Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

”دستور“ سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا درختوں کی گھنی چھاؤں میں جا کر لیٹ جاتا ہے ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں تو مینا اپنے بچے چھوڑ کر کوے...

10,216 görüntüleme • 1 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

کیا دہشتگردی ختم ہوگئی؟آپ اور ہم جس صوبے سے تعلق رکھتے ہیں، پورے طول و عرض پر آپ نظر ڈال لیں، کہیں پر امن ہے؟ اور صرف بدامنی کی بات نہیں کر رہا، بدامنی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ حکومتی رِٹ ختم ہو رہی ہے، پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ گیا ہے۔ لکی مروت میں، بنوں میں، ٹانک میں پولیس جو ہے، وہ آزاد ہو گئی ہے اور اس نے اپنی امن کمیٹیاں بنا لی ہیں، اور وہ وردی بھی نہیں پہن رہے، اور کانسٹیبل جو ہے، وہ خود اپنا نظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں۔ نہ کوئی ڈی پی او کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی ڈی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے۔ پرسوں ترسوں ہمارے بنوں کے ڈی آئی جی کی جو سیکیورٹی ہے، وہ ایک کانسٹیبل نے کِلوز کی ہے۔ ایک کانسٹیبل نے آرڈر دیا کہ سب یہ ڈیوٹی چھوڑ دو، آ جاؤ واپس۔ یہ حالت ہے! اب اس حالت میں ہم زندگی گزار رہے ہیں۔ کب تک ہم یہ زندگی اس طرح گزارتے رہیں گے؟ اور کہہ رہے ہیں کہ ہم ٹھیک کریں گے، ہم لڑیں گے۔ وہ ایک چڑیا ہے، وہ کہتا ہے: بلوچستان کےلئے تو ایک تھانیدار کی مار ہے۔ بس ،، تمہارے تھانیداروں کا کیا حشر کر دیا۔ تمہارے تھانوں کا کیا حشر کر دیا؟ کچھ تو حقائق کی طرف جاؤ۔ تو جب ہم حقائق کی طرف جائیں گے تو پھر ہم اس کے بعد مشاورت تو ہونا ہے۔ اب شہباز شریف بیچارہ وزیر اعظم ہے، پوری دنیا میں جاتا ہے، اور اگر وہ قابلِ قبول ہوگا تو آرمی چیف کو ساتھ لے کر جائے گا، ورنہ پھر اس کو کوئی ہاتھ بھی نہیں ملائے گا۔ بھئی، تم باہر جاؤ، تمہیں کوئی عزت دے، ہم اس کو پاکستان کی عزت کہیں گے، لیکن آپ کے ملک کے اندر کی سرزمین خون سے سرخ ہے اور تم باہر دنیا میں ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہو، کوئی احساس نہیں آپ کو؟ اسی سے گزارہ کر رہے ہو، کہ فلاں ملک پر آپ اتر رہے ہیں، ریڈ کارپٹس پر جا رہے ہیں، آپ کا استقبال ہو رہا ہے، بادشاہ آپ کا استقبال کر رہے ہیں۔ یہ ساری چیزیں ہیں۔ ہاں، کوئی جائز کام ہے، اگر آپ نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا، جمعیت اس کو سپورٹ کرتی ہے۔ اگر اس پر ترکی شامل ہو گیا، ہم سپورٹ کرتے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کا منشور ہے: ایک اسلامی بلاک کا قیام۔ اگر اور اسلامی ممالک اس میں شامل ہوتے ہیں، اور یہ درحقیقت اس طرف ایک قدم ہے کہ اسلامی دنیا امریکہ پر اپنا انحصار ختم کرے، اور باہم یہ اپنی قوت کو مجتمع کرے، تو اگر کوئی ایسی بات ہوتی ہے تو ہم نے تو اختلاف نہیں کیا۔ اختلاف برائے اختلاف نہیں ہو رہا، ورنہ ہم یہاں بھی اختلاف کرتے ہیں۔ تو آپ کیوں جا رہے ہیں؟ آپ تو نمائندے نہیں ہیں پاکستان کے، آپ کی حکومت تو جعلی ہے اور واقعی جعلی ہے، اس میں بھی کوئی شک نہیں۔ اور پھر اقلیت حکومت کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ نہیں ہے، صرف آئینی عہدے لئے ہوئے ہیں ۔ گلگت میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، مقابلہ ہے ان کا۔ کشمیر میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، بھرپور بول رہے ہیں۔ اور اسمبلی میں آ کر بیٹھتے ہیں تو پہلے اختلاف کرتے ہیں، پھر جب ووٹ کا وقت آتا ہے،،،،،،،،،،،،،،، اس قسم کی ایک سیاست ہے جو ملک کے اندر چل رہی ہے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

14,121 görüntüleme • 8 gün önce

کيا آپ جانتے ہیں کہ کوئل سے دھوکہ کھانے کے بعد کوے وہ علاقہ چھوڑ دیتے ہیں؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ نظام فطرت میں کوے کی آبادی کو قابو رکھنے کا میکنزم کیسے کام کرتا ہے؟ اور یہ کہ کوا میاں بیوی کیسے کوئل میاں بیوی سے دھوکہ کھا جاتے ہیں؟ مزید کہ کوئل کوے کو کچھ خاص پسند نہیں کرتی پر سارا سال اس کا پیچھا کرتی رہتی ہے؟ پر اس سے پہلے کوئل کا ذرا سا تعارف پڑھیے۔ کوئل ایک اومنی وور پرندہ ہے جو کہ مختلف کیڑے مکوڑے اور جنگلی فروٹس کھاتا ہے۔ سال کے نو مہینے خاموش رہنے والا یہ پرندہ اپریل کے آغاز سے اپنی مسحور کن آواز سے اپنی موجودگی کا احساس دلانا شروع کر دیتا پے جو کہ اصل میں نر پرندے کی طرف سے 'میٹنگ کال' ہوتی ہے۔ خوبصورت آواز والے پرندے کوئل کا شمار ہمارے مقامی پرندوں میں ہوتا ہے۔ کوئل کی سحر انگیز آواز سے سبھی متاثر ہیں اور ہم میں سے کافی لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ پرندہ اپنے انڈے کوے کے گونسلے میں رکھتا ہے، پر کیسے آئیے آج اپ کو بتاتے ہیں کہ کس طرح سے یہ ذھین پرندہ کوے جیسے چالاک پرندے کو مات دے کر اپنے انڈے اس کے گھونسلے میں رکھتا ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ کوئل کوے کو خاص پسند نہیں کرتی لیکن باوجود اس کے کوئل کسی بھی کوے کو موجودہ سال کا ٹارگٹ سلیکٹ کرتی ہے اور سارا سال اس کوے کا پیچھا کرتی ہے اور جیسے ہی کوا گھونسلہ بنانا شروع کرتا ہے تو کوئل اندازہ لگا لیتی ہے کہ انڈے دینے کا وقت آن پہنچا ہے۔ مزید خوشگوار حیرت کی بات یہ ہے کہ انڈے کب اور کس ٹائم دینے ہیں، کوئل اس عمل پر مکمل قابو رکھتی ہے یعنی تیار انڈے پیٹ میں موجود ہیں، کب ڈلیور کرنے ہیں اس بات کا فیصلہ اچانک ہوتا ہے۔ نر کوئل کوے کے جوڑے پر مسلسل نظر رکھتا ہے،جوں ہی مادہ کوا انڈے دیتی ہے نر کوئل اس کی اطلاع مادہ کوئل کو دیتا ہے۔ نر کوئل حکمت عملی کے طور پر گونسلے کے مالکان سے الجھتا ہے، گھونسلے اور انڈوں کےدفاع میں نرکوا نر کوئل کو بھگانے لگتا ہے اور وہیں پر مادہ کوا ایک سنگین غلطی کرتی ہے اور اپنے نر کے ساتھ کوے کے خلاف لڑائی میں شامل ہو جاتی ہے۔ مادہ کوئل جو کہ قریب ہی چھپی ہوئی ہوتی ہے،کوے کے گھونسلے میں آکہ اس کے انڈے گرا کر یا انہی کے ساتھ اپنے انڈے ڈلیور کردیتی ہے۔ نر کوئل مشن کی تکمیل پر علائقہ چھوڑ دیتا ہے۔ جب انڈوں سےبچے پیدا ہوتے ہیں تب بھی کوے کو پتہ نہیں چلتا،پر بعد میں جب کوئل کے بچے بڑے ہونے لگتے ہیں تو ان کو دھوکے کا احساس ہوتا ہے، پر بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ماہرین کے مطابق دھوکے کا شکار ہونے والے کوے وہ علائقہ ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ کوا عام طور پر چلاک سمجھا جاتا ہے اور ایسا سائنسی طور پر ہے بھی لیکن کوئل کی حکمت عملی کوے کو مات دے دیتی ہے۔ نظام فطرت کے قوانین میں حکمت ہوتی ہے۔ #SindhWildife🇵🇰

SindhWildlife

27,777 görüntüleme • 1 ay önce

اس مختصر ویڈیو میں آپ دیکھتے ہیں کہ قطبی ریچھ جب پتلی برف پر پہنچتا ہے تو وہ اپنے پیٹ کے بل رینگنے لگتا ہے اور جیسے ہی وہ نازک جگہ پار کرتا ہے تو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو جاتا ہے اب آپ سوچیں گے کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے تو اس کے پیچھے سادہ سی فزکس ہے قانون کہتا ہے کہ دباؤ یعنی پریشر اس قوت پر ہوتا ہے جو کسی سطح پر ڈالی جائے یعنی جتنا وزن ایک جگہ پڑے گا اتنا ہی زیادہ دباؤ ہوگا قطبی ریچھ کا اوسط وزن تقریباً پانچ سو کلوگرام ہوتا ہے اور اس کے پنجے کا سائز تقریباً تیس سینٹی میٹر کا مربع ہوتا ہے اگر وہ سیدھا کھڑا ہو تو سارا وزن صرف چار پنجوں پر آتا ہے جس سے ہر پنجے پر تقریباً ڈیڑھ ٹن فی مربع میٹر دباؤ بنتا ہے اور اتنا زیادہ دباؤ پتلی برف کو توڑ سکتا ہے ریچھ پانی میں گر سکتا ہے لیکن قدرت نے اس کو عقل عطا کی وہ جانتا ہے کہ اگر وہ رینگتا ہوا چلے اور اپنے جسم کو پھیلا کر وزن کو زیادہ جگہ پر تقسیم کرے تو دباؤ کم ہو جاتا ہے اور برف نہیں ٹوٹتی تو وہ آہستہ آہستہ لیٹ کر برف کے اوپر سے گزر جاتا ہے اور جیسے ہی خطرہ ختم ہوتا ہے وہ پھر سیدھا ہو کر چلنے لگتا ہے یہ سب کچھ اس کو کس نے سکھایا نہ اس نے کبھی اسکول دیکھا نہ کوئی فارمولہ پڑھا تو کہنے کو بس ایک ہی بات بنتی ہے سبحان اللہ جس نے ایک جانور کو بھی اپنے علم سے یہ سکھا دیا قطبی ریچھ کو نہ اسکول ملا نہ استاد پھر بھی فزکس کا ماہر نکلا یہ علم نہیں قدرت کی تعلیم ہے #موناسکندر

Moona Sikander

21,558 görüntüleme • 1 yıl önce

کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں دیکھنا انہیں غور سے جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے ——————————— جناب سلیم کوثر کی غزل میری پسندیدہ ترین غزلوں میں سے .... میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے سر آئینہ مرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے میں کسی کے دست طلب میں ہوں تو کسی کے حرف دعا میں ہوں میں نصیب ہوں کسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے عجب اعتبار و بے اعتباری کے درمیان ہے زندگی میں قریب ہوں کسی اور کے مجھے جانتا کوئی اور ہے مری روشنی ترے خد و خال سے مختلف تو نہیں مگر تو قریب آ تجھے دیکھ لوں تو وہی ہے یا کوئی اور ہے تجھے دشمنوں کی خبر نہ تھی مجھے دوستوں کا پتا نہیں تری داستاں کوئی اور تھی مرا واقعہ کوئی اور ہے وہی منصفوں کی روایتیں وہی فیصلوں کی عبارتیں مرا جرم تو کوئی اور تھا پہ مری سزا کوئی اور ہے کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں دیکھنا انہیں غور سے جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے جو مری ریاضت نیم شب کو سلیمؔ صبح نہ مل سکی تو پھر اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ یہاں خدا کوئی اور ہے سلیم کوثر

اردو ورثہ

33,870 görüntüleme • 1 yıl önce