Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

57,188 views • 1 year ago •via X (Twitter)

8 Comments

Usama Nasir's profile picture
Usama Nasir1 year ago

نواز شریف کا اخلاق،عمران خان کی ساری زندگی پر بھاری ہے ۔

M FAROOQ TANOLI's profile picture
M FAROOQ TANOLI1 year ago

لیاقت باغ راولپنڈی میں اُس جلسے موجود تھا جب ”میاں صاحب” نے اپنے انتخابی مہم ایک دن کے لیے موخر کرنے کا اعلان کیا تھا

Sohraab's profile picture
Sohraab1 year ago

@Aamir80499418 آج میرا دل کہہ رھا ھے کہ عزیز محترم نواز شریف آئی ❤️ لو 💚 یو 💛 کا نعرہ لگا دیں گے ..... بس دل سے ایک آواز آ رھی ھے

GQAbbasi's profile picture
GQAbbasi1 year ago

عمران احمدی کی مصنوعی ہنسی کے آڑھ میں بہت بڑا منافق چھپا ہے اور اس کے مقابلے میں عبداللہ بن ابی تو کچھ بھی نہیں تھا۰ اس کی منافقت کا پیمانہ ہی کچھ اور ہے جو آج تک کسی بڑے سے بڑے منافق کو نصیب نہیں ہوا

Dr Saba Osmaan's profile picture
Dr Saba Osmaan1 year ago

Visionary Leader 🦁 Gentle man Wise politician

Fatima Zafar Rao's profile picture
Fatima Zafar Rao1 year ago

امرانی مکار

Mian Usman Farooq's profile picture
Mian Usman Farooq1 year ago

بے نظیر کی تصاویر پھینکنے والے خاندانی لوگ غیر اخلاقی ویڈیو رکھنے والے خاندانی لوگ

Anonymous's profile picture
Anonymous1 year ago

Haha madar chod topi drama. Benazir k marnay k baad issay pata tha k PPP doob gae hai kuj nahi hona PPP sai. BC ab aik qaidi aurat sai haar gya hai khandani hota tau mangay ki seat na laita. Is sai ziyada khandani tau JI ka hafiz naeem nikal aya aur managay ki seat thukra di

Related Videos

🚨حضرت عمر کے زمانے سے پہلے، اگر کوئی شخص ایک ہی مجلس میں “طلاق، طلاق، طلاق” کہہ دیتا تو عموماً اسے ایک طلاق شمار کیا جاتا تھا، اور رجوع کی گنجائش باقی رہتی تھی۔ اس کی بنیاد بعض احادیث میں مذکور ہے کہ حضرت عمرؓ کی خلافت سے پہلے یہی طریقہ رائج تھا۔ 🚨حضرت عمرؓ نے دیکھا کہ لوگ طلاق کے معاملے میں سنجیدگی نہیں دکھا رہے تھے۔ وہ جلد بازی میں ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دے دیتے، پھر کہتے کہ ہماری نیت ایک ہی طلاق کی تھی۔ اس سے خاندانی نظام میں بے نظمی پیدا ہو رہی تھی۔ 🚨اسی لیے حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ چونکہ لوگ اس معاملے میں جلد بازی اور لاپروائی کر رہے ہیں، اس لیے اب اگر کوئی ایک مجلس میں تین طلاقیں دے گا تو اسے تین ہی نافذ کیا جائے گا، تاکہ لوگ اس سنگین معاملے کو کھیل نہ بنائیں، 🚨آج وہی کچھ ویوز کے لیے کیا جارہا ہے آج پھر اس امر کی ضرورت ہے کہ تمام فرقے مشترکہ فتویٰ جاری کریں کہ سوشل میڈیا پر ویوز کی خاطر طلاق دینے والے کو رجوع کا حق نہیں ہوگا ۔

🐅محمدطاہربھٹی

409,176 views • 23 days ago

شہناز کی حقیقت: پروپیگنڈا ویڈیو کے پیچھے چھپی کہانی دہشت گرد تنظیم بی ایل اے کے پروپیگنڈا ویڈیوز میں دکھائے جانے والے کرداروں کی حقیقت اب آہستہ آہستہ سامنے آ رہی ہے۔ ویڈیو میں نظر آنے والی شہناز، جو دو بچوں کی ماں ہے، پہلے اپنے شوہر کے ساتھ مسقط میں رہائش پذیر تھی۔ خاندانی ذرائع کے مطابق اس کی مسلسل بد اخلاقیوں اور غیر اخلاقی حرکات کی وجہ سے اس کے شوہر نے اسے طلاق دے کر گھر سے نکال دیا۔ طلاق کے بعد یہ پاکستان واپس آئی۔ اس کے دو بھائی اور ایک بوڑھی ماں گھر پر موجود ہیں۔ گھر والوں کو اس نے یہ جھوٹ بتایا کہ وہ ایران شادی کے لیے جا رہی ہے، مگر بعد میں معلوم ہوا کہ اسے بی ایل اے کے دہشت گرد کیمپوں میں پہنچایا گیا۔ ذرائع یہ بھی بتا رہے ہیں کہ اسے دہشت گرد کیمپ تک پہنچانے میں اس کا سگا ماموں صدام بوہیر ملوث ہے، جو مبینہ طور پر دلالی جیسے گھناؤنے کاموں میں ملوث رہا ہے۔ آج یہی لوگ بلوچ خواتین کے نام پر معصوم نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور دہشت گردی کے بیانیے کو آگے بڑھانے میں لگے ہوئے ہیں۔ بی ایل اے اور اس کے سہولت کاروں کا اصل چہرہ اب عوام کے سامنے بے نقاب ہو رہا ہے۔ ⚠️ بلوچ معاشرے کی عزت، روایات اور خواتین کے نام پر سیاست کرنے والے یہ کردار دراصل نوجوان نسل کو استعمال کر رہے ہیں۔

Hawk's Eye

34,275 views • 2 months ago

اس ویڈیو میں آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ بھارت اور پاکستان کے بارڈر پر کھڑی ایک بھارتی گائیڈ خاتون سیاحوں کو علاقے کا تعارف کروا رہی ہے۔ وہ نہ صرف بارڈر دکھا رہی ہے بلکہ بڑی ڈھٹائی سے یہ بھی بتا رہی ہے کہ: یہ تین چار خوبصورت گاؤں پہلے گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ تھے، لیکن اب بھارت نے ان پر قبضہ کر لیا ہے۔ ہم نے یہ گاؤں پاکستان سے چھینے ہیں!” گلگت بلتستان کے ان خوبصورت گاؤں جنہیں بھارتی خاتون خود “پاکستان کا حصہ” کہہ رہی ہے اب بھارتی قبضے میں ہیں۔ 1947 سے لے کر دسمبر 1971 تک، ترتک پاکستان کے زیرِ انتظام تھا۔ یہ انتظامی طور پر گلگت بلتستان (جو اُس وقت “شمالی علاقہ جات” کہلاتا تھا) کا حصہ تھا، اور ثقافتی، لسانی اور خاندانی لحاظ سے آج بھی گلگت بلتستان کے کئی علاقوں سے جڑا ہوا ہے۔ آج ان علاقوں میں اب بھی گلگت بلتستان کے لوگوں کے رشتہ دار موجود ہیں۔ ان کے درمیان صرف ایک دریا حائل ہے، لیکن یہ دریا سرحد بن چکا ہے۔ خونی رشتے موجود ہیں بھائی، بہن، چچا، ماموں جو ایک دوسرے کو فون پر دعائیں دیتے ہیں، دور سے ہاتھ ہلاتے ہیں،لیکن مل نہیں سکتے۔ اگر گلگت بلتستان اور ان علاقوں کے درمیان زمینی رابطہ (گرگل لدآخ روڈ) کھل جائے تو دونوں طرف کے لوگ برسوں بعد ایک دوسرے سے گلے مل سکیں گے۔ یہ صرف سیاست کا معاملہ نہیں — یہ بچھڑے رشتہ داروں، ٹوٹے جذبات اور بکھرے خاندانوں کی کہانی ہے

Gilgit Baltistan Tourism.

23,665 views • 1 year ago

یہ وہ جنت نظیر علاقہ ہے جہاں ذوالفقار علی بھٹو صاحب اب بھی "جئے بھٹو" کے نعروں میں زندہِ جاوید ہیں، اور ان کی چوتھی نسل (بلاول بھٹو زرداری صاحب) اب تک حکمرانی کے تخت پر براجمان ہے۔ لاڑکانہ، سندھ کا یہ تاریخی شہر، جہاں بھٹو خاندان کی نسل در نسل حکومت چلی آ رہی ہے، اور مقامی حکمرانوں کا دعویٰ ہے کہ ان کا مقابلہ پاکستان کے دیگر صوبوں سے نہیں، بلکہ سیدھا دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے ہے!جی ہاں، بھائیوں اور بہنو! لاڑکانہ میں ترقی کی رفتار ایسی ہے کہ یورپ اور امریکہ والے بھی شرما جائیں۔ وہاں کی سڑکیں تو ویسے ہی ہیں جیسے سوئٹزرلینڈ کے پہاڑی راستے – گڑھوں سے بھری ہوئیں، تاکہ گاڑی والے قدرتی جھٹکوں سے ورزش کر لیں۔ سیوریج کا نظام؟ اوہو، یہ تو جرمنی کی جدید ٹیکنالوجی سے بھی آگے ہے – پانی سڑکوں پر بہتا ہے، تاکہ لوگ گھر بیٹھے سوئمنگ پول کا مزہ لے سکیں۔ہسپتالوں کی بات کریں تو لاڑکانہ کے ہسپتالوں میں مریضوں کو "قدرتی علاج" ملتا ہے – گیس نہیں، بجلی نہیں، دوائی نہیں، بس بھٹو صاحب کی تصاویر دیکھ کر دل کو تسلی ہو جاتی ہے۔ تعلیم؟ ارے، وہاں کے سکول تو سنگاپور سے بھی بہتر ہیں – بچے کھیل کے میدان میں پڑھتے ہیں، کیونکہ کلاس رومز کی چھتیں برسات میں "قدرتی کولنگ سسٹم" فراہم کرتی ہیں۔اور سب سے بڑی بات، حکمرانوں کا دعویٰ کہ "ہمارا مقابلہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے ہے" – بالکل درست! لڑکانہ واقعی ایک مثالی شہر ہے – جہاں بھٹو زندہ ہیں، حکمرانی خاندانی ہے، اور ترقی کا خواب اتنا خوبصورت ہے کہ جاگنے کی ہمت ہی نہیں ہوتی!

𝔸𝕞𝕒𝕝𝕢𝕒|🇵🇰

28,866 views • 7 months ago

اگر آپ سب کا خیال تھا چیرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا چالیس پچاس ہزار درختوں، ہرے بھرے جنگل کاٹ ڈالنے اور پارکوں میں سبزے کی بربادی کے بعد اپنا ہتھوڑا کندھے سے اتار کر رکھ کر کچھ دن سانس لیں گے تو آپ سب غلط تھے۔ کلہاڑا دوبارہ اٹھا لیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں درختوں کی بربادی کی وجہ سے اس دفعہ گرمیاں فروری میں ہی شروع ہوگئیں اور اب ایک ادھ دن بارش کے بعد پھر موسم گرم ہورہا ہے جو کبھی جون میں شروع ہوتا تھا۔ جو سی ڈی اے کے خوشامدی کہتے تھے کہ الرجی کی وجہ سے شتہوت کے درخت کٹ رہے ہیں وہ زرا دیکھ لیں یہاں کیا کٹ رہا ہے۔ اب بیٹھے بٹھائے پھر جنون چڑھ گیا کہ ڈی چوک سے ایوب چوک تک سڑک ڈبل کرنی ہے اور پرانے درخت کاٹنے ہیں۔ پورا شہر گند اور گندگی سے بھرا ہوا ہے وہ ترجیح نہیں ہے چیرمین کی۔ حیران ہوں اکسفورڈ اسٹریٹ لندن میں تنگ روڈ کو کسی نے کھلا کرنے کا نہ سوچا جہاں بسیں گاڑیاں رینگ رینگ کر چلتی ہیں، من ہنٹن نیویارک میں گاڑیاں رینگتی ہیں وہاں بھی کسی نے بلڈوزر نہیں چلایا۔ صرف یہ وہم رندھاوا صاحب کو ہی کیوں ہے کہ شہر کے اندر موٹر ویز بنیں تاکہ لوگ سو دو سو فی کلو میٹر کی رفتار سے چلیں۔۔ آپ یہاں پورے خوبصورت پارک اور گرینری کو تباہ کررہے ہیں۔ درختوں کو کہاں کیسے شفٹ کیا جارہا ہے ۔ آخر ہمارے بے شعور بابوز اتنے فارغ العقل کیوں ہیں۔ رندھاوا صاحب کو درخت، جنگل اور سبزے خوبصورتی سے ایسی الرجی یا پرانی خاندانی دشمنی ہے؟ کوئی ماہر نفسیات روشنی ڈال سکتا ہے کہ یہ کیا مائنڈ سیٹ ہے کہ جہاں درخت سبزہ جنگل دیکھو کلہاڑا لے کر چڑھ دوڑو؟ Shehbaz Sharif Pakistan Environmental Protection Agency, GoP Ahsan Iqbal Capital Development Authority - CDA, Islamabad Muhammad Ali Randhawa SenatorSherryRehman Dr. Musadik Malik Palwasha Khan Shazia Atta Marri Hina Rabbani Khar Dr. Sharmila Sahibah Faruqui (Phd) s.i Mohsin Naqvi Khawaja Saad Rafique Khawaja M. Asif Sardar Ayaz Sadiq

Rauf Klasra

24,931 views • 4 months ago

یہ بھی عجیب وغریب قوم ہے ملک ملا جیسے تیسے لیاقت علی خان نے جنرل گریسی کے کہنے پر جناح صاحب کو جو کہ ٹی بی کے مریض تھے پہاڑوں پر بھیج دیا تاکہ آکسیجن کی کمی ہو تو مر جائے . حسین شہید سہروردی کو ریڈیو پر کتا غدار کہا جسے جناح صاحب نے وزیراعظم بنانا تھا وہ تو چھے ماہ کے لیے کلکتہ بھیجنا پڑا کہ ہندو مسلم فسادات رکوانے کے لیے جب واپس آئے تو کتا غدار کہلائے اس قوم نے لیاقت علی خان کو ہیرو بنایا، لیاقت علی خان کا قتل ہؤا وہ شہید اور رحمت اللہ علیہ کہلایا پھر اس قوم نے ایوب خان کو ہیرو بنایا جسے جناح صاحب شدید ناپسند کرتے تھے جس نے محترمہ فاطمہ جناح پر اپنے بھائی کی رکھیل ہونے الزام لگایا اور صدارتی انتخابات میں ملک کے تمام گدی نشینوں نے محترمہ کے خلاف فتوے دیے۔ پھر یحییٰ خان کو ہیرو بنایا جو اقلیم اختر کی ٹانگوں سے نہیں نکل پاتا تھا اور پھر بھٹو صاحب کو ہیرو بنایا جس نے بنگالیوں کو بھرے جلسے میں گالیاں دیں اور عوامی لیڈر کہلایا 💔 پھر تہجد گزار آیا ضیاء الحق جس کو مس جون ہیرنگ پیش کر کے افغان وار شروع کرائی گئی اور وہ زلفوں کے اسیر رہے پھر جون ہیرنگ اپنا کام لے کر سائیڈ پر ہو گئی تو جنرل صاحب کو اسلام یاد آ گیا 🤣 وہ ہیرو تھا پاکستانی قوم کا۔ پھر جاتے ہوئے شریف خاندان تحفے میں دے گیا اور اس بار ہیرو نواز شریف ٹھہرا لیکن بے نظیر بھٹو کے ساتھ ہیرو کی سیٹ بدلتی رہی۔ ارے جاؤ جاؤ یہ سب ہیرو تھے نا 🤣 آج میں نے تقسیم ہند پر سوال اٹھایا تو لگے مُجھے القابات دینے! قادیانی ہے، بھارتی ایجینٹ ہے ، کافر ہے ، کنجری ہے رکو ابھی رکو! پھر ایک اصلی ہیرو آیا کہتے تھے کہ خان ہماری ریڈ لائن ہے😅 منافق! اور وہ ایسی قوم کے لیے جیل کاٹ رہا ہے 💔 جسے ابھی یہ بھی نہیں پتہ کہ ہیرو ہوتا کون ہے ؟ وڑ گیا والا ہیرو ، گنڈا پور ہیرو، صنم جاوید سسٹرز ہیرو کبھی کوئی ہیرو تو کبھی کوئی ہیرو۔ دو جتنی مرضی گالیاں دو سچ بولتی رہوں گی ان شاءاللہ تعالیٰ یہ ہی کچھ ہؤا تھا جب باجوہ کی اسٹوری بریک کی تھی تب تو خان کی حکومت تھی۔ حضور والا! کسی شخصیت سے اختلاف کرنا ، کسی تاریخی عمل پر اعتراض کرنا اسے غلط کہنا کوئی کسی کو گالی دینا نہیں ہوتا۔ کتنے ہی مسلمان سائنسدانوں کو مسلمان خلیفوں بادشاہوں نے قتل کیا یا کرایا ، سلطنت عثمانیہ کے دور میں تین سو سال پرنٹنگ پریس پر پابندی عائد رہی اس وقت کا سوچیں ذرا! اس وقت کے لوگ تو اپنے خلیفوں اور بادشاہوں کے ساتھ ہی تھے نا؟ تھے کہ نہیں ؟؟؟ آج تاریخ نے وہ باتیں غلط ثابت کیں اور ہم سب بھی غلط کہتے ہیں اسی طرح آج سے نصف صدی یا ایک صدی کے بعد کوئی میرے جیسی آج اس وقت کے معاملات کو غلط لکھ رہی ہو گی اور تو اور خان صاحب پر تنقید کر رہی ہو گی کہ جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن نہیں دینی چاہیے تھی وغیرہ وغیرہ تو کیا وہ خان کو گالیاں دے رہی ہو گی ؟؟ نہیں بلکہ وہ اپنا تبصرہ یا تاریخ لکھ رہی ہو گی اور کیا اس وقت لوگ اسے گالیاں دیں گے؟؟ میرا نہیں خیال کیوں کہ پوری امید ہے کہ یہ قوم اس وقت تک عقل و شعور کے اعلیٰ معیار پر ہوگی تو آپ لوگ بھی کچھ خیال کیا کریں میچور ہو جائیں باتوں کو سننے اور برداشت کرنے کی کوشش کریں اعتراض ہے تو دلیل سے بات کریں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت دے آمین ثم آمین یا رب العالمین اے خدا! مجھ کو دشمن بھی خاندانی چاہیے 🙏

ⷶMαι∂αн Mυнαммα∂

13,969 views • 8 months ago

میں نے عادل راجہ کا ساتھ کیوں دیا؟ عمران ریاض پر تنقید کیوں کرنا پڑی؟ اور میں نے کتنے ڈالرز چھاپے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا مجھے مسلسل سامنا کرنا پڑا، تو سوچا آج ان کے جوابات بھی ہو جائیں۔ تو شروع کرتے ہیں۔ پہلے سوال کا جواب خود بخود واضح ہوتا چلا جائے گا، تو دوسرے سوال سے شروع کرتے ہیں۔ مگر پہلے آپ سے ایک سوال : جب تک عمران ریاض اعلان جنگ کر کے عادل راجہ کے خلاف میدان میں نہیں اترے، میں نے کبھی ان پر تنقید کی؟ عادل راجہ اکثر بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالتے رہتے ہیں، مگر کیا میں کبھی اس کا حصہ بنا؟ ممکن ہے کہ عمران ریاض کے اعلان جنگ سے قبل، کوئی دو چار پوسٹس میں مختصر تنقید ہو، مگر سچ کہوں تو مجھے بھی ان کے بولنے کا انداز اچھا لگتا تھا، اور بڑے بہادر بھی لگتے تھے۔ مگر جب وہ برطانیہ پدھارے، انہوں نے کہا کہ عادل راجہ چندہ کھاتا ہے، اور کہا کہ اب جو ان کو عدالت میں کیس کے لیے فنڈ کرے گا، اس سے لڑائی ہو گی، مجھے ان کا یہ اعلان فرعونیت لگا کہ وسائل کی فراہمی اللہ کا کام ہے۔ سوشل میڈیا پر بھرپور مہم چل رہی تھی، کردار کشی جاری تھی راجہ فیملی کی، ایک تنقیدی پوسٹ کی عمران ریاض کے انٹرویو پر، ڈھائی سو کمنٹس، زیادہ تر میرے خلاف۔ لوگ عمران ریاض کے خلاف ایک لفظ تک نہیں سننا چاہتے تھے، چاہے وہ سچ کیوں نہ ہو۔ یہ مہم عمران ریاض لیڈ کر رہے تھے، لہٰذا ان پر فوکس ضروری تھا : ان کی مہم کو ناکام بنانے کے لیے بھی اور اس لیے بھی کہ جب تک کیس چل رہا ہے کوئی اگرمیدان میں اترے تو سوچ سمجھ کر۔ تیسری طرف، عادل راجہ کے معاملات پر لکھنا بھی تاکہ لوگوں میں آگاہی پھیلے۔ اس سہہ جہتی محاذ پر مسلسل نظر رہی، کچھ لوگ پوچھتے ہیں کہ اتنا مسلسل کیوں لکھا؟ صرف اسی وجہ سے لکھا ! عادل راجہ خاندانی آدمی ہیں، وہ گلی گلی چھابڑی لگا کر اپنی مظلومیت بیچنا پسند نہیں کرتے، دیگر لوگوں کی طرح، لیکن دنیا کو سچ بتانا بھی تو ضروری تھا۔ ٹارزن بھیا کا حملہ بہت لیتھل اور سٹریٹجک تھا، بہت نپا تلا۔ ڈائریکٹ فنڈنگ پر وار کہ عادل راجہ کیس لڑنا تو دور کی بات، کوئی وکیل تک بھی نہ کر پائیں اور تماشا بن کر رہ جائیں۔ جب یہ مہم شروع تھی، تو بظاہر پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا والے کچھ لوگ پوچھ رہے تھے کہ تیس ہزار پاؤنڈز اکٹھے ہوئے تھے، وہ کہاں گئے؟ میں نے جب پوچھا تو بتایا گیا کہ تیس نہیں بلکہ اسی ہزار سے زیادہ اکٹھے ہوئے، ساتھ میں ضروری تفصیلات بھی کہ اگر چیک کرنا چاہوں تو خود چیک کر سکوں۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ان کے ناقدین کو اتنی خبر تک نہ تھی کہ اصل رقم جمع کتنی ہوئی ہے، لیکن عمران خان کے خود ساختہ مجاہد تھے کہ مہم چلائے جا رہے تھے۔ یہ بات بذاتِ خود دلیل تھی اس بات کی عادل راجہ کے خلاف سارا پروپیگنڈا بے بنیاد تھا اور کسی مقصد کے تحت۔ تھوڑا بہت سوچا، سمجھا اور پرکھا اور اپنی پہلی پوسٹ لکھی : کیا عادل راجہ چندہ خور گدھ ہیں؟ اس کے بعد پھر چل سو چل۔ ڈی ایم میں معلومات آنے لگیں، کمنٹس میں بھی، لیکن حیرت انگیز بات پھر یہ رہی کہ عادل راجہ کے مخالفین کے پاس ڈھنگ کا سوال یا اعتراض بھی نہیں تھا۔ اب جتنا یہ موضوع آگے بڑھتا گیا، میں انوالو ہوتا چلا گیا، عادل راجہ اور سبین کیانی کی باتیں سچی ثابت ہوتی گئیں، دنیا بھی ماننے لگ گئی، کمنٹس گواہ ہیں کہ کسی نے ڈھنگ کا ایک اعتراض بھی نہیں کیا۔ اب آپ خود ہی بتائیے کہ اگر میرے سامنے سچ اور جھوٹ واضح ہوا پڑا تھا، تو سچ کی سائیڈ لیتا یا یہ مانترا گاتا رہتا کہ عمران ریاض جو بھی ہے، نام تو خان کا لیتا ہے؟ آج عمران ریاض کی کہانی پٹ چکی، ان کے الزامات جھوٹ ثابت ہو چکے، حتیٰ کہ ان کی یہ بات بھی جھوٹ ثابت ہو چکی، ان کے اپنے لفظوں سے، کہ عادل راجہ نے ان کی فیملی کی جان خطرہ میں ڈالی۔ دوسری طرف عادل راجہ کا کیس چل رہا تھا، انہوں نے لڑا بھی، اپنے محاذ پر ڈٹے ہوئے بھی ہیں۔ تو خود ہی بتائیے کہ کیا ساتھ دینا نہیں بنتا تھا ؟ ایک بات اور، میں نے عمران ریاض پر جتنی بھی تنقید کی وہ ان کی ان باتوں پر کی، جو وہ خود پبلکلی کہہ چکے، وہ بھی وہ باتیں جو وہ برطانیہ آنے کے بعد کہتے رہے، بڑے ہی محدود دائرے میں جو عادل راجہ سے متعلق رہا، میں نے کبھی ان کی قید یا گمشدگی کے دوران معاملات پر نہیں لکھا، کبھی ان کے مالی معاملات پر نہیں لکھا، اور کبھی ان معلومات کو استعمال نہیں کیا جو میرے پاس بھی ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ معاملات حیات میں، انیس بیس نہیں بلکہ پندرہ بیس کے فرق کا قائل ہوں، ہم سب انسان ہیں، غلطیاں کرتے ہیں۔ لیکن اتنے محدود سے دائرے میں تنقید کے علاوہ کوئی آپشن نہ تھی ! خیر، اس صورت حال میں عمران ریاض کے کئی جھوٹ تو کھل چکے، مگر مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ اپنی فیملی کی جان کو خطرہ میں ڈالنے کا جھوٹا الزام انہوں نے مسلسل عادل راجہ پر کیوں لگایا؟ بلکہ اب بھی جونہی موقع ملتا ہے، پھر الزام لگا دیتے ہیں۔ عمران ریاض کہتے پھرتے ہیں کہ بے شک سو پروفائلز اور لے آئیں مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ عمران ریاض ہوں اور بڑھک نہ لگائیں یہ کیسے ممکن ہے؟ جناب کو یاد دلاتا چلوں کہ جب آپ برطانیہ آئے تھے تو یہ کہہ رہے تھے کہ جو عادل راجہ کو فنڈ کرے گا، اس سے لڑائی ہو گی۔ حال اب یہ ہے کہ ہر جگہ اپنی صفائی دیتے پھر رہے ہیں کہ میری گواہی سے کچھ فرق نہ پڑتا۔ لوگ آپکے منہ پر کہتے ہیں کہ آپکو گواہی دینا چاہیے تھی، مگر آپ سے جواب نہیں بن پڑتا۔ ابھی تو کئی اور سوالات ہیں جو اگر لوگوں نے پوچھنا شروع کر دئیے تو آپ کے پاس کہنے کو کچھ نہ ہو گا۔ آپ کچھ جواب دینے کی کوشش کریں گے تو چار سوال اور جاگ جائیں گے۔ ویسے کبھی سوچا، کہ کب بیانیہ پلٹ گیا؟ کب جناب کو اپنی صفائیاں دینا پڑ گئیں ؟ آپ کو تو فنڈ کرنے والوں سے لڑائی کرنی تھی ناں ؟ ففتھ جنریشن وار فئیر کسے کہتے ہیں ؟ اسے ہی کہتے ہیں۔ نامحسوس طریقے سے بیانیے کو پلٹ کر رکھ دینا۔ فرق تو کب کا پڑ چکا ٹارزن بھیا۔ عادل راجہ کے کیس کی فنڈنگ کے خلاف ٹارزن بھیا کی مہم ناکام ہوئی، راجہ صاحب کیس عدالت میں تو ہارے، مگر عوام میں جیت گئے۔ ان کا یو ٹیوب چینل بھی بن گیا، اس بار وہ پہلے سے مضبوط بن کر ابھر رہے ہیں۔ لیکن اگر عادل راجہ سچے نہ ہوتے، ان میں استقامت نہ ہوتی، تو صرف لفظوں سے کچھ بھی نہ ہوتا۔ عمران ریاض بڑھکیں جتنی مرضی لگا لیں، لیکن اس بات کو اب وہ بدل نہیں سکتے کہ موقع تھا مگر وہ بریگیڈیئر کے خلاف گواہی سے بھاگ گئے، جیسے وہ اپنی فیملی کو، ان کے اپنے بقول، خطرہ میں ڈال کر سات ملکوں کی سیر کو نکل گئے۔ کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اس موضوع پر میں نے متواتر کیوں لکھا؟ عرض ہے کہ اگر آپ لوگ خاموش نہ رہتے، سچ کو سچ کہتے، جھوٹ کو جھوٹ کہتے، تو مجھے ضرورت نہ پڑتی۔ ہم سوشل میڈیا پر بھی جھوٹ کو جھوٹ نہیں کہہ سکتے اور پوچھتے پھرتے ہیں کہ یار انقلاب کیوں نہیں آتا ؟ قصہ مختصر، عادل راجہ کا کیس اب اپیل میں جا چکا، جو ہونا تھا، ہو گیا۔ تو اب یہ باب بند کرنے کا وقت آن پہنچا۔ میں نے کتنے ڈالرز چھاپے؟ لکشمی دیوی کے پجاریوں کے لیے یقین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ کچھ کام بنا پیسوں کے بھی کیے جاتے ہیں۔ سوال بہرحال سوال ہوتا ہے، اور اس کا جواب آپ کو Miss Sloane فلم کے اس کلپ سے مل جائے گا۔ تو انجوائے کیجیے جیسیکا چیسٹین کی شاندار پرفارمنس 😊 انہی الفاظ کے ساتھ یہ سلسلہ اختتام کو پہنچتا ہے۔ کہا سنا معاف 🙏 رہے نام اللہ کا

Kashif Aslam

63,465 views • 8 months ago