Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

حد ہوتی ہے فتنہ پردازی کی بھی ایک ٹکڑا کہاں سے اٹھایا اور دوسرا کہاں سے اٹھایا اور بالکل ہی اپنی مرضی کا مفہوم دے کر بنا سیاق و سباق کے پیش کر دیا، مجھے پہلے سے یہی لگ رہا تھا کہ پورا بیان سنیں تو سمجھ آ جائے...

39,616 Aufrufe • vor 2 Jahren •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

ملک میں جو خود کو ووٹ کو عزت دو کا سب سے بڑا چیمپئن سمجھتا ہے، اس کی حکومت ہے۔ پنجاب میں ان کی بیٹی کی حکومت ہے۔ آج صبح پنجاب میں ہمارا اپوزیشن لیڈر بات کر رہا تھا کہ اس وقت بھی میرے گھر کے سامنے پولیس کھڑی ہے۔ پنجاب میں اگر آپ کا تعلق اپوزیشن سے ہے تو آپ اپنے گھر میں بھی رہائش نہیں رکھ سکتے۔اس وقت نہ کوئی قانون ہے اور نہ ہی آئین، صرف ظلم اور جبر ہے۔ اور جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو جہاد لازم ہو جاتا ہے۔ جہاد صرف تلوار اٹھانے کا نام نہیں، جدوجہد سے بھی کیا جاتا ہے، اور یہی جدوجہد ہم پر اس وقت لازم ہے۔عمران خان اس وقت جرأت اور ہمت کے ساتھ اپنا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ جب 1992 کا ورلڈ کپ ہو رہا تھا تو وہ ایک کمزور ٹیم تھی، لیکن اللہ نے عمران خان کو عزت دینی تھی۔ پھر جب شوکت خانم ہسپتال بن رہا تھا تو میں خود اس مہم کا حصہ تھا۔ ہم نے پوسٹر لگائے، چندہ اکٹھا کیا۔ ہمیں بھی یہ ناممکن نظر آتا تھا، لیکن اللہ نے عمران خان کے خواب کو پورا کیا۔

Asad Qaiser

15,982 Aufrufe • vor 8 Monaten

جب میرے والد صاحب ہم کا انتقال ہوا تو میں بارہویں جماعت میں پڑھتا تھا اور اپنے گھر میں سب سے بڑا تھا۔ ہمارا تعلق کسی جاگیردارانہ یا صنعتی پس منظر سے نہیں بلکہ ایک عام درمیانے طبقے سے تھا۔ محنت اور یکسوئی کے ساتھ میں نے بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پھر اپنے ملک کی خدمت کے لیے واپس لوٹ آیا۔ میں نے عوامی خدمت کے میدان میں آنے کے لیے دس سال کا ہدف مقرر کیا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل اور محنت سے میں نے وہ منزل سات سال میں ہی حاصل کر لی۔ آج اگر میں کابینہ کے اس اہم مقام پر پہنچ کر ملک و قوم کی خدمت کر رہا ہوں تو یہ صرف اور صرف محنت، لگن اور اللہ کے کرم کا نتیجہ ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو بھی صرف اپنے اہداف اور منزل پر نظر رکھنی ہے اور محنت کرنی ہے۔ جب میں ایک عام درمیانے طبقے سے نکل کر اس مقام تک پہنچ سکتا ہوں، تو ہمارے ملک کا کوئی بھی باصلاحیت نوجوان اپنی منزل حاصل کر سکتا ہے! #YouthPower #HardWork #Inspiration #SelfBelief #UraanPakistan #PakistanZindabad

Ahsan Iqbal

63,769 Aufrufe • vor 15 Tagen

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں
0:30

Sensitive content

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں

Khawaja Yaseen Usmani

73,638 Aufrufe • vor 2 Jahren

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,199 Aufrufe • vor 17 Tagen

ہم اس ملک میں جنگوں کے متحمل نہیں ہیں۔ ذرا سوچو، خدا کے لیے — حکمران ہو تو ذرا سوچو۔ سن 1950ء سے لے کر امریکی قرضے لے-لے کر تم نے آج تک صرف ان کے قرضوں پر اپنی زندگی گزاری۔ آج تمہارا حشر کیا ہے؟ ہندوستان معاشی لحاظ سے ترقی کر رہا ہے، چین ترقی کر رہا ہے، بنگلہ دیش ترقی کر رہا ہے، افغانستان کی حالت ہم سے بہتر ہے، ایران ترقی کر رہا ہے — اور اس پورے خطے میں ایک پاکستان ہے جو ڈوب رہا ہے۔ کس پالیسی کی وجہ سے ڈوب رہا ہے؟ تمہاری غلامانہ پالیسیوں کی وجہ سے۔ تمہارے اندر خودداری نہیں ہے، تم فکری طور پر غلام ہو۔ تمہیں صرف اپنے قوم کے بچوں کو قتل کرنا آتا ہے، تمہارے اندر پاکستان کو ترقی دینے کی صلاحیت نہیں ہے۔ آج چین کا اعتماد اٹھ رہا ہے، خطے میں پاکستان تنہا ہو رہا ہے۔ ہندوستان ہمارا دشمن ہے اور افغانستان سے بھی لڑائی، ایران سے بھی لڑائی — کہاں گئی ہماری خارجہ پالیسی؟ پرامن خارجہ پالیسی کہاں گئی؟ پاکستان کے بقا و استقلال کی پالیسی کہاں گئی؟ پروپیگنڈوں سے کچھ نہیں ہوگا۔ پروپیگنڈی کی زبان روک دو، جنگ کی زبان روک دو۔ میں افغانستان سے بھی کہنا چاہتا ہوں اور پاکستان سے بھی کہہ رہا ہوں: افغانستان-پاکستان کی لڑائی نہ پاکستان کے مفاد میں ہے نہ افغانستان کے۔ ایک طرف ہم بھارت سے لڑیں، دوسری سرحد پر افغانستان سے لڑیں — ہم نے پاکستان کو کہاں کھڑا کر دیا ہے؟ جب ہم جنگ بندی کی بات کر رہے ہیں تو صرف جنگ بندی کے لیے نہیں، زبان بندی کے لیے بھی کہہ رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف بولنا روکو، غلط پروپیگنڈے روکو۔ ایک کہتا ہے “میں بے گناہ ہوں”، دوسرا بھی کہتا ہے “میں بے گناہ ہوں”۔ ایک کہتا ہے “میں صرف دفاعی جنگ لڑ رہا ہوں”، دوسرا بھی کہتا ہے “میں دفاعی جنگ لڑ رہا ہوں”۔ ان چیزوں سے مقام نہیں بنتا۔ جمعیت علماءِ اسلام نے پہلے بھی کردار ادا کیا ہے اور اس سفارتی کردار میں ہم نے کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ وہ کام جو تمہاری پوری وزارتِ خارجہ نے حاصل نہیں کیا، ایک سیاسی جماعت نے حاصل کیا۔ جب تم نے الیکشن میں دھاندلی کی اور جمعیت علماءِ اسلام اپوزیشن میں بیٹھی تو بنی بنائی باتیں تمہارے ہاتھوں بگڑ گئیں۔ تمہارے اندر معاملات کو آگے بڑھانے کی اہلیت و صلاحیت ہی نہیں۔ ہم آج بھی دونوں ملکوں کے درمیان معاملات ٹھیک کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہیں، لیکن اس کردار کے لیے سازگار ماحول درکار ہوگا۔ دنیا چاہتی ہے، امریکہ چاہتا ہے، مغرب چاہتا ہے کہ افغانستان میں اسلام کیوں آیا، امارتِ اسلامیہ کیوں قائم ہوئی — ان کے پیٹ میں درد ہے۔ ہم نے بہت پراکسی جنگیں لڑی ہیں۔ جب کمیونسٹ آئے تو ہم نے مجاہدین کا ساتھ دیا؛ جب مجاہدین آپس میں لڑے تو ہم نے دوسرے مخالف کا ساتھ دیا؛ طالبان آئے تو ہم نے طالبان کا ساتھ دیا؛ طالبان کے خلاف ہم نے کرزئی کا ساتھ دیا۔ ہم نے اڈے دیے، امریکہ کو اڈے دیے — اُن کے طیارے ہمارے فضائوں سے گزرے اور افغانستان پر بمباری کرتے رہے۔ آج کہتے ہیں افغانستان پر قابض حکومت ہے، قابض حکومت — کیوں؟ کہتے ہیں جنگ کر کے آئے ہیں، عوام کے منتخب نہیں ہیں۔ تو میں نے کہا: ملا عمر بھی تو جنگ کر کے آیا تھا، وہ بھی عوام کے انتخاب سے نہیں آیا تھا۔ آپ نے انہیں سرکاری طور پر تسلیم کیا یا نہیں؟ آپ نے وہاں سفارتخانہ دیا اور یہاں بھی انہوں نے سفارتخانہ قائم کیا۔ آپ نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو سفارتی معیار پر قائم رکھا — آج کیا ہو گیا ہے؟ اپنی قبلہ سیدھا کرو، دوسروں کے قبلوں پر بحث نہ کیا کرو، اپنا قبلہ ٹھیک کرو۔ ہم خطے میں امن چاہتے ہیں۔ ہم پاکستان کو ایک پرامن ریاست دیکھنا چاہتے ہیں — پرامن ہوگا تو پھر پاکستان معاشی ترقی کر سکے گا۔ اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرو۔ ملک میں اگر مسلح گروہ پھر رہے ہیں تو پاکستان کے اندر بھی مسلح گروہ موجود ہیں، اور آپ جاتے ہو افغانستان میں بمباری کرنے کے لیے — نئی نئی باتیں بنانا اور معصوم بن کر جنگ کا جواز فراہم کرنا اب وہ وقت گزر چکا ہے۔ چالیس، پینتالیس سال سے لوگ آپ کو اسی طرح دیکھ رہے ہیں: آپ ہمیشہ مظلوم ہوتے ہیں، آپ ہمیشہ معصوم ہوتے ہیں، آپ ہمیشہ حق پر ہوتے ہیں — اس کے باوجود حالات کیوں بہتر نہیں ہو رہے؟ آپ پیچھے کیوں جا رہے ہیں؟ اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرو، بیٹھ کر دوبارہ سوچو۔ میں اپنے حکمرانوں سے بھی کہنا چاہتا ہوں: دوسروں کا گلہ نہ کیا کرو، ذرا اپنے گھر کی صفائی بھی کر لو۔ کہیں تم اپنے اندر گھس بیٹھے ہوئے مسائل کو نہیں دیکھ رہے تو بس حالات ایسے ہی پیدا ہوتے رہیں گے۔ یہ امکان افغانستان میں بھی ہے، اور یہاں بھی۔ وہاں بھی کچھ لوگ ہیں جو افغانستان کو جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں، اور یہاں بھی کچھ لوگ ہیں جو پاکستان کو جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ اگر یہ دو ممالک امن میں نہیں رہے تو یورپ اور امریکہ میں بھی ایسے ہاں ہیں جو چاہتے ہیں کہ جنگ پھر سے شروع ہو۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

23,913 Aufrufe • vor 10 Monaten