Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

دو مہینے اور سات دن گزر گئے پنجاب پولیس گوجرانوالہ میں مجھ پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے ملزمان کو واضح ترین ویڈیوز کے باجود اب تک گرفتار نہیں کر سکی، اس لیے کہ وہ طاقتور ترین فراڈئیے شُف شُف کے غنڈے تھے اور شُف شُف کے پیچھے کون...

138,055 views • 2 years ago •via X (Twitter)

8 Comments

IK The Legend's profile picture
IK The Legend2 years ago

خدا کیلئے اب بس کردے یہ ڈرامے شامے اور اپنی اصل پیشہ صحافت پر توجہ دے ملک میں ہر طرف فسطائیت اور جعلی خکومت اسٹیبلشمنٹ کی قائم ہیں پختونخوا ہو یا بلوچستان ہر طرف بدامنی ہیں لوگ مررہے ہیں اس پر بولے اور آپ ہیں اور شف شف بلا ہیں کہ اپکے ڈرامے ختم نہیں ہو رہے

Abbas's profile picture
Abbas2 years ago

آپ نے شف شف فراڈیے کی دوکان جو بند کروا دی ہے

Amjad Ali Dadda's profile picture
Amjad Ali Dadda2 years ago

کیا کبھی غور کیا کہ اصل میں کئی ایک شعبدہ باز کرامتی لوگوں کا اصل کاروبار کیا ہے؟ کبھی آپ نے ان کے غیر ملکوں میں لائے جانے والی دولت کا اندازہ کیا ہےکہ یہ ہرسال کتنے ڈالرز پاکستان سے ان ممالک لاتے ہیں؟ کبھی اس پر بھی ریسرچ کریں۔ بے شک @nadeemhaque اور @PIDEpk کو ساتھ لیں۔

Last Hope (عمران خان)'s profile picture
Last Hope (عمران خان)2 years ago

اگر پی ٹی آئی کے ہوتے تو سب آج اندر ہوتے۔۔۔!!!

SZHN's profile picture
SZHN2 years ago

ان کے بارے میں افواہ پھیلا دیں کہ یہ پی ٹی آئی کے کارکن ہیں۔ اگلے دن یہ بھی اور ان کے گھر والے بھی گرفتار ہو جائنگے

Muhammad Naveed Iqbal🇵🇰's profile picture
Muhammad Naveed Iqbal🇵🇰2 years ago

جس کی لاٹھی اس کی بھینس ظلم کا دور

Siraj Ray's profile picture
Siraj Ray2 years ago

ہم تحریک لبیک کے کارکنان اقرار بھائی کے ساتھ ہیں جس طرح انہوں نے ہمیں سپورٹ کیا اسی طرح ہم بھی انہیں سپورٹ کریں گے کیونکہ ہمارے امیر محترم کا حکم ہے ہر مظلوم کے ساتھ کھڑے ہو ۔۔۔ #TLP_Promotion #ملنگ_قبیلہ

Schrodinger 🕊️'s profile picture
Schrodinger 🕊️2 years ago

Hey @iqrarulhassan 2 saal hogye, mulk k ex prime minister pr hamla hoye, chlein chorein word ex PM ko, mulk k legendary cricketer pr hamle hoye, uss hamle mai aik admi jis k chote chote bche the wo shaheed hogya, aj tk wo case solve nhi hoya. 2 saal hogye Arshad Sharif k qatal ko

Related Videos

گلف اسٹریم 500 طیارے کے بارے میں مختلف خبریں گردش کر رہی ہیں کہ اسے ویانا کسی خاندان کے افراد کو لے جانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اگر یہ خبر درست نہیں تو حکومت پنجاب فوری طور پر مکمل حقیقت قوم کے سامنے لائے!! اصل سوال یہ ہے کہ گلف اسٹریم 500 طیارہ ویانا ایئرپورٹ پر چھ دن تک کیوں کھڑا رہا؟ ان چھ دنوں میں طیارہ کہاں کہاں گیا؟ کون لوگ اس میں سفر کر کے گئے یا آئے؟ اس دوران اس کا مقصد کیا تھا؟ ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ اگر یہ طیارہ حکومت پنجاب کے استعمال میں ہے تو آج تک اس کی رجسٹریشن حکومت پنجاب کے نام کیوں منتقل نہیں ہوئی؟ اور یہ اب بھی امریکی کمپنی یا ٹرسٹ کے نام پر کیوں رجسٹرڈ ہے؟ حکومت پنجاب فوری طور پر درج ذیل تفصیلات جاری کرے: مکمل فلائٹ ہسٹری مسافروں کی فہرست چھ دن ویانا میں قیام کی وجہ اخراجات اور ادائیگی کی تفصیل جہاز کی اصل ملکیت اور رجسٹریشن سرکاری وسائل عوام کی امانت ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ گلف اسٹریم 500 طیارے کے معاملے پر مکمل شفافیت اختیار کی جائے اور تمام حقائق قوم کے سامنے رکھے جائیں!! Government of Pakistan Government of Punjab The President of Pakistan Shehbaz Sharif Maryam Nawaz Sharif

M Azhar Siddique

38,687 views • 5 months ago

"عالیہ حمزہ اور دیگر لوگوں کے خلاف ایک اور نیا مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔ اس میں یہ الزام ہے کہ جب مویشی منڈی والے جلسے میں حماد اظہر صاحب سٹیج پر موجود تھے، تو پولیس اہلکار حماد اظہر کو پکڑنے کے لیے وہاں پہنچا تو عالیہ حمزہ اور لاہور کے صدر شیخ امتیاز نے مل کر حماد اظہر کو چھڑوا کر فرار کرا دیا۔ اس دھکم پیل میں اس پولیس اہلکار کی وردی بھی پھٹ گئی اور اس پر حملہ بھی کیا گیا۔ یہ سب جھوٹ پر مبنی ہے۔ یہ ایک شرمناک ایف آئی آر ہے۔ یہ باتیں پولیس کی کریڈیبلیٹی پر سوال اٹھاتی ہیں۔ پولیس کا کیا حال ہو چکا ہے۔ ان میں ضمیر نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ یہ لوگ انسان کہلانے کے بھی لائق نہیں ہیں۔ ان کے جرائم کا حال اتنا بُرا ہے کہ انہیں یونیفارم پہنے غنڈے کہنا بھی کم ہے۔ یہ لوگ ہمارے پیسوں پر تنخواہیں لیتے ہیں اور ہمارے اوپر ظلم کرتے ہیں۔ یہ پولیس اصلاحات کی اشد ضرورت ہے کیونکہ یہ لوگ قانون سے بھی گزر چکے ہیں۔" Samina Pasha #عدلیہ_بچاؤ_ملک_بچاؤ #UndeclaredMartialLaw

PTI

17,076 views • 1 year ago

یہ راولاکوٹ کا ایک منظر ہے۔ اسلام آباد پولیس کی وردیوں کو آپ بخوبی پہچانتے ہوں گے۔ ویڈیو میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ مظاہرین پولیس اہلکاروں کو پانی پیش کر رہے ہیں۔ مگر اس منظر کو صرف دیکھنے کے بجائے سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے بانی رکن عمر نذیر پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ ان کے ایک ساتھی شہید ہو گئے جبکہ عمر نذیر خود گولی لگنے سے زخمی ہوئے۔ ان کے چاہنے والے انہیں حفاظت کے پیشِ نظر ایک خفیہ مقام پر منتقل کر دیتے ہیں جبکہ شہید کی میت ہسپتال کے گیٹ پر موجود ہوتی ہے اور احتجاج جاری رہتا ہے۔ ادھر ایف سی، پی سی، رینجرز اور دیگر فورسز تعینات کی جاتی ہیں۔ اسلام آباد پولیس شیلنگ کرتی ہوئی دھرنے کے مقام تک پہنچتی ہے۔ دوسری طرف لوگ مسلسل یہی مؤقف اختیار کیے بیٹھے ہیں کہ ہم پُرامن ہیں۔ طویل شیلنگ، دوڑ دھوپ اور کشیدہ حالات کے باعث پولیس اہلکار تھکن کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے میں ان کے پاس پانی بھی موجود نہیں ہوتا۔ اور پھر وہ منظر سامنے آتا ہے جو اس ویڈیو میں محفوظ ہے؛ دھرنا دینے والے لوگ انہی پولیس اہلکاروں کو پانی پیش کر رہے ہیں جو ان کے سامنے کھڑے ہیں۔ یہ وہی لمحے ہیں جن کے بعد گولیاں چلتی ہیں۔ لاشیں گرتی ہیں۔ درجنوں خاندان سوگوار ہوتے ہیں۔ سینکڑوں لوگ زخمی ہوتے ہیں۔ یہ وہی حالات ہیں جن میں شہداء کی لاشیں بھی عوام کے حوالے نہیں کی جاتیں۔ مگر اس سب کے باوجود، اس سب کے درمیان بھی، لوگ اسی پولیس کو پانی پیش کر رہے ہیں۔ پانی دینا شاید کوئی بہت بڑا کارنامہ نہیں، مگر یہ منظر انسانیت کے وقار کی ایک بڑی مثال ضرور ہے۔ یہ اس تہذیب، اس تربیت اور اس شعور کا عکس ہے جس میں دشمنی سے پہلے انسان کو دیکھا جاتا ہے۔ سوچئے، سامنے اسلحے سے لیس وہ لوگ کھڑے ہیں جن پر گولیاں چلانے، شیلنگ کرنے اور لاشوں کو روکنے کے الزامات ہیں، مگر اگر وہ پیاسے ہیں تو انہیں پانی پیش کیا جا رہا ہے۔ پرامن ہونے کی اس سے بڑی دلیل شاید کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ یہ صرف پانی نہیں، یہ انسانیت کا احترام ہے۔ یہ صرف ایک منظر نہیں، یہ ایک قوم کے ظرف کا تعارف ہے۔

Rebel Pulse

24,834 views • 2 months ago

سانحہ کاہنہ میں زندہ بچ جانے والے اس بچے کو ہسپتال والوں نے سر پر ٹانکے لگا کر پٹی اس لئے نہیں باندھی اور گھر بھیج دیاکیونکہ اس کی ماں ہسپتال کے باہر سے پٹی خرید کر ڈاکٹروں کو نہیں دے سکی۔ اس بچے کا منہ چوٹوں سے سوجا ہوا ہے اور اس اس کے جسم پر زخموں پر مکھیاں بھنبھنا رہی ہیں۔ میں نے جب اس کے خاندان والوں کو کہا کہ ہم اس کا علاج کسی پرائیویٹ ہسپتال سے کروا دیتے ہیں تو انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ سب انسپکٹر نے کہا ہے کہ اسے جزل ہسپتال کے علاوہ کہیں نہیں دکھا سکتے کیونکہ پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔ حکومت پنجاب نہ تو صحافیوں کو گلیوں میں جانے دے رہی ہے اور نہ ہی کسی کو متاثرہ بچوں کے علاج کی سہولت فراہم کرنے دے رہی ہے۔ یہ وزیراعظم شہباز شریف Shehbaz Sharif کا حلقہ ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کو اپنے حلقے میں ہونے والے اتنے بڑھے سانحے پر خود جانا چاہئے۔ وزیراعلی پنجاب Maryam Nawaz Sharif کو محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم کے ذمہ داران کے خلاف کروائی کرنی چاہئے

Faisal Mir

29,386 views • 1 month ago

اس وقت پاکستان میں طاقت حق بن چکی ہے، اور ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے کہ جس کی لاٹھی، اس کی بھینس۔ طاقتور اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے وہی ہو رہا ہے۔ جج خود فیصلے نہیں لکھ رہے، فیصلے لکھوائے جا رہے ہیں، ڈکٹیٹ ہو رہے ہیں، اور عدلیہ اپنی ساکھ اور استقلال کھو چکی ہے۔ پارلیمنٹ کے ذریعے عوام پر ظلم ہو رہا ہے، عدلیہ کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے، پولیس کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے۔ بے گناہوں کو قتل کیا جا رہا ہے، مبینہ پولیس مقابلے ہو رہے ہیں، اور یہ سب کچھ واضح طور پر اخبارات میں آ رہا ہے۔ پاکستان کے عوام بھی غیر متعلق کر دیے گئے ہیں، اور پاکستان کی پارلیمنٹ بھی غیر متعلق ہو چکی ہے۔ اب کوئی چیز اپنی جگہ پر باقی نہیں رہی۔ پاکستان میں جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ کھنڈر ہیں۔ عدلیہ کی جو عمارتیں ہمیں پیچھے نظر آتی ہیں، وہ بھی اس وقت کھنڈر بن چکی ہیں۔ یہاں عادل نہیں ملتا، یہاں عدل و انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر پاکستان کے عوام کے حق میں قانون سازی نہیں ہوتی، بلکہ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ پولیس کیا کر رہی ہے، عدالتیں کیا کر رہی ہیں، بیوروکریسی کیا کر رہی ہے—سب آپ کے سامنے ہے۔ ایک طرف پاکستان کی ریاست اور اس کی سالمیت پر یلغار ہے، اور دوسری طرف بدترین مہنگائی ہے۔ پھر ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جن سے عوام کو مزید تکلیف پہنچے۔ عمران خان صاحب کے ساتھ اس وقت پاکستان کے عوام کی نوّے فیصد اکثریت کھڑی ہے۔ جو بھی آج ان کا مخالف ہے، وہ دراصل انتہاکت واروں کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم سب ایک ہیں، اسی لیے ان کی پوری کوشش ہے کہ ہمیں مایوس کریں، ناامید کریں، اور لوگوں سے کہیں کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن حقیقت میں یہ ان کی بزدلی اور پریشانی کی علامت ہے۔ یہ لوگ ہار چکے ہیں، اور جو اپنے عوام سے لڑتے ہیں وہ کبھی جیت نہیں سکتے۔ پاکستان کے نظام پر عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، اور اس وقت پاکستان عوام کے بغیر چلایا جا رہا ہے۔ یہ لوگ دنیا میں جا کر جو فیصلے اور معاہدے کر رہے ہیں، ان کی دو ٹکے کی حیثیت بھی نہیں۔ پاکستان کے عوام انہیں قبول نہیں کرتے۔ ہم آج ہونے والے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ قابلِ مذمت ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جس طرح کے ٹرائل ہو رہے ہیں، جس طرح کی صورتحال بنائی جا رہی ہے—جنوری سے عمران خان صاحب کے کیسز ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہیں، ان کی سماعت نہیں ہو رہی۔ یہ پک اینڈ چوز کی صورتحال ہے، اپنی مرضی کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے فیصلے انہیں بچا لیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ استثنا لینے کے باوجود ان کا خوف ختم نہیں ہو رہا۔ ڈر کے سائے میں ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ خدا نہ کرے کسی ملک پر بزدل، حقیر اور چھوٹے لوگ مسلط ہو جائیں۔ یہ لوگ پست ترین سطح پر جا کر مخالفت کرتے ہیں۔ ہم خداوندِ عبدالمطلب کے بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ان ظالموں، بونوں اور حقیر لوگوں سے نجات عطا فرمائے۔ یہاں آئین کی بالادستی ہو، قانون کی حکمرانی ہو، اور پاکستان کے عوام کو انصاف اور ان کا حق ملے۔

Senator Allama Raja Nasir

29,309 views • 8 months ago

سوات کے دو بےگناہ نوجوانوں، شعیب اور اکرام، کو گوجرانوالہ میں نام نہاد پولیس مقابلے کے بہانے قتل کرنے کے خلاف مینگورہ میں عوام کا غصہ پھٹ پڑا۔ نشاط چوک میں لواحقین اور علاقہ مکینوں نے میتوں کے ہمراہ دھرنا دے کر واضح کر دیا کہ یہ کوئی مقابلہ نہیں بلکہ ریاستی قتل ہے۔ لواحقین کے مطابق 8 دسمبر کو پنجاب پولیس نے مقامی پولیس کی ملی بھگت سے دونوں نوجوانوں کو گرفتار کیا، عدالت میں پیش کیا، جیل بھیجا، اور پھر عدالتی حکم کے تحت گوجرانوالہ پولیس کے حوالے کیا۔ اگر سب کچھ قانون کے مطابق تھا تو پھر چند دن بعد مقابلے کی ڈرامہ بازی کیوں؟ یہ سوال آج ہر زبان پر ہے۔ اہلِ خانہ نے پولیس کے دعووں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کھلی عدالتی قتل کی مثال ہے، جس پر خاموشی مزید جرائم کو جنم دے گی۔ مظاہرین نے وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو للکارتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس سانحے کی غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، قاتل وردیوں کو بے نقاب کیا جائے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ فیصل نامی ایک اور نوجوان تاحال پولیس کی تحویل میں ہے۔ لواحقین کو اس کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اگر اسے کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار بھی یہی ادارے ہوں گے۔ یہ احتجاج صرف دو نوجوانوں کے لیے نہیں، یہ پولیس گردی، جعلی مقابلوں اور پشتون خون کی ارزانی کے خلاف اعلانِ بغاوت ہے۔ اب خاموشی جرم ہے، اور سوال پوچھنا حق۔ Sohail Afridi #StopPashtunsGenocide #StopStateTerrorism

Saleem Afridi

39,796 views • 8 months ago

یہ تحریر اور ویڈیو بھی وائرل ہے،کسی کو اصل حقائق معلوم ہیں تو کمنٹ کریں ، FIR بھی کہیں نظر نہیں آئی👇 مولانا ابوبکر معاویہ حفظہ اللہ گرفتار ہوئے، تھانے لائے گئے اور پھر ایک مقامی تھانے پولیس انچارج انہیں ہتھکڑیوں میں جکڑ کر پولیس کے پہرے میں بلا دلیل ذلیل کر رہا ہے اور انہین ڈر دھمکا کر خوفزدہ کر رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ سوال یہ ہے کہ ان پر جو الزام اس نے لگایا، اس پر کہاں تفتیش ہوئی؟ اور اسے کس نے عدالت لگا کر فیصلہ سنانے اور پھر ویڈیو بنا کر اسے پھیلانے کی اجازت دی ؟ یہ کون سا قانون ہے ؟کون سی دفعہ کے تحت یہ سب درست ہے کہ ایک عام شہری تو کجا اتنے بڑے عالم دین کی ایک عام سا سپاہی یوں بے عزتی کرتا پھر رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ واقعہ کیا ہے؟ ، سن لیں گرفتاری اور تھانے میں لائے جانے سے پہلے مولانا ابوبکر معاویہ حفظہ اللہ نے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی تھی جس میں وہ بتا رہے تھے کہ ہم یہاں اس علاقے میں ڈاکوؤں کے نرغے میں ہیں اور پولیس ہماری مدد کے لیے نہیں آ رہی۔ جس جگہ سے ابوبکر معاویہ صاحب نے ویڈیو بنائی اس جگہ کا نام بھی وہ بتا رہے تھے حضرت مولانا ابوبکر معاویہ صاحب پولیس کو کال کرتے ہیں تو پولیس والے حسب عادت و روایت وہی پہلا جواب دیتے اور کہتے ہیں کہ یہ ہمارا علاقہ نہیں ہے ،دوسروں کو کال کی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ابھی ہم آ رہے ہیں اور وہ نہین آتے، اسی دوران میں مولانا ابوبکر معاویہ صاحب ایک ویڈیو ریکارڈ کرکے اپلوڈ کرتے ہیں کہ ہم پولیس کو کہہ رہے ہیں اور یہ پہنچ نہیں رہے اور یہاں پر ڈاکوؤں نے سڑکوں پر قبضہ جما رکھا ہے ۔ ایک گاڑی میں بچے بھی ہیں۔ تھوڑی دیر میں مولانا ابوبکر معاویہ اپنی لائسنس یافتہ کارتوسی گن سے دو فائر کرتے ہیں جس سے ڈاکو راستہ چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔ ٹریفک کھل جاتی ہے اور وہ بھی گھر پہنچ جاتے ہیں۔ صبح ہوتے ہی اس جرم میں ان کو اسی لباس میں گرفتار کر لیا جاتا ہے اور پھر ان کی تھانے کے اندر ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جاتی ہے کہ انہوں نے بچے کے ساتھ بدفعلی کرنے کی کوشش کی ہے یا اس سے دبوا رہے تھے اور پھر پولیس والا ان سے انتہائی بدتمیزی کر رہا اور بدترین الزامات لگا رہا ہے ۔ اس عرصے میں نہ تو کسی بچے کو سامنے لایا گیا اور نہ جنہوں نے ایف ائی ار کروائی ہے وہ سامنے آئے، نہ ہی بچے کے ورثا تک سامنے آئے ہیں ۔صاف سیدھا نظر آ رہا کہ یہ سب صرف اور صرف پولیس نے اپنی پیشہ ورانہ اور ذمہ داری کی ناکامی چھپانے اور اس کے جواب میں علما کو ٹارگٹ کرنے کی کی کوشش ہے اور پولیس والا پہلی ویڈیو کی وجہ سے انتقام لے رہا ہے ۔ہماری سب اہل ایمان سے یہ گزارش ہے کہ وہ ایک جید و متحرک عالم دین کے لیے آواز اٹھائیں۔مولانا ابوبکر معاویہ کا جرم صرف یہ ہے کہ انہوں نے پولیس کے نہ آنے پر راستہ واگزار کیا اور ویڈیو اپلوڈ کی جسےعلاقے کی پولیس نے اپنی بدنامی تصور کرکے ان کے خلاف مذموم کارروائی کی اور پھر ان پر انتہائی گھٹیا اور قبیح ترین الزام عائد کر کے تھانے میں خود ہی عدالت لگا کر انہیں نشانہ بنا دیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی کالج یونیورسٹی کا معاملہ ہو تو سارے لبرل سیکولر فوری اس کے دفاع میں آجاتے اور معاملہ دبا دیتے ہیں ، بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی کا واقعہ ایک مثال ہے تو پھر دینی طبقات جماعتیں علما اور شخصیات کہاں ہیں؟ وہ اس پر مکمل چپ سادھے بیٹھے ہیں ، آخر کیوں ؟ ( علی عمران شاہین)

Ammar Khan Yasir

83,355 views • 2 years ago