Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

خیبر پختونخواہ اور خاص طور پر وزیرستان کے لوگ جہنم میں زندگی گزار رہے ہیں،ایک طرف فوج اور دوسری طرف فوج کے پالتو طالبان بندوق لئے کھڑے ہیں اور اس نوجوان کو طالبان نے اسلئے اغواء کیا ہے کہ اس نے کمسن کرکٹر بچی آئینہ وزیر کی وڈیو بنائی...

20,379 Aufrufe • vor 6 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

اس مہینے کے شروع میں فتنہ الخوارج کے خلاف آپریشن میں شہید ہونے والے کیپٹن حمزہ یہ ویڈیو آپریشن غضب للحق کی ہے جب کیپٹن حمزہ اور پاک فوج کے بہادر جوانوں نے طالبان کی چیک پوسٹ اپنے قبضے میں لی۔ ہمارے جوان طالبان کے جھنڈے کو بھی عزت دے رہے ہیں۔ کیوں؟ صرف اس لیے کہ اس پر کلمۂ لکھا ہوا ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں: “اسے عزت سے اتاریں، زمین پر نہ گرنے دیں” یہ ہے پاک فوج کا اصل چہرہ۔ یہ ہے اسلام کا حقیقی روپ۔ وہ دشمن کے جھنڈے کو بھی صرف اس لیے احترام دیتے ہیں کہ اس پر اللہ کا کلمہ ہے۔ اب دوسری جانب ٹی ٹی پی اور طالبان اسلام کا نام استعمال کرتے ہیں، مساجد اور قرآن کا سہارا لیتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ ہیں خوارج ہمارے جھنڈے کی توہین، ہمارے شہیدوں کی لاشوں کی بے حرمتی، بے گناہ مسلمانوں کا قتل ۔ فرق بالکل صاف ہے : ایک طرف فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی اور طالبان دہشتگرد ہیں جو اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کا خون بہاتے ہیں ۔ دوسری جانب پاکستانی فوج ہے جو حقیقی اسلام کی تصویر ہیں ۔ حتیٰ کہ دشمن کے کلمے والے جھنڈے کو بھی زمین پر نہیں گرنے دیتے۔

Pakistan Defence🇵🇰

28,645 Aufrufe • vor 6 Tagen

افغان طالبان کے مابین پالیسیوں پر پیدا اختلافات سنگین ہمیں مذہب پر اجارہ داری نہیں کرنی چاہیے، سراج الدین حقانی کی ملا ہیبت اللہ پر تنقید ایک جلسہ عام میں طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے اس گروپ کے سربراہ ملا ہیبت اللہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا: ’’آپ کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ چونکہ میں حکمران ہوں، اس لیے سب کو میری بات مان لینی چاہیئے، "آپ خدا کے سامنے ذمہ دار ہیں اور خدا آپ سے پوچھے گا۔" کسی مخصوص شخص یا گروہ کا ذکر کئے بغیر انہوں نےکہا: "ملا اور طالب کے اس لقب کو بدنام نہیں کیا جانا چاہیے۔ آج مسئلہ یہ ہے کہ علماء پر اس حد تک بہتان تراشی کی جاتی ہے کہ لوگ ان کے دین کو نقصان پہنچنے سے ڈرتے ہیں۔ انہوں نے طالبان کے بعض اندرونی رویوں پر بھی تنقید کی: "مذہب کی نمائندگی ایسی نہیں ہونی چاہیے کہ ہم صرف اپنے لیے حق محفوظ رکھیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم لوگوں کو دین کی طرف دعوت دیں اور ان کو قریب کریں، جس طرح نبیﷺ نے عفو و درگزر سے لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کیا۔ طالبان کے ماضی اور حال کے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے حقانی نے کہا: ’’ہماری قوم نے مشکل آزمائشوں کا سامنا کیا ہے اور یہ مذہب لوگوں کی قربانیوں اور قربانیوں سے اس مقام تک پہنچا ہے۔ ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ اگر لوگ ہماری پیروی نہ کریں تو آسمان زمین پر آجائے گا۔ حقانی نے مزید کہا: "ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ لوگ کرپٹ ہیں اور ہمیں ان کی اصلاح کرنی چاہیے اور انھیں ارتداد سے بچانا چاہیے، کیونکہ ہم حکمران ہیں۔" طالبان کے وزیر داخلہ نے زور دے کر کہا کہ اگر لوگ کفر اور بدعنوانی کے قریب آتے ہیں تو یہ حکمرانوں کی کمزوری اور کوتاہی کو ظاہر کرتا ہے۔

The Khyber Chronicles

11,453 Aufrufe • vor 1 Jahr

ڈرامے بازیاں کرنے کے بجائے پاکستان سیدھا سیدھا اعلان کردے کہ ہم اسرائیل کو تسلیم کررہے ہیں #ہمارا_مقدر_17ستمبر فلسطین کے مسئلے کے حل کے لئے میں نے پہلے ہی کہاتھا کہ دوریاستی حل کومان لیا جائے اور اس پر عمل کیا جائے لیکن سپر طاقتوں کے دباؤ پر خاموشی اختیارکرلی گئی لیکن آج ٹرمپ سے گلے مل کے، جھپیاں ڈال کے اورسعودی عرب سے معاہدہ کرکے وہی کام کیا جارہا ہے۔سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ کرکے بہت خوشیاں منائی جارہی ہیں اور عوام کو سبزباغ دکھائے جارہے ہیں کہ جیسے اس معاہدے سے ملک میں دودھ کی نہریں بہنےلگیں گی۔اتنی ڈرامے بازیوں کی کیا ضرورت ہے، سیدھاسیدھا اعلان کردیں کہ ہم فلسطین کے دیرینہ مسئلہ کے حل کے لئے دوریاستی حل کے حامی ہیں، ہم ایٹمی طاقت ہیں اور اسرائیل کوبھی تسلیم کررہے ہیں۔ عوام خودغورکریں کہ کیا سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ ڈونلڈ ٹرمپ کی رضامندی کے بغیرہوسکتاہے؟ سعودی عرب سے دفاعی معاہدے کے بعد آج کل صدرٹرمپ سے معاشقہ چل رہا ہے ،صدرٹرمپ سے بغل گیر ہواجارہا ہے اوریہ وہی معاشقہ ہے کہ جیسے کوئی نیانیاجوان اپنی محبوبہ کو خوش کرنے کےلئے چاند تارے توڑ کرلانے کا یقین دلاتا ہے اوردونوں ایک دوسرے سے محبت کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ آج بڑے بڑے دعوے کئے جارہے ہیں اوربڑے فخر سے کہاجا رہا ہے کہ ہماری فوج تو پہلے سے ہی سعودی عرب میں موجود ہے۔سوال یہ ہے کہ آپ کی فوج نے 78برسوں میں سوائے کرائے کی فوج کے کیا کوئی ایک کام ایسا کیا ہے جس پر آپ فخر محسوس کرسکیں؟ البتہ ایک ایسا کام ضرور کیا ہے کہ جوتاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ 93ہزار کی تعداد میں فوج نے سرینڈر کیا۔ آپ نے سینہ تان کر ہمیشہ اپنے ہی ملک کے نہتے لوگوں پر چڑھائی کی ہے، آپ اپنے ہی شہریوں کے گھروں میں گھس کرمظلوم لوگوں کوغائب کردیتے ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہم فرعون، نمرود، شداد، ہامان کو ظالم سمجھتے ہیں لیکن ہماراعمل یہ ہے کہ گزشتہ دوسال سے غزہ میں مظلوم فلسطینیوں پر ظلم ہورہا ہے اور 57 اسلامی ممالک اس ظلم وبربریت پر خاموش ہیں اور زبانی کلامی مذمت تک محدود ہیں ۔ ہماراحال یہ ہے کہ ہم غزنوی اورغوری نام کے میزائل توبناتے ہیں لیکن غزنوی اورغوری کے افغانستان کودشمن کہتے ہیں اور اس پر حملہ کرنے کی باتیں کرتے ہیں۔ ہماری فوج ان کی باقیات ہے جنہوں نے1757ء سے 1857ء تک یعنی 200سال تک انگریزوں کی خدمت گاری کی ہے،جن کی رگ رگ میں یہ خدمت گاری سمائی ہوئی ہے۔ اردن میں ضیاالحق کی سربراہی میں پاکستان کی فوج نے ہزاروں فلسطینی نوجوانوں، بزرگوں، عورتوں اوربچوں کا قتل کیا،اس قتل عام کو ”بلیک ستمبر“ کےنام سے یاد کیا جاتا ہے۔ صومالیہ میں انہوں نے قتل کیا،یمن میں یہ موجود ہیں۔ فوج نے روس اورامریکہ کی جنگ کو کفرو اسلام کی جنگ بنادیااوریہ دلیلیں دیں کہ روسی اللہ کونہیں مانتے ، وہ کافر ہیں اور امریکی اہلِ کتاب ہیں، ہمارے بھائی ہیں۔ آج بھی ''ابراہیم اکارڈ '' کی بات ہورہی ہے۔ فوج نے روس اورامریکہ کی جنگ میں جہاد کے نام پر پشتونوں کواستعمال کیا، جہادی مدرسے قائم کئے، مجاہدین اور طالبان بنائے۔ میں نے اسی وقت خبردار کیا تھا کہ آپ جو طالبان بنارہے ہیں یہ مونسٹر بن جائیں گے اور ایک دن آپ ہی کو کھائیں گے۔آج وہی طالبان، فوج پر ہی حملے کررہے ہیں اوردوسری طرف فوج طالبان کو'' خوارج '' قرار دے کرمارہی ہے۔ یہ طالبا ن فوج نے ہی تیار کئے تھے تو اب فوج انہی طالبان کو کس لئے ماررہی ہے؟ ان کی سرپرستی کس نے کی تھی؟ آرمی پبلک اسکول میں 150سے زائد بچوں اوراساتذہ کے سفاکانہ قتل میں ملوث طالبان کا دہشتگرد احسان اللہ احسان فوج کی کسٹڈی میں تھا وہ فوج کی حراست سے کیسے فرار ہوگیا؟ الخوارج کوبعد میں ماریں ، پہلے آرمی پبلک اسکول کے ڈیڑھ سوسے زائد بچوں اوراساتذہ کوقتل کرنے والے طالبان اوران کی سرپرستی کرنے والے فوجیوں کوسرعام لٹکایاجائے۔ الطاف حسین لندن میں 72ویں سالگرہ کے اجتماع سے خطاب 27،ستمبر 2025

Altaf Hussain

62,421 Aufrufe • vor 11 Monaten