Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ قلعہ بالا حصار ہے۔۔۔یا لاہور کا شاہی قلعہ ہے تو آپ غلط ہیں۔۔۔یہ سینیٹر دلاور خان کا گھر اور ڈیرہ ہے جو مردان میں واقع ہے۔۔۔سینکڑوں کنال پر مشتمل یہ قلعہ ایک ارب روپے کی لاگت سے بنایا گیا ہے جس میں دنیا...

171,190 views • 1 year ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مندوب نے پی ٹی آئی کی زبان بولی ہے ، آپ کو ماننا پڑے گا کہ ہم نے جو نشاندہی کی تھی وہ اب درست ثابت ہورہی ہے، اسرائیل امریکہ اور مغرب کے ہاتھوں کا ایک خنجر ہے جس نے فلسطین کی پیٹھ پر گھونپ کر مقدس سر زمین پر قبضہ کیا،بیت المقدس پہ قبضہ کیا اور عالمی قوتیں ایک ناجائز ملک کا تحفظ کر رہی ہیں، اسرائیل وہ ملک ہے جو قیام پاکستان کے ایک سال بعد 1948 میں وجود میں آیا،جس کے پہلے وزیراعظم نے خارجہ پالیسی پر پہلا پالیسی بیان دیا کہ اسرائیل کی خارجہ پالیسی کا اساس اور اس کا بنیادی ہدف دنیا میں ایک نو زائدہ مسلم ریاست (پاکستان) کا خاتمہ ہوگا،اسرائیل اپنے قیام کے بعد اپنی زندگی کا آغاز پاکستان کے خاتمے کے اہداف سے کرتا ہے اور پاکستان میں لوگ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مہم جوئی کر رہے ہیں،یہ وہ غلامانہ ذہنیت ہے جس کے خلاف ہم میدان عمل میں ہیں، یہ وہ جنگ ہے جو ہم لڑ رہے ہیں،یہ تہذیب کی جنگ ہے اور اس کے پیچھے سیاسی جنگ ہے، پھر اس کے پیچھے اقتصادی جنگ ہے۔اور ہم انشاءاللہ اسرائیل اور اس کے ایجنٹوں کا ہر محاذ پر راستہ روکیں گے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

202,641 views • 3 years ago

اللہ کا ماسٹر پلان کیا ہے؟ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ کیا یہ سب کچھ اتفاقاً ہو رہا ہے؟ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ کائنات، یہ ستارے، یہ زمین کچھ بھی بیکار یا کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا اللہ کا ایک ماسٹر پلان ہے،جس کا مرکز آپ اور میں ہیں۔ ہم یہاں کیوں ہیں؟ ہم یہاں ایک بہت بڑے مقصد کے لیے ہیں،اللہ نے انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا ہےیعنی ایک ایسا ذمہ دار، جسے اللہ نے عقل دی، شعور دیا اور سب سے بڑھ کر 'فری وِل' (اختیار) دیا تاکہ وہ اپنی مرضی سے سچ اور نیکی کا راستہ چن سکےہماری زندگی میں جو اتار چڑھاؤ آتے ہیں، جو دکھ اور تکلیفیں آتی ہیں، وہ اس ماسٹر پلان کا حصہ ہیں،یہ دنیا ایک ٹیسٹنگ گراؤنڈ (آزمائش گاہ) ہے،یہاں کا درد، یہاں کی خوشی، سب عارضی ہے،اصل مقصد یہ دیکھنا ہے کہ آپ ان حالات میں کیسا ردِعمل دیتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے:اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا، یہاں عبادت کا مطلب صرف سجدہ کرنا نہیں، بلکہ اللہ کی معرفت حاصل کرنا اور اس کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر اس دنیا کو بہتر بنانا ہے۔ تو جب بھی آپ کو لگے کہ زندگی بے مقصد ہے، تو یاد رکھیں کہ آپ اللہ کے ایک عظیم منصوبے کا حصہ ہیں، آپ کی تخلیق کوئی اتفاق نہیں ہے، آپ کو ایک مقصد کے لیے چنا گیا ہے

شبانہ شوکت

14,109 views • 8 months ago

مقدمات اور ان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے جو ہم آج بھگت رہے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہ سارا دباؤ اس وقت پیدا ہوا جب دنیا کے عظیم ترین کرکٹرز میں سے ایک، عمران خان کے حوالے سے معاملہ عالمی سطح پر گونج اٹھا۔ یہ دراصل کرکٹ کے میدان میں وہ جگہ تھی جہاں یہ آواز پوری دنیا میں گونجی۔ عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو کیا گیا، اور ان میں سے ایک بیٹے نے اپنے والد، پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان، کے ساتھ روا رکھے جانے والے انتہائی افسوسناک اور قابلِ رحم سلوک کی تفصیلات بیان کیں۔ وفاقی حکومت نے وزارتِ اطلاعات کے ذریعے جو نوٹ جاری کیا ہے، جس کا مقصد عمران خان کے بیٹوں کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو روکنا یا ان کا جواب دینا ہے، وہ حقیقتاً مضحکہ خیز ہے۔ درحقیقت، اگر آپ اسے حقائق کا مذاق، انصاف کا مذاق اور انسانی حقوق کی مکمل نفی کہیں تو غلط نہ ہوگا۔ یہ ان تمام بنیادی اور انسانی حقوق کی نفی ہے جن کی خلاف ورزی عمران خان کے ساتھ 2022 کے وسط سے مسلسل ہو رہی ہے۔سردار Sardar Latif Khosa

PTI

14,290 views • 29 days ago

کیا دہشتگردی ختم ہوگئی؟آپ اور ہم جس صوبے سے تعلق رکھتے ہیں، پورے طول و عرض پر آپ نظر ڈال لیں، کہیں پر امن ہے؟ اور صرف بدامنی کی بات نہیں کر رہا، بدامنی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ حکومتی رِٹ ختم ہو رہی ہے، پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ گیا ہے۔ لکی مروت میں، بنوں میں، ٹانک میں پولیس جو ہے، وہ آزاد ہو گئی ہے اور اس نے اپنی امن کمیٹیاں بنا لی ہیں، اور وہ وردی بھی نہیں پہن رہے، اور کانسٹیبل جو ہے، وہ خود اپنا نظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں۔ نہ کوئی ڈی پی او کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی ڈی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے۔ پرسوں ترسوں ہمارے بنوں کے ڈی آئی جی کی جو سیکیورٹی ہے، وہ ایک کانسٹیبل نے کِلوز کی ہے۔ ایک کانسٹیبل نے آرڈر دیا کہ سب یہ ڈیوٹی چھوڑ دو، آ جاؤ واپس۔ یہ حالت ہے! اب اس حالت میں ہم زندگی گزار رہے ہیں۔ کب تک ہم یہ زندگی اس طرح گزارتے رہیں گے؟ اور کہہ رہے ہیں کہ ہم ٹھیک کریں گے، ہم لڑیں گے۔ وہ ایک چڑیا ہے، وہ کہتا ہے: بلوچستان کےلئے تو ایک تھانیدار کی مار ہے۔ بس ،، تمہارے تھانیداروں کا کیا حشر کر دیا۔ تمہارے تھانوں کا کیا حشر کر دیا؟ کچھ تو حقائق کی طرف جاؤ۔ تو جب ہم حقائق کی طرف جائیں گے تو پھر ہم اس کے بعد مشاورت تو ہونا ہے۔ اب شہباز شریف بیچارہ وزیر اعظم ہے، پوری دنیا میں جاتا ہے، اور اگر وہ قابلِ قبول ہوگا تو آرمی چیف کو ساتھ لے کر جائے گا، ورنہ پھر اس کو کوئی ہاتھ بھی نہیں ملائے گا۔ بھئی، تم باہر جاؤ، تمہیں کوئی عزت دے، ہم اس کو پاکستان کی عزت کہیں گے، لیکن آپ کے ملک کے اندر کی سرزمین خون سے سرخ ہے اور تم باہر دنیا میں ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہو، کوئی احساس نہیں آپ کو؟ اسی سے گزارہ کر رہے ہو، کہ فلاں ملک پر آپ اتر رہے ہیں، ریڈ کارپٹس پر جا رہے ہیں، آپ کا استقبال ہو رہا ہے، بادشاہ آپ کا استقبال کر رہے ہیں۔ یہ ساری چیزیں ہیں۔ ہاں، کوئی جائز کام ہے، اگر آپ نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا، جمعیت اس کو سپورٹ کرتی ہے۔ اگر اس پر ترکی شامل ہو گیا، ہم سپورٹ کرتے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کا منشور ہے: ایک اسلامی بلاک کا قیام۔ اگر اور اسلامی ممالک اس میں شامل ہوتے ہیں، اور یہ درحقیقت اس طرف ایک قدم ہے کہ اسلامی دنیا امریکہ پر اپنا انحصار ختم کرے، اور باہم یہ اپنی قوت کو مجتمع کرے، تو اگر کوئی ایسی بات ہوتی ہے تو ہم نے تو اختلاف نہیں کیا۔ اختلاف برائے اختلاف نہیں ہو رہا، ورنہ ہم یہاں بھی اختلاف کرتے ہیں۔ تو آپ کیوں جا رہے ہیں؟ آپ تو نمائندے نہیں ہیں پاکستان کے، آپ کی حکومت تو جعلی ہے اور واقعی جعلی ہے، اس میں بھی کوئی شک نہیں۔ اور پھر اقلیت حکومت کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ نہیں ہے، صرف آئینی عہدے لئے ہوئے ہیں ۔ گلگت میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، مقابلہ ہے ان کا۔ کشمیر میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، بھرپور بول رہے ہیں۔ اور اسمبلی میں آ کر بیٹھتے ہیں تو پہلے اختلاف کرتے ہیں، پھر جب ووٹ کا وقت آتا ہے،،،،،،،،،،،،،،، اس قسم کی ایک سیاست ہے جو ملک کے اندر چل رہی ہے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

14,527 views • 1 month ago

یہ لاہورئیے تو آزادی کے نام پر پاگل ہی ہو گئے ہیں اور گھر میں قید ہونے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ گلی محلے تو ایک طرف رہے پچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے ڈیفنس سے گلبرگ مین بلیوارڈ پہنچنے کی کوشش کر رہا ہوں اور صرف لونڈے لپاڈے نہیں ہیں بلکہ فیملیز ہیں۔ خواتین اور بچوں کی سبز اور سفید کمبی نیشن میں ڈریسنگ دیکھنے والی ہے۔ اس بار آزادی کے جشن کا جوش زیادہ لگتا ہے۔ باقاعدہ میلے کا سماں ہے اور اس کی وجہ معرکہ حق کے میں بھارت کی شکست کے بعد مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی ہو سکتا ہے کہ پاکستان پر مان بڑھا ہے، پاکستانیوں کی امید بڑھی ہے۔ بے شک یہ جشن اور یہ وارفتگی سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہے مگر ان کی موت ضرور ہے جو مایوسی، ناکامی، نفرت اور فساد کے بیوپاری ہیں۔ میں جن لوگوں کو دیکھ رہا ہوں وہ مایوس اور نامراد نہیں ہیں۔ جوش اور امنگ سے بھرے ہوئے ہیں۔ ان کے انداز میں کوئی معذرت خواہی نہیں ہے۔ آپ اسے ہلڑ بازی بھی کہہ سکتے ہیں اور جوش و خروش بھی۔ میرے ارد گرد گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کا سیلاب ہے۔ خصوصی ملبوسات ہیں، بڑے بڑے پرچم ہیں اور باجے بھی ہیں۔ یہ ایک زندہ قوم ہے۔

Najam Wali Khan

12,410 views • 1 month ago

کبھی نواز شریف قیدی تھے تو آج عمران خان قیدی ہے~~ اپنے جیسے انسانوں پر حاکم بننے کے جنون میں مبتلا یہ سب—بے شک پھانسی لگیں ،گولیاں کھائیں، جیلیں یا جلاوطنی ۔۔نے ہزاروں سال کی انسانی تاریخ میں اپنے جیسے حکمرانوں کے عروج و زوال سے کچھ نہیں سیکھا۔ ان سب حاکموں کا ہزاروں سال سے ایک جیسا تکبر اور ایک جیسا غرور۔۔ ہر ایک کو اپنے اپنے عروج پر لگتا ہے کہ اپن ہی بھگوان ہے جیسے آج شریف خاندان کے حکمرانوں کو لگتا ہوگا ویسے کبھی عمران خان کو بھی لگتا تھا۔ اپنے جیسے انسانوں کی زندگیوں پر مکمل اختیار اور پاور رکھنا ایک خطرناک انسانی جبلت اور نشہ ہے اور اس کے نتائج اتنے ہی خطرناک نکلتے ہیں جتنا آپ کا اقتدار کےلیے جنون۔ یہ صرف عمران خان کی بات نہیں ہورہی یہ انسانوں کی ہزاروں سال تاریخ کا نچوڑ ہے۔ حاکمیت، طاقت اور اقتدار خدا کی طرف سے بہت بڑی آزمائش ہوتی ہے، عیاشی نہیں جسے ہمارے جیسے ملک میں سمجھ لیا گیا ہے۔۔ وہ سب جو مشکل میں ہیں یا قید میں ہیں ان کی آسانی کے لیے دعا گو ہیں۔ ۔

Rauf Klasra

21,277 views • 7 months ago

🚨🚨 مریم نواز صاحبہ، یہ ایک عورت پر تشدد کا واقعہ ہے۔ اس کی انکوائری کروائیں۔ شفقت عباسی پی ٹی آئی کا ایم این اے ہے اور ایک بدمعاش کی مدد کے لیے آگیا ہے۔ میں نے میانوالی سے پتا کیا ہے کہ مرسلین خان ایک بدمعاش غنڈا ہے۔ وہ اور اس کا بیٹا اپنی بہو کو مار رہے تھے اسے گھر میں بند کر رکھا تھا ۔ اس نے 15 پر کال کی تو پولیس فوری آئی اور انہیں نے مزاحمت کی پولیس پر حملہ کیا جس پر اسے تھانے لے گے تھانے میں اس نے اپنے کپڑے اتار کر شرمگاہ پکڑی اور پولیس سے کہا: میرا یہ دیکھو، تم نے ہمارے گھر کے معاملے میں مداخلت کیوں کی؟ پھر گالی گلوچ شروع کر دی۔ جھگڑا ہوا تو تھانیدار نے پکڑ کر اس کی مونچھیں مونڈ دیں۔ یہ تھانے کی ویڈیو ہے، اس کی گالی گلوچ سنیں۔ مرسلین کا قبیلہ اور برادری میانوالی میں طاقتور ہے، اس لیے سب اس کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ ڈی ایس پی نے ایس ایچ او کو معطل کر دیا اور وہ مظلوم عورت جس پر تشدد ہوا، اس کی جان خطرے میں ہے۔ یہ ہے پنجاب میں عورت کی اوقات۔

RAShahzaddk

14,220 views • 4 months ago