Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

حج کے دنوں میں غلاف کعبہ کو اوپر کیوں اٹھا دیا جاتا ہے وجہ جانئیے یہ سارا سال ہی حج والا رش رھا ہے بلکہ شاید زیادہ ہے اور خانہ کعبہ کے غلاف کو کچھ ناعاقبت اندیش لوگ کس طرح غلاف کعبہ کاٹ کر لے گئے اللہ کے گھر...

15,985 просмотров • 1 год назад •via X (Twitter)

Комментарии: 10

Фото профиля ZafarIqbal58
ZafarIqbal581 год назад

صرف یہی وجہ نہیں۔ خانہ کعبہ کا غلاف ہر سال ویسے بھی تبدیل ہوتا ہے ۔ پرانے دور میں یہ مصر میں بنایا جاتا رہا ہے۔ اس کی تفصیل بہت روح پرور ہے ۔ پہلے یہ حج کے دنوں میں ہوتا تھا ۔ اس سے پہلے کعبہ کو احرام باندھا جاتا تھا۔ اب سعودی حکومت یہ کام یکم محرم کو سر انجام دیتی ہے ۔

Фото профиля Tayyaba Amjad
Tayyaba Amjad1 год назад

جی ظفر بھائ۔ بہت بار تبدیلی غلاف کعبہ کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے الحمد للہ

Фото профиля PakistaniPeeps
PakistaniPeeps1 год назад

یہ ناہنجار اب ہم جیسوں کا کعبہ کو چھونا چومنا بھی بند کروا دیں گے

Фото профиля Tayyaba Amjad
Tayyaba Amjad1 год назад

درست کہہ رہی ہیں وہ باؤنڈری بنا دیں گے یہ تو بہت نامناسب حرکت ہے

Фото профиля Tahir Waseem Chaudhary
Tahir Waseem Chaudhary1 год назад

استغفار۔

Фото профиля Asma Rajput
Asma Rajput1 год назад

اللّٰہ رحم فرمائے آمین

Фото профиля Ahsan Khan
Ahsan Khan1 год назад

Great

Фото профиля Raja Haider
Raja Haider1 год назад

Astaghferullah

Фото профиля Waleed Qayyum
Waleed Qayyum1 год назад

سعادت سمجھ کر غلاف کعبہ چوری کرتے ہیں

Фото профиля ®️ مبین اللہ بٹ
®️ مبین اللہ بٹ1 год назад

😳😳😳🤯🤯🤯

Похожие видео

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب کعبہ کی تعمیر کی تھی، تو اس کے دو دروازے رکھے تھے جو زمین کے برابر تھے۔ ایک مشرقی جانب جہاں اب موجودہ دروازہ ہے) اور دوسرا اس کے بالکل سامنے مغربی جانب تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگ ایک دروازے سے داخل ہوں اور دوسرے سے باہر نکل جائیں۔ کئی صدیوں تک یہ سلسلہ رہا، یہاں تک کہ قریش نے جب رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے قبل کعبہ کی دوبارہ تعمیر کی تو انہوں نے وسائل کی کمی کی وجہ سے کعبہ کا حجم کچھ کم کر دیا اور مغربی دروازے کو مستقل طور پر بند کر کے دیوار بنا دی۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں جب کعبہ کی از سر نو تعمیر کی تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کی خواہش کے مطابق اس مغربی دروازے کو دوبارہ کھول دیا تھا تاکہ لوگ آسانی سے آمد و رفت کر سکیں، لیکن ان کی شہادت کے بعد حجاج بن یوسف نے اسے دوبارہ بند کر دیا اور کعبہ کو اسی نقشے پر واپس لے آیا جو قریش نے بنایا تھا۔ آج کے دور میں کعبہ کا صرف ایک ہی دروازہ ہے جو سطح زمین سے بلند ہے۔ مغربی سمت جہاں کبھی دوسرا دروازہ ہوا کرتا تھا، وہاں اب صرف ایک ٹھوس دیوار ہے جو غلاف کعبہ (کسوہ) سے ڈھکی رہتی ہے۔ تاہم، اگر آپ کعبہ کے اندر داخل ہوں تو اس مقام پر سنگ مرمر کی دیواروں اور ڈیزائن میں اس قدیم دروازے کی جگہ کی نشاندہی محسوس کی جا سکتی ہے مگر باہر سے یہ مقام اب ایک مکمل دیوار کی شکل میں ہی موجود ہے۔ مذہبی اور تاریخی طور پر یہ مقام اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ کعبہ کی اصل ابراہیمی بنیادوں میں وسعت اور سہولت کا عنصر شامل تھا۔ سبحان اللہ ہم بہت قسمت والے ہیں جو اس بابرکت اور تاریخی دروازے کی زیارت کر رہے ہیں صل اللہ علیہ والہ وصحبہ وبارک وسلم 💕✌️💚

MAJID SIDDIQUI (ماجد صدیقی۔) 🇮🇳

152,591 просмотров • 5 месяцев назад

اللہ کی فوج کے ساتھ لاکھ سپاہیوں سے دوسرا سوال: آپ کے ادارے کے سربراہ اس سدیوں میں پیدا ہونے والے لیڈر کو torture کر رہے ہیں۔ یہ وہ بندہ ہے جس سے آپ کے ملک کی پہچان ہے اور جب آپ یہ وڈیو دیکھیں گے تو مانیں گے کہ یہ سچ میں ہماری قوم کے غریبوں کے لیے درد رکھتا ہے! آپ سب فوج میں آکر شاید اپنے آپ کو عام پاکستانیوں سے الگ سمجھنے لگے ہیں، اس لیے شاید درد نہیں ہوتا آپ کے دل میں جب قوم کے لیڈر کو اس طرح ٹارچر کیا جارہا ہو ؛ آج آپ شاید محفوظ ہوں مگر یہ جو نانصافی اور ظلم ہے ، یہ آپ کے گھر تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ بس پوچھنا یہ تھا کہ ادارے کے بڑوں کو خط یا WhatsApp بھیجنے کی اجازت ہے؟ اور اگر ہے تو کچھ گلہ کیا یا پھر یہ سمجھانے کی کوشش کی اتنا ظلم بےگناہوں پر نہیں کرنا چاہیے؟ اور اگر نہیں ہمت ہوئی یہ سب کہنے کی تو کس منہ سے اپنے بچوں کو بہادری اور حق بات کرنا سکھائیں گے؟ بندوق استعمال کرلینا بہادری نہیں ہوتی، وہ تو جنگ کے کچھ دنوں میں چلتی ہے، مگر روز مرہ زندگی میں تو اصولوں کی جنگ ہوتی ہے، کس منہ سے اصول سکھائیں گے؟ جب وہ بڑے ہو کر پچھلے تین سال کے واقعات پڑھ کر آپ سے پوچھیں گے کہ آپ کی ظالموں تک رسائی تھی مگر پھر بھی کچھ نہیں بولے ان کو! لوگوں کو بہت مان تھا آپ سب پر۔ ایک ظلم کو جھیلنے کا دکھ تو ہے ہی سب کو مگراس سے بڑا دکھ شاید مان ٹوٹنے کا ہے۔ کچھ کریں ناُ کریں، موقعہ ملے تو یہ ضرور پوچھیے گا اپنے بڑوں سے اور کچھ ساتھیوں سے کہ گولی کیوں چلائی اللہ کی فوج نے اللہ کے پر امن اور نہتے بندوں پر !

Jibran Ilyas

45,535 просмотров • 9 месяцев назад