Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

راحیل شریف نے ایک پلاٹ الاٹ کروایا جسکی قیمت چار ارب ھے۰ اسکے علاوہ دس دس کروڑ کے پلاٹ الگ ہیں۰ اسکی ججز بٹھا کے انکوائری کروا دیں!جاوید ہاشمی۔

150,315 görüntüleme • 7 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

والٹن ائیرپورٹ عمران خان نے فروخت کیا تھا!! سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کا سنگِ بنیاد وزیر اعظم عمران خان نے 26 فروری 2021 کو رکھا- ٹھیک تین ماہ بعد سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اعلان کیا کہ اب اس جگہ کو ایئرپورٹ کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا حتیٰ کہ اس پر قائم فلائنگ کلب بھی اسے تربیتی پروازوں کے لیے استعمال نہیں کر سکیں گے۔ اس کے کچھ ہی ہفتے بعد اگست کی تین تاریخ کو پنجاب کے محکمہ آبادکاری نے ایک سرکاری اعلامیے میں کہا کہ "گورنر پنجاب نے والٹن ایئرپورٹ/فلائنگ کلب کی 70 ایکڑ زمین مشروط طور پر ریاست کو منتقل کرنے کا حکم دیا ہے"۔ اسی محکمے نے 23 اگست کو ایک اور اعلامیہ جاری کیا جس میں گورنر پنجاب نے کہا کہ سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ سے ہونے والی آمدنی کا 42.6 فیصد سول ایوی ایشن اتھارٹی کو اور 57.4 فیصد پنجاب حکومت کو جائے گا۔ جون 2021 میں اس اتھارٹی نے اس زمین کو نیلام کرنے کی پہلی کوشش کی جس کے تحت اخبارات میں اشتہار دیے بغیر چند مخصوص کمپنیوں کو اس عمل میں مدعو کیا گیا۔ لیکن نیوز میڈیا میں اس طریقہِ کار کے بارے میں خبریں نشر ہونے کے بعد اس نیلامی کو منسوخ کر دیا گیا۔ایک ماہ بعد اتھارٹی نے اخبارات میں اشتہار دیا کہ والٹن ایئرپورٹ کی زمین کی نیلامی 4 اگست کو کی جائے گی لیکن اس دوران متعدد افراد نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کر دیں کہ نیلامی کا عمل غیر قانونی ہے لہٰذا اسے روکا جائے۔ ان کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ اس میں شمولیت کے لئے درخواستیں صرف مخصوص افراد اور کمپنیوں سے لی گئی ہیں۔تیسری دفعہ 22 اگست کو اخبارات میں اشتہار دیا گیا کہ ایئرپورٹ کی زمین میں سے پونے آٹھ ایکڑ رقبہ 7 ستمبر کو نیلام کیا جائے گا۔ یہ نیلامی بالآخر کامیاب رہی اور سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ اتھارٹی نے پانچ تجارتی پلاٹ 21 ارب 59 کروڑ روپے میں چار مختلف کاروباری اداروں کو 90 سالہ لیز پر دے دیے۔اس بولی میں 13 پاکستانی اور غیر ملکی کمپنیوں نے شرکت کی جن میں سے نووا ڈویلپرز اور ترکی کی کمپنی بائرکتار انسات پر مشتمل کنسورشیم نے 18 کنال کا ایک پلاٹ سات ارب 63 کروڑ روپے میں حاصل کیا۔ 11 کنال پر مشتمل دوسرا پلاٹ اسلام آباد کی کمپنی اے ایس ای حسنات جوائنٹ وینچر نے چار ارب 22 کروڑ روپے میں لیا۔ تیسرا پلاٹ دو ارب 84 کروڑ روپے کے عوض پشاور کے عباس خان گروپ کو ملا جو امریکہ میں الیکٹرانک سگریٹ کا کاروبار کرتا ہے۔ اس پلاٹ کا رقبہ 10 کنال ہے۔ چوتھا پلاٹ، جس کا رقبہ 13 کنال ہے، عارف حبیب گروپ کو چار ارب 6 کروڑ 90 لاکھ روپے میں دیا گیا جبکہ پانچواں پلاٹ بھی اسی گروپ نے دو ارب 84 کروڑ روپے میں حاصل کیا۔ اس بولی کے مکمل ہونے کے بعد 9 ستمبر 2021 کو محمد اعظم نامی ایک شہری نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی کہ پنجاب حکومت نے والٹن ایئرپورٹ کی زمین پر غیر قانونی طریقے سے قبضہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنی درخواست میں یہ بھی کہا کہ سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کا منصوبہ ماحولیاتی تحفظ کے محکمے سے اجازت لیے بغیر شروع کیا جا رہا ہے۔ ان دونوں وجوہات کی بنا پر انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ نیلام شدہ پلاٹوں کی منتقلی روکی جائے۔لیکن جج، جسٹس جواد حسن نے ان کی استدعا رد کر دی۔

Ch Pervaiz Sandhila Official

26,813 görüntüleme • 2 yıl önce

ہمارے دوست وزیرداخلہ محسن نقوی صاحب کا یہ اعتراف کتنا خوفناک ہے اس کا اندازہ شاید کسی کو امریکہ ایران چکر میں نہیں ہوا۔ وہ سی ڈی اے کے وزیر انچارج ہوتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ مجھے بھی اس ادارے میں کام ہو تو دس لاکھ روپے (رشوت) دینی پڑے گی۔ نقوی صاحب دو سال سے اس ادارے کے سربراہ ہیں جس کے بارے کہہ رہے ہیں وہاں کرپشن کا ریٹ دس لاکھ ہے۔ وہ ادارہ جس میں وزیراعظم تک کو مداخلت کی اجازت نہیں ہے آپ وزیروں کو تو چھوڑ ہی دیں۔ نقوی صاحب دو سال سے اس سونے کی کان جیسے ادارے کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ وہ اپنے لاڈلے کمشنر لاہور محمد علی رندھاوا کو لائے اور اسلام آباد کا پہلے چیف کمشنر اور پھر سونے کی کان سی ڈی اے کا چیرمین لگا دیا اور وہ چیرمین خود کو نقوی صاحب کے علاوہ کسی کو جواب دہ نہیں سمجھتا تھا بلکہ اکثر قائمہ اجلاسوں میں ان کی رعونت اور تکبر کو سب نوٹ کرتے تھے۔ پچھلے سال جولائی میں سترہ ارب تو دسمبر میں چوبیس ارب کے پلاٹ بیچے گئے۔ مطلب چھ ماہ میں سی ڈی اے کے پاس چالیس ارب تھا۔ ہزاروں درخت کاٹے گئے، جنگل تباہ کیے گئے، غیرضروری اور ناقص فلائی اوور اور سڑکیں بنائ گئیں جو پہلی بارش پر ٹھس ہوئیں۔ ماحول تباہ کیا۔ پورے شہر کو ایک گریڈ بیس کے افسر نے تہس نہس کر دیا اور ابھی چند دن پہلے رندھاوا صاحب اور نقوی صاحب چین گئے اور وہاں سے فرمایا کہ اسلام آباد شنگھائی بنے گا۔ شنگھائی خاک بنتا الٹا آج وزیر صاحب فرما رہے ہیں وہ ان دو سالوں میں جب رندھاوا نقوی جوڑی اس ادارے کو چلا رہی تھی وہ کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے۔ یہ نتیجہ نکلا ہے ایک گریڈ بیس کے افسر کو خوفناک اختیارات دینے کا۔ یہ دراصل رندھاوا صاحب کے خلاف چارج شیٹ ہے کیونکہ دو سال سے وہ سفید سیاہ کے مالک تھے۔ نقوی صاحب کو اپنی اس ناکامی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے سی ڈی اے کی وزارت کا چارج چھوڑ دینا چاہئے۔ ان دو سالوں کا آڈٹ ہونا چاہیے کہ چالیس ارب کہاں خرچ ہوا۔ لاہور کا لاڈلا کنٹریکٹر کون تھا جسے سب اربوں کے کنٹریکٹ نصیب ہوئے۔ رندھاوا صاحب تو اپنے ساتھ درجن بھر ڈی ایم جی افسران ڈیپوٹیشن پر لائے تھے ان کی یہ کارگردگی تھی کہ ریٹ دس لاکھ روپے چل رہا ہے؟ افسوس اس بات کا ہے کہ جس گریڈ بیس کے افسر کے دور میں رشوت کا ریٹ دس لاکھ تک جا پہنچا ہے اسے نقوی صاحب نے ڈی جی پاسپورٹ لگا دیا ہے۔ دو سال بعد نقوی صاحب ہمیں پاسپورٹ آفس کا ریٹ بتا رہے ہوں گے کہ کام کرانا ہے تو دس لاکھ ریٹ ہے؟ اگر سی ڈی اے کا ریٹ آج دس لاکھ ہے تو رندھاوا صاحب کیسے کلئرنس لے کر ایک اور سونے کی کان کے مالک بنا دیے گئے ہیں۔ ؟ ان کے خلاف کیا کاروائی ہوئی جن کے دور میں بقول ریٹ دس لاکھ تک پہنچ گیا ہے؟ نقوی صاحب یہ آپ کی ناکامی ہے اور آپ کو اس کی ذمہ داری لینی چاہئے۔ مان لیں یہ آپ کے بس کا کام نہیں ہے۔ جب رندھاوا صاحب پورا شہر اجاڑ رہے تھے آپ ان کے محافظ بن کر کھڑے تھے حالانکہ جب وزیراعلی تھے تو بڑا آپ کی کارگردگی کا شور سنا تھا۔ پنجاب بارہ کروڑ کا صوبہ اور اسلام آباد پچیس لاکھ لیکن یہاں آپ ناکامی کا اعتراف کر رہے ہیں اور اب بتا رہے ہیں جس ادارے کو آپ نے دو سال ہیڈ کیا اس کا ریٹ دس لاکھ ہے۔ نقوی صاحب کے دس لاکھ ریٹ انکشاف سے اب آپ سب کو خواجہ آصف کی بات سمجھ آرہی ہے کہ پاکستان بیوروکریٹس بیرون ملک شہریت اور پرتگال میں دھڑا دھڑ جائیدادیں کیسے خرید رہے ہیں۔۔ 😎 Shehbaz Sharif Maryam Nawaz Sharif Mohsin Naqvi Capital Development Authority - CDA, Islamabad Sohail Muhammad Ali Randhawa Ahsan Iqbal Dr. Musadik Malik Junaid Akbar Barrister Gohar Khan Khawaja M. Asif Khawaja Saad Rafique Palwasha Khan Shazia Atta Marri SenatorSherryRehman Raja Khurram Nawaz Nabil Gabol Syed Agha Rafiullah Sher Afzal Khan Marwat Dr. Tariq Fazal Ch. Syed Naveed Qamar Hina Rabbani Khar Sana Ullah Khan Mastikhel

Rauf Klasra

89,373 görüntüleme • 5 ay önce

آپ ہار چکے ہیں !!! آپ نے عمران خان کی پارٹی کو ختم کرنا تھا۔ دس ہزار گرفتاریوں چالیس ہزار چھاپوں اور چار درجن کے قریب لاشیں گرانے کے باوجود آپ عمران خان کی پارٹی کو ختم نہیں کرسکے۔ آپ کو شکست ہوئی۔ آپ نے عمران خان کو بدنام کرنا تھا۔ عدت والا کیس بنایا، ایک تیسرے درجے کی ناکام اداکارہ سے کتاب لکھوائی ، بیگم کے سابقہ شوہر پر تشدد کرکے اسے ذلیل کیا۔ وزیر صحت سے اسکے پیشاب پر پریس کانفرنس کروائی ۔ لیکن آج بھی وہ ایاک نعبد وایاک نستعین کا محافظ ہے۔ آپ ناکام ہوئے۔ آپ نے عمران خان کو کرپٹ چور ڈاکو ثابت کرنا تھا۔ قادر ٹرسٹ کیس بنایا ، توشہ خانہ کیس بنایا لیکن لوگ اسے آج بھی ایماندار کہتے ہیں۔ آپ کو شکست ہوئی۔ آپ نے اس کا نام لوگوں کے دماغوں سے محو کرنا تھا۔ وہ ہتھوڑے کی طرح آپ کے اپنے ضمیروں پر برس رہا ہے۔ آپ ناکام ہوئے۔ آپ نے اسے بزدل اور بھگوڑا بنانا تھا۔ لیکن وہ جیل میں بھی مسکراتا ہے۔ وہ آج پہلے سے زیادہ ڈٹا ہوا ہے۔ آپ ہار گئے۔ آپ نے نواز شریف کو مقبول بنانا تھا۔ آپ نے اسکے غبارے میں ہوا بھرنی تھی۔ وہ غبارہ پھٹا اور اسکے اندر کے گندے جرثوموں کے چھینٹے آپ کے اپنے منہ پر گرے۔ آپ ناکام ہوگئے۔ آپ نے عوام کے دلوں میں دہشت اور خوف بٹھانا تھا۔ آپ نے عوام کو خوفزدہ کرنا تھا۔ عوام خوفزدہ نہیں ہوئے۔ بچہ بچہ کہتا ہے عمران خان کے لیے جان بھی حاضر ہے۔ آپ کو بدترین شکست ہوئی۔ آپ نے الیکشن میں عمران خان کے امیدواروں کے کاغذات چھینے ، نااہل کروائے ، گرفتار کیے، بلے کا نشان چھینا ، لیکن آج بھی اسکے آزاد امیدوار آلو بینگن اور گوبھی کے نشانات پر پونے دو سو سیٹیں جیتنے جارہے ہیں۔ آپ کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ آپ کو پے در پے شکست ہوئی۔ آپ ہر جگہ ہارے۔ آپ گھٹیا سے گھٹیا ترین حملہ کرکے بھی ہارے۔ آپ بدترین تشدد کرکے بھی ہارے۔ آپ قتل عام کرکے بھی ہارے۔ آپ میڈیا کو کنٹرول کرکے بھی ہارے۔ آپ صحافیوں کو شہید کرکے بھی ہارے لاپتہ کرکے بھی ہارے۔ آپ کا بنایا ہوا ایک ایک منصوبہ ناکام ہوا۔ آپ کو آپ ہی کے گھروں کے اندر سے شکست ہوئی۔ آپ آٹھ فروری کو بھی ہاریں گے !!!! آپ آٹھ فروری کے بعد بھی ہاریں گے۔ آپ 2025 میں بھی ہاریں گے آپ 2050 میں بھی ہاریں گے

Adil Raja

363,094 görüntüleme • 2 yıl önce

صحافی منصور علی خان سرحد یونیورسٹی واقع کے اصل حقائق منظرِ عام پر لے آئے۔ جو افسوسناک واقع سرحد یونیورسٹی میں پیش آیا یہ اچانک سے رونما نہیں ہوا بلکہ اسکا تعلق گزشتہ کئی روز سے چلنے والے یونیورسٹی کے اندرونی معاملات سےہے۔ چند روز قبل بنوں کے رہائیشی اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر جدون خان کو کرپٹ سروسز/ رشوت خوری اور طالبات کو ہراساں کرنے کے الزام میں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا اور اسکی جگہ Miss Aina کو تعینات کیا گیا جو کہ جدون اور اسکے حواریوں کو ہضم نا ہوا۔ کچھ روز قبل جدون مس عینا کے دفتر گیا ان سے بدتمیزی کی اور دھمکیاں دی جسکے بعد Miss Aina نے 15 پر کال کرکے پولیس کو اطلاع دیکر جدون کیخلاف درخواست دی لیکن یونیورسٹی انتظامیہ نے ڈاکٹر جدون سے معافی نامہ لکھوا کر معاملہ رفع دفع کروا دیا۔ لیکن معطل شدہ HOD کی بحالی کے مطالبے پر طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے معطل HOD سمیت احتجاج شروع کردیا۔ ڈاکٹر آئینہ صورتحال کو سنبھالنے اور مظاہرین سے بات چیت کے لیے وہاں پہنچیں۔ بات چیت کے دوران تلخ کلامی ہوئی اور ایک طالب علم نے مبینہ طور پر ڈاکٹر آئینہ کے گریبان پر ہاتھ ڈالا اور انہیں دھمکیاں دیں۔ صورتحال بے قابو ہونے پر ڈاکٹر آئینہ نے اپنے شوہر، جو پاک فوج کے افسر ہیں، کو اطلاع دی جو تنہا یونیورسٹی پہنچے اور ان کے ساتھ کوئی فوجی دستہ یا جوان موجود نہیں تھا۔ ڈاکٹر آئینہ نے افسر کو اس نوجوان کی نشاندہی کی جس پر بدسلوکی کا الزام تھا۔ افسر اس نوجوان کی طرف بڑھے اور اسے سرزنش کی، جس کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی اور طلبہ کے ایک گروہ نے افسر کو گھیر لیا اور دھکم پیل کے بعد تشدد شروع کر دیا کشیدہ صورتحال میں افسر نے اپنا اسلحہ نکالا اور ہوائی فائرنگ کی۔ تاہم یہ معاملہ بھی باقاعدہ انکوائری اور قانونی جانچ کے تحت ہے کہ اس موقع پر طاقت کے استعمال کی نوعیت اور قانونی حیثیت کیا تھی۔ جبکہ دوسری طرف ویڈیوز اور دیگر شواہد کی بنیاد پر تقریباً 37 افراد پر افسر پر مبینہ حملے، جن میں کہنی، مکے اور لوہے کی راڈ کے استعمال کے الزامات شامل ہیں، کی نشاندہی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس کے علاؤہ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت تمام متعلقہ افراد کے کردار کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور شواہد کی بنیاد پر قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

میاں عامر 🦁

61,103 görüntüleme • 1 ay önce

اسلام آباد: 7 جولائی 2026. وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے آج اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی. وفاقی کابینہ نے حج پالیسی اور پلان برائے 2027-2030 کی منظوری دے دی. وفاقی کابینہ نے رواں برس بہترین حج انتظامات پر وفاقی وزیرِ مذہبی امور سردار محمد یوسف اور وزارت کی ٹیم کی تعریف کی. وفاقی کابینہ کو حج پالیسی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ نئی حج پالیسی گزشتہ ایک سالہ حج پالیسیوں کے برعکس پہلی چار سالہ حج پالیسی اور پلان پر مشتمل ہے. اس حج پالیسی کے تحت طویل مدتی پلاننگ، آپریشنز میں بہتری اور حاجیوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی ممکن ہوگی. مجوزہ پالیسی کے نفاذ کیلئے SOPs اور دیگر ضوابط بنائے جائینگے۔ پالیسی کو سعودی قوانین اور ضوابط سے ہم آہنگ کرنے کیلئے اس میں ضرورت کے مطابق ترامیم کی جا سکیں گی۔ مزید بتایا گیا کہ پالیسی کے تحت حج کے خواہشمند افراد سالانہ رجسٹریشنز کی بجائے 2030 تک کسی بھی سال کیلئے اپنی ضرورت کے مطابق بلاتعطل حج کی رجسٹریشن کروا سکیں گے. اسکے نتیجے میں ترجیحی ویٹنگ لسٹ مرتب کی جائے گی. اسکے ساتھ ساتھ شرعی اصولوں کے مطابق سیونگ اسکیم بھی متعارف کروائی جا رہی ہے جسکے تحت حج کے خواہاں لوگ مستقبل میں حج کیلئے سیونگ اسیکم سے مستفید ہو سکیں گے. اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ حج کے تمام تر نظام کو ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے جس میں ادائیگیاں بھی ڈیجیٹل نظام سے ہونگیں. اسکے علاوہ شکایات کا ڈیجیٹل نظام اور ڈیجیٹل نگرانی ہوگی. پالیسی کے تحت سرکاری اور پرائیوٹ حج کا کوٹہ مختص کیا گیا ہے. پالیسی کے تحت لانگ اور شارٹ حج پروگرام متعارف کروائے جار ہے ہیں جبکہ حجاج کرام کی ضروری تربیت اور تکافل و ہنگامی ریسپانس بھی پالیسی کا حصہ ہیں. کابینہ نے ہدایت کی کہ معاونین حج کی تقرری ایک شفاف نظام اور خالصتاً میرٹ پر جائے، مزید برآں پرائیوٹ و سرکاری حج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے. وفاقی کابینہ نے شہریوں کو علاج معالجے کی معیاری سہولیات کو یقینی بنانے کیلئے اسلام آباد میں موجود آئیسولیشن ہاسپٹل اینڈ انفیکشئس ٹریٹمنٹ سینٹر (IHITC) اور ریجنل بلڈ سینٹر (RBC) کی سروسز کی آؤٹ سورسنگ کی پالیسی منظوری دے دی. فیصلے کے بعد وزارت قومی صحت ان اسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ قوائد و ضوابط کے مطابق یقینی بنائے گی. وفاقی کابینہ کو وزیرِ ریلوے کی جانب سے پاکستان ریلوے کی کارکردگی پر بھی بریفنگ دی گئی. اجلاس کو وزیر ریلوے نے بتایا کہ ریلوے کی آمدن 2024-25 میں 95 ارب بڑھ کر گزشتہ مالی سال 2025-2026 میں 115 ارب روپے کو عبور کر گئی جو کہ 24.19 فیصد اضافہ ہے۔ فریٹ آمدن میں 8 ارب سے زائد، دیگر آمدن میں 7 ارب سے زائد، پراپرٹی و لینڈ آمدن میں 6 ارب سے زائد اور مسافروں کی آمدو رفت سے آمدن میں 3.37 فیصد کا اضافہ ہوا. اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ریلوے آپریشنز میں بہتری کے ساتھ ساتھ فریٹ کارگو کی آمد و رفت کی بہتری یقینی بنائی گئی ہے. وفاقی کابینہ نے وزیرِ ریلوے حنیف عباسی اور انکی ٹیم کی تعریف کی. وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی (CCLC) کے 19 مئی 2026 اور اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کے 2 جولائی 2026 کو منعقدہ اجلاسوں میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی.

Prime Minister's Office

13,849 görüntüleme • 2 ay önce

یہ چھبیسویں اور ستائسویں آئینی ترمیم جو ہوئی ہے اس کیساتھ ملک نہیں چل سکتا ایسی ترمیم کی گئی جس سے ایک ریٹائرڈ جنرل اور جعلی صدر نے استثنی لے لی پاکستان اور بھارت کی جنگ میں ہمارا ایئر ڈیفنس ناکام ہوگیا اس کے ڈرون شہروں میں حملے کررہے ہیں تھوڑی بہت بہادری جو دکھائی ہے وہ پاکستان ایئرفورس نے دکھائی ہے اور اس پر ریٹائرڈ جنرل نے فیلڈ مارشل کے رینکس خود کو لگا دئے 26 اور 27 ویں آئینی ترمیم سے ججز کو دو راستے دیے گئے پشاور کا جج میرٹ پر فیصلہ کریگا تو یہ سکھر لاڑکانہ ٹرانسفر ہوگا یا استعفی دیگا یا پھر لکھا ہوا فیصلہ سنانا ہوگا اسلام آباد ہائیکورٹ کی حدود صرف 22 کلومیٹر ہے وہ کس حیثیت سے چار صوبوں کے آئی جیز اور چیف سیکرٹریز کو طلب کررہی ہے؟ صرف پختونخوا کے آئی جی اور چیف سیکرٹری سے بیان حلفی لیتی ہے کہ 27 ستمبر کا احتجاج وہ روکیں گے اپنے چیف سیکرٹری اور آئی جی کو یہ درخواست کرتا ہوں کہ آپ اپنے اداروں کے سربراہان ہیں آپ کیوں کسی کی غلط ہدایات پر عمل پیرا ہو رہے ہیں؟ اگر ایسا ہوا تو پہلا گھیرائو ہم ان دفاتر کا کریں گے مسلم لیگ ن اور نواز شریف کی سیاست جنرل ضیا اور جنرل جیلانی کے بوٹوں کے تسموں سے بندھی ہوئی ہے پھر جعلی انقلابی بن گیا اور نعرہ لگایا کہ بوٹ کو عزت دو آج پھر جنرلز کے بوٹوں سے بندھا ہوا ہے مسلم لیگ ن کے علاوہ تمام جماعتوں سے درخواست ہے کہ کنوئیں سے اس کو نکالو تک فوج کو سیاست سے نکالیں گے ایک ریٹائرڈ جنرل اور غیر منتخب وزیر داخلہ صوبے بنانے کی بات کرتے ہیں ان کو صوبے بنانے کا اختیار کس نے دیا؟ چار نہیں چار سو صوبے بنا دیں فوج کی مداخلت ہوگی تو ایک چیز بھی ٹھیک نہیں ہوگی وزیر تعمیرات و مواصلات شکیل احمد

Muhammad Faheem

16,237 görüntüleme • 11 gün önce

کون سا ولٹ کیپر کھیلے گا ؟ کون سا وکٹ کیپر زیادہ اچھا ہے ؟ پاکستان کرکٹ میں یہ بحث نئ نہیں ہے۔ ماہرین ، مبصر اور شائقین کرکٹ سلیکٹرز یا کپتان کی جانب دیکھتے ہیں اور کبھی کبھار سوال بھی کرتے ہیں ۔ اس کرب سے اکثر ٹیم منیجمینٹ کو پہلے بھی گزرتے دیکھا ہے جب وسیم باری صاحب کی جگہ تسنیم عارف مرحوم کلکتہ ٹیسٹ کھیلے لیکن کچھ عرصہ بعد وسیم باری صاحب دوبارہ ٹیم میں شامل ہو گئے ۔ ذوالقرنین،سلیم یوسف اور اشرف علی بھی ایک دوسرے کے مدمقابل رہے ۔ میرے اور معین کے بعد کامران اکمل اور سرفراز کے درمیان مقابلہ رہا اور پھر ذوالقرنین اور کامران اکمل کے درمیان رہا لیکن عدنان اکمل نے جگہ بنا لی لیکن صرف ۲۱ ٹیسٹ کے بعد سرفراز ان کے ان فٹ ہونے کے بعد ٹیم میں شامل ہوئے اسکے بعد انہوں نے پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھا ۔ وہ کپتان بھی بنے اور چیمپئنز ٹرافی بھی ُان کی قیادت میں ٹیم کے کھلاڑیوں نے جیتی ۔ ۲۰۱۹ کے ورلڈ کپ سے پہلے آسٹریلیا کے خلاف یو اے ای میں ایک روزہ سیریز کھیلی گئی جس میں کپتان کو آرام کرنے کا مشورہ دیا گیا اور محمد رضوان کھیلے اور دو سینچریاں بھی کی لیکن وہ ورلڈ کپ کی ٹیم میں اپنی جگہ نہ بنا سکے ۔ سرفراز اور رضوان پر دوبارہ آوں گا پہلے معین خان اور میرے درمیان جو مقابلہ رہا اسکا ایک واقعہ بیان کرتا چلوں۔ ۱۹۹۵ میں تقریباً دس ماہ کے بعد آسٹریلین دورہ میں میری پاکستان ٹیم میں واپسی ہوئ تھی۔ برسبین میں پہلا ٹیسٹ ہم ہار جاتے ہیں اور ہوبارٹ ٹیسٹ مسے پہلے ٹیم منیجر اور کپتان میرے پاس آئے اور کھیلنے کی پیشکش کی۔ میں نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ معین کو ایک چانس اور دیں کیونکہ اس سے پہلے سری لنکا ٹیسٹ میں معین نے سینچری بھی بنائی ہے اسکے ساتھ زیادتی ہو جائیگی ۔ اور ساتھ ساتھ اگر سڈنی ٹیسٹ کھیلنا ہے تو مجھے بتا دیں تاکہ اسکی تیاری اس ہی طرح سے کروں کیونکہ دس ماہ بعد میچ کھیلوں گا ۔ جب شان مسعود اور حفیظ کو مشکلات ہو رہی تھیں تو وہاں محمد رضوان کو آگے بڑھ کر آنا چاہیے تھا اور وہ ٹیم منیجمنٹ کو مشورہ دیتے کے سرفراز احمد کو پوری سریز نہیں تو میلبورن ٹیسٹ ضرور کھلائیں اس سے ٹیم میں یکجہتی بڑھ جاتی - ہاں اگر رضوان اپنی وکٹ کیپنگ سے پاکستان ٹیم کو میچ جتوا دیتے ہیں تو رضوان اور ٹیم منیجمینٹ کا فیصلہ سر آنکھوں پر ۔ ۱۹۹۵ ٹور میں پھر سڈنی ٹیسٹ میں مجھے ہی کھلایا گیا۔ یادگار ٹیسٹ ہوا اور اس میں اعجاز احمد نے بہت عمد سینچری بنائی اور مشتاق احمد ، وسیم اکرم ، ثقلین اور وقار یونس نے ٹیسٹ کلاس باؤلنگ کی اور وہ ٹیسٹ ہم جیت گئے۔ میں اپنی ویڈیو شئیر نہیں کرتا لیکن اس ٹیسٹ کی تیاری بہت کی تھی اس لیئے کچھ کیچز کی ویڈیو لگا رہا ہوں ضرور دیکھئیے گا ۔

Rashid Latif | 🇵🇰

132,062 görüntüleme • 2 yıl önce

آج پہلے فرید قریشی ، اسد ملک اور مغل نے سلمان اکرم راجہ کی میڈیا ٹاک میں مجھے ناصرف کارنر کرنے کی کوشش کی بلکہ میرے سوال پوچھتے وقت بولنا شروع کر دیتے تھے پھر جب لاسٹ میں میں سوال کرنے کی کوشش کی تو بھی مرزا اخلاق سے نعرے لگوا کر مجھے روکنے کی کوشش کی میں نہایت صبر کیساتھ سب برداشت کیا اور تحمل کیساتھ برداشت کرتے ہوئے سوال پوچھ کر دم لیا پھر سب میڈیا والے نیچے چلے گئے اور مرزا اخلاق بھی نیچے پہنچ گیا ان سب کیساتھ بیٹھ کر اظہر جاوید کو برا کہا گیا اور تحریک انصاف کے کارکن مرزا اخلاق نے اظہر جاوید کی والدہ کو گالیاں دیں مجھ سے برداشت نہیں ہوا اسی وقت اظہر جاوید کو فون کر کے بتایا کہ آپکی والدہ کو گالیاں دی جا رہی ہیں اور رپوٹرز بیٹھ کر سن رہے ہیں کیونکہ میں سب کے سامنے اظہر جاوید کو فون کر کے بتا رہی تھی اسکے بعد شوکت ڈار اتے ہیں میں ہم لوگ باہر چلے جاتے ہیں میں جب دوبارہ ریسٹورینٹ میں داخل ہوتی ہوں یہ لوگ کھانا کھانے میں مصروف تھے اور میں شوکت ڈار صاحب سے کہا کہ میں ٹویٹ کرنے لگی ہوں کہ ہزار سور ملکر بھی شیر کو نہیں ڈرا سکتے اتنے میں اس ملک نے شوکت ڈار کو مجھے گالی دیتے ہوئے کہا اسے کہیں اپنا منہ بند کر لے میں نے کہا تمہیں کیوں تکلیف ہو رہی میں تمہیں سور نہیں کہہ رہی اسکے بعد اس نے گالیاں دیتے ہوئے کہا کہ میں چغل خور ہوں اور پھر میں نے بھی گالیوں کے جواب میں گالیاں ہی دیں اس نے مجھے دھمکی دی کہ تم مجھے جانتی نہیں ہو ہم تمہارے گھر ائیں گے خیر میں ایسے گیدڑ بھبکیوں سے ڈرنے والی نہیں جو شخص اپنے گھر کی عورتوں پر تشدد کرنے کا عادی ہو اسکا مطلب یہ نہیں کہ باہر بھی گالی دے گا سن لی جائے گی میں نے پولیس میں ان لوگوں کے خلاف رپورٹ کروا دی ہے فرید قریشی کے خلاف پہلے ہی پولیس میں کمپلئین ہیں آج دوسرے گینگ ممبرز کا بھی اضافہ ہو گیا ہے میں نے ARY اور Hum والوں کو شکایات کیں تھیںیہ سلسلہ پچھلے ایک سال سے جاری ہے جان بوجھ کر تحریک انصاف کے لوگوں کو میرے خلاف چھوڑا جاتا ہے اور کئی مرتبہ جانی نقصان بھی پہنچانے کی کوشش کی گئی ایسڈ اٹیک تک کروایا گیا لیکن میں نا تب ڈری تھی نا اب ڈروں گی کوئی مرد اٹھے اور مجھے گالی یا میری ماں کو گالی دے گا میں اس سے ڈبل گالی اسکی گھر کی عورتوں کو دونگی اور جتنی چیخیں مارنی ہے مار گالی تو ڈبل ہی ملے گی

Safina Khan

60,764 görüntüleme • 1 yıl önce

اس ملک میں ہر روز کچھ نہ کچھ بڑا ہورہا ہوتا ہے۔ اب یہ سن لیں۔ اس ملک کو گرمیوں میں 25 ہزار میگا واٹ بجلی اور سردیوں میں دس بارہ ہزار کی ضرورت ہوتی ہے لیکن سیاسی حکمرانوں اور بابوز نے مل کر 41 ہزار میگا واٹ بجلی کے معاہدے کر لیے۔ اکثر آئی پی پی ایز حکمرانوں کے اپنے ہیں یا ان بچوں کے ہیں۔ جس کو اپنے بچے کو کاروباری کرانے کی ضرور پڑی اس نے کہا بیٹا کہہ دیتا ہوں تو IPP لگا لے، گھر بیٹھے بغیر بجلی پیدا کیے تجھے اربوں capacity charges ملیں گے۔ بڑے بڑے سرکاری بابوز نے عہدے پروموشن کی لالچ میں انی مچا دی۔ اپنے ایک پائو گوشت کے لیے پورا اونٹ ذبح کر دیا۔ چلیں تین چار ہزار میگا واٹ زیادہ لگ جاتی لیکن ان بے رحم لوگوں نے 17/18 ہزار میگا واٹ اضافی بجلی کے یونٹس لگا دیے۔ اب خرچ 25 ہزار ہورہی ہے لیکن ان ائی پی پی ایز کو ادائیگی 41 ہزار میگا واٹ کی ہورہی ہے۔ یہ سنیں کہ وہ افسران جو اس سرپلس بجلی پیدا کرنے میں شامل ہیں جس سے اربوں کی مفت ادائیگی ہورہی ہے، اب انہوں نے حکومت سے فرمائش کی ہے کہ انہیں اس ملک کو 17/18 ہزار میگا واٹ سرپلس بجلی کا تحفہ دینے پر تین سو ڈالر فی میگا واٹ انعام دیا جائے۔۔ نہ صرف استمعال نہ ہونے والی 17/18 ہزار میگا واٹ کی ادائیگی ہورہی ہے بلکہ ان ائی پی پی ایز کا قرض بھی 2200 ارب ہے جس پر 173 ارب سود الگ سے دیا جارہا ہے اور اب وہی اس کے ذمہ دار افسران تین سو ڈالرز فی میگا واٹ انعام بھی مانگ رہے ہیں۔ اس ملک کو اس حالت میں لانے کے جو ذمہ دار ہیں، مہنگی بجلی سے لوگوں کی چیخیں نکوا دی ہیں وہ اب الٹا ڈالروں میں انعام بھی چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کو کوئی شرم حیا نہیں ہے کہ 17/18 ہزار سرپلس بجلی پیدا کر کے انہوں نے ملک کا بیڑا غرق کیا ہے۔الٹا ملک اور قوم کا بٹھا بٹھانے والے افسران اب ڈالروں میں انعام بھی مانگ رہے ہیں۔ حد ہوگئی ہے۔ واقعی یہ لوگ اتنے بے رحم ہیں؟ یا سب ملے ہوئے ہیں۔ کوئی اپنے ملک اور قوم کے ساتھ اتنا ظلم کیسے کرسکتا ہے؟ Sohail Iqbal Bhatti Shehbaz Sharif Syed Naveed Qamar GTV News HD SenatorSherryRehman Omar Ayub Khan Nadeem Afzal Chan Ahsan Iqbal

Rauf Klasra

76,066 görüntüleme • 1 yıl önce

🚨🚨 بریکینگ نیوز : سعودیہ عرب نے پاکستان کے ساتھ ہی معاہدہ کیوں کیا؟؟؟, شہبازگل نے اصل کہانی بتادی ۔!!!!🔥🔥🔥 ایک ایکسکلوزیو خبر آپکے سامنے رکھتے ہیں،خبر ہے یورو نیوز کی, یورو نیوز یہ بتاتا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ کرنے جا رہا ہے ۔ یورو نیوز یہ لکھتا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر دونوں چھ تاریخ کو سعودیہ عرب پہنچے ۔ اور آج سات تاریخ کو اس معاہدے پر دستخط ہونگے, کیونکہ ترکش پریزیڈنٹ اردوگان بھی آج سعودیہ عرب پہنچ رہے ہیں ۔!!!! اب یہ بہت ہی امپورٹنٹ مسئلہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ تو سعودیہ عرب کا دفاعی معاہدہ تھا، تو آپکے ذہنوں میں سوال ہے کہ پاکستان کے ساتھ ہی کیوں؟ کسی اور کے ساتھ سعودیہ عرب نے کیوں نہیں کیا۔؟ اور تو اور سعودیہ عرب کے پاس جب امریکہ جیسا ملک ہے جو سعودیہ عرب کا دفاع کرنے کیلئے تیار ہے اور انکی بیسیس بھی وہاں ہیں ۔ تو پھر پاکستان سے معاہدہ کیوں یہ آپکے ذہنوں میں سوال ہونگے ۔ اور پھر ترکی وہ اس میدان میں کیوں آگئے ہیں؟ جب پاکستان موجود ہے تو پھر وہ معاہدہ کیوں کر رہے ہیں؟ تو سب سے پہلے پاکستان سے معاہدہ کیوں ہے اس پر تھوڑی روشنی ڈالتے ہیں ۔ آپکو یاد ہوگا حال ہی میں ہم نے سعودیہ عرب سے چھ اعشاریہ سات ارب ڈالر مانگے تھے ۔ اس سے پہلے بھی ہم نے مانگے ہیں ۔ مزید ہم نے چھ اعشاریہ سات ارب ڈالر مانگیں کہ ہمیں کم قیمت میں دے دیجئے ۔ اور حال ہی میں ہم نے امریکہ سے بھی دس ارب ڈالر مانگے ۔ اب ہم اتنے پیسے کیوں مانگ رہے ہیں؟ اور وہ ہمیں کیوں دینگے.؟ میں نے جیسے پہلے کہا سعودیہ عرب کے پاس امریکہ ہے انکی حفاظت کرنے کیلئے ۔ ہمارے ساتھ وہ معاہدہ کیوں کرینگے جب امریکہ کی فوجی بیسیس وہاں ہے اور انکے فوجی بھی ہیں ۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ کے پاس اسلحہ ہے، ٹیکنالوجی ہے، راکٹ ہے، میزائل ہے، سب کچھ ہے لیکن امریکہ اپنے فوجیوں کو کسی اور کیلئے مروانا نہیں چاہتا ۔ سعودیہ عرب کے پاس تیل ہے، پیسہ ہے، لیکن انکے پاس بھی مروانے کیلئے فوجی نہیں ہے۔ ہمارے پاس نا پیسہ ہے، نا تیل ہے، نا ٹیکنالوجی ہے، نا اکنامی ہے ، نا معیشت ہے، کچھ نہیں ہے ہمارے پاس ۔ ہمارے پاس کیا ہے؟ ہمارے پاس آبادی ہے، دھرا دھر ہم آبادی بڑھا رہے ہیں ۔ اور اسکے بیسیس پر چوہدری صاحب نئے لوگوں کو بھرتی کر سکتے ہیں ۔ اور ہمارے پاس ان ماؤں کے بیٹے ہیں جنہیں ہم ان سرحدوں پر بھیج سکتے ہیں جہاں پر وہ اپنی جانیں پیش کریں۔🚨🚨🔥

Anisha KHAN

28,065 görüntüleme • 1 ay önce

پولیس انسپکٹر کا سابق آرمی جنرل کو بولا گیا جملہ “جاؤ جس باپ کو بتانا ہے بتاؤ” ہمدانی سمیت سب کو لے ڈوبا۔۔۔۔ کوئی بھی جرم جب سرزد ہوتا ہے تو ماحول میں دھول سی چھا جاتی ہے اور ایکدم میڈیا میں شور مچ جاتا تو ہر چیز دھندلی دھندلی دکھائی دیتی لیکن جب وقت گزرنے ساتھ دھول و گرد بیٹھ جاتی تو حقائق واضع ہوتے اور الجھی ہوئی گتھیاں سلجھنا شروع ہو جاتی ہیں یہی کچھ ہوا “راولپنڈی کی طاقت ور ترین بیوروکریسی” کی اکھاڑ پچھاڑ بعد میڈیا میں خبریں چلی کہ ملک کی طاقتور ترین شخصیت کے قریبی رشتہ دار سے “قریبی تعلقات” کا دعویٰ کر کے پنڈی کی بیوروکریسی (ہمدانی سی پی او/ڈی سی حسن وقار چیمہ) نے اندھیر نگری مچا رکھی ہے اور اندھے واہ زمینوں بشمول رنگ روڈ ریسٹ ایریاز پر قبضے کر رہے اور لوگوں پر مظالم ڈھار رہے اور جب بات ملکی تاریخ کے سب سے طاقتور عہدیدار تک بات پہنچی تو تھرتھلی مچ گئی اور یوں ہمدانی-چیمہ گٹھ جوڑ کا خاتمہ ہوا جس نے ملکی سیاست میں نہ صرف پھونچال پیدا کیا بلکہ کئی چہروں کو ایکسپوز کر دیا اب ایک بار پھر خبریں گرم کہ پنجاب حکومت نے رنگ روڈ کا روٹ و نقشہ تبدیل کیے جانے عمل پر انکوائری شروع کر دی روز ٹی وی کے رپورٹر نے خبر دی کہ رنگ روڈ سروس ایریا کی تعمیر کا نوٹیفیکیشن سابق ڈی جی آر ڈی اے کنزہ مرتضی کے سائن سے جاری ہوا یعنی بلی و بلے تھیلیوں سے باہر نکلنا شروع ہو گئے پنڈی اسلام آباد، اٹک و دیگر اضلاع میں خود کو پاکستان کی سب سے طاقتور شخصیت کے قریبی رشت دار کے “چہیتے” ظاہرکر کے اپنے سرکاری عہدوں و اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے اربوں کی لوٹ مار کرنے والوں میں سابق سی پی او سید خالد محمود ہمدانی، سابق ڈی سی حسن وقار چیمہ اور تحصیلدار فتح جنگ چوھدری شفقت علی کے نام ہر زبان زد و عام ہیں یہاں سے واضع کرتا چلوں کہ سابق ڈی جی آر ڈی اے کنزہ مرتضی کے تحصیلدار فتح جنگ چوھدری شفقت علی سے “کلوز لنکس” ہیں اور راولپنڈی کی بیوروکریسی بشمول سابق سی پی او سید خالد محمود ہمدانی، ڈی حسن وقار چیمہ، کمشنر عامر خٹک سب اسی پیر کے مرید جس کے چودھری شفقت علی مرید ہیں متعدد صحافیوں نے راولپنڈی کی بیوروکریسی کی اکھاڑ پچھاڑ کی وجہ رنگ روڈ پر سروس ایریا پر قبضہ بتائی جوکہ درست ہے میں نے بھی نیوز دی تھی کہ سید خالد محمود ہمدانی نے ایس ایچ او صدر بیرونی زاہد ظہور زریعے گلبرگ گرینز میں ایک ملٹی بلین مالیت کے پلاٹ پر قبضہ کیا تو وہاں بلیو ورلڈ سٹی کے کن ٹٹوں نے انہیں چار دیواری قائم کر دی اور اپنے مسلع بندے بٹھائے تو آرمی کے ایک سابق جنرل نے مشکوک افراد کا تحرک دیکھا تو ایس ایچ او زاہد ظہور سے پوچھا کون ہو تو زاہد ظہور نے کہا تم کون ہو؟ جب جنرل صاحب سے اپنا تعارف کروایا تو زاہد ظہور نے کہا جاؤ جس باپ کو شکایت کرنی ہے کرو۔ اس پر جنرل صاحب نے آرمی چیف تک رسائی حاصل کی اور شکایت کی کہ گلبرگ گرینز میں آپ کا اور آپ کے ایک رشتہ دار کا نام استعمال کیا جارہا ہے اور مشکوک افراد کا آنا جانا لگا ہے اور پولیس بھی سول کپڑوں میں ان مشکوک افراد ساتھ موجود ہے تو آرمی چیف نے ایکشن لیا جس بعد پنڈی کی پوری بیوروکریسی کو تبدیل کیا گیا جبکہ یہ بھی خبر ہے کہ گلبرگ گرینز میں رہائش پزیر پاکستان آرمی کی ایک اور انتہائی طاقتور سابق جنرل بھی رہتے ہیں انہوں نے بھی مشکوک افراد کی کرمنل ایکٹیویٹیز کی شکایت ڈائریکٹ آرمی چیف سے کی جس بعد بیورو کریسی میں ایسا زلزلہ آیا کہ تھمنے کو نہ آرہا ابھی ہمدانی، چیمہ و چودھری کے سیاہ کارناموں کی پوری کتاب لکھنا باقی ہے (جاری ہے )

Israr Ahmed Rajpoot

68,669 görüntüleme • 2 ay önce