正在加载视频...

视频加载失败

خان کو بائیس دن سے تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ نہ بہنوں کو ملنے دیا جا رہا ہے، نہ عدالت کے احکامات کی کوئی حیثیت باقی رہ گئی ہے۔ یہ صرف قانون کی توہین نہیں، سیدھی انسانی حقوق کی پامالی ہے۔ پابندیاں بڑھ رہی ہیں، مگر عوام کی آواز...

13,894 次观看 • 10 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

احمدیوں پر آئینی پابندیاں اپنی جگہ لیکن مذہبی انتہاپسندوں کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کس نے دی ؟؟ پاکستان کے آئین میں آرٹیکل 260(3) کے تحت احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے، جبکہ آرڈیننس XX (1984) کے مطابق احمدی کوئی بھی اسلامی شعار اپنانے، خود کو مسلمان کہنے یا اپنے عبادتی مقامات کو مسجد کہنے کے مجاز نہیں ہیں۔ آرٹیکل 14 (پرائیویسی اور انسانی وقار کے تحفظ) آئینی نقطہِ نظر : پاکستان کا آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی، پرائیویسی اور بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔آرٹیکل 20 ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق دیتا ہے۔آرٹیکل 14 انسانی عزت و وقار اور پرائیویسی کی حفاظت کرتا ہے۔کسی کی پرائیوٹ پرالرٹی میں زبردستی گھس کر ان کی عبادت میں مداخلت کرنا اور ہتک آمیز سلوک روارکھنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔ پرائیویسی اور انسانی حقوق: کسی بھی فرد یا گروہ کا کسی کی عبادت گاہ میں گھس کر انہیں نشانہ بنانا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان دستخط کنندہ ہے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے (UDHR) کا، جس کی آرٹیکل 18 ہرانسان کے مذہبی آزادی کے حق کو تسلیم کرتی ہے،اور آرٹیکل 12 پرائیویسی کے حق کی حفاظت کرتی ہے یہ قوانین ریاستی سطح پر ایک مخصوص مذہبی گروہ کے عقیدے کو محدود کرتے ہیں، جبکہ احمدی خود کو غیر مسلم نہیں مانتے۔ یہی نکتہ بنیادی انسانی حقوق، مذہبی آزادی، اور بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہو جاتا ہے۔مسلۂ یہی سے شروع ہوتا ہے کہ اگر وہ اپنی عبادت اپنے گھروں یا اپنی عبادت گاہوں میں کریں، تو وہاں ریاست یا عوام کا دخل دینا آئین کے آرٹیکل 14 (پرائیویسی اور انسانی وقار کے تحفظ) کے خلاف جاتا ہے۔ جنازہ اور تدفین کا حق/قبر اور کتبے کی روایت: مذہب یا انسانی ارتقا؟ کسی بھی انسان کو دفنانے کا حق محض ایک اسلامی فریضہ نہیں بلکہ ایک عالمی انسانی قدر ہے۔ تدفین اور قبروں پر نشانات (کتبے) لگانے کی روایت صرف اسلام تک محدود نہیں بلکہ انسانی تہذیب کے آغاز سے موجود ہے۔ قدیم ترین انسانی معاشروں، جیسے مصر، میسوپوٹیمیا، یونان،رومن سلطنت،اور وادیٔ سندھ میں تدفین ایک عام رواج تھا۔ انسان ہمیشہ سے اپنے مُردوں کوعزت کے ساتھ دفنانے اوران کی قبروں کی نشاندہی کرنے کا طریقہ اپناتا آیا ہے، تاکہ وہ یادگار رہیں اورنسلیں بعد میں ان سے جُڑی رہیں۔ اسلامی نقطۂ نظر: اسلام نے تدفین کو اہمیت دی اور اس میں سادگی پر زور دیا، مگر قبروں کی بےحرمتی اور لاشوں کی بےعزتی کو سختی سے منع کیا۔ نبی اکرم ﷺ نے دشمنوں کی لاشوں تک کی بےحرمتی سے منع فرمایا اور انہیں دفنانے کا حکم دیا۔ ٹی ایل پی کا کسی بھی فرد کی تدفین میں مداخلت، قبروں کو مسمار کرنا، یا لاشوں کی بےحرمتی کرنا اسلامی تعلیمات، انسانی اقدار، اور قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ کسی کی قبر کو نقصان پہنچانا نہ صرف قرآن و حدیث کے خلاف ہے بلکہ یہ ایک وحشیانہ اور غیر انسانی فعل بھی ہے، کُجا کہ تازہ قبریں کھول کر اسلام کی خدمت سمجھنا۔ کسی بھی گروہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اسلام کے نام پر دوسروں کی تدفین روکے یا قبروں کو نقصان پہنچائے۔یہ نہ صرف اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ معاشرتی بربریت اور قانون شکنی کا مظہر بھی ہے یہ ایک سنگین مسئلہ ہے کہ عام شہری کسی بھی گروہ کے خلاف خود عدالت، پولیس اور جلاد بن بیٹھتے ہیں۔ قانونی لحاظ سے، کسی بھی جرم کی تحقیقات اور سزا کا اختیار عدالت کے پاس ہوتا ہے، نہ کہ کسی ہجوم یاگروہ کے پاس۔ مگر ہوتا کیا ہے؟ •شدت پسند گروہ (جیسے TLP) ایک ہجوم اکٹھا کرتے ہیں۔ •پولیس اکثر یا تو بے بس ہوتی ہے یا خود بھی ایسے گروہوں کے دباؤ میں آکر ان کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے۔ •عدالتیں بھی اکثر ان معاملات میں فوری ایکشن نہیں لیتیں، جس کی وجہ سے یہ رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ صورت حال ایک “موب جسٹس” کو فروغ دے رہی ہے،جس میں لوگ خود ہی جج، جیوری،اور جلاد بن جاتے ہیں، جو کہ ایک مکمل لاقانونیت (Anarchy) کی علامت ہے۔ •پولیس اکثر مذہبی انتہا پسند گروہوں کو کنٹرول کرنے کے بجائے ان کے دباؤ میں آکر ان کے احکامات پر چلتی ہے۔ •TLP جیسے گروہوں کو ریاست کبھی کبھار اپنے مفادات کے لیے بھی استعمال کرتی ہے۔ •اگر ریاست یا اسٹیبلشمنٹ کو کسی بڑے سیاسی یا سیکیورٹی معاملے سے عوام کی توجہ ہٹانی ہو، تو ایسے مذہبی گروہوں کو فعال کر دیا جاتا ہے تاکہ عوام کا غصہ کسی اور طرف منتقل ہو جائے۔ یہ ایک بڑا سوال ہے کہ کیا ریاست مذہبی شدت پسندی کو اپنے سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے؟ بلوچوں نے ٹرین پر حملہ کیا اور یرغمال بنایا، جو ریاست کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایسے وقت میں جب میڈیا اور عوام کا فوکس بلوچ مسئلے پر ہونا چاہیے تھا،اچانک TLPاور مذہبی شدت پسندی کے واقعات بڑھ جاتے ہیں۔ تحریر :سونیا خان خٹک

Sonia Khan khattak(SK)

31,678 次观看 • 1 年前