Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

خیبر پختونخوا پولیس سے پُرزور گزارش ہے کہ اس افسوسناک واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، ملوث عناصر کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور قانون کے مطابق انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی ایسی حرکت کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔

25,522 views • 2 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

پولیس اطلاع عام تمام تھانوں اور متعلقہ اداروں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ ملزمان سعد رضوی ولد خادم رضوی اور انس رضوی ولد خادم رضوی اس وقت لاہور اور شیخوپورہ کے نواحی علاقوں میں مفرور ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دونوں ملزمان کے پاس لوٹ کھسوٹ اور نا جائز آمدن اور چندوں سے جمع کئے گئے چالیس تولہ سونا اور تقریباً چار کروڑ روپے کی نقد رقم بھی ہمراہ موجود ہے۔ یہ رقم اور سونا دونوں ملزمان کے پاس مریدکے بلوے کے بعد فرار ہوتے وقت ساتھ تھی یہ رقم اور سونا اس کے علاوہ ہے جو ملزمان کے گھروں سے اس سے پہلے برآمد ہوئی تھی۔ شہریوں سے گزارش ہے کہ اگر کسی کو مذکورہ ملزمان کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع ہو تو فوری طور پر قریبی تھانے یا پولیس ہیلپ لائن پر اطلاع دی جائے۔ اطلاع فراہم کرنے والے شہری کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا، اور اسے سرکاری کاروائی کی تکمیل کے بعد دس تولا سونابحکم سرکار بطور منظور انعام کے طور پر دینے کی سفارش بھی کی جائے گی۔

Iram (Summan) Dar ♌

80,382 views • 11 months ago

#JusticeForIqra سرگودھا کی معصوم گھریلو ملازمہ اقراء پر بد ترین تشدد، 43جنوبی میں کہرام مچ گیا والدہ پر غشی کے دورے ۔ نواحی علاقہ 43جنوبی کی اقرا کے والد نے بتایا کہ بچی راولپنڈی اسلام آباد کے ایک تاجر عبد الرشید کے گھر ملازمہ تھی دو سال پہلے سے وہاں کام کرنے والی 15سالہ بچی کو محض چاکلیٹ گم ہونے کا الزام لگا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس کے سر ، بازوں ، ٹانگوں اور چہرے کو تیز دھار آلہ سے کاٹا گیا بازو ٹانگیں توڑی گئیں۔ باپ ثناء اللہ خود دو بچوں کے ساتھ منڈی بہت دن کے گاؤں میں ایک زمیندار کے گھر پر کام کرتا ہے غربت کے باعث اس نے اپنی بیٹی اقرا کو اسلام اباد میں ایک تاجر کے گھر پر چھوڑا لیکن ان ظالموں کی طرف سے اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے بچی جان کی بازی ہار گئی ثنا اللہ کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے ان ظالموں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی عمل میں لائیں اور ان کی فوری گرفتاری بھی کی جائے غریب ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ اس طرح کا بہمانہ تشدد بھی کوئی انسان کر سکتا ہے اس کو بتانا تھا کہ بچی کو شدید اذیت دیتے ہوئے اس کے جسم پہ کٹ لگائے گئے جسے دیکھنا بھی اس کے لیے مشکل ہو رہا ہے اس کا بتانا تھا کہ پولیس کی طرف سے اسے راولپنڈی بلایا گیا جہاں پر ہسپتال میں اسی انکھوں کے سامنے اس کی لختہ جگر نے دم توڑ دیا لیکن یہ بے بس اور بیچارگی کے عالم میں اپنی بیٹی کی ڈیڈباڈی اٹھا کر سرگودھا اگیا ہے اس کا مطالبہ ہے کہ ملزمان کو گرفتار کیا جائے سرگودہ کے نواحی علاقہ 43 جنوبی میں بچی کی تدفین کا عمل جاری ہے

Shehr Bano Official

39,229 views • 1 year ago