正在加载视频...

视频加载失败

خیبر پاس – خیبرپختونخوا میں ڈیجیٹل شناختی نظام کا آغاز! وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے "خیبر پاس" ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا افتتاح کر دیا۔ 🔹 ملک کا پہلا منفرد ڈیجیٹل شناختی نظام 🔹 کیو آر (QR) کوڈ پر مبنی، نادرا و دیگر سرکاری ڈیٹا سے منسلک 🔹 تمام سرکاری...

20,148 次观看 • 1 年前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

اسلام آباد:29 جولائی ،2026. وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سطح کی مربوط ڈیجیٹل پالیسی فریم ورک پر عمل درآمد پر جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ وفاقی حکومت کے زیر انتظام نئے قائم کردہ قومی سطح کے مرکزی ڈیٹا سینٹر sky 47 کی سہولیات تمام وفاقی اداروں کو میسر کرنے کے لیے فوری طور پر موثر اقدامات اٹھائے جائیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ پبلک سیکٹر میں قومی سطح پر ایک مربوط ڈیٹا سینٹر ہی تمام اداروں کے ڈیٹا کو مرکوز جگہ فراہم کرے گا اور مختلف اداروں کے علیحدہ علیحدہ ڈیٹا سینٹرز کے قیام کو روکنے سے قومی وسائل کی بچت ہوگی۔ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی حکومتی خدمات, معاشرتی نظام بالخصوص عوام کو شہری سہولیات کی فراہمی کے لیے فعال مستعد اور انقلابی سمت کا تعین کر رہی ہے۔ وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق قومی ڈیجیٹل ویژن کا اطلاق ایک مربوط معاشرے کی تشکیل میں کلیدی حیثیت رکھتاہے. قومی و مربوط ڈیجیٹل ویژن کے تحت ڈیجیٹل معیشت، ڈیجیٹل شہری سہولیات اور ڈیجیٹل حکومتی خدمات، تین بنیادی ستون پر جاری کام لائق تحسین ہے۔ قومی مربوط ڈیجیٹل پالیسی پر موثر عمل درآمد سے عالمی شراکت داری اور عالمی فورمز پر ملک کی موثر نمائندگی یقینی بنائی جا سکے گی. تمام متعلقہ اداروں اور وفاقی و صوبائی حکومت کی مشاورت سے قومی ڈیجیٹل ویژن پر مکمل عمل درامد سے اداروں کی فیصلہ سازی، کارکردگی اور شفافیت عالمی معیار سے ہم آہنگ ہو جائے گی۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ قومی ڈیجیٹل ویژن کا اطلاق پہلے ترجیحاتی شعبے بشمول صحت، زراعت، یوٹیلیٹیز، ہاؤسنگ اور (SMEs) چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتی و تجارتی اداروں کے لئے کیا جائے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات جلد از جلد پہنچائی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی ڈیجیٹل ویژن کے مکمل اطلاق کے بعد شہریوں کو ایک ہی ڈیجیٹل آئی ڈی کے تحت تمام تر عوامی سہولیات بشمول دستاویزات کی حکومتی تصدیق، بنک کی سہولیات، صحت، ٹرانسفرز اور دیگر تمام سہولیات ایک ہی جگہ میسر ہو سکیں گی۔ نیشنل ڈیجیٹل کمیشن کا اجلاس جلد بلایا جائے تاکہ صوبوں سمیت تمام شراکت داروں کو اس پالیسی پر اعتماد میں لیا جائے۔ ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025 کے تحت قائم کردہ نیشنل ڈیجیٹل کمیشن کے سربراہ وزیر اعظم پاکستان ہیں اور تمام صوبائی وزرائے اعلیٰ اسکے ممبران ہیں. اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق قومی ڈیجیٹل ویژن کا اطلاق ،زراعت، خوراک، صحت, انرجی، ہاؤسنگ اور (SMEs) چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتی و تجارتی اداروں کے شعبوں میں کیا جا رہا ہے. ان چار شعبوں کے علاوہ دیگر 14 ترجیحاتی سیکٹرز پر وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق کام کیا جا رہا ہے جو نہ صرف شعبہ جاتی کارکردگی کو بہتر بنائیں گے بلکہ ملکی معیشت اور اور صنعت اور تجارت میں بھی مثبت اثرات مرتب کریں گے۔ بریفنگ میں مزید بتای گیا کہ ہاوسنگ کے شعبے میں اس کے اطلاق کے بعد نجی و سرکاری تمام املاک کے لیے ایک مرکزی نشاندہی نمبر میسر آ سکے گا۔ ڈیجیٹل نظام کے سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کے شعبے میں اطلاق سے کاروبار کی منفرد قانونی شناخت کا ایک مربوط نظام مرتب ہوگا جو ملک کی مجموعی پیداوار میں اضافے کا باعث بنے گا۔ قومی ڈیجیٹل ویژن کے مکمل اطلاق کے لیے تمام قانونی، انتظامی اور ادارہ جاتی اقدامات تیزی سے مکمل کیے جارہے ہیں۔ اس تناظر میں عالمی ماہرین اور عالمی اداروں کی راۓ، اور دنیا میں رائج بہترین طریقوں سے بھی استفادہ حاصل کیا گیا ہے۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب, وفاقی وزیر برائے کامرس جام کمال خان، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ،وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیرقومی صحت سید مصطفی کمال، , وفاقی وزیر براۓ انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ، ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ سرکاری اداروں کے عہدے داران نے شرکت کی۔

Prime Minister's Office

14,635 次观看 • 2 个月前

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وزیراعظم آفس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ٹریکنگ اور فیصلہ سازی نظام کا افتتاح کر دیا جس کا مقصد وزیراعظم کی ہدایات پر عملدرآمد، پیشرفت اور نگرانی کو ٹریک کرنا ہے تاکہ خودکار احتسابی نظام کے ساتھ فیصلہ سازی کا عمل تیز ہو اور وزیراعظم کی ہدایات اور حکومتی پالیسیوں کا مؤثرنفاذ یقینی، بروقت اور معیاری بنایا جا سکے۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی جدید ترین ٹریکنگ اور فیصلہ سازی کے نظام کے افتتاح کی تقریب آج وزیراعظم آفس میں منعقد ہوئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ٹریکنگ اور فیصلہ سازی کے نظام پر مکمل عملدرآمد کی ہدایت کی اور کہا کہ آج کے بعد کوئی روایتی فائل نظام نہیں ہوگا، عوامی فلاح و بہبود اور خدمت کو یقینی بنانے کے لئے اس نظام کا مکمل نفاذ یقینی بنایا جائے۔ وزیراعظم نے اس نظام کی تیاری اور فعالیت کے لئے وفاقی وزراء احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام کی تعریف کی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام وزارتیں اس نظام کو اختیار کرتے ہوئے اس کے تحت امور سرانجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ اب روایتی انداز میں فائلیں لے کر گھومنے کی ضرورت نہیں، تمام امور اس جدید نظام کے ذریعے نمٹائے جائیں۔ اس موقع پر وفاقی وزیر احد خان چیمہ نے کہا کہ جدید طرز حکمرانی کے لئے مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا پر مبنی نظام فعال کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جدید نظام حکومتی فیصلوں میں شفافیت اور بروقت اقدامات کے حوالے سے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت کی روشنی میں فیصلہ سازی میں جدید ٹیکنالوجی بروئے کار لائی جا رہی ہے، مؤثر پالیسی سازی اور ڈیٹا پر مبنی نتائج کے لئے یہ نظام انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرانے نظام میں تمام تقاضے پورے نہیں ہوتے تھے اور آؤٹ پٹ سے مکمل استفادہ نہیں کیا جا سکتا تھا، اس لئے ان خامیوں کو دور کرتے ہوئے یہ جدید نظام متعارف کرایا گیا ہے، پرانے نظام میں کئی اقدامات اور عوامل موجود نہیں تھے جن کو اس نئے نظام کا حصہ بنایا گیا ہے۔ وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے وزیراعظم آفس سسٹم سے متعلق بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ ماضی میں ڈیجیٹائزیشن کا آغاز کیا تھا جس کے بعد اب ہم ڈیجیٹل سے اے آئی کی طرف گامزن ہیں اور تمام شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی بروئے کار لا رہے ہیں، سماجی تحفظ کے سب سے بڑے پروگرام کو بھی ڈیجیٹائز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپر لیس طرز حکمرانی کی طرف جا رہے ہیں، وزیراعظم آفس سسٹم سے کارکردگی اور خود احتسابی کا عمل بہتر ہوگا۔ وزیراعظم کو اس جدید نظام کے بارے میں دی گئی بریفنگ کے مطابق ’’وزیراعظم آفس سسٹم‘‘ (پی ایم او ایس) پاکستان کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والا نظام ہے، یہ وزیراعظم آفس کا سرکاری ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد وزیراعظم کے احکامات جاری ہونے سے لے کر ان پر عملدرآمد، ان کی تکمیل اور تکمیل کے بعد نگرانی تک تمام امور کی انجام دہی کا خودکار نظام متعارف کرانا ہے۔ یہ نظام گورننس اور شفافیت کے لئے سنگ میل اور حکومت کی معاشی ترجیحات اور خدمات کی فراہمی کے ضمن میں انتہائی کارآمد ثابت ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے وزیراعظم کی طرف سے ان کے احکامات کی ڈیڈ لائنز کی نشاندہی اور انہیں اجاگر کرنے میں مدد ملے گی اور وزارتوں کی جوابدہی اور کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

Prime Minister's Office

15,456 次观看 • 2 个月前

وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت محکمہ تعلیم کا اہم اجلاس۔ صوبے میں تعلیم کے فروغ کیلئے وزیراعلی کا انقلابی اقدام، ایجوکیشن ایمرجنسی کا اعلان۔ ایجوکیشن ایمرجنسی کے تحت خیبر پختونخوا میں صحت کارڈ کے طرز پر تعلیم کارڈ کے اجراءکا فیصلہ • خیبر پختونخوا تعلیم کارڈ شروع کرنے ولا ملک کا پہلا صوبہ بن گیا۔ ابتدائی طور پر تعلیم کارڈ کا اجراء صوبے کے 9 پسماندہ اضلاع میں کیا جائے گا جسے بعد میں دیگر اضلاع تک توسیع دی جائے گی۔ ان 9 اضلاع میں کوہستان اپر، کوہستان لوئر، کولئی پالس، تورغر، چترال اپر، چترال لوئر، ٹانک، جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر شامل ہیں۔ • تعلیم کارڈ کے تحت سرکاری سکولوں میں داخلہ لینے والے ان 9 اضلاع کے بچوں کو 1 ہزار روپے ماہانہ دیئے جائیں گے۔ تعلیم کارڈ کے ذریعے ان اضلاع کے بچے نجی رجسٹرڈ سکولوں میں مفت داخلہ لے سکیں گے • ابتدائی طور پر تعلیم کارڈ کے تحت ان 9 اضلاع کے 40،000 بچے مستفید ہوں گے۔ تعلیم کارڈ کے تحت صوبے کے تمام سرکاری اسکولوں میں پہلے سے زیر تعلیم چھٹی تا دسویں جماعت کی بچیوں کو ماہانہ 500 روپے کے وظائف بھی دیئے جائیں گے۔ • ماہانہ تعلیمی وظائف سے صوبے کی تقریباً ساڑھے 5 لاکھ بچیاں مستفید ہوں گی۔ ان تعلیمی وظائف پر سالانہ 3.1 ارب روپے لاگت آئے گی جو صوبائی حکومت برداشت کرے گی۔ مفت درسی کتب، تعلیمی وظائف اور پہلے سے موجود دیگر تمام سہولیات بھی تعلیم کارڈ کے تحت یکجا کئے جائیں گے۔ • تعلیم کارڈ کے تحت پہلی سے بارہویں جماعت تک کے کم و بیش 5 کروڑ بچوں کو مفت درسی کتب فراہم کئے جائیں گے۔ اس کارڈ کے تحت 506 ذہین طلباء کو ایٹا سکالرشپس بھی دیئے جائیں گے • تعلیم کارڈ کو پائیدار بنیادوں پر چلانے کیلئے وزیراعلی کا ایک اور انقلابی اقدام۔ 3 ارب روپے کی رقم سے وزیراعلی ایجوکیشن ایمرجنسی انڈومنٹ فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ

Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa

50,945 次观看 • 1 年前

اسلام آباد: 17 اگست 2026۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ میں جاری اصلاحات اور اسلام آباد ٹیکنالوجی پارک کی تعمیر کی پیشرفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. وزیراعظم نے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کو شہریوں کے لیے آسان، مؤثر اور جدید ڈیجیٹل خدمات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی. وزیرِ اعظم نے کہا کہ شہریوں کو بروقت، شفاف اور آسان ڈیجیٹل خدمات کی فراہمی کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں. شہریوں کو سرکاری خدمات کے حصول میں سہولت فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے. وزیراعظم نے تمام سرکاری ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو ہم عصر تقاضوں کے مطابق مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی. وزیرِ اعظم نے کہا کہ آئی ٹی اور ڈیجیٹل اصلاحات میں وفاقی وزارتوں کی ای آفس پر منتقلی اب تک کی اہم ترین اصلاحات میں سے ہے. وزیراعظم نے وفاقی حکومت کی تمام ماتحت اداروں اور ایس او ایز میں ای آفس کا استعمال یقینی بنانے، سرکاری اداروں کی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو تیز کرنے اور جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے اور تمام سرکاری املاک کی ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی. وزیراعظم نے اسلام آباد ٹیکنالوجی پارک کی تکمیل میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کیا. وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اسلام آباد ٹیکنالوجی پارک کی تعمیر کو جلد از جلد مکمل کرنے اور ٹیکنالوجی پارک کو ترجیحی بنیادوں پر فعال کیا جائے. وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ اسلام آباد ٹیکنالوجی پارک کو چلانے کیلئے مکمل طور پر آوٹ سورس کیا جائے. اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ این آئی ٹی بی کی رائٹ سائیزنگ کی جا چکی ہے اور اہم عہدوں پر تعیناتی ایک شفاف طریقے سے کی جارہی ہے. تمام وفاقی وزارتیں ای آفس پر منتقل ہو چکی ہیں جبکہ دیگر محکموں اور سرکاری ملکیتی اداروں میں اس کی ترویج پر کام جاری ہے. اجلاس میں اسلام آباد ٹیکنالوجی پارک کی تعمیر پر پیشرفت کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی. اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، احد خان چیمہ، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔

Prime Minister's Office

30,351 次观看 • 1 个月前

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ قلعہ بالا حصار ہے۔۔۔یا لاہور کا شاہی قلعہ ہے تو آپ غلط ہیں۔۔۔یہ سینیٹر دلاور خان کا گھر اور ڈیرہ ہے جو مردان میں واقع ہے۔۔۔سینکڑوں کنال پر مشتمل یہ قلعہ ایک ارب روپے کی لاگت سے بنایا گیا ہے جس میں دنیا کی تمام سہولیات دستیاب ہیں۔۔۔یہاں گھوڑوں کا ایک اصطبل ہے جس میں موجود ایک ایک گھوڑے کی قیمت تیس تیس لاکھ روپے ہے۔۔۔سوئمنگ پول اور دنیا کا جدید ترین سیکورٹی سسٹم۔۔۔چاروں طرف کلاشنکوف بردار کمانڈوز اور جرمن شیفرڈ کتے۔۔۔۔سینیٹر دلاور خان جے یو آئی کا سینیٹر ہے اور اسکا یہ آفیشل پیج ہے جسکی ہر ویڈیو پر بھارتی گانا لگا ہوتا ہے۔۔۔یہ دلاور خان آج مردان کا سب سے امیر ترین آدمی ہے جسے مردان کے نواب اور خوانین جھک کر سلام کرتے ہیں۔۔۔یہ سیاست میں آنے سے پہلے کسٹم میں انسپکٹر تھا۔۔۔یہ ڈیڑھ مرلے کے گھر میں پیدا ہوا تھا اور اسکے باپ دادا موچی کا کام کرتے تھے۔۔۔ڈیڑھ مرلے کے گھر سے ڈیڑھ سو کنال کے قلعے تک کا یہ سفر کرپشن اقربا پروری لوٹ مار اور حرام کی کمائی کا ایک داستان ہے جو اس ملک کے نظام کے مرہون منت ہے جس میں دلاور خان جیسے سرکاری نوکر ایک ارب روپے کا صرف قلعہ بناتے ہیں۔۔۔کاش ہم میں بنگالیوں اور نیپالیوں والی غیرت آجائے تو دلاور خان اور بلاول زرداری و مریم صفدر جیسے کرپشن کی گندی نالی کے کیڑے ننگے ہوکر سڑکوں پر جلیں اور انکی دولت ہماری ٹھوکروں میں ہو۔۔۔کاش۔۔ نصیب اللہ یوسفزئی

Shams Khattak

171,190 次观看 • 1 年前

اسلام آباد: 14 جولائی 2026. وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت کیش لیس معیشت اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ پر اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. وزیراعظم نے گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان کی معیشت کو ڈیجیٹل ادائیگیوں پر مبنی کیش لیس معیشت میں تبدیل کرنے کی پیش رفت پر معاشی ٹیم کی کارکردگی کی ستائش کی. اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملکی معیشت کو کیش لیس نظام پر منتقل کرنے سے پائیدار معاشی ترقی ہوگی اور شفافیت کو فروغ ملے گا. وزیراعظم نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے QR کوڈ استعمال کرنے والے فعال مرچنٹس کی تعداد میں ایک سال کے دوران 300 فیصد اضافہ کرنے پر معاشی ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کیا. وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مرچنٹس کو QR کوڈ کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جانب راغب کرنے کے لیے آگاہی مہم مزید مؤثر بنائی جائے اور بیرون ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر کو 100 فیصد ڈیجیٹل بنایا جائے. وزیرِ اعظم نے گفتگو کے دوران مزید کہا کہ موبائل بینکنگ ایپ استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک سال میں 9 کروڑ 50 لاکھ سے بڑھ کر 13 کروڑ 70 لاکھ ہونا اہم کامیابی ہے. بینک اور مالیاتی ادارے کیش لیس معیشت کے فروغ میں بھرپور کردار ادا کریں. وزیراعظم نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ادائیگیوں کو ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرنے کے اقدام کو شفاف، تیز رفتار اور مستحقین کے لیے سہل قرار دیتے ہوئے سراہا۔ اجلاس میں کیش لیس اکانومی کے لیے اقدامات کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی. بریفنگ میں بتایا گیا کہ جون 2025 سے جون 2026 تک ڈیجیٹل طریقے سے ادائیگیاں موصول کرنے والے مرچنٹس کی تعداد 300 فیصد اضافہ سے 20 لاکھ، 3 ہزار ہو چکی ہے. نادرا کی 99 فیصد ادائیگیاں ڈیجیٹائز ہو چکی ہیں اور کیش ادائیگیاں 71 فیصد سے کم ہو کر صرف1 فیصد پر آ چکی ہیں. بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ایک کروڑ صارفین کو تمام ادائیگیاں ڈیجیٹل والٹ سے کی جا رہی ہیں.اس وقت موبائل بینکنگ ایپ صارفین کی تعداد 13 کروڑ، 70 لاکھ ہے. اجاس کو مزید بتایا گیا جولائی 2025 سے جون 2026 کے دوران 11.9 ارب ڈیجیٹل ٹرانزیکشن ریکارڈ کی گئیں. گزشتہ سال کے دوران ترسیلات زر کی 92 فیصد رقوم ڈیجیٹل طریقے سے موصول ہوئی ہیں. کیش لیس اکانومی کے حوالے سے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن جاری ہے اور حتمی رپورٹ بمع سفارشات نومبر 2026 میں پیش کی جائے گی. پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن نے ممبر بینکوں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں بشمول RAAST نظام کے فروغ کیلئے اہداف دیئے ہیں. اجلاس میں وفاقی وزرا احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، شزا فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد، چیئرمین نادرا اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔

Prime Minister's Office

15,367 次观看 • 2 个月前

اسلام آباد: 30 جولائی 2026. وزیرِ اعظم کی ہدایات پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے سفارتخانوں میں سہولیات میں اضافے، دستاویزات کے تصدیقی عمل کی ڈیجیٹائیزیشن، شکایات کے عمل کو مزید سہل بنانے اور بیرون ملک سے پاکستان میں مختلف کاموں و ادائیگیوں کیلئے ڈیجیٹل نظام کے حوالے سے وزارت خارجہ کی وزیرِ اعظم شہباز شریف کو بریفنگ دی گئی. وزیرِ اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں وزارت خارجہ، مختلف ممالک میں پاکستان کے سفراء، وزارت داخلہ، ایف آئی اے وزارت آئی ٹی اور متعلقہ اعلی حکام نے تفصیلات سے آگاہ کیا. اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں جنہیں ہر قسم کی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے. بریفنگ میں بتایا گیا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی سہولت کیلئے پاؤر آف اٹارنی اور جائیداد کی خرید و فروخت کا نظام اور دستاویزات کے تصدیقی عمل کو آسان بنانے کیلئے کیو-آر کوڈ متعارف کروایا جا چکاہے. وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ کیو-آر (QR) کوڈ کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی شکایات کے اندراج کی ڈیجیٹائیزیشن خوش آئند ہے، سفارتخانوں میں اسے آویزاں کرکے رسائی میں اضافہ کیا جائے. کیو-آر کوڈ کے ذریعے شکایات کے اندراج کے حوالے سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے خصوصی آگہی مہم چلائی جائے تاکہ ذیادہ سے ذیادہ لوگ اس نظام کے ذریعے شکایات کا اندراج کرواسکیں. شہریوں کی سہولت کیلئے وزارت خارجہ کے دفتر اسلام آباد میں شام کی شفٹ کا حال ہی میں آغاز کیا جا چکا ہے۔ اسی طرح دستاویزات کی تصدیق کی سہولت کو آسان خدمت مرکز اسلام آباد میں بھی متعارف کروایا جا چکا ہے. اسکے علاوہ کورئیر کے ذریعے تصدیقی عمل متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ ہائیر ایجیوکیشن کمیشن، انٹر بورڈز کوارڈینیشن کمیشن، نادرا اور نیشنل پولیس بیورو کے ڈیٹابیس سے منسلک کیا جا چکا ہے جس سے تصدیقی عمل مزید تیز ہوا ہے. اجلاس کو بتایا گیا اپوسٹائل کے نظام کے تحت تصدیقی عمل کو ون-اسٹپ کردیا گیا ہے. آئندہ مرحلے میں اس پورے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کرنے پر کام تیزی سے جاری ہے. اس حوالے سے این آئی ٹی بی کے تعاون سے موبائل ایپلی کیشن تیار کی جاری ہے۔ جس میں برتھ/ڈیتھ سرٹیفیکیٹ، میرج رجسٹریشن سرٹیفیکیٹ، فیملی رجسٹریشن سرٹیفیکیٹ وغیرہ جیسے دستاویز کی بھی ڈیجیٹل نظام کے ذریعے تصدیق ممکن ہوگی. اجلاس میں نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارنہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، چوہدری سالک حسین، شزہ فاطمہ خواجہ، وزیرِ مملکت عون چوہدری، معاون خصوصی طارق باجوہ اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

Prime Minister's Office

15,363 次观看 • 2 个月前

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا Sohail Afridi کی زیر صدارت گورننس سے متعلق بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس منعقد ہوا جس میں گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت حاصل شدہ اہداف اور نتائج پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت سرکاری اداروں کی کارکردگی کو مؤثر اور جوابدہ بنایا جا رہا ہے جبکہ عوام کو بروقت اور معیاری سہولیات کی فراہمی کے ذریعے عوامی اعتماد بحال کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا خیبرپختونخوا میں کیش لیس پیمنٹ انیشیٹیو کا آغاز کر دیا گیا ہے اور صوبے کی تاریخ میں پہلی بار خیبرپختونخوا ڈیجیٹل پیمنٹ ایکٹ 2025 کی کابینہ سے منظوری حاصل کی گئی ہے۔ 100 سے زائد سرکاری خدمات ڈیجیٹائز کر دی گئی ہیں جن میں فرد اور انتقالات بھی شامل ہیں جبکہ بندوبستی اور ضم اضلاع میں 500 سرکاری سکولوں کی آؤٹ سورسنگ مکمل کی جا چکی ہے۔ صحت کے شعبے میں 150 بی ایچ یوز اور آر ایچ سیز کو 24 گھنٹے چائلڈ برتھ سنٹرز میں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ خالی آسامیوں پر 2400 میڈیکل آفیسرز کی بھرتی کے لیے سمری منظور کر لی گئی ہے۔ ضم اضلاع میں گرافٹنگ کے ذریعے ڈیڑھ لاکھ جنگلی زیتون کے درختوں کو یورپی اقسام کے زیتون میں تبدیل کیا گیا ہے اور مقامی لوگوں کی شراکت سے 700 واٹر کورسز اپگریڈ کیے گئے ہیں۔ سماجی بہبود کے اقدامات کے تحت 3177 یتیم بچوں اور 3380 بیوہ خواتین کو ماہانہ 5 ہزار روپے فی کس فراہم کیے جا رہے ہیں جبکہ سرکاری و نجی اداروں میں زیر تعلیم 3500 طلباء کو سکالرشپس دی گئی ہیں۔ ای سمری اور ای آفس سسٹم کے اجراء کے بعد اب تک 1500 سے زائد سمریاں اور 600 سے زائد فائلیں وصول اور بھیجی جا چکی ہیں۔

PTI

12,093 次观看 • 6 个月前

� جیل قوانین کی خلاف ورزیاں • پاکستان پریزن رول 540: قیدی کا اپنے اہلِ خانہ سے ملاقات کا حق • رول 541: وکلا سے ملاقات کا حق • رول 549: کسی بھی قیدی کی ملاقاتیں مکمل طور پر معطل نہیں کی جا سکتیں 🔹 آئینی خلاف ورزیاں • آرٹیکل 9: غیرقانونی اور من مانے حراست سے تحفظ • آرٹیکل 10: قانونی مشاورت تک رسائی • آرٹیکل 14: انسانی وقار کا تحفظ—ملاقاتوں پر پابندی اس کی سنگین خلاف ورزی ہے 🔹 اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کی توہین • عدالت نے عمران خان کی ملاقاتیں بحال کرنے کا حکم دیا • پابندی برقرار رکھ کر حکومت واضح توہینِ عدالت کی مرتکب ہو رہی ہے 🔹 اقوامِ متحدہ کے منڈیلا رولز کی خلاف ورزیاں • رول 58: اہلِ خانہ سے رابطے اور ملاقات کا بنیادی حق • رول 61: وکلا تک بلا رکاوٹ رسائی • رول 24: مناسب طبی سہولیات کی فراہمی لازمی • رول 43: تنہائی اور غیرانسانی سلوک کی ممانعت 🔹 بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں • UDHR آرٹیکل 5: کسی شخص کے ساتھ غیر انسانی یا تذلیل آمیز سلوک نہیں کیا جا سکتا • ICCPR آرٹیکل 14: قانونی دفاع تک رسائی روکنا غیرقانونی ہے 🔹 UN ورکنگ گروپ کا واضح فیصلہ اقوامِ متحدہ کے ورکنگ گروپ نے عمران خان کی حراست کو: • غیرقانونی • من مانا • اور سیاسی طور پر محرک قرار دیا ہے حکومت ایک پہلے سے ہی غیرقانونی حراست کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ قوم کا مطالبہ ایک ہی ہے: عمران خان کی صحت کے بارے میں بتاؤ — ملاقات کراؤ، ملاقات کراؤ۔ #مزاحمت_سے_ملے_گی_آزادی #مزاحمت_سے_ہی_ملاقات_ہوگی

PTI

15,172 次观看 • 9 个月前

پیرا فورس میں "اوئے سامان اٹھاؤ، نکلو" کا مغرور کلچر بلکل نہیں چلے گا وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت سول سکریٹریٹ میں پنجاب انفورسمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کی کارکردگی سے متعلق اجلاس پیرا کی کارکردگی، ڈیجیٹلائزیشن،قانونی فریم ورک اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ پیرا فورس کی کارروائیوں کو مانیٹر کرنے کے لیے ڈیجیٹل ریکوزیشن لازمی قرار وزیر اعلی مریم نواز شریف کا عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے "Ask PERA" پورٹل کو مزید فعال کرنے کا حکم وزیر اعلی مریم نواز شریف کا ڈی جی پیرا کو براہِ راست پبلک انٹرایکشن اور عوامی رابطہ بڑھانے کی ہدایت پیرا کا عدالتی محاذ پر 99 فیصد کنویکشن ریٹ کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے-مریم نواز شریف عوام پر رعب جھاڑنے اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے اہلکاروں کی پیرا میں کوئی جگہ نہیں-مریم نواز شریف بد سے بدنام بہت برا ہوتا ہے،پیرا کی گڈ ول پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا- مریم نواز شریف پیرا کا ہر ایکشن عوام دوست ہونا چاہیے-مریم نواز شریف کرپشن اور اختیارات کا ناجائز استعمال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا: مریم نواز شریف پیرا ریکوزیشن رولز کے مطابق کارروائی یقینی بنائے-مریم نواز شریف دیگر محکموں کی 351 ملازمین کو محکمانہ نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر واپس محکموں میں بھیج دیا گیا-بریفنگ پیرا کا کنویکشن ریٹ کا تناسب 99 فیصد رہا ہے۔بریفنگ پیرا کا چالان کا پورا نظام مکمل طور پر الیکٹرانک کیا جا رہا ہے-بریفنگ ڈیجیٹل شواہد اور ٹرائل فورس ریکوزیشن کے بعد کا تمام ریکارڈ سسٹم میں محفوظ کیا رہا ہے-بریفنگ پیرا فورس اب تک 62 ہزار سے زائد ڈیجیٹل ریکوزیشنز پر کارروائیاں عمل میں لا چکی ہے-بریفنگ پیرا کی جانب سے صوبہ بھر میں پندرہ لاکھ ستائیس ہزار اٹھائیس انسپکشنز مکمل کی گئیں-بریفنگ انسپکشنز کے دوران قوانین کی خلاف ورزی پر تین ہزار پانچ سو نو دکانیں سیل کی گئیں-بریفنگ اینٹی انکروچمنٹ مہم کے تحت اب تک 21 ہزار کنال سے زائد اراضی واگزار کرائی جا چکی ہے-بریفنگ قیمتوں میں خودساختہ اضافے اور تجاوزات پر اب تک 1700 افراد کو گرفتار کیا گیا قیمتوں میں خودساختہ اضافے اور تجاوزات کی وجہ سے گرفتار ہونے والے ایک ایک کارروائی کا منظم ڈیٹا سسٹم میں موجود عدالتی محاذ پر پیرا کی تاریخی کامیابی،ایک سو چھتیس رٹ پٹیشنز میں سے ننانوے فیصد کیسز پیرا کے حق میں فیصلہ جوڈیشل مجسٹریٹ اور ہیئرنگ افسران کے پاس پیرا کے اٹھانوے فیصد کیسز میں کامیابی حاصل ہوئی پیرا کا چالان مکمل کرنے کا تناسب ریکارڈ ستانوے فیصد تک پہنچ گیا-بریفنگ پیرا ایکٹ کے تحت مینوئل چالان پر پہلی ایف آئی آر درج کر لی گئی-بریفنگ محکمانہ احتساب کے تحت پیرا میں سات سو سزائیں، غفلت پر بیس ملازمین نوکری سے برطرف-بریفنگ اینٹی انکروچمنٹ کارروائی سے پہلے ہر طرح سے نوٹس دینا اور خبردار کرنا لازمی ہوگا اینٹی انکروچمنٹ اور پرائس کنٹرول کے علاوہ ہر ایکشن کے لیے پیشگی ڈیجیٹل ریکوزیشن لازمی ہے قانونی کارروائی کے دوران مزاحمت کا کلچر ختم ہونا چاہیے،قانون کی بالادستی قائم ہوگی-مریم نواز شریف انویسٹی گیشن افسر کا تبادلہ اب کسی کی سفارش پر نہیں ہو گا-مریم نواز شریف پیرا فورس کو مزید مہذب اور ڈسپلن بنانے کے لیے کلر کہار میں ٹریننگ اکیڈمی پر کام شروع جون دو ہزار ستائیس تک پیرا کی اپنی مستقل بھرتی کا عمل مکمل کر لیا جائے گا-بریفنگ پیرا میں شفافیت کے لیے انٹرنل افیئرز یونٹ قائم کیا جا رہا ہے-بریفنگ پیرا شاندار کام کر رہی ہے مگر پبلک پریزنٹیشن اور کمیونیکیشن میں کمی کو دور کیا جائے-مریم نواز شریف

Azma Zahid Bokhari

104,534 次观看 • 3 个月前

عوام سن کر کہے گی کہ ہمیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ مگر۔۔۔۔۔۔ 🚨🚨اسد عمر صاحب نے عامر متین صاحب کے پروگرام میں بتایا ہے کہ ساری کہانی یہ سنائی جاتی ہے کہ آئی ایم ایف نے بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے بہت سختی کی ہوئی ہے ، ہم نے کسی نہ کسی طرح وہ خسارہ کم کرنا ہے اور دیکھیں ہم نے کمال کردیا ہے بلکہ ہم نے پرائمری سر پلس create کر دیا ہے، کیا واقعی پرائمری سرپلس نظر آرہا ہے؟ جی ڈی پی کے لحاظ سے دو فیصد پرائمری سر پلس ہے،یعنی تقریبا! 28 سو ارب کا پرائمری سرپلس۔۔۔ آپ جانتے ہیں کہ یہ دو فیصد پرائمری سرپلس کہاں سے اور کیسے آیا؟ یہ تمام کا تمام وہ پیسہ ہے جو صوبوں سے روکا گیا ہے اس میں سے ایک ہزار ارب سے زائد تو وہ پیسہ ہے جو صوبوں نے کہا ہے کہ ہم مالا مال ہو گئے ہیں تو ہم ایک ہزار ارب وفاق کو تحفے میں دینا چاہتے ہیں، اسی طرح سے صوبوں کو کہا گیا ہے کہ آپ جو ٹیکس اکھٹا کرتے ہیں،اس میں سے 17 سو 80 ارب روپے آپ نے بینک میں رکھنا ہے، خرچ نہیں کرنا، کیونکہ ہم نے آئی ایم ایف کو پرائمری سرپلس دکھانا ہے، این ایف سی میں تبدیلی کا ہدف بغیر کسی آئینی ترمیم کے حاصل کر لیا گیا ہے، صوبوں کے بازو مروڑ کر نہ صرف ان سے ایک ہزار ارب سے زائد کی گرانٹ لے لی گئی ہے بلکہ وہ اپنی آمدن کا 1780 ارب خرچ ہی نہیں کر سکیں گے، پہلے ساڑھے 57 فیصد صوبوں کو جاتا تھا اور 42 فیصد وفاق رکھتا تھا، اب عملی طور پر 61 فیصد وفاق کا ہے اور صرف 39 فیصد صوبوں کا ہے، اب عوام یہ سن کر سوچے گی کہ ہمیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟صوبوں کے پاس 57 فیصد رہے یا 39 فیصد، عوام کو ضرور فرق پڑے گا کیونکہ عوام کی ضرورت کی تمام چیزیں مثلاً صحت ، تعلیم، پینے کا صاف پانی، آبپاشی، گلیاں، سڑکیں سمیت دیگر چیزیں صوبوں نے کرنی ہوتی ہیں، اب جب صوبوں کے پاس 28 سو ارب کم آئے گا تو متاثر عوام ہی ہوں گے۔ ہم پہلے ہی گلہ کرتے تھے کہ دنیا کے مقابلے میں پاکستان صحت اور تعلیم پر بہت کم خرچ کرتا ہے، اب اس میں سے بھی 28 سو ارب نکال لیا گیا ہے،کیونکہ وفاق نہ اپنے اخراجات کم کرنے کو تیار ہے اور نہ ہی طاقتور سے ٹیکس لینے کو تیار ہے،نہ سمگلنگ اور منی لانڈرنگ روکنے کو تیار ہے

Siddique Jan

25,769 次观看 • 3 个月前

وزیر اطلاعات، سائنس و ٹیکنالوجی شفیع جان کا سیکرٹری سائنس، ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دفتر کا دورہ صوبائی وزیر شفیع جان نے محکمہ سائنس، ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق بریفنگ اجلاس کی صدارت کی سیکرٹری عبدالباسط نے صوبائی وزیر کو جاری منصوبوں اور محکمہ کی مجموعی کارکردگی پر بریفنگ دی محکمہ سائنس، ٹیکنالوجی و آئی ٹی صوبے میں سائنس، ٹیکنالوجی و انوویشن کے فروغ، ای گورننس، ڈیجیٹلائزیشن اور تحقیق و ترقی پر کام کر رہا ہے، بریفنگ محکمہ استعدادِ کار بڑھانے، صنعتی ترقی، آئی ٹی تعلیم و تربیت کے فروغ اور مقامی آئی ٹی کمپنیوں کو کاروباری معاونت فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے، بریفنگ صوبے میں آئی ٹی پارکس کے قیام اور سافٹ ویئر برآمدات کے فروغ کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں، بریفنگ ضم اضلاع کے اسکولوں میں 6 ماڈل آئی ٹی لیبز قائم کی گئی ہیں، بریفنگ صوبے میں سائبر رسپانس ایمرجنسی سینٹر قائم کیا گیا ہے، بریفنگ گڈ گورننس اسٹریٹجی کے تحت 6 محکموں کی خدمات کو ڈیجیٹائز کر دیا گیا ہے، بریفنگ سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن اسٹریٹجی بنانے کے بعد خیبر پختونخوا پاکستان کا پہلا صوبہ بن گیا ہے، بریفنگ صوبے کے مختلف ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں سٹیزن فیسلیٹیشن سینٹرز قائم کیے گئے ہیں، بریفنگ سٹیزن فیسلیٹیشن سینٹرز میں شہریوں کو ڈومیسائل، ڈرائیونگ لائسنس اور پیدائش کے سرٹیفکیٹ سمیت مختلف خدمات فراہم کی جا رہی ہیں، بریفنگ سائنس، ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شعبہ صوبے کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا، شفیع جان تمام محکموں کو ڈیجیٹائز کرنے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں، شفیع جان محکموں کی ڈیجیٹائزیشن سے شفافیت کو فروغ ملے گا اور صوبائی ریونیو میں بھی اضافہ ہوگا، شفیع جان صوبے کے ہر ضلع میں سٹیزن فیسلیٹیشن سینٹرز کے قیام کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں، شفیع جان سٹیزن فیسلیٹیشن سینٹرز میں شہریوں کو یوٹیلٹی بلز جمع کرانے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں، شفیع جان ڈیجیٹل نظام کے ذریعے عوام کو سرکاری خدمات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے لیے اقدامات تیز کیے جائیں، شفیع جان عوامی خدمات کی فراہمی میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید فروغ دیا جائے، شفیع جان اجلاس میں ایم ڈی خیبر پختونخوا آئی ٹی بورڈ ، ڈائریکٹر جنرل سائنس و ٹیکنالوجی سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی

Shafi Jan

10,139 次观看 • 1 个月前

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر کی اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ وزیراعظم کو اجلاس میں پی آر اے ایل (PRAL) کی تنظیم نو پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ٹیکس نظام میں اصلاحاتی اقدامات کے نفاذ کو معینہ مدت میں مکمل جائے. اصلاحات کا تھرڈ پارٹی آڈٹ یقینی بنایا جائے. ملکی ترقی کے لیے ٹیکس نظام میں اصلاحات کا نفاذ کر رہے ہیں. ڈیجیٹلائزیشن، پیدا وار کی نگرانی اور خودکار نظام ایف بی آر اصلاحات کے اہم ستون ہیں. ایف بی آر میں اچھی شہرت کے گڈز ایویلیویٹرز کی تعیناتی کا عمل خوش آئند امر ہے، چیئرمین ایف بی آر اور ان کی ٹیم کی اس حوالے سے کوششیں لائقِ تحسین ہیں. وزیراعظم نے ٹیکس چوری، اسمگلنگ اور غیر قانونی کاروبار کے خلاف مؤثر کارروائی مزید تیز کرنے کی ہدایت کی. اجلاس میں ایف بی آر میں جاری اصلاحات، بالخصوص پی آر اے ایل کی تنظیمِ نو، ٹیکس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن اور اسمگلنگ کے تدارک کے لیے کیے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ٹیکس نظام کو جدید، مربوط اور ڈیٹا پر مبنی بنانے کے لیے IRIS 3.0، نئے ٹیکس آپریٹنگ ماڈل اور سینٹرل ڈیٹا ہب پر مرحلہ وار کام جاری ہے۔ IRIS 3.0 کے ڈیزائن کے لیے بین الاقوامی کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پرال میں ٹیکنالوجی، ڈیٹا سکیورٹی، آپریشنز اور ٹیکس ڈومین سمیت مختلف شعبوں میں نئی سینئر قیادت کی تعیناتیاں کی گئی ہیں۔ IRIS 3.0 کے تحت ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنانے، آٹو ٹیکس کے تصور کو پائلٹ کرنے اور مستقبل میں مصنوعی ذہانت و مشین لرننگ کو ٹیکس وصولی بہتر بنانے کے لیے استعمال کرنے کے منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے۔ کسٹمز کے شعبے میں فیس لیس اسیسمنٹ کے مثبت اثرات سے متعلق اجلاس کو بتایا گیا کہ جنوری تا جون 2026ء کے دوران فی گڈز ڈیکلریشن اوسط ریونیو میں 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ فیس لیس اسیسمنٹ کے نتیجے میں فی گڈز ڈیکلریشن کے محاصل میں بہتری کے ساتھ ساتھ درآمدی بے ضابطگیوں کی نشاندہی اور نگرانی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ کسٹمز اسیسمنٹ کے نظام کو مزید مربوط بنانے کے لیے 280 گڈز ایویلیویٹرز کی بھرتی کا عمل حتمی مراحل میں ہے۔ اسلام آباد میں سینٹرل اسیسمنٹ یونٹ کے قیام پر بھی پیش رفت جاری ہے، عبوری انتظام کے تحت یونٹ 31 دسمبر 2026ء تک فعال کرنے جبکہ مکمل مربوط سہولت کو جون 2027ء تک نئے کمپلیکس میں فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ جولائی 2025 میں ڈیجیٹل انوائسنگ کے ذریعے 236 بلین روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئیں جبکہ جولائی 2026 میں ان کا حجم 2.5 ٹریلین روپے کی سطح کو عبور کر گیا، اور دسمبر 2026 تک ڈیجیٹل انوائسنگ کے ذریعے 4 ٹریلین روپے کی ٹرانزیکشنز کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اسمگلنگ کے تدارک کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام کے لیے تمام قانونی پٹرول پمپس کی GIS ٹیگنگ، GPS کے ذریعے پٹرولیم مصنوعات کی ٹریکنگ، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ERP نظام کو ٹریکر سے منسلک کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مرکزی ٹریکنگ ایپ سمیت متعدد اقدامات مکمل کیے جا چکے ہیں۔ راہ-گزر ایپ کے ذریعے اڑھائی ہزار غیر قانونی پیٹرول پمپس کو بند کرا کے انکے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی گئی ہے. پٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی ڈیجیٹل نگرانی اور دیگر اقدامات پر بھی کام جاری ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ایف بی آر اصلاحات کے تمام اقدامات مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں اور اصلاحاتی عمل کی شفافیت، مؤثریت اور پائیداری کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ یقینی بنایا جائے۔ وزیراعظم نے ٹیکس نظام کو جدید اور مؤثر بنانے، ریونیو وصولی میں اضافہ اور اسمگلنگ کے مکمل تدارک کے لیے اصلاحات پر عملدرآمد مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، رکن قومی اسمبلی عثمان اویسی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، چئیرمین ایف بی آر اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

Prime Minister's Office

17,695 次观看 • 1 个月前

اسلام آباد: 7 جولائی 2026. وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے آج اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی. وفاقی کابینہ نے حج پالیسی اور پلان برائے 2027-2030 کی منظوری دے دی. وفاقی کابینہ نے رواں برس بہترین حج انتظامات پر وفاقی وزیرِ مذہبی امور سردار محمد یوسف اور وزارت کی ٹیم کی تعریف کی. وفاقی کابینہ کو حج پالیسی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ نئی حج پالیسی گزشتہ ایک سالہ حج پالیسیوں کے برعکس پہلی چار سالہ حج پالیسی اور پلان پر مشتمل ہے. اس حج پالیسی کے تحت طویل مدتی پلاننگ، آپریشنز میں بہتری اور حاجیوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی ممکن ہوگی. مجوزہ پالیسی کے نفاذ کیلئے SOPs اور دیگر ضوابط بنائے جائینگے۔ پالیسی کو سعودی قوانین اور ضوابط سے ہم آہنگ کرنے کیلئے اس میں ضرورت کے مطابق ترامیم کی جا سکیں گی۔ مزید بتایا گیا کہ پالیسی کے تحت حج کے خواہشمند افراد سالانہ رجسٹریشنز کی بجائے 2030 تک کسی بھی سال کیلئے اپنی ضرورت کے مطابق بلاتعطل حج کی رجسٹریشن کروا سکیں گے. اسکے نتیجے میں ترجیحی ویٹنگ لسٹ مرتب کی جائے گی. اسکے ساتھ ساتھ شرعی اصولوں کے مطابق سیونگ اسکیم بھی متعارف کروائی جا رہی ہے جسکے تحت حج کے خواہاں لوگ مستقبل میں حج کیلئے سیونگ اسیکم سے مستفید ہو سکیں گے. اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ حج کے تمام تر نظام کو ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے جس میں ادائیگیاں بھی ڈیجیٹل نظام سے ہونگیں. اسکے علاوہ شکایات کا ڈیجیٹل نظام اور ڈیجیٹل نگرانی ہوگی. پالیسی کے تحت سرکاری اور پرائیوٹ حج کا کوٹہ مختص کیا گیا ہے. پالیسی کے تحت لانگ اور شارٹ حج پروگرام متعارف کروائے جار ہے ہیں جبکہ حجاج کرام کی ضروری تربیت اور تکافل و ہنگامی ریسپانس بھی پالیسی کا حصہ ہیں. کابینہ نے ہدایت کی کہ معاونین حج کی تقرری ایک شفاف نظام اور خالصتاً میرٹ پر جائے، مزید برآں پرائیوٹ و سرکاری حج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے. وفاقی کابینہ نے شہریوں کو علاج معالجے کی معیاری سہولیات کو یقینی بنانے کیلئے اسلام آباد میں موجود آئیسولیشن ہاسپٹل اینڈ انفیکشئس ٹریٹمنٹ سینٹر (IHITC) اور ریجنل بلڈ سینٹر (RBC) کی سروسز کی آؤٹ سورسنگ کی پالیسی منظوری دے دی. فیصلے کے بعد وزارت قومی صحت ان اسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ قوائد و ضوابط کے مطابق یقینی بنائے گی. وفاقی کابینہ کو وزیرِ ریلوے کی جانب سے پاکستان ریلوے کی کارکردگی پر بھی بریفنگ دی گئی. اجلاس کو وزیر ریلوے نے بتایا کہ ریلوے کی آمدن 2024-25 میں 95 ارب بڑھ کر گزشتہ مالی سال 2025-2026 میں 115 ارب روپے کو عبور کر گئی جو کہ 24.19 فیصد اضافہ ہے۔ فریٹ آمدن میں 8 ارب سے زائد، دیگر آمدن میں 7 ارب سے زائد، پراپرٹی و لینڈ آمدن میں 6 ارب سے زائد اور مسافروں کی آمدو رفت سے آمدن میں 3.37 فیصد کا اضافہ ہوا. اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ریلوے آپریشنز میں بہتری کے ساتھ ساتھ فریٹ کارگو کی آمد و رفت کی بہتری یقینی بنائی گئی ہے. وفاقی کابینہ نے وزیرِ ریلوے حنیف عباسی اور انکی ٹیم کی تعریف کی. وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی (CCLC) کے 19 مئی 2026 اور اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کے 2 جولائی 2026 کو منعقدہ اجلاسوں میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی.

Prime Minister's Office

13,849 次观看 • 2 个月前

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ایف بی آر اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس ہوا، جس میں محصولات میں اضافے اور ادارہ جاتی اصلاحات پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے ہدایات دیں کہ مختلف شعبوں میں ٹیکس کی استعداد کے تخمینے کیلئے ایک جامع و سائنٹیفک طریقہ کار وضع کرکے پیش کیا جائے. پاور سیکٹر کے ساتھ تعاون سے غیر رسمی معاشی سرگرمیوں اور ٹیکس چوری میں ملوث افراد و کارباروں کا تعین کرکے انکے خلاف قانونی کاروائی کی جائے. گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ چینی کے پیداواری شعبے اور ایف بی آر کے اعداد و شمار میں ہم آہنگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایف بی آر کی جانب سے نصب شدہ ٹریکنگ نظام فعال اور بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے. اس ضمن میں چئیرمین ایف بی آر اور انکی ٹیم کی کاوشیں لائق تحسین ہیں. ٹیکس نظام میں رہتے ہوئے تمام تر ضابطوں کی پابندی کرنے اور ٹیکس جمع کروانے والے افراد و کاروبار ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ اور لائق تحسین ہیں. وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ حکومت نے ٹیکس کے حوالے سے برآمدی اور مقامی شعبے کو جس قدر ممکن ہوا سہولت فراہم کی اور آئندہ کیلئے بھی کرتی رہے گی. وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ چیئرمین ایف بی آر اور سینئر افسران ہر ماہ کے پہلے ہفتے کراچی میں موجود ہوں تاکہ کاروباری برادری کے مسائل بروقت سنے اور حل کیے جا سکیں. ٹیکسٹائل، مشروبات، اسٹیل، پولٹری، خوردنی تیل اور گھی، اور ٹائرز کے شعبوں میں پیداوار کی ڈیجیٹل نگرانی کا نظام دسمبرتک فعال بنایا جائے. ایف بی آر میں تقرریاں اور تبادلے صرف میرٹ کی بنیاد پر کیے جائیں گے. وزیرِ اعظم نے کہا کہ ایف بی آر میں افسران کی جانچ کا نیا نظام لائق تحسین ہے، میرٹ اور شفافیت اولین ترجیح رہے گی.اچھی کارکردگی دکھانے والے افسران کی فہرست مرتب کی جائے تاکہ یوم آزادی پر انہیں ایوارڈز سے سراہا جا سکے. کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز میں کسی بھی بے ضابطگی کی نشاندہی اور تدارک کیلئے فوری تھرڈ پارٹی آڈٹ اور ویلیڈیشن کرائی جائے. وزیرِ اعظم کو ایف بی آر کی جانب سے پیداواری شعبے کیلئے ٹریکنگ نظام کی تنصیب، ایف بی آر میں افرادی قوت کے حوالے سے نافذ کی گئیں اصلاحات اور آپریشنل استعداد کار بڑھانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ چینی، سیمنٹ، تمباکو، ٹائلز اور کھاد کے شعبے میں ٹریکنگ سسٹم مکمل طور پر فعال جبکہ مزید 5 شعبوں میں نفاذ حتمی مراحل میں ہے جس کی ٹیکس استعداد 7 سو ارب روپے سے زیادہ ہے. اجلاس کو بتایا گیا کہ 9 پیداواری شعبوں میں ٹریکنگ نظام وضع کرنے اور اسکے نفاذ کیلئے شعبوں کے ساتھ مل کر کام جاری ہے جس کی بدولت 560 ارب روپے کے ٹیکس کی استعداد کار سے فائدہ اٹھایا جا سکے گا. وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ پیداواری شعبے میں بالواسطہ ٹیکس اکٹھا کرنے کیلئے ٹریکنگ نظام کے نفاذ کو رواں برس کے اختتام تک یقینی بنایا جائے. افرادی قوت کے حوالے اصلاحات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ افسران کی بھرتی کے وقت انکی ٹریننگ ملک کی مایہ ناز یونیورسٹی سے کرائی جارہی ہے جس میں میرٹ اور اچھی کارکردگی کے اصولوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے. اسکے ساتھ ساتھ حاضر افسران کی ٹریننگ بھی کروائی جارہی ہے. ٹریننگ ماڈیولز بین الاقوامی معیار اور پاکستان کے ٹیکس نظام کی ضروریات سے ہم آہنگ ہیں. اجلاس کو بتایا گیا کہ پیئر ریویو اور جانچ کے نظام کے نفاذ کے بعد کسٹمز اور ان لینڈ ریونیو میں اہم پوسٹوں پر اچھی شہرت کے حامل افراد کی تعیناتی یقینی بنائی جارہی ہے. اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ایف بی آر میں ایسے افسران و اہلکار جن کی کارکردگی بہتر ہے ان کی پزیرائی اور خراب کارکردگی والے افسران و اہلکاروں کی سزا کا نظام بھی متعارف کروایا گیا ہے. اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے 957 تھرڈ پارٹی آڈیٹرز کی تعیناتی ہو چکی ہے. جبکہ کسٹمز کے فیس-لیس نظام کے تحت 280 گڈز ایویلوایٹرز کی بھرتی کا عمل جاری ہے. جس میں میرٹ و شفافیت کو اولین ترجیح دی جارہی ہے. اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ٹیکس مقدمات میں غیر ضروری قانونی چارہ جوئی کم کرنے کے لیے کیس اسکرونٹی کمیٹی قائم کی جا رہی ہے، جو ٹیکس سے متعلق مقدمات کے اندراج کا فیصلہ میرٹ پر کرے گی۔ اسی طرح متبادل تنازعاتی حل (ADRCs) فورم کے تحت جون 2026 تک 377 درخواستوں میں سے 152 درخواستیں90 روز کے اندر نمٹائے گئے، جس کے نتیجے میں 54 ارب روپے کی ٹیکس وصولی ممکن ہوئی۔ اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔

Prime Minister's Office

15,127 次观看 • 2 个月前

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار وزارت داخلہ اور تمام ذیلی اداروں کے لائسنسز، این او سیز، ویزا، شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور دیگر تمام عوامی سہولتیں ایک چھت تلے ملیں گی اسلام آباد ایف۔ 6 میں عوام کی سہولت کیلئے وزارت داخلہ کے جدید ترین پہلے خدمت مرکز کی تعمیر۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا زیرِ تعمیر خدمت مرکز کا دورہ وزیر داخلہ نے منصوبے پر جاری تعمیراتی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا، متعلقہ حکام کو منصوبے کو قلیل مدت میں مکمل کرنے کے احکامات دیے۔ جس قدر جلد ہو خدمت مرکز کو فنکشنل کیس جائے۔ محسن نقوی خدمت مرکز میں جدید پبلک ڈیلنگ ہال، سروس کاؤنٹرز اور کشادہ ویٹنگ ایریا قائم کیا جائے گا۔ خدمت مرکز کے قیام کا مقصد شہریوں کو ایک ہی جگہ پر تیز، آسان اور باوقار سرکاری خدمات فراہم کرنا ہے۔ جدید، مربوط اور عوام دوست سروس ڈلیوری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ محسن نقوی کی گفتگو ایف-6 کا خدمت مرکز ایک ماڈل منصوبہ ہے، جلد دیگر شہروں میں بھی عوام کی سہولت کے لیے ایسے خدمت مراکز قائم کیے جائیں گے۔ وزیر داخلہ کو خدمت مرکز کے منصوبے اور تعمیراتی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ چیف کمشنر اسلام آباد، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔

Shahid Abbasi

11,564 次观看 • 1 个月前

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت صوبائی کابینہ کا 44 واں اجلاس! کابینہ نے اسلامی اصولوں کے تحت صوبے میں خیبر پختونخوا جنرل تکافل کمپنی اور خیبر پختونخوا فیملی تکافل کمپنی کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ جنرل تکافل کے لیے 2 ارب روپے اور فیملی تکافل کے لیے 3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ 1990 میں خیبر بینک کے بعد یہ صوبے میں اس نوعیت کا پہلا نیا ادارہ ہوگا۔ جنرل تکافل صحت اور دیگر رسکس کی کوریج فراہم کرے گی، جبکہ فیملی تکافل وفات کی صورت میں خاندان کی مالی کفالت کو یقینی بنائے گی۔ کابینہ نے خیبر پختونخوا سیف سٹیز منصوبے کے لیے 3,825 ملین روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دے دی۔ منصوبہ پہلے مرحلے میں پشاور اور دوسرے مرحلے میں ڈی آئی خان، بنوں، لکی مروت اور شمالی وزیرستان تک توسیع پا چکا ہے۔ پشاور میں بعض اہداف پر 80 فیصد اور دیگر پر 50 فیصد سے زائد کام مکمل ہو چکا ہے۔ دائرۂ کار میں اضافے کے باعث اضافی گرانٹ کی منظوری دی گئی۔ کابینہ کمیٹی نے سابقہ فاٹا میں رسالدار اور دفادار کی پوسٹوں کے انضمام سے متعلق سفارشات پیش کیں، جن کے تحت انضمام سے رہ جانے والی 16 پوسٹوں کے نامنکلیچر کی منظوری دے دی گئی ہے۔ قواعد و ضوابط کی تکمیل پر ان پوسٹوں کو پولیس میں ضم کیا جائے گا۔ سابقہ فاٹا کے طلبہ کے لیے میڈیکل اور دیگر تعلیمی اداروں میں مختص کوٹہ سسٹم سے متعلق لائحہ عمل بھی کابینہ کے سامنے پیش کیا گیا، جسے جنوبی وزیرستان کے دو اضلاع میں تقسیم کے بعد میرٹ کی بنیاد پر برقرار رکھنے کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے اسلام آباد میں سمال انڈسٹریل ڈیولپمنٹ بورڈ کے پلازہ میں نیشنل فنانس کمیشن کے لیے خیبر پختونخوا سیل قائم کرنے، خیبر پختونخوا ٹریڈ ٹیسٹنگ بورڈ کی تشکیلِ نو، اور رشکئی سی پیک اکنامک زون کے اطراف سیکیورٹی اور دیگر ترقیاتی ضروریات کے لیے 199 ملین روپے کے فنڈ کی منظوری بھی دی۔ خیبر پختونخوا ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے لیے 168 ملین روپے کی گرانٹ اور خیبر پختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی کے بجٹ تخمینوں کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے مانسہرہ گریویٹی واٹر سپلائی اسکیم کے لیے 49 ملین روپے کی لاگت سے چار گاڑیوں کی خریداری کی بھی اجازت دی۔ اجلاس میں سال 2025 کے سیلاب کے دوران رکشوں، پیٹرول پمپوں، دکانوں، گاڑیوں، چکیوں اور فیکٹریوں کے مالکان کو ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے مالی معاونت کی منظوری دی گئی۔ حکومت خیبر پختونخوا کا احساس ایجوکیشن انٹرن شپ پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ، جو رواں سال 207 ملین روپے سے شروع کیا جائے گا۔ یہ پروگرام تین سالوں پر مشتمل ہوگا، جس کے تحت ہر سال 850 قابل نوجوانوں کو سکولوں میں انٹرن شپ کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ کابینہ نے کنٹریکٹ بنیادوں پر تعینات 1,144 اسکول لیڈرز کو مزید مواقع دینے کی منظوری بھی دی ہے۔ اسی طرح مالی مشکلات کے باعث علاج سے محروم نو مریضوں کو مہنگے علاج کے اخراجات کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے پشاور کے چھ بنیادی مراکز صحت (بی ایچ یوز) کو رورل ہیلتھ سینٹرز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کے لیے پروجیکٹ لاگت میں اضافے کی منظوری بھی دی۔ پانچ آؤٹ سورس کیے گئے ہسپتالوں کے لیے نئے میکانزم کے تحت معاہدے کرنے، پاک بھارت جنگ کے شہداء اور زخمیوں کے لیے خصوصی معاوضہ پیکیج، اور سابق رکن متحدہ علماء بورڈ شہید مفتی فضل رحمان کے صاحبزادے شہید نور رحمان کے لیے سولین وکٹم کمپنسیشن کے تحت ایک ملین روپے کے پیکیج کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کے رولز آف بزنس میں ترامیم کی بھی منظوری دی گئی۔ گوجرانوالہ میں پنجاب پولیس کی حراست میں ماورائے عدالت خیبر پختونخوا کے دو شہریوں کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت، کابینہ نے اس واقعے کی انکوائری کرانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ #CMKP #KPCabinetMeeting #SohailAfridi

Government of KP

12,386 次观看 • 9 个月前

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو کیش لیس اور ڈیجیٹل شہر بنانے کیلئے ایک اور اہم سنگ میل عبور چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے پاکستان کے پہلے مکمل کیش لیس کیے جانے والےہفتہ وار بازار H-9 کاافتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب میں ممبر فنانس، چیف آفیسر ایم سی آئی، سی ای او زندگی، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ سمیت کثیر تعداد میں صارفین اور تاجروں کی شرکت اسلام آباد کے سیکٹر H-9 میں قائم ہفتہ وار بازار میں باقاعدہ طور پر مکمل کیش لیس نظام کو نافذ العمل کردیا گیا چیئرمین سی ڈی اے کا سیکٹر H-9 ہفتہ وار بازار میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کا تفصیلی جائزہ چیئرمین سی ڈی اے نے ممبر فنانس اور چیف آفیسر ایم سی آئی کے ہمراہ سیکٹر H-9 بازار میں موجود اسٹالز سے کیش لیس طریقے کار کے مطابق ادائیگی بھی کی صارفین/ شہریوں کو ڈیجیٹل طریقہ کار کے مطابق ادائیگیوں پر خصوصی رعایات بھی فراہم کی جا رہی ہیں، بریفنگ کیش لیس نظام کو شہر کے تمام کمرشل مراکز اور شاپنگ سینٹرز، سمیت ہسپتالوں، ہوٹلوں، ریستورانوں اور اسلام آباد ائیرپورٹ پر بھی متعارف کروایا جارہا ہے، بریفنگ چیئرمین سی ڈی اے نے زندگی کے سی ای او نعمان، ایم سی آئی، مرکزی و کمرشل بنکس کے نمائندگان سمیت اسلام آباد انتظامیہ کے اقدامات کو سراہا وزیراعظم پاکستان اور وفاقی وزیر داخلہ کے وژن کے مطابق شہریوں اور صارفین کی سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس احسن قدم کا آغاز کردیا گیا ہے، چیئرمین سی ڈی اے ان اقدامات کا مقصد اسلام آباد کو پاکستان کا پہلا کیش لیس اور ڈیجیٹل شہر بنانا ہے، محمد علی رندھاوا کیش لیس نظام نہ صرف ای-گورننس کے ماڈل کو اپنائے گا بلکہ عوام کو آسان، محفوظ، تیز اور شفاف ترین ادائیگیوں کی سہولیات بھی فراہم کرے گا، چیئرمین سی ڈی اے اس نظام سے شہریوں/ صارفین کو لین دین میں نہ صرف آسانی ہونگی بلکہ دارالحکومت اسلام آباد میں کیش لیس معیشت کو بھی فروغ ملے گا، محمد علی رندھاوا اس جدید نظام کی کامیابی کیلئے بینکوں کو صارفین اور تاجروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات اور رعایت بھی دینا ہوگی، چیئرمین سی ڈی اے تمام اسٹال ہولڈرز کے لائسنسز اور نرخ نامے ڈیجیٹل بورڈز پر نمایاں طور پر آویزاں کئے جائیں، چیئرمین سی ڈی اے کی بازار انتظامیہ کو ہدایت چیئرمین سی ڈی اے نے کیش لیس نظام کے حوالے سے بھرپور عوامی آگاہی مہم چلانے کی ہدایت کی چیئرمین سی ڈی اے نے H-9 بازار میں خریداری کی عرض سے آئے ہوئے صارفین کو کیش لیس لین دین کے افادیت کے حوالے سے بھی آگاہ کیا کیش لیس نظام اور ڈیجیٹل ادائیگیوں سے لین دین کا بنیادی مقصد شہریوں اور تاجروں دونوں کو یکساں فوائد پہنچانا ہے، محمد علی رندھاوا ان اقدامات کا مقصد شہریوں کو کیش لیس و ڈیجیٹل نظام کے ذریعہ ہر قسم کے مالی لین دین کو محفوظ بنانا سمیت فراڈ و دھوکہ دہی سے بچانا ہے، چیئرمین سی ڈی اے سیکٹر H-9 ہفتہ وار بازار میں کامیابی کیساتھ کیش لیس نظام کو نافذ العمل کرنا تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے، محمد علی رندھاوا اسلام آباد کو بین الاقوامی شہر بنانے کے مقاصد کے حصول کیلئے یہ اقدامات انتہائی ضروری ہے، چیئرمین سی ڈی اے آئیے!! ہم سب ملکر اس تاریخی اقدام کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں اور اسلام آباد کو مکمل کیش لیس اور ڈیجیٹل شہر بنائیں، محمد علی رندھاوا

Capital Development Authority - CDA, Islamabad

22,136 次观看 • 10 个月前