Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

دس سال کی سزا بتاتی ہے خان پہلے دن سے سچ بول رہا تھا اور جھوٹ کون کون بولتا رہا آپ کے سامنے ہے ۔۔ “مسئلہ یہی ہے کہ دنیا چاند پر پہنچ گئے اور ہمارے یار لوگ ابھی تک بھٹو کے دور میں جینا چاہ رہے ہیں”

318,021 görüntüleme • 2 yıl önce •via X (Twitter)

7 Yorum

روبینہ عشرت profil fotoğrafı
روبینہ عشرت2 yıl önce

آپ نےنوٹ کیاکہ اتوار کو خان صاحب کی کال پرملک بھرسےلوگ نکلےکمپنی کو پھر منہ کی کھانی پڑی لوگوں کوڈرنے دھمکانےکاکوئی فائدہ نہ ہوا نہ خان صاحب ٹوٹ اسلئے اگلےہی دن رات 12بجے تک عدالت لگا کرسزا دےدی گئی کہ لوگوں کومایوس کرنےکا آخری حربہ استعمال کرکےدیکھ لیاجائے #ووٹ_صرف_عمران_کا

HinaBHALWANA profil fotoğrafı
HinaBHALWANA2 yıl önce

رات بہت دیر تک خان صاحب کو ڈیل کےلیے قاٸل کرتے رہیے لیکن وہ نہیں مانا اور پھر سزا تو بنتی تھی کیونکہ غلامی جو نہیں کی۔ #ووٹ_کرے_گا_میرا_فیصلہ

Anees Khan Tareen profil fotoğrafı
Anees Khan Tareen2 yıl önce

یہ آج بھی 80 کی دہائی میں جی رہے ہیں، انکی غلطی نہیں اتنا دماغ ہوتا تو ڈفرز کیوں کہلاتے.

NOMAN RAJPUT⚔️🛡️ profil fotoğrafı
NOMAN RAJPUT⚔️🛡️2 yıl önce

@naveedtfw عمران خان کو آج سزا تو سنا دی گئی لیکن اس سزا نے عمران خان کے بیرونی مداخلت والے بیانیے پر مہر لگا دی ہے عمران خان سچا تھا اور بیرونی مداخلت #CipherCase حقیقت تھی۔

Junaid Ahmad 🌻 profil fotoğrafı
Junaid Ahmad 🌻2 yıl önce

ایک دفعہ پھر اس جھوٹے جرنیل کو دیکھیں، پھر چیف کے جھوٹ سنیں اور پھر عدالت کا فیصلہ دیکھیں، سارا تماشہ خود ہی سمجھ آجائے گا ان جرنیلوں کے لئے عوام کیڑے ہیں، بلڈی سویلینز ہیں اور یہ جسے چاہیں کوئی بھی سزا سنا دیں، اب یہ نہیں چلے گا، ۲۵ کروڑ عوام کو مار بھی دین تب بھی ایک دن موت آئے گی اور قبر کی سختیوں میں تمام پاکستانیوں کی بددعائیں شامل ہوں گی

Syed Naqvi profil fotoğrafı
Syed Naqvi2 yıl önce

یہ سزا ان کے گلے پڑے گی انشااللّہ

Rao Tanveer profil fotoğrafı
Rao Tanveer2 yıl önce

قرآن پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھا کر بھی جھوٹ بول رہا تھا اور اب مزے کر رہا ہے 12 ارب ڈالر جو لے گیا 🤣

Benzer Videolar

سوال: اچھا مولانا صاحب ملک کے بہتر مفاد میں آپ عمران خان سے بھی مل سکتے ہیں ان کو شامل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں؟ جواب: دیکھیے ہر چیز باوقار انداز سے ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ دس بارہ سال ہم ایک دوسرے کے بڑے مد مقابل رہے ہیں اور ہمارے بڑے تحفظات ہیں اور ان کو اگر دور کیا جاتا ہے تو ہم سیاسی لوگ ہیں مذاکرات سے بھی انکار نہیں کریں گے اور مذاکرات کے لیے اگر ماحول بنتا ہے تو اس کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے ہم کوئی مستقل جھگڑے اور جنگ اور تلخیاں اس کو باقی رکھنا نہ ملک کے مفاد میں سمجھتے ہیں نہ ہمارے سوسائٹی کے مفاد میں ہے۔ سوال: آپ کی طرف سے ویلکم ہے عمران خان کے لیے۔۔ تو یہ ذرا واضح کیجیے گا اگر آپ کو ضرورت پڑتی ہے یا۔۔۔۔ جواب: میرے پاس ان کے دو وفود آئے ہیں اس کے باوجود ان کے لوگ جو ہیں وہ مجھے مسلسل مل رہے ہیں چاہے آف دی ریکارڈ مل رہے ہیں یا میڈیا کے سامنے بھی مل رہے ہیں تو ملتے ہیں اور یہی گفتگو چل رہی ہے کہ آپس کے جو تحفظات ہیں کس طرح ان کو دور کرنے کے لیے ماحول بنایا جائے۔ سوال: مولانا صاحب ابھی آپ نے فرمایا کہ 10 12 سال کی تلخیاں تھی اب آپ سیاسی طور پر کہہ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ دروازے کھلے رکھتے ہیں تو جو سب سے زیادہ پچھلے سات آٹھ سالوں میں آپ کی طرف سے الزام کہ یہ یہودی لابی ہے تو یہ سیاسی تلخیاں ختم ہوں گی تو آپ ان کو یہودی لابی سے مسلمان لابی میں کیسے دیکھیں گے؟ جواب: یہ بات ذہن میں رکھے اگر ہم نے برصغیر کی سیاست میں کسی کو انگریز کا ایجنٹ کہا ہے یا ہم نے عالمی سطح پر کسی کو امریکہ کا ایجنٹ کہا ہے تو یہ عنوان ہے یہ گالی نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو عالمی سطح پر ایک ورلڈ وائڈ جو ایکنامک نیٹ ورک ہے اور اس کے اوپر جو جیوش کی ایک بالادستی ہے جب میں دیکھوں گا کہ میرے ملک کو بھی اس نیٹ ورک کے اندر ڈالا جا رہا ہے اور یہاں پر میں سود کے خاتمے کی بات کرتا ہوں اور میں مکمل طور پر عالمی سطح پر سودی نظام کے اندر جا رہا ہوں ان کی معیشت کے اصولوں کے مطابق چلوں گا تو اس سے میرا اختلاف ہوگا اب اس اختلاف کا عنوان اگر یہ ہے کہ یہودی ایجنٹ تو اس کو گالی کیوں کہا گیا اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں اگر میں کہتا ہوں کہ قادیانیوں کو دوبارہ مسلم سٹیٹس پاکستان میں دینا یہ میرے تحفظات ہیں بجائے اس کے کہ آپ مجھے اس کے بدلے میں گالیاں دیں آپ مجھے مطمئن کریں میں پاکستان کا شہری ہوں میرے پیچھے کچھ لوگ ہیں ان کے ایک سوچ ہے ان کے تحفظات ہیں میں ان کے نمائندگی کر رہا ہوں اگر میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں مغربی تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہماری اسلامی اور مشرقی تہذیب جو ہے اس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اس کے بدلے میں گالی دینے کی بجائے مجھ سے پوچھا جائے مجھ سے بات کی جائے سیاستدان کا کام یہی ہوتا ہے اگر میں نے آپ کے اوپر کوئی اعتراض کیا ہے یا آپ کے ساتھ میں کوئی ایک تحفظات کا اظہار کیا ہے تو اپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ یہ بات کہے کہ فضل الرحمان یہ بات آپ کیوں کر رہے ہیں مجھے تاکہ جب میں آپ کے ساتھ اپنی بات رکھوں تو آپ یا مجھے مطمئن کر سکیں اس بات پر کہ میں میرے ایجنڈا نہیں ہے یا یہ کہ یہ میرا ایجنڈا ہے اور آپ کے مفاد کے لیے ہے کچھ تو کرنا پڑے گا نا جی تو یہ چیزیں جو ہیں ان کو سیاسی طور پر ہم لے رہے ہیں اور آج جب ان کے لوگ آئے ہیں اگر یہ لوگ 12 سال پہلے بھی اتے تب بھی میرے یہی ایٹیٹیوڈ ہوتا اور اگر آج آئے ہیں تب بھی میرا وہی ایٹیٹیوڈ ہے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,018 görüntüleme • 2 yıl önce