکم ہو تاکہ کمپٹیشن متاثر نہ ہو۔ لیکن اس فیصلے پر بھی غیر ضروری اعتراضات کیے گئے۔ اس کے بعد جو زبان اور الفاظ استعمال کیے گئے، اگر وہ یہاں شیئر کیے جائیں تو وہ خود ایک نامناسب چیز ہوگی۔ آپ ان افراد سے حلفاً خود بھی پوچھ سکتے ہیں۔ انہی میں سے ایک شخص نے یہ تجویز دی کہ بچی کو کم نمبر دے کر اگلے راؤنڈ سے باہر کر دیا جائے، جو کہ بچی کے ساتھ سراسر زیادتی ہوتی۔ اسی لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ بچی کی دل آزاری نہیں کی جائے گی، نہ اسے جان بوجھ کر کم نمبر دیے جائیں گے۔ اُسے مکمل عزت کے ساتھ ایونٹ کے آخر تک سننے کا موقع دیا گیا اور آئندہ اگر Kids Competition ہوا تو اُسے ضرور شامل کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ ابتدا سے فیصلہ یہ تھا کہ اسپیکرز پر صرف ججز اور سنگرز موجود ہوں گے اور فیصلہ بھی صرف ججز ہی کریں گے۔ لیکن اس کے باوجود دیگر افراد کی رائے اور فیصلے لینے کی کوشش کی گئی، جو کہ باقی سنگرز اور کنٹسٹنٹس کے ساتھ سراسر ناانصافی تھی، کیونکہ جب ججز موجود تھے تو پھر باہر کے لوگوں کی رائے کو فیصلے پر اثر انداز کرنا درست نہیں تھا۔ جہاں تک انعام کی بات ہے، تو پہلے راؤنڈ کے اختتام پر ہم نے خصوصی طور پر اسی بچی کے لیے انعام کا اعلان بھی کیا، اور ان شاء اللہ وہ اس تک پہنچایا بھی جائے گا۔ اصول صرف یہ ہے کہ ہر بات کے دو رخ ہوتے ہیں، لیکن اکثر لوگوں تک صرف وہی بات پہنچتی ہے جو کسی کے اپنے مفاد میں ہو۔ بہرحال، ہم سب کا احترام کرتے ہیں اور آپ سب کو آئندہ اسپیسز میں بھی خوش آمدید کہتے ہیں۔ بہت شکریہ ❤️۔ اور اس بچے کی آواز بھی بہت اچھی ہے اگلے راونڈ میں اسے بھی شامل کیا جائے گا !

M.Tayyab Tarar🎖

12,700 görüntüleme • 4 ay önce

"میں سب سے پہلے اپنے وزیراعلی سے ایک شکوہ ضرور کروں گا کہ وہ کل میرے علاقے دیر تشریف لائے حالانکہ سوات میں ان کا کوئی معمولی سا دورہ تھا جس کے لیے وہ گئے تھے لیکن پھر شاید کوئی یہ بات ان کے علم میں لایا ہو گا کہ دیر میں اس طرح کا واقعہ ہوا ہے۔ ہم مہمان نواز لوگ ہیں، ہماری دہلیز پر اگر کوئی دشمن بھی چل کر آئے تو ہم اسے خوش آمدید کہتے ہیں، یہ تو ہمارے اپنے وزیراعلیٰ ہیں۔ لیکن جس طریقے سے وہ آئے اور جس طریقے سے وہ گئے، میرے خیال میں یہ دیر کے ان غیرت مند لوگوں کی ایک قسم کی توہین ہے۔ اور توہین اس بنیاد پر ہے کہ اس وقت ہسپتالوں میں تین شہداء اور دیگر لوگ پڑے تھے۔ میڈیا نے بھی دیکھا، کچھ لوگوں اور ان پولیس والوں نے جو وزیراعلیٰ سے فریاد اور شکایتیں کر رہے تھے، آپ نے بھی سنا ہو گا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ چونکہ وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ آپ دیر آ رہے ہیں، سیکیورٹی کی اتنی بڑی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ آپ کور کمانڈر کو، آئی جی خیبر پختونخوا کو، یہاں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تمام متعلقہ انتظامیہ کو بلاتے اور میٹنگ کرتے۔ میٹنگ میں دیر کے عمائدین کو بلاتے، سیاسی پارٹیوں کو بلاتے، اور سوال کرتے، کسی کو جوابدہ بناتے۔ یہ کس طرح کا دورہ تھا کہ آپ آئے اور واپس چلے گئے اور نہ کسی سے سوال ہوا نہ کسی سے جواب طلب کیا گیا؟ کیا دیر کی ماؤں نے بیٹے اس لیے جنم دیئے ہیں کہ وہ اس طرح کی ایک سنسان جنگ میں مارے جائیں گے اور کوئی اس پر سوال بھی نہیں اٹھائے گا، کوئی اعتراض بھی نہیں کرے گا؟ اور مجھے تحریک انصاف کے اپنے کارکنوں سے بھی گلہ ہے کہ وزیراعلیٰ کا جس طرح انہوں نے استقبال کیا اور ہسپتال کے اندر نعرے بازی کر رہے تھے، کیا وہ ادھر کوئی فتح کا جشن منانے آئے تھے؟ ہمیں ان رویوں کو تبدیل کرنا ہو گا۔ دیر ہمارا وطن ہے، یہ سیاست پیچھے ہے، دیر کی غیرت اور ناموس آگے ہے۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,370 görüntüleme • 2 ay önce

اسلام آباد میں سرعام بدمعاشی!! ابھی ایک شہری نے ویڈیو بھیجی!! کہہ رہاہے, پاکستان میں واقع ہی جنگل کا قانون ہے جوکہ آج ثابت ہو گیا آج میں اپنے کزنز کے ہمراہ مری سے براستہ ایکسپریس وے اسلام آباد کی طرف اسلام آباد آرہے تھے, تو اسی دوران ایک TOYOTA AXIO گاڑی جسکو ایک شخص شراب میں دھت ہو کر 846-BMC رجسٹرڈ نمبری چلا رہا تھا جس نے پہلے دو تین بار ہماری گاڑی کو ہٹ کرنے کی کوشش کی اور جس سے پہلے تو ہم نے بمشکل خود کو بچایا تو وہ شخص کبھی ہمارے آگے کبھی ہماری سائیڈ پر آکر سائیڈ دبانے کی کوشش کرنے لگا آخر کار ہم نے گاڑی اس سے پیچھے کر لی تو اس نے ہم سے آگے گاڑی بھگا کر آگے لے گیا آگے جا کر ایکسپریس وے کے عین درمیان میں گاڑی کھڑی دی اس میں سے نکل کے ہمیں گالیاں دینی شروع کر دی اور گاڑی سے پسٹل نکال کر ہم پر تان لیا جو کہ ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے عین اس وقت ہم نے ہمت کرکے فورا موبائل سے ویڈیو بناتے ہوئے گاڑی پیچھے کو بھگا لی اور اس طرح ہماری بچت ہوئی لیکن 130 پہ موٹروے پولیس اور 15 پر کال کرنے کے باوجود وہ بندہ بھاگ گیا یہ ہے آپ کے پنجاب اور اسلام آباد کی پولیس کی کارکردگی ایک بندہ سرعام ایکسپریس وے کے اوپر شراب پی کر گاڑی چلا رہا ہے اور لوگوں کی گاڑیوں میں ہٹ کر رہا ہے اور سرعام روڈ کے درمیان میں گاڑی کھڑی کرکے لوگوں پر اسلحہ تان رہا ہے اور پولیس کو بار بار کال کرکے اطلاع دینے کے باوجود وہ بھاگ جاتا ہے وہ بھی اتنی آسانی سے کہ جیسے اٹے میں سے بال نکلتا ہے ایک مشہور شاہراہ پر لوگوں کی جان کی یہ اہمیت ہے کہ کوئی بھی کہیں بھی سرعام روڈ کے درمیان کھڑا ہو کر پسٹل تان لیتا ہے باقی, اگر اسلام آباد کا یہ حال ہے تو باقی ملک کا تو اللہ ہی حافظ ہے!!

ZEShan ⚫

33,580 görüntüleme • 1 ay önce

کل شام کو تقریبا چھ بجے میں اپنے بچے کے ساتھ ریمو سینٹر کے قریب بال کٹوانے کے لیے گیا جب میں سیٹ پہ بیٹھا تھا تو وہاں دو لڑکے ائے انہوں نے کہا اٹھو میں نے وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا اٹھو ہم کو بال کٹوانے تو اس پر میرے نائی نے کہا کہ ان کا نمبر ہے ان کو کٹوانے دو ان کے بعد اپ کے بال کاٹ دوں گا تو انہوں نے گالی گلوج شروع کر دی کیونکہ وہ پولیس والے تھے جس میں سے ایک کا نام عمیر اور ایک کا نام فادی تھا جو دونوں ہیڈ کانسٹیبل تھے تو مجھے گھسیٹتے ہوئے باہر لیکر آئے گئے اور مجھ پہ تشدد کرنا شروع کر دیا دیکھ کر میرا بیٹا باہر ایا اور انہوں نے اس کن کو روکنے کی کوشش کی جس پر انہوں نے میرے بیٹے کے ساتھ بھی تشدد کیا جس کی وجہ سے میرا بیٹا ابھی تک اپنے ہوش حواس میں نہیں ہے اور مجھ پہ بھی اتنا تشدد کیا جو ویڈیو میں اپ دیکھ سکتے ہیں کیونکہ وہ پولیس والے تھے اس وجہ سے ان کے خلاف تھانے نبی بخش میں بھی کوئی کاروائی نہیں کی گئی وہ گارڈن ہیڈ کورٹر کے اہلکار تھے Karachi Police

Naqabpoush

25,819 görüntüleme • 1 yıl önce

محسن نقوی Junaid Akbar کی ایک سٹیٹمنٹ کا تذکرہ کرتے ہیں، حالانکہ اس بیان کی وضاحتی ٹویٹ بھی جنید اکبر خان کی جانب سے سامنے آ چکی ہے۔ اس کے باوجود ان کے بیان کو سیاق و سباق سے الگ کرکے بحث کا موضوع بنایا جا رہا ہے۔ اگر ماضی یاد دلانا ہے تو پھر پوری تاریخ یاد رکھیں۔ جب آپ اپوزیشن میں تھے تو طلال چوہدری کی وہ پریس کانفرنس بھی یاد کریں جس میں مریم نواز اور نواز شریف بھی موجود تھے اور ججز کے بارے میں انتہائی سخت زبان استعمال کی گئی۔ یہ بھی یاد کریں کہ اسی دور میں آرمی چیف اور شہداء کے حوالے سے کس قسم کے بیانات دیے گئے۔ کیا یہ بھی بھول گئے ہیں کہ مریم نواز کے جلسوں میں کیا نعرے لگوائے جاتے تھے؟ کیا گوجرانوالہ کے جلسے میں نواز شریف کی جانب سے آرمی چیف کے بارے میں استعمال کی گئی زبان بھلا دی گئی؟ کیا ماضی کے وہ واقعات بھی بھلا دیے گئے جب ریاستی اداروں اور قومی سلامتی سے متعلق انتہائی سنگین سیاسی تنازعات سامنے آئے؟ اگر آج ایک سیاسی رہنما کے بیان کو بنیاد بنا کر شور اٹھایا جا رہا ہے تو پھر ماضی کے تمام بیانات اور واقعات کو بھی اسی پیمانے پر دیکھنا ہوگا۔ سیاسی تاریخ کو اپنی سہولت کے مطابق یاد رکھنا اور بھول جانا مناسب نہیں۔

Shafi Jan

19,778 görüntüleme • 12 gün önce

آپ اندازہ لگائیں، اگر ’’ضمیر فروشی‘‘ کا اعزاز دیا جائے تو سب سے پہلے شاہد خاقان عباسی کو دیا جائے۔ دیکھیں، اپنے انٹرویو میں خود یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ مجھے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بنایا۔ حالانکہ اس وقت ان سے کہیں زیادہ قابل اور تجربہ کار لوگ اسمبلی میں موجود تھے، جن میں چوہدری نثار، خواجہ سعد رفیق اور کئی دوسرے سینئر رہنما شامل تھے۔ اس کے باوجود میاں نواز شریف نے شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم پاکستان بنایا۔ جب یہ وزیراعظم بنے تو اس کے بعد انہوں نے دو حلقوں سے الیکشن لڑا۔ ایک اسلام آباد کے ہمارے حلقے سے اور دوسرا مری سے۔ اسلام آباد میں ان کے مقابلے میں عمران خان الیکشن لڑ رہے تھے اور شاہد خاقان عباسی تقریباً ستر ہزار ووٹوں کے فرق سے ہار گئے۔ پورے اسلام آباد میں، ہمارے پولنگ اسٹیشن کے علاوہ، تقریباً کوئی پولنگ اسٹیشن ایسا نہیں تھا جہاں وہ کامیاب ہوئے ہوں۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ صرف ہمارا پولنگ اسٹیشن ہم جیتے تھے۔ مری سے بھی وہ تقریباً پندرہ ہزار ووٹوں کے فرق سے ہارے۔ اب آپ اندازہ لگائیں کہ اس کے باوجود میاں محمد نواز شریف نے ان پر کتنا اعتماد کیا۔ بعد میں انہیں لاہور سے اپنے ذاتی حلقے سے الیکشن لڑایا اور ان کے لیے خود سپورٹ کی۔ میں نے اپنی زندگی میں اتنا کنجوس آدمی نہیں دیکھا کہ ہمارے حلقے میں الیکشن لڑتے ہوئے ایک بینر تک کا خرچہ نہیں کرتا تھا، لیکن جب لاہور میں میاں نواز شریف کے حلقے سے الیکشن لڑایا گیا تو وہاں بھی ان کے لیے بھرپور سیاسی اور مالی تعاون کیا گیا۔ اور خود شاہد خاقان عباسی یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں بھی میاں نواز شریف نے ان کے لیے پیسہ خرچ کیا اور انہیں سیاسی طور پر سپورٹ کیا۔ پھر اسی شخص نے اپنی الگ پارٹی بنا لی۔ آپ خود فیصلہ کریں، جس شخص کو میاں محمد نواز شریف نے وزیراعظم بنایا، جس پر اتنا اعتماد کیا، جس کے لیے سیاسی طور پر کھڑے ہوئے، آخر وہ کس بنیاد پر آج اپنے اسی سیاسی محسن کے خلاف کھڑا ہے؟ اختلافِ رائے ہر شخص کا حق ہے، لیکن احسان فراموشی اور سیاسی وفاداری بیچ کر اپنی سیاست بنانا، یہ عوام خود بہتر سمجھ سکتے ہیں۔

Sajid usmani

14,656 görüntüleme • 1 ay önce