Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

خیبر میں پشتون قومی عدالت کا افتتاح ہوا۔ مشر منظور پشتین نے کہا کہ پشتون نوجوانوں اور بزرگوں نے آپس کی نفرت ختم کر دی ہے اور ایک ہی خیمے کے نیچے اکٹھے ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی اب تک #PTM کی مخالفت کر چکا...

132,396 Aufrufe • vor 1 Jahr •via X (Twitter)

9 Kommentare

Profilbild von Sheraz Afridi 🇵🇰🇧🇫
Sheraz Afridi 🇵🇰🇧🇫vor 1 Jahr

علی آمین گنڈاپور نے جرگے کے لیے خیموں کا انتظام کیا پانی کے ٹینکرز پہنچائے لائٹنگ کا انتظام کیا ، ایمبولینس لائے ، ڈاکٹرز کے کیمپس لگائے اگر آج بھی آپ عمران خان کی مخالفت کر رہے ہیں تو یہ آپ اپنی اور اپنے نسلوں کی مخالفت کر رہے ہیں عمران خان نے ہمیشہ پختونوں کی بہتری کا سوچا ہیں

Profilbild von Eا𝖔n М̶ߎsƙ༝̲
Eا𝖔n М̶ߎsƙ༝̲vor 1 Jahr

@PashtunNJirga please deliver my msj to PTM to give chance to those ppl to speak who face fascism and those who's children's sons and husband, brother etc are missing

Profilbild von Mehrbeyar Baloch
Mehrbeyar Balochvor 1 Jahr

اسکو کہتے ہیں عوامی طاقت اور اس وزیر آعلی سے سبق سیکھنا چاہیئے بلوچستان کے 47 والے چمچے کٹپتلوں کو

Profilbild von Rehan Momand
Rehan Momandvor 1 Jahr

سب آپ کی خوش فہمیاں ہیں 3/4 ہزار لوگ اکٹھے دیکھ کر آپ اپنی اوقات ہی بھول گئے پاکستان 🇵🇰🇵🇰🇵🇰👍🏼کی عزت و ناموس کیلئے ہم اپنی جان بھی قربان کر دینگے انشاءاللہ #PTM

Profilbild von Mudassar Tarar
Mudassar Tararvor 1 Jahr

''انہوں نے کہا کہ اگر یہ نوجوان چاہیں تو پانچ گھنٹوں میں کسی کو اپنی سر زمین سے نکال سکتے ہیں۔ آخر میں کہا کہ جرگہ پختون قوم کے فائدے کے لیے فیصلہ کرے گا اور نوجوان اس فیصلے کا ساتھ دیں گے" @OfficialDGISPR @AimalWali @SyedWiqasAhmad1 @AliAminKhanPTI اب کل ملا کہ بات یہی ھے

Profilbild von میر حاکم خان
میر حاکم خانvor 1 Jahr

بھائ صاحب پتا تب چلے گا جب یہ 11 اکتوبر کو یہ جرگہ ہو گا کہ یہ کیا لائحہ عمل دیتا ہے اگر تو یہ پشتون قوم کے حقوق کی بات کرتا ہے نوجوانوں کی نوکریوں کی بات کرتا ہے تو پورا پاکستان اسکے ساتھ ہے لیکن اگر یہ کہتا ہے کہ ہمیں الگ کرو تو اس کی گ لال کرنی چاہیے اداروں کو

Profilbild von Asad Farooqi
Asad Farooqivor 1 Jahr

منظور پشتین لوگوں کی غلط ذہن سازی کر رہا ہے ایک طرف وہ پشتونوں کا ہمدرد بنتا ہے جبکہ دوسری طرف وہ ایک نئی جنگ کو دعوت دیتا ہے

Profilbild von Hazrat Nabi
Hazrat Nabivor 1 Jahr

#په_خيبر_ننګ_وکړئ #StateDeclaresWarOnPashtuns #PashtunNationalCourt11October نن

Profilbild von waheed
waheedvor 1 Jahr

پھر تو رات کو کمبل میں منگل کو گا گانڈو

Ähnliche Videos

میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں... جب متحدہ مجلسِ عمل نے 2002 میں وزیراعظم کا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا، تو جنرل مشرف صاحب نے مجھے بلایا اور مجھے کہا کہ آپ دستبردار ہو جائیں، آپ الیکشن نہیں لڑیں گے۔ تو میں نے کہا کہ میں کیوں نہیں لڑوں گا؟ کیا میرا آئین رکاوٹ ہے؟ کیا کوئی قانون رکاوٹ ہے؟ کیا میں پاکستان کا شہری نہیں ہوں؟ انہوں نے بڑے صاف الفاظ میں کہا، صاف الفاظ میں کہ آپ کو امریکہ اور مغرب قبول نہیں کر رہے۔ آپ بتائیں! جب میرے ملک کی اسٹیبلشمنٹ کی سوچ یہ ہو کہ کوئی شخص پاکستان کے عوام کا نمائندہ ہزار بار بننے کے قابل ہو، لیکن اگر وہ امریکہ اور یورپ کے لیے قبول نہیں ہے تو وہ پاکستان کا وزیراعظم نہیں بن سکتا۔ اور پھر جب میں نے کہا کہ کیا اسی کا نام آزادی ہے؟ تو مجھے کہنے لگا کہ مولانا آپ بار بار کہتے ہیں ہم غلام ہیں، ہم غلام ہیں، ہم آزاد نہیں ہیں، تو آپ اس حقیقت کو تسلیم کر لیں نا کہ ہم غلام ہیں اور غلامی حقیقت ہے۔ نعرے مت لگاؤ ذرا صبر کرو، بات تو سن لو میری۔ جب مجھے کہا گیا کہ آپ اس کو تسلیم کر لیں کہ ہم غلام ہیں، تو میں نے کہا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ ہم غلام ہیں۔ لیکن اب آگے دو راستے ہیں: پہلا راستہ اس غلامی کو قبول کر لینا اور ان قوتوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کر لینا۔ یہ آپ کے آباؤ اجداد کا درس ہے جو آپ کو پڑھایا گیا ہے۔ دوسرا راستہ ان قوتوں کے خلاف، اس غلامی کے خلاف آزادی کا علم بلند کرنا اور آزادی کے لیے میدان میں اترنا ہے۔ یہ میرے آباؤ اجداد اور اسلاف کا درس ہے جو مجھے پڑھایا گیا ہے۔ تجھے اپنے آباؤ اجداد اور اسلاف کا راستہ مبارک، مجھے اپنے اکابر اور اسلاف کا راستہ مبارک۔ میں اس غلامی کے خلاف لڑوں گا اور آخری دم تک لڑوں گا۔ #عوام_مولانا_کے_سنگ #حق_کی_آواز_جمعیت #نکے_دا_پروپیگنڈا #شہدابہانہ_خزانہ_نشانہ #ذخائر_کے_چور

Ihsan Ullah Khan 🇵🇰

29,004 Aufrufe • vor 1 Monat

"پھر یہ میں نے 'افغانیہ' کے لیے کہا تھا۔ وہ پشتون وطن جو ڈیورنڈ لائن سے نیچے پاکستان کا حصہ ہے، کہ اس کو افغانیہ کا نام دیا جائے گا۔ ​افغانستان پر، پشتونوں کے مخالفین نے کتابیں لکھی ہیں۔ بڑے بڑے جاسوسوں نے کتابیں لکھی ہیں۔ الیگزینڈر برنس، موہن لال، چینی زائرین اور بدھ مت کے زائرین—ان میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ پشتون متعصب یا فرقہ پرست ہیں، یا لوگوں سے نفرت کرنے والے ہیں۔ سب نے یہی کہا ہے کہ ہم اس وطن میں بحیثیتِ جاسوس، بحیثیتِ مسافر، یا بحیثیتِ بدھ مت کے زائرین (چینی مسافروں) کے گئے؛ سب کا کہنا ہے کہ پشتون وطن یا افغان وطن میں مسافر کے لیے 'بیڈ اینڈ بریک فاسٹ' (Bed & Breakfast) والی بات نہیں، بلکہ بورڈنگ اور لاجنگ بالکل مفت ہے۔ ہر ایک نے لکھا ہے کہ جب ہم وہاں گئے، ہم نے مسجد میں بیٹھ کر بات کی، تو انہوں نے کہا: 'جی مسافرو! جی مسافرو! بسم اللہ'۔ کبھی ان سے نہیں پوچھا گیا کہ تم کس مذہب کے ہو؟ کس لیے آئے ہو؟ ہمیں گدی (نشست) دی گئی، بہترین روٹی دی گئی اور (عزت سے) رخصت کیا گیا۔ یہ دنیا کے تمام مؤرخین لکھتے ہیں۔ ​افغان وطن بہت بڑے اور طاقتور ہمسایوں کے درمیان ہے۔ ماوراء النہر کا مالک سوویت یونین، ایک طرف چین، نیچے ہندوستان، اور دوسری طرف پارس (ایران) اور عریبیہ۔ افغانوں یا پشتونوں نے اپنی اس حیثیت میں کبھی کسی کی ایجنٹی نہیں کی۔ پشتون افغان، نہ کبھی چین کے مفاد کے لیے روس کے خلاف استعمال ہوا ہے، اور نہ ہی روس کے مفاد کے لیے چین کے خلاف استعمال ہوا ہے۔ ​ہم اس بات کی شدید مذمت (Condemn) کرتے ہیں جب لوگ کہتے ہیں کہ پشتون دہشت گرد ہے۔ پشتون اپنی خود مختاری کے بارے میں انتہائی حساس ہیں (They are sensitive about their sovereignty)۔ اپنے استقلال کے بارے میں افغان پشتون انتہائی حساس ہے۔ وہ مہمان کی عزت کرتا ہے، لیکن جب اسے یہ شک پڑ جائے کہ یہ آدمی میری آزادی پر حملہ آور ہونے آیا ہے، تو پھر وہ ایک خطرناک دشمن بن جاتا ہے۔" قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

60,068 Aufrufe • vor 2 Monaten

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی اور نورین خانم نیازی کی بالآخر ملاقات ہو گئی اس موقع پر سہیل خان آفریدی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جس نوعیت کی فسطائیت ظلم اور جبر اس وقت پنجاب میں مسلط ہے اس کی مثال شاید ہی ملتی ہو قریب ایک ہزار کے لگ بھگ کارکنان گرفتار کیے جا چکے ہیں اور اب صورت حال یہ ہے کہ محض تصویریں بنانے اور یادگاری تصاویر لینے والے افراد کو بھی حراست میں لیا جا رہا ہے پنجاب پولیس شدید خوف میں مبتلا دکھائی دیتی ہے اور اسی خوف کے زیر اثر وہ ایسے اقدامات کر رہی ہے سہیل خان افریدی نے مزید کہا کہ عمران خان نے مجھ پر ایک نہایت اہم اور باوقار ذمہ داری عائد کی ہے اور میں اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار ہوں اللہ تعالیٰ ہر انسان پر اتنی ہی آزمائش ڈالتا ہے جتنا اس کے کندھوں میں برداشت کی قوت ہوتی ہے سہیل خان افریدی نے تحریک لبیک پاکستان کے حوالے سے کہا کہ ان کے ساتھ روا رکھا جانے والا ظلم انتہائی قابل مذمت اور شرمناک ہے ان کے ہزاروں کارکنان کو گرفتار کیا جا رہا ہے اور اگر ہم نے آج ان کے ساتھ کھڑے ہونے سے گریز کیا تو کل یہی جبر ہم سب کے حصے میں آئے گا نورین خانم نیازی نے کہا کہ پنجاب میں فسطائیت کی تمام حدیں پار کی جا چکی ہیں لاہور میں کسی شہری کو یہ حق تک حاصل نہیں رہا کہ وہ اپنی پسند کے مطابق پرامن احتجاج کر سکے انہوں نے کہا کہ یہ ظلم زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا یہ جبر کے آخری ایام ہیں جو اس وقت جاری ہیں ہم اس ظالمانہ نظام کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے نورین خانم نیازی نے مزید کہا کہ اگر سہیل خان افریدی میری رہائش گاہ پر تشریف لے آتے تو اس میں کوئی بات نہ ہوتی آخر میں انہوں نے کہا کہ جب تک ہمارا بھائی ڈٹا ہوا کھڑا ہے ہم بھی اس کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے اور اختتام پر سہیل خان افریدی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا

Agha Sheikh Sarwar

23,942 Aufrufe • vor 8 Monaten

اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی رہنما اور سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن بلاشبہ تاریخی ہے، لیکن بدقسمتی سے یہ دن منفی معنوں میں تاریخ کا حصہ بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں کچھ دن فخر اور کامیابی کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں، اور کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جنہیں یاد کر کے قوم کو افسوس ہوتا ہے۔ “آج کا دن بھی ان ہی دکھ اور تکلیف والے دنوں میں شمار ہوگا۔” سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ امریکہ کی تین سو سالہ تاریخ میں صرف پچیس ترامیم ہوئیں، لیکن پاکستان میں محض تیرہ مہینے کے دوران دوسری آئینی ترمیم پیش کی جا رہی ہے۔ “چھبیسویں ترمیم طویل سیاسی گفت و شنید، مشاورت اور اتفاقِ رائے کے بعد منظور کی گئی تھی۔ اس عمل میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علماء اسلام سب شریک تھے۔ مگر آج ہم صرف تیرہ مہینے بعد اسی ترمیم کو ریورس کرنے جا رہے ہیں، جو افسوسناک اور تشویشناک ہے۔” انہوں نے کہا کہ چھبیسویں ترمیم جمہوری ڈائیلاگ کا نتیجہ تھی، مگر ستائیسویں ترمیم اکثریت کے زور پر لائی جا رہی ہے۔ “یہ طرزِ عمل سیاسی شرافت کے منافی ہے۔ جب ہم نے چھ ہفتوں کی مشاورت کے بعد اتفاقِ رائے سے ترمیم منظور کی، تو یقین تھا کہ یہ پائیدار پیش رفت ہے۔ لیکن آج ایک گھنٹے کی کارروائی میں وہ تمام محنت اور اعتماد ختم کر دیا گیا۔” انہوں نے کہا کہ جے یو آئی پاکستان اب اس سیاسی دھوکے کے بعد اپنے لائحہ عمل کا ازسرِ نو جائزہ لے گی۔ “ہم پر جو وعدہ خلافی کی گئی ہے، اس کے بعد پارٹی فیصلہ کرے گی کہ کیا ہم اب بھی چھبیسویں ترمیم کو اون کر سکتے ہیں یا نہیں۔” سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ آئین کو شخصیات کے لیے نہیں بلکہ نسلوں کے لیے بنایا جاتا ہے، مگر افسوس کہ آج دستور کو شخصیات کے تابع کیا جا رہا ہے۔ “یہ دن تاریخ میں ہمیشہ منفی حوالوں سے یاد رکھا جائے گا، کیونکہ آج جمہوری اقدار، آئینی شرافت اور باہمی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔” آخر میں انہوں نے کہا کہ اس طرزِ عمل کے بعد 1973ء کے آئین کا جو کریڈٹ پاکستان پیپلز پارٹی کو حاصل تھا، وہ بھی اب برقرار نہیں رہا۔ “آج کا یہ دن سیاسی و آئینی لحاظ سے قوم کے لیے دکھ بھرا دن ہے۔”

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

15,588 Aufrufe • vor 9 Monaten