正在加载视频...

视频加载失败

خیبرپختونخوا کے نئے پولیس ایکٹ میں اگر وفاق سے کوئی اختیار واپس لینے کے منظوری ہوئی تو یہ ازخود null and void ہو جائے گا۔ کوئی صوبائی حکومت، وفاق سے IG Police لگانے کا اختیار واپس نہیں لے سکتی۔ یہ پولیس ایکٹ عدالت میں بھی چیلنج ہو سکتا ہے...

34,145 次观看 • 3 天前 •via X (Twitter)

14 条评论

Mohammad Ashraf khan 的头像
Mohammad Ashraf khan3 天前

تم صحافی ہو یا مسلم لیگ نی کی ترجمان یا پی ٹی آئی کی دشمن ؟

Anahita 的头像
Anahita3 天前

غیر سیاسی پنجاب پولیس؟ کس قانون کے تحت کس جرم میں شہریوں کو گھروں میں گھُس کر گرفتار کیا جارہا ہے؟

XCapitalTrades 的头像
XCapitalTrades3 天前

Chal kutiya

AD 的头像
AD3 天前

اور جو ترمیم لیکر سب اختیار صاحب کو دیدیا ہے اس پہ کوئی رائے میڈم کی

sardar g 的头像
sardar g3 天前

ایک نام نہاد وکیل جو بشری بی بی کے کردار کی دھجیاں اڑاتا تھا اور نواز لیگ والے اسے مکرر مکرر کہہ کر داد دیتے تھے ، کیا آج اسی وکیل کی جانب سے دوسری عورت کے نکاح کو متنازعہ بنانے پر بھی ن لیگ والے یونہی داد دیں گے؟

Abdur Rafay 的头像
Abdur Rafay3 天前

What a so called professional journalism???... Calling someone into a program, having no people support and mandate... Even lost seat from constituency in last general elections!!!!!.

Solix 的头像
Solix3 天前

Islamabad kiu Bmad kia ja raha hai? Kiu k Tum Jaisi Jahil Aor Ghtya Aorat ny kaha tha K Imran Khan khtamshud mgr ghtya aorat Ab Kutty ki tarh bhonk rahi hai

𝗜𝗺𝗿𝗮𝗻'𝘀 𝗥𝗲𝗽𝗹𝗶𝗰𝗮😘 的头像
𝗜𝗺𝗿𝗮𝗻'𝘀 𝗥𝗲𝗽𝗹𝗶𝗰𝗮😘3 天前

Kpk politicians are not safe in Punjab, they are arrested on gun points. Who gave this permission to police in the first place? There should be greater provincial autonomy

Waseem Ahmad Shah 的头像
Waseem Ahmad Shah3 天前

ابھی ایکٹ بنا نہیں اور آپ نے ختم شد کر دیا۔ مجوزہ مسودہ نہ آپ نے پڑھا نہ رانا ثنا نے اور تبصرے شروع کر دیے۔

سردار رحمان خان 的头像
سردار رحمان خان3 天前

تحریک انصاف ریاست کے اندر ایک ریاست بنانے کے چکر میں لگی ہے

sajid khan 的头像
sajid khan3 天前

کیا ڈرامہ سین ھے یہ بھی چول ھے کسی صوبائ پارلیمان کے فیصلے کو بل کو جو ائین قانون سے بالاتر نہ ھو کیسے بل کے زریعے ھٹاۓ گا یہ جموریت نہی سب سے بڑا بلنڈر ھوگا کیسے کیسے لوگ پالے ھے سیدھا کہدے یہاں نہ قانون ھے نہ ائین ھے 🤣🤣🤣

Muhammad Nouman 的头像
Muhammad Nouman3 天前

Aap itnay qanoon k mahir hain per wo preamble kia kehta hai wo kiun bhula baithay hain ❗ Is level ki mafaad parasti kbhi daikhnay sunnay ko nhi milii

Arham 的头像
Arham3 天前

یہ صوبے کا اپنا حق ہے تمہیں کیوں آگ لگ رہی ہے

sajid khan 的头像
sajid khan3 天前

اٹھارھویی ترمیم کے بعد وفاق کچھ نہی کرسکتی البتہ کورٹ میی چیلنج ھوسکتی ھے وہ تو ہر قانون ترمیم چاھے وفاقی صوبائ ھو چیلنج ھوسکتی ھے باقیطسب ریٹینگ اوت ڈرامے ھے

相关视频

چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے دو سرکاری لگژری گاڑیاں حکومت کو واپس کر کے کفایت شعاری کی عمدہ مثال قائم کی ہے، اب دیکھیں دوسرے حکومتی اور ریاستی ادارے و عہدیدار بھی اپنی لگثری گاڑیاں بھی واپس کرینگے یا چیف جسٹس کی واپس کی ہوئی گاڑیوں پر قبضہ جما لینگے۔ چیف جسٹس نے ایسی مہنگی گاڑیاں واپس کر کے درست کام کیا مگر ساتھ میں حکومت کو اِن گاڑیوں کے بیچ کر اس سے حاصل کردہ رقم پبلک ٹرانسپورٹ میں لگانے کا حکم اختیارات سے تجاوز اور عدلیہ کی جانب سے حکومتی معاملات میں براہ راست مداخلت ہے۔ چیف جسٹس کا گاڑی واپس کرنے کا انتظامی اختیار ہے اور اِس اختیار کو استعمال کر کے وہ حکومتی اداروں کو احکامات جاری نہیں کر سکتے۔ واپس کردہ گاڑیوں کا کیا استعمال ہونا ہے یہ فیصلہ حکومت کر سکتی ہے اور اُس پر عوام، سیاسی جماعتیں، میڈیا اور سول سوسائٹی حکومت کی جواب طلبی کر سکتی ہے۔ اگر چیف جسٹس نے حکومت کو انتظامی طور پر ھدایات دینا شروع کر دی تو پھر یہ ویسا ہی ہو گا کہ جیسے ماضی میں جسٹس فیصل عرب نے ملک ریاض کی طرف سے قابلِ ادا 460 ارب روپے کے سندھ میں ترقیاتی کاموں میں استعمال کے لئیے ایک عدالتی کمیشن بنا دیا تھا جسکا سربراہ چیف جسٹس فائز عیسی نے لگانے سے انکار کر دیا کہ یہ حکومتی معاملات میں مداخلت ہو گی۔ چیف جسٹس کو واپس کردہ گاڑیوں کے استعمال سے متعلق اپنی انتظامی احکامات واپس لینا چاہئیں وگرنہ پھر چیف جسٹس کے انفرادی سو موٹو اختیارات پر پارلیمنٹ کیطرف سے لگائی گئی پابندی بھی غیر مؤثر ہو جائیگی اور ہم ثاقب نثار کے تاریک دور میں واپس چلے جائینگے۔

Matiullah Jan

163,333 次观看 • 2 年前

💥ستائیسویں آئینی ترمیم مارشل لاء سے کہیں ذیادہ خطرناک ہے۔یہ جرنیلوں کی بادشاہت کا اعلان ہے ۔ 127 سالا پرانا برٹش انڈیا کا قانون مجسٹریٹ نظام آ جائے گا ۔ اسٹینٹ کمیشنر،ڈپٹی کمیشنر،اور کمیشنر کو اختیار ہو گا کہ،وہ ہم میں سے کسی کو بھی کسی بھی وجہ سے دو سال کے لیے قید کر سکے گا۔اور ہمارے پاس اپیل کا حق نہیں ہو گا۔ آرمی چیف کو ہٹانا ناممکن ہو گا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر جو پریس کانفرنس کرتا ہے یہ چارج شیٹ بنا رہا ہے اس چارج شیٹ کے نام پر قومی مفاد کے نام پر کوئی بھی حکومت ختم۔اور آپ عدالت نہیں جا سکیں گے ۔ الیکشن کمیشن کے اختیارات ختم بظاہر جو بھی الیکشن ہو لیکن منتخب نام اوپر سے آئیں گے اس ترمیم کے بعد صوبائی حقوق ختم۔ اس ترمیم کے بعد بنیادی انسانی حقوق ختم۔ اس ترمیم تنام سیاسی جماعتوں کو ملکر روکنا ہو گا مزاحمت کرنی ہوگی ۔اس ترمیم کے خلاف جو نقصان ہو گا وہ اس نقصان نمک کے برابر بھی نہیں ہے جو اس ترمیم کے بعد ہو گا اس جرنیلی بادشاہت کے خلاف آواز اٹھانی ہو گی ۔

Rodium-A

136,106 次观看 • 10 个月前

ہم جس حال میں خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہے ہیں، کوئی ہمیں حکومت کرنے کے لیے چھوڑ بھی نہیں رہا . صوبے کے چیف منسٹر کو اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرنے دیا جا رہا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کو نہیں روکا جا سکتا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کی جا سکتی ہے۔ عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور ایک منتخب چیف منسٹر اس سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ کیا پاکستان کسی ضابطے اور اصول پر چلتا ہے نہیں، یہ صرف ڈھنڈے سے چلتا ہے۔ ظلم اور ڈھنڈے کا یہ نظام ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے۔ اس ملک میں اگر ہم نے رہنا ہے تو قانون اور آئین کے تحت رہنا ہے۔ یہ جو ظلم ہو رہا ہے، یہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں ہو رہا، عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عوام سے ان کے ووٹ کا حق چھینا گیا، یہ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا ہے کہ ہم نے کس کو ووٹ دینا ہے۔ ووٹ ڈالنے والے سے ووٹ گننے والا اہم ہے۔ اگر کسی ممبر عوامی نمائندے کو معلوم ہو کہ اس کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں، تو کیا وہ آپ کی بات مانے گا۔ عوام کے پاس ووٹ کا حق ہے تو آپ کا نمائندہ آپ کی قدر کرتا ہے۔ ابھی جو ہری پور ضمنی انتخابات میں ہوا ہے، ووٹ کسی اور کو پڑا اور رکن کوئی بن گیا۔ فارم 45 کے مطابق سب کچھ ٹھیک ہے، لیکن کمپیوٹر پر بیٹھا آدمی اپنی مرضی کا ڈیٹا فیڈ کر رہا ہے۔ کس قسم کی عدالت، کس قسم کی الیکشن کمیشن، عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کیا گیا ۔

Asad Qaiser

16,009 次观看 • 8 个月前