Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

دہشت گردی سے متاثرہ جنوبی ضلع بنوں کی پولیس فورس اپنے کمانڈر ڈی پی او بنوں کمحمد فرقان بلال کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف اپنی کامیاب کارروائیوں کو سیلیبریٹ کر رہے ہیں۔ لیکن یہ پولیس افسران/جوان ہماری اسلام آباد کی سرکار کی آنکھ میں بہادر نہیں ہیں نہ...

68,352 просмотров • 16 дней назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

خاموشی جرم ہے! دہشت گردوں کو پناہ دینے والے بھی مجرم ہیں! جب بھی کوئی دہشت گرد حملہ ہوتا ہے، سوال اٹھتا ہے کہ یہ قاتل کہاں سے آتے ہیں؟ انہیں پناہ کون دیتا ہے؟ ان کے لیے محفوظ راستے کون بناتا ہے؟ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ معاشرے کے کچھ عناصر جان بوجھ کر یا خوف کی وجہ سے ان شدت پسندوں کی مدد کرتے ہیں۔ مگر یہ خاموشی اور چشم پوشی مزید خون بہانے کا سبب بنتی ہے۔ یہ دہشت گرد کہیں باہر سے نہیں آتے—یہ ہمارے ہی شہروں، دیہاتوں، اور محلوں میں چھپے ہوتے ہیں۔ کوئی انہیں رہائش دیتا ہے، کوئی خوراک، اور کوئی ان کی نقل و حرکت پر خاموش رہ کر نادانستہ طور پر ان کے معاون بن جاتا ہے۔ مگر یاد رکھیں! جو دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو محفوظ سمجھتے ہیں، وہی ایک دن انہی کے ہاتھوں تباہ ہو جاتے ہیں۔ دہشت گرد کسی کے خیرخواہ نہیں! یہ عناصر نہ مذہب کے وفادار ہیں، نہ ملک کے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو ہمارے بچوں کو یتیم، ماں کو بے سہارا، اور گھروں کو ویران کرتے ہیں۔ مگر ان کے خلاف بروقت اطلاع نہ دینا، ان کی پشت پناہی کرنا، یا خوف کے مارے خاموش رہنا—یہ سب مجرمانہ غفلت ہے۔ اپنی پولیس اور فورسز کے ساتھ کھڑے ہوں! ہماری پولیس اور سیکیورٹی ادارے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں تاکہ ہم محفوظ رہیں، مگر ان کی کامیابی تبھی ممکن ہے جب عوام دہشت گردوں کے بارے میں بروقت اطلاع دیں۔ اگر کوئی مشکوک سرگرمی دیکھیں، اگر کوئی غیر متعلقہ شخص علاقے میں رہائش اختیار کرے، اگر کسی کی حرکات و سکنات مشکوک ہوں—تو فوراً پولیس یا متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں۔ اب فیصلہ کریں! آپ کس کے ساتھ ہیں؟ یہ جنگ صرف حکومت یا پولیس کی نہیں، بلکہ ہم سب کی ہے۔ اگر ہم نے آج آنکھیں بند رکھیں، تو کل کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ دہشت گردوں کی مدد نہ کریں، بلکہ ان کا راستہ روکیں! کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوراً دیں، کیونکہ خاموشی کا مطلب ہے کہ آپ خود اپنے شہر، اپنے ملک، اور اپنے بچوں کے مستقبل کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ “اب وقت آگیا ہے کہ ہم دہشت گردوں کے خلاف متحد ہوں! خاموشی جرم ہے!

Defense Intelligence

20,096 просмотров • 1 год назад

9 مئی کا ماسٹر فساد، خون خرابہ اور ملک میں لاشیں چاہتا ہے عمران خان کے حکم پر ایک صوبے کی پولیس اور لشکر لے کر پنجاب پہ چڑھائی کا ہر ہفتے خطرناک کھیل کھیلا جاتا ہے جس کی اجازت نہیں دیں گے. یہ احتجاج نہیں دہشت گردی کہا جاتا ہے 9 مئی کے ماسٹر مائنڈ کی ہدایت پر خیبر پختون خوا کا وزیراعلی ہر ہفتے اسلام آباد اور پنجاب میں لشکر کشی، غنڈہ گردی اور فساد کرتا ہے. پنجاب پولیس پہ آنسو گیس ، پتھر اور گلیلوں سے شیشے پھنکیں جا رہے ہیں . خیبر پختونخوا کی پولیس، سرکاری ملازمین، سرکاری وسائل، کرینیں، کنٹینر، ٹریکٹر، ٹرک اور دیگر مشینری اور گاڑیاں اس فساد اور غنڈہ گردی کے لئے استعمال ہو رہی ہیں . عمران خان اور پی ٹی آئی ملک میں امن اور ترقی کے دشمن ہیں . عوام کا شکریہ جو روز اِس فتنہ مائینڈ سیٹ کو مسترد کر رہی ہے اور اپنی ترقی کا ساتھ دے رہی ہے. لاہور میں جلسہ لاہور کے لوگوں نے مسترد کر دیا راولپنڈی کا جلسہ راولپنڈی کے لوگوں نے مسترد کر دیا

Marriyum Aurangzeb

139,934 просмотров • 1 год назад

ڈیرہ غازی خان یہ ویڈیو دیکھ کر بہت دکھ اور تکلیف ہو رہا ہے وہ اس لیے نمبر ون کسی بھی ادارے کے دفتر یا پولیس اسٹیشن پر حملہ کرنا بہت بڑا جرم ہے دہشت گردی کہیں تو غلط نہ ہوگا یہ تھانہ گدائی پر ان لوگوں نے حملہ کیا ہے کیا انصاف مانگنے کا یہی طریقہ درست ہے ہمارے کنفرم ذرائع کے مطابق جو حقیقت ہے کسی خواجہ سرا نے 15 پر پولیس کو کال کیا خواجہ سرا میرے گھر پر حملہ کر چکے ہیں اور مجھے مارنا چاہتے ہیں میں اپنے گھر کے اندر موجود ہوں اور میں نے دروازہ لاک کر دیا پولیس موقع پر پہنچی اور اس شخص کو ساتھ لے کر پولیس اسٹیشن پہنچ گئے حملہ اور سارے خواجہ سرا تھانہ گدئی پہنچ گئے یہ شخص ہمارے حوالے کر دو پولیس نے ان کے حوالے نہ کیا تو ان لوگوں نے وہاں اپنی گنڈا گردی شروع کر دی جو ویڈیو آپ کے سامنے ہے جس طرح سے یہ خواجہ سرا پولیس اسٹیشن یا پولیس ملازمین کے اوپر تشدد کر رہے ہیں توڑ پھوڑ کر رہے ہیں گاڑی پر پتھراؤ کر رہے ہیں دھمکیاں نازیبہ الفاظ ادا کر رہے ہیں ریاست اور اداروں کو للکار رہے ہیں میرا سوال ہے کیا یہ دہشت گردی نہیں ان لوگوں پر قانون لاگو نہیں ہوتا یہ لوگ دستی دو نمبر خواجہ سرا بنے ہوئے ہیں جنہوں نے برائی کے اڈے قائم کر رکھے ہیں جس کی وجہ سے نوجوان نسل میں ایڈز جیسی لعنت مرض لاعلاج بیماری پھیل رہی ہے جس طرح ہمارے پنجاب پولیس کے جوان وہ بھی یونیفارم کے اندر دوران ڈیوٹی تھانے پر موجود ہیں یہ لوگ دیکھو کس طرح ان پر حملہ کر رہے ہیں بے بسی تکلیف کی بات تو یہ ہے فقط ہمارے پولیس کے جوانوں کے پاس ارڈر نہیں اگر وہ کچھ کرتے تو سب لوگ ظالم کہتے پولیس والے ظالم ہیں مگر وہ تشدد سب کچھ برداشت کرتے رہے اور خاموش رہے پولیس کے جوان موقع پر تشدد نازیب الفاظ حملہ دیکھتے رہے برداشت کرتے رہے اگر وہ کچھ کرتے سب لوگ یہ کہتے یہ اختیارات کا ناجائز استعمال ہے یہ پولیس کی غنڈہ گردی ہے وغیرہ وغیرہ لیکن ڈی جی خان کی تاریخ عوام سب اس بات کا گواہ ہیں کچھ عرصہ پہلے میں نے ان من گھڑت خواجہ سراؤں کے خلاف آواز اٹھایا تھا اور میدان میں میں اکیلا تھا کوئی میرے ساتھ نہیں تھا نہ میرے پاس اسلحہ نہ کوئی دیگر طاقت اور نہ کسی کا سپورٹ میں فقط سچائی اور رب کے سہارے پر تھا الحمدللہ میں نے ان لوگوں کو بٹا ڈالا ان کا اصل چہرہ اور کردار دکھایا الحمدللہ پنجاب پولیس تو بہت بڑی ایک طاقت ہے خدا جانے خاموش کیوں ہیں مجھے آج ادارے اجازت دے دیں ڈیرہ غازی خان میں دو نمبر من گھڑت جسم فروش بلیک میلر خواجہ سرا نظر آیا تو میرا نام رزاق نہیں اللہ کے حکم سے ایمان اور سچائی کے ساتھ میں ان کو روک سکتا ہوں جناب محترم ڈی پی او ڈیرہ غازی خان صادق بلوچ صاحب سے ریکویسٹ اپیل ہے ان جسم فروش دہشت گردوں کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لیا جائے تاکہ ایسا گھٹیا عمل دہشت گردی کا سوچ کوئی دوبارہ نہ سوچے

Farah Khan Meo

45,137 просмотров • 2 месяцев назад

ان کے کام دیکھو، بچے سے لے کر بوڑھا تک ان کی اس طرح کی حرکات میں ملوث ہیں. صرف عید پر نہیں، پنجاب کے ثقافتی پروگراموں میں بھی افغان پٹھان یہ سب کرتے پھرتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں کہ ہم تو پنجاب میں صرف روزی کمانے آتے ہیں. جب پکڑے جاتے ہیں تو ان سے بڑا شریف شخص دنیا میں کوئی نہیں ہوتا، اجتماعی طور پر بھی ان کی یہی سوچ ہے،ہم ان کی عزت کرتے ہیں اور ان کو اچھی نگاہ سے دیکھتے ہیں، لیکن سوشل میڈیا پر جب بھی پنجابی پٹھان کی بات آتی ہے،ان میں سے کئی نمک حرام گواہی دیتے ہیں کہ ہم پنجاب میں جب رہتے ہیں یا پنجاب میں ہمیں جب سکیورٹی گارڈ رکھا جاتا ہے تو ہماری نظریں ان کی عورتوں پر ہوتی ہیں۔ اور ایسے ایسے دعوے کرتے ہیں کہ جو میں ادھر غلطی سے بھی نہی لکھ سکتا۔ کیا سی سی ڈی صرف اور صرف پنجابیوں کو حالف فرائی،فُل فرائی اور گھوڑا فرائی کرنے کیلئے بنائی گئی ہے؟؟؟ ان کو لگام کس نے ڈالنی ہے؟؟؟ CRIME CONTROL DEPARTMENT (CCD) PUNJAB Maryam Nawaz Sharif Government of Punjab

Qamar PindiAana 🌾✨

54,478 просмотров • 5 месяцев назад

یہ ویڈیو لکی مروت کے گاؤں نصرخیل کی ہے، جہاں آج ایک اسکول میں فوج کیمپ لگانے کے لیے آئی تھی۔ اس پر گاؤں کی امن کمیٹی کے لوگ نکل آئے اور انہوں نے فوج کو اسکول سے نکال دیا۔ امن کمیٹی کے لوگ اس ویڈیو میں نعرے لگا رہے ہیں کہ جب یہاں دہشت گرد موجود تھے، تب تم لوگ نہیں آ رہے تھے۔ پھر ہم نے خود امن کمیٹی بنائی، ان کا مقابلہ کیا اور اپنے علاقے سے دہشت گردی اور دہشت گردوں کا خاتمہ کیا۔ اب یہاں فوج کی کوئی ضرورت نہیں، اور نہ ہی یہاں فوج کو آنے کی اجازت ہوگی۔ جو لوگ غیرت مند ہوتے ہیں، جو کسی کے ٹاؤٹ یا سہولت کار نہیں ہوتے، جو اپنے وطن، اپنی مٹی اور اپنی سرزمین سے محبت کرتے ہیں، وہ اس طرح معلوم اور نامعلوم، دونوں قسم کے دہشت گردوں سے اپنی مٹی اور اپنے وطن کی حفاظت کرتے ہیں۔ نہ وہ وزیرستان والوں کی طرح فوج سے نفرت کی وجہ سے دہشت گردوں کی سہولت کاری کرتے ہیں، نہ اپنے علاقے میں معلوم و نامعلوم دہشت گردوں کو گھسنے دیتے ہیں؛ بلکہ اپنی حریت اور آزادی کے لیے اگر ہتھیار اٹھانے کی ضرورت پڑے تو اسے سنت سمجھ کر اٹھاتے ہیں اور مقابلہ کرتے ہیں۔ اسی لیے وہ کسی آپریشن کے نتیجے میں بے گھر نہیں ہوتے اور نہ ہی متاثرین بن کر زندگی گزارتے ہیں، بلکہ اپنے علاقے میں امن اور خوشحالی کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔ جب آپ اپنے علاقے میں دہشت گردوں کو گھسنے نہیں دیں گے اور ان کی سہولت کاری نہیں کریں گے، تو پھر آپ کو یہ حق بھی پہنچتا ہے کہ وہاں فوج کو بھی گھسنے نہ دیں۔ یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ آپ دہشت گردوں کے سامنے خاموش رہیں یا پھر ان کی سہولت کاری کریں، اور جب فوج آپ پر بمباری کرے، آپ کو بے گھر کر دے، تو آپ مظلومیت کا رونا بھی روتے رہیں۔

Pakistan Walli

131,522 просмотров • 23 дней назад

انٹیلجنس بیورو کی ہاوسنگ سوسائٹی میں بڑے سنگین الزامات۔ کیا اتنی بڑی سول ایجنسی کا اب یہی کام رہ گیا ہے؟ یہ بہادر خان ہیں جو اس ہاوسنگ سوسائٹی کو زمینیں خرید کر دیتے رہے اب اپنے بقیہ جات مانگنے گئے تو ان کو زبردستی کمرے میں قید کر کے ان پر تشدد کیا گیا ہے۔ وہ اس ویڈیو میں بڑے سنگین الزامات آئی بی کے سینر افسران/عہدے داروں پر لگا رہے ہیں۔ ان کے بقول گلبرگ گرین میں ڈائریکٹر آئی بی تنویر مصطفے نے زبردستی انہیں عہدے داروں کے کہنے پر انہیں قید کر رکھا ہے۔ اس کے مطابق اسے زبردستی مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ ان سے اپنے پیسے نہ مانگے ورنہ وہ اسے اٹھا کر لے جائیں گے اور تشدد کریں گے اور جان سے مار ڈالیں گے۔ میں نے بہادر خان کی فیملی سے یہ حیرت انگیز ویڈیو بیان ملنے پر آئی بی کے ڈائریکٹر مصطفے تنویر کو فون کر کے ان کا پوائنٹ آف ویو لیا تو انہوں نے کنفرم کیا وہ وہاں ہاوسنگ سوسائٹی دفتر میں موجود تو ہیں لیکن ان کا اس معاملے سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ یہ الزامات غلط ہیں۔ وہ وہاں ویسے کسی اور سے ملنے گئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے سختی سے الزامات کی تردید کی۔ تاہم بہادر خان کی فیملی نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیرداخلہ محسن نقوی اور آئی جی پولیس اسلام آباد علی ناصر رضوی سے اپیل کی ہے کہ وہ آئی بی افسران اور ہاوسنگ سوسائٹی کے عہدے داران کے خلاف کاروائی کریں اور ان کے خاوند کو فورا بازیاب کرائیں جنہیں اس وقت آئی بی افسران نے غیرقانونی قید میں رکھا ہوا ہے اور ان کی جان کو خطرہ ہے۔ فیملی کا کہنا ہے وہ براہ راست مصطفے تنویر اور ہاوسنگ سوسائٹی کے صدر اور دیگر اعلی عہدے داروں پر الزام کو ذمہ دار سمجھتے ہیں جنہون نے پیسے دینے کی بجائے بہادر خان کو دفتر بلا کر ان پر تشدد کیا اور اسے اب بند کر رکھا ہے۔ اگر اسے غائب کیا گیا تو وہ ان سب کو ذمہ دار سمجھ کر ان سب کے خلاف لیگل کاروائی کریں گے۔ Shehbaz Sharif Mohsin Naqvi Maryam Nawaz Sharif Prime Minister's Office Abdul Qadir Patel Khawaja M. Asif Sardar Ayaz Sadiq Ishaq Dar Islamabad Police Muhammad Ali Randhawa DC Islamabad SenatorSherryRehman Bilawal Bhutto Zardari Dr. Tariq Fazal Ch.

Rauf Klasra

42,457 просмотров • 1 год назад

مریم نواز کی ترقی کا اصل چہرہ مریم نواز شریف صاحبہ کل ترقی کی بات کر رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں کہ ایک صوبے میں سترہ سال حکومت کرنے والے بھی کچھ نہیں کر سکے۔ تو آئیے، ہم آپ کو بھی مریم نواز شریف صاحبہ کی ترقی کا اصل چہرہ دکھاتے ہیں۔ لاہور کے تھانوں میں خواتین کے ساتھ مبینہ زیادتی کے واقعات اور قتل کے کیسز—کیا یہ مریم نواز کی پنجاب میں ترقی ہے؟ لاہور میں چند منٹ کی بارش کے بعد انڈر پاسز پانی سے بھر جاتے ہیں۔ پورے پنجاب کا بجٹ خرچ کرکے سڑکیں تو بنائی جا رہی ہیں، لیکن نکاسیٔ آب کا مؤثر نظام کیوں نہیں بنایا گیا؟ یہ کیسی ترقی ہے کہ بارش ہوتے ہی لاہور کے شہری مشکلات میں مبتلا ہو جاتے ہیں؟ اب ذرا جنوبی پنجاب کی طرف چلتے ہیں، جس کی حکمران مریم نواز شریف ہیں۔ ہر سال بڑی تعداد میں جنوبی پنجاب کے لوگ بہتر اور مفت علاج کی سہولت کے لیے پنجاب سے باہر سندھ کا رخ کرتے ہیں، جہاں سکھر، گمبٹ اور دیگر شہروں میں NICVD، SIUT اور گمبٹ انسٹیٹیوٹ جیسے ادارے دل، گردوں اور جگر کے علاج کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جنوبی پنجاب کے عوام کو اپنے ہی صوبے میں ایسی معیاری اور مفت طبی سہولیات کیوں میسر نہیں؟ اگر ایک مریض کو علاج کے لیے پنجاب چھوڑ کر سندھ جانا پڑے تو یہ پنجاب کی ترقی کا ثبوت ہے یا ناکامی کا؟ سندھ میں عوام کو دل، گردوں اور جگر کے علاج کی مفت سہولیات فراہم کرنے والے ادارے موجود ہیں، جبکہ پنجاب کے عوام آج بھی ان بنیادی سہولیات کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مریم نواز صاحبہ، صرف سڑکیں اور دعوے ترقی نہیں ہوتے۔ ترقی وہ ہے جس میں شہری محفوظ ہوں، خواتین کو انصاف ملے، لاہور بارش میں ڈوبے نہیں اور جنوبی پنجاب کے عوام کو علاج کے لیے سندھ کا رخ نہ کرنا پڑے۔ یہ ہے وہ ترقی جس کا جواب پنجاب کے عوام مانگ رہے ہیں۔ احمد رحمان گھمن ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری پاکستان پیپلز پارٹی، لاہور Bilawal Bhutto Zardari Nadeem Afzal Chan Azma Zahid Bokhari Marriyum Aurangzeb Faisal Mir

Ahmad Ghuman

56,467 просмотров • 16 дней назад

حکومت پنجاب کے فراہم کردہ فنڈز کی بدولت پنجاب پولیس 31 دسمبر سے مکمل ہونے والے سپیشل انیشئیٹو پولیس سٹیشنز کو صوبہ بھر میں لانچ کرنے جا رہی ہے، سکرین پر نظر آنے والے خوبصورت پولیس سٹیشنز پولیس افسران نے انتہائی محنت سے تیار کیئے ہیں، جو کسی بھی فائیو سٹار ہوٹل سے کم نہیں اور ہم انہیں اسی حالت میں برقرار رکھیں گے۔ ان پولیس سٹیشنز میں ہم نے ہڑپہ کی آرٹ، چولستان کے صحرا، مہدی حسن کا فن، چائنہ گارڈن تھیم سمیت مختلف تخلیقی صلاحیتیں دیکھائی ہیں۔ ہمارے ایس ایچ اوز، کانسٹیبلز، محرران، اے ایس پیز، ڈی ایس پیز، ڈی پی اوز، آر پی اوز ان تھانوں کی مکمل نگرانی کر رہے ہیں۔ پاکستان کی خاطر، لوگوں کو بہتر سروس ڈیلیوری دینے کے لئے، وزیر اعلی پنجاب 31 دسمبر سے لاہور سے اس کا آغاز کر رہے ہیں جبکہ دیگر اضلاع میں ساتھ ہی آن لائن افتتاح ہو گا، پریس، میڈیا، وکلا ہر کوئی جو ان کو دیکھنے آنا چاہے یہ ان کی انسپکشن کے لئے حاضر ہیں، ان پولیس سٹیشنز کی ہر دستاویز پر ایک QR کوڈ ہے جس کے ذریعے آپ اپنی رائے دیتے ہیں، ابھی تک ان پولیس سٹیشنز میں آنے والے 01 لاکھ 70 ہزار لوگ سٹیزن فیڈ بیک مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے ان SIPS بارے فیڈ بیک دے چکے ہیں جس میں سے 01 لاکھ 67 ہزار سے زائد افراد نے پولیس کارکردگی پر اطمینان اور تعریف کا اظہار کیا ہے، 15 فروری 2024ء تک انشا اللہ عوام مانیں گے کہ ہم نے پولیس کے حوالے سے آپ کی پرانی رائے تبدیل کر دی، ہمارے افسران اور جوان دنیا کے بہترین پولیس سٹیشنز میں آپ کی حفاظت اور خدمت کرتے رہیں گے۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور

Punjab Police Official

12,166 просмотров • 2 лет назад