正在加载视频...

视频加载失败

دینی لحاظ سے پنجابی اور سندھی بھی افغانوں کے بھائی ہیں، لیکن خیبرپختونخوا اور بلوچستان کا افغانستان کے ساتھ جو تاریخی، ثقافتی اور برادرانہ رشتہ ہے، اسے احمد شریف اور عاصم منیر کے انگریز آباؤ اجداد جارج بش، اوباما اور ٹرمپ بھی ختم نہیں کر سکے۔ اس نفرت انگیز...

18,187 次观看 • 21 天前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

میرے خیال میں اب صورت حال وہ نہیں ہے اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لئے یہ سارا کچھ کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کی دفاع کیلئے بھی نہیں کر رہا اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی اس وقت حاصل نہیں ہے، بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے یہ خود امریکیوں کے اور امریکی عوام کے نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سو اس وقت پوری دنیا ازسر نو سوچ رہی ہے اور ظاہر ہے سوویت یونین کی ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گی سو اس وقت پوری دنیا امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہیں اور ہمیں خود بیٹھ کر خود اعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہوگا۔ ہمیں یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔ صحافی: کیا ہماری طاقت عکاس نہیں ہے؟ نہیں پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کون سا راستہ ہے؟ جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ دیکھیے سفارت کاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے، ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں اس میں مدد دے سکتے ہیں، ہم سب مسلمان ہیں ہم سب بھائی بھائی ہیں ہم ایک دوسرے پر ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں، بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں، اپنے ملک کے عوام کے خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,437 次观看 • 5 个月前

بدقسمتی یہ ہے کہ افغان ڈائسپورا، جہالت، تعصب اور عصبیت کی باتیں کرتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ خود افغانستان کے اندر پختون، ازبک، تاجک اور ہزارہ سب ایک ہی ریاست میں رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اکٹھے رہیں گے، لیکن وہ ہمیں کہتے ہیں کہ تم پختون ہو، تمہیں پنجابی، سندھی اور بلوچ کے ساتھ نہیں رہنا چاہیے۔ بھائی! اگر افغانستان میں پختون ازبک، تاجک اور ہزارہ کے ساتھ رہ سکتے ہیں تو ہم بھی پاکستان میں اپنے پنجابی، سندھی اور بلوچ بھائیوں کے ساتھ خوشی سے رہ سکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ پختونوں کے لیے پاکستان ایک نعمت ہے۔ دنیا میں پختونوں کا سب سے بڑا شہر کراچی ہے، جہاں لاکھوں نہیں بلکہ ملینز کی تعداد میں پختون کاروبار کرتے ہیں، روزگار کماتے ہیں اور عزت کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ تاریخ بھی واضح ہے کہ افغانستان کی سرزمین مختلف ادوار میں مختلف سلطنتوں کے زیر اثر رہی، حتیٰ کہ احمد شاہ ابدالی کی درانی سلطنت بھی زیادہ عرصہ قائم نہیں رہی۔ اس بنیاد پر یہ دعویٰ کہ پورا خیبر پختونخوا یا اٹک تک افغانستان کا تھا، تاریخی طور پر درست نہیں۔پشاور پر درانی حکمرانی رہی بھی تو مردان، صوابی، ملاکنڈ، سوات اور دیر افغانستان کا حصہ نہیں تھے۔ چترال ایک الگ ریاست تھی، ہزارہ کا اپنا تاریخی پس منظر تھا۔ اب آتے ہیں اس بار بار دہرائی جانے والی بحث پر کہ ڈیورنڈ لائن سرحد نہیں ہے۔ یہ سرحد نہ ماننے سے افغانستان کو کیا ملا؟ داود نور محمد ترہکئی، حفیظ اللہ امین، ببرک کارمل، ڈاکٹر نجیب اللہ، حامد کرزئی اور اشرف غنی سب کے نتائج عدم استحکام اور مہاجرت کی صورت میں سامنے آئے۔آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ دو سپر پاورز کو شکست دی گئی، لیکن جب سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا، ببرک کارمل روسی ٹینکوں کے نیچے کابل میں آیا، اور افغان شہری ان پر پھول نچھاور کر رہے تھے۔ پانچ ملین افغان مہاجر بن کر پاکستان اور دیگر ممالک چلے گئے۔ 2001 میں امریکہ کے حملے کے بعد بھی لاکھوں افغان مہاجر پاکستان آئے، اور پاکستان نے انہیں پناہ دی۔افغانستان میں تعلیم کا نظام کمزور ہے، اسپتال اور ڈاکٹرز نہیں ہے، بنیادی انفراسٹرکچر موجود نہیں۔ ان مسائل پر توجہ دو ، ڈیورنڈ لائن کی بحث لاحاصل ہے۔۔لہٰذا بہتر یہی ہے کہ افغانستان پاکستان کو حقیقی ہمسایہ تسلیم کرے، نفرت اور پرانی بحثوں کو ختم کرے اور امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرے۔ خطے کا مستقبل تعلیم، تعاون اور ترقی میں ہے، نہ کہ ماضی کے تنازعات کو بار بار زندہ کرنے میں۔ افغانستان کے ٹی وی چینل امو سے بات چیت

Khadim Ali khan Yousaf zai

18,699 次观看 • 6 个月前