Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

رخت دل باندھ لو دل فگارو چلو پھر ہمیں قتل ہو آئیں یارو چلو #Balochistan #HumanRights #MissingPersons #justice

67,794 просмотров • 2 лет назад •via X (Twitter)

Комментарии: 10

Фото профиля shaukat khattak
shaukat khattak2 лет назад

بلوچستان تربت میں پنجابی مزدوروں کی شناختی کارڈ چیک کر کے مارنے والوں کے بارے میں سوال پر تو مارنگ بلوچ کا الفاظ ساتھ چھوڑ گئی گلہ سوکھ گیا اور مزمت بھی نہیں کی

Фото профиля راجہ
راجہ2 лет назад

تیری پین دا ۔۔۔۔ ان کنجروں سے بالاج کے ھاتھوں شھید کیے گئے فوجی جوانوں سمیت ان مزدوروں بارے بھی پوچھ جنھیں بالاج نے تربت میں شھید کر دیا تھا، کتی کے بچوں جلتی پر تیل کا کام کرتے ھو کنجرو😠

Фото профиля Yousaf Khan
Yousaf Khan2 лет назад

اعزاز بھائی اپ وہاں پر گھر میں کیا کر رہے ہیں اپ کو تو سب سے پہلے پہنچنا چاہیے

Фото профиля Umar Shahid
Umar Shahid2 лет назад

App ka nhn banta sir.

Фото профиля پاکستانی
پاکستانی2 лет назад

ظلم بند کرو ظالمو

Фото профиля Mahesh Dutt
Mahesh Dutt2 лет назад

❤️❤️

Фото профиля Banana 🍌 Republic 🇵🇰
Banana 🍌 Republic 🇵🇰2 лет назад

شکر اس لُچر کے منہ سے ہومین رائیٹس جیسا الفاظ نکلا۔۔ عمران خان اور پی ٹی آئی سے تعلق ہوتا تو یہ کتا منہ میں ہڈی ڈال کر شریفوں کی چوکھٹ پر بیٹھ جاتا۔۔

Фото профиля haider hasan
haider hasan2 лет назад

آج بازار میں پا بجولاں چلو

Фото профиля Mian Ali Hamza
Mian Ali Hamza2 лет назад

Stand with missing persons families

Фото профиля Behzad Rouf
Behzad Rouf2 лет назад

@NawazSharifMNS @MaryamNSharif have to step up and show empathy and offer food, shelter, space to these protestors.

Похожие видео

شوہر کی وفات کے بعد بھائی اور دوست نے پاکستان مخالف سرگرمیوں پر ورغلایا، ایک خاص منصوبے کے تحت نوکنڈی میں دھماکہ کیا۔ سنیں ایک بلوچ خاتون خدیجہ کی کہانی۔ معصوم شہریوں کو دہشت گرد تنظیم بی ایل اے/بی ایل ایف کے ساتھ مل کر قتل کر کے پھر توبہ یاد آگئی۔ نوٹ: باقی دنیا میں جب ایک خاتون بیوہ ہو جاتی ہے تو اللہ کا نام لے کر اچھے راستے پر نکل جاتی ہے، ہمارے ہاں شوہر کی وفات کا بدلہ بھی ریاست اور معصوم شہریوں سے نکالتی ہے۔ اور پھر ہمارے قوم پرست کہتے ہیں کہ بلوچ قوم کے پاس روزگار یا ترقی نہیں، اس لیے دہشت کی راہ پر نکلتے ہیں۔ عجیب ہی کوئی تماشا لگا رکھا ہے، اس خدیجہ نامی خاتون کی معافی بھی قبول نہ کریں اور جیل میں ڈالیں۔ جب ان کا دل کرے معصوم شہریوں کو شہید کرتی ہیں، جب اچھی طرح ان کا دل بھر جائے تو پھر توبہ کے نام پر پریس کانفرنس کرتی ہیں۔ مگر اب بس، عام شہری خون کی بوتلیں نہیں کہ جب ان کا دل کرے خون بہا لیں اور توبہ کریں۔ #Balochistan

Dukhtar-E-Balochistan🇵🇰

10,374 просмотров • 6 дней назад

یہ اکاؤنٹ آپ سب سیاحوں کی آواز ہے۔ رجب قمر صاحب نے چند بائیکرز کی شکایات شیئر کیں — زیادتی کرایے، روٹ بندش، ناروا سلوک۔ گلگت بلتستان کو مری نہ بنائیں! یہ سیاح خواب لے کر آتے ہیں، ان کا دل مت توڑیں 💔 آپ کی بھی شکایت ہو؟ ہمیں لکھیں! میں نے اپنے پہلے ویلاگ میں آپ سب سے کہا تھا، اور آج پھر دل سے دہرا رہا ہوں — یہ اکاؤنٹ صرف ہمارے لیے نہیں، آپ تمام سیاحوں کی آواز ہے۔ آج گلگت بلتستان کے ایک سینئر صحافی، رجب کمر صاحب نے کچھ بائیکرز کی باتیں ہم سے شیئر کیں۔ وہ نوجوان سکردو اور استور کی خوبصورتی دیکھنے آئے تھے، لیکن وہاں کچھ شکایات لے کر واپس گئے — کہیں انہیں بلا وجہ اضافی پیسے دینے پڑے، کہیں انہیں مڈ پوائنٹس تک جانے نہیں دیا گیا۔ یہ چھوٹی باتیں نہیں ہوتیں — کیونکہ یہی باتیں ایک مسافر کے دل میں تکلیف بن کر بیٹھ جاتی ہیں۔ اگر یہ شکایات واقعی درست ہیں، تو پھر ہمیں رک کر سوچنا ہوگا۔ میں گلگت بلتستان کے تمام ہوٹل مالکان، ٹرانسپورٹرز، گائیڈز اور عام عوام سے دل کی گہرائیوں سے گزارش کرتا ہوں: گلگت بلتستان کو مری نہ بنائیں۔ یہ بائیکرز، یہ سیاح، اپنے محدود بجٹ سے پیسے جوڑ کر، دل میں خواب لیے یہاں آتے ہیں۔ اگر ہم ان کا خیال نہیں رکھ سکتے تو کم از کم ان پر بوجھ نہ بنیں۔ ظلم نہ کریں۔ سوچیں، اگر کل کو کوئی نہ آئے، تو وہ رونق، وہ سیاحت، وہ معیشت — سب ختم ہو جائے گا۔ گلگت بلتستان کی پہچان اس کی مہمان نوازی ہے۔ یہی تو ہمارا فخر ہے۔ اسی روایت کو زندہ رکھیں، سیاحوں کو اپنوں کی طرح خوش آمدید کہیں، نہ کہ بوجھ سمجھیں۔ یہ GilgitBaltistanTourism کا اکاؤنٹ آپ کی آواز ہے۔ اگر کسی اور کو بھی شکایت ہو، دل دکھی ہو، انصاف چاہیے ہو — ہم حاضر ہیں۔ ہم آپ کی بات بن کر آگے پہنچائیں گے۔ کیونکہ یہ صرف ہمارا علاقہ نہیں، یہ آپ سب کا خواب ہے

Gilgit Baltistan Tourism.

19,943 просмотров • 1 год назад

کچھ لمحے کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ برسوں پرانے زخم بھی اچانک تازہ ہو جاتے ہیں! وہ زخم جن پر وقت نے جیسے ایک ہلکی سی پٹی باندھ دی ہو، مگر اندر سے وہ کبھی بھرے ہی نہ ہوں۔ انڈیا میں یہ بچے پچھلے کئی دنوں سے بھرپور احتجاج کر رہے ہیں، لیکن آج جو دیکھا اور سنا، اس نے تو جیسے دل کے اندر دفن ہر درد کو دوبارہ زندہ کر دیا۔ ایسا لگا جیسے کسی نے اپریل 2022 سے لے کر عمران خان کے جیل جانے تک کی پوری داستان آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح چلا دی ہو۔ الفاظ کم پڑ گئے ہیں یہ بتانے کے لیے کہ اس وقت دل پر کیا گزر رہی ہے! ہر ڈنڈا یاد آ گیا... ہر آنسو گیس کا شیل یاد آ گیا... ہر بھاگتا ہوا انسان.... ہر زخمی چہرہ.... ہر بے بسی.... ہر رات کی بے خوابی، سب کچھ ایک ایک کر کے لوٹ آیا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے یہ زخم کبھی بھرے ہی نہیں تھے، بس خاموش تھے اور آج کسی نے انہیں پھر سے چھیڑ دیا ہے۔ سچ پوچھو تو ایسا لگتا ہے کہ ہم نے عمران خان کے ساتھ بہت بڑی زیادتی کر دی ہے۔

Namkeen Chai نمکین چائے

15,549 просмотров • 2 месяцев назад

کلام : پیر سید نصیر الدین نصیرؒ میری زندگی تو فراق ہے، وہ ازل سے دل میں مکیں سہی وہ نگاہِ شوق سے دور ہیں، رگِ جاں سے لاکھ قریں سہی ہمیں جان دینی ہے ایک دن، وہ کسی طرح ہو کہیں سہی ہمیں آپ کھینچئے دار پر ، جو نہیں کوئی تو ہم ہی سہی سرِ طور ہو ، سرِ حشر ہو ، ہمیں انتظار قبول ہے وہ کبھی ملیں وہ کہیں ملیں وہ کبھی سہی وہ کہیں سہی نہ ہو ان پہ میرا جو بس نہیں، کہ یہ عاشقی ہے ہوس نہیں میں انھی کا تھا میں انھی کا ہوں،وہ میرے نہیں تو نہیں سہی مجھے بیٹھنے کی جگہ ملے ، میری آرزو کا بھرم رہے تیری انجمن میں اگر نہیں، تیری انجمن سے قریں سہی تیرا در تو ہم کو نہ مل سکا ، تیری رہگزر کی زمیں سہی ہمیں سجدہ کرنے سے کام ہے، جو وہاں نہیں تو یہیں سہی میری زندگی کا نصیب ہے ، نہیں دور مجھ سے قریب ہے مجھے اسکا غم تو نصیب ہے ، وہ اگر نہیں تو نہیں سہی جو ہو فیصلہ وہ سنائیے ، اسے حشر پہ نہ اٹھائیے جو کریں گے آپ ستم وہاں وہ ابھی سہی، وہ یہیں سہی اسے دیکھنے کی جو لو لگی، تو نصیر دیکھ ہی لیں گے ہم وہ ہزار آنکھ سے دور ہو ، وہ ہزار پردہ نشیں سہی

اردو ورثہ

12,984 просмотров • 11 месяцев назад

بتاؤ! کس کا حکم ہے کہ تم ہمیں عذاب دو، جواب دو ہمارے ایک ایک زخم کا ہمیں حساب دو، جواب دو #گولی_کیوں_چلائی جب قوم انقلاب کی طرف گامزن ہوتی ہے تو اُس کے ادیب، شعرا اور موسیقار، بُلند افکار سے ایک سحر نو کا جادو بڑی خوبصورتی سے ہوا میں بکھیرتے ہیں جسکی خوشبو ہر دل میں اتر جاتی ہے۔ میں نے عمران خان کی تحریک میں یہ دیکھا کہ سب سے پہلے موسیقاروں نے گیت گائے، ادیبوں نے لکھنا شروع کیا، اور معروف مزاح نگاروں کی تخالیق سامنے آئی ہیں۔ فنون لطیفہ میں ایک نئی سیاسی جہد کی بنیاد پڑ گئی ہے۔ انور مقصود صاحب اپنے طنز اور مزاح سے پاکستان کے ظالمانہ غمگین ماحول میں تبسم بکھیرتے رہے ہیں، ان پر بھی جبر کیا گیا۔ اگر بس چلتا تو معین اختر کو قبر میں نوٹس دے دیا جاتا۔ انقلابی شاعر احمد فرحاد پر بھی ظلم و ستم ہوا، اور اب ابھرتے ہوئے شاعر افکار علوی سے بھی زباں بندی کے افیڈیوٹ پر دستخط لے لیئے گئے ہیں۔ مگرم اِس نوجوان کیا کہ دیا جو آگ لگ گئی؟ بتاؤ! کس کا حکم ہے کہ تم ہمیں عذاب دو، جواب دو ہمارے ایک ایک زخم کا ہمیں حساب دو، جواب دو جو لاپتہ کیے، جیتے ہیں یا مر گئے، کہاں کیئے، جواب دو بہت بڑی قطار ہے، پکار ہے، جواب دو جواب دو ہمارے دیس میں علوم دینے کے اصول کس نے طئے کیئے کہ اِس طرف تو اصلحہ اور اُس طرف کتاب دو، جواب دو حریف دیس کا غلام کون ہے نمک حرام کون ہے ہمار صبر ختم ہے مزید مت سراب دو، جواب دو ہمیں بھی ٹھن گئی تو پھر، ہماری چیخ دھاڑ بن گئی تو پھر سو بہتری اِس ہی میں ہے کہ تشنہ لب کو آب دو، جواب دو لہو لہو تو ہو چکے ہو، سرخ رو تو ہو مرو، سو لڑ پڑو حریف کو بھلے جو تم بصورتِ حباب دو، جواب دو (افکار علوی) 👇پوری نظم سنیں اور پھر زباں بندی کا حلف نامہ ملاختہ ہو۔ شرم و حیا سے عاری، حکومتِ جاری۔

Dr. Arif Alvi

183,721 просмотров • 1 год назад

عموماً لوگوں کے ذہن میں اینجیوپلاسٹی اور اسٹنٹ کے حوالے سے بہت سے خدشات اور سوالات ہوتے ہیں۔ پتہ نہیں یہ پروسیجر کیسے ہوتا ہے، کتنی تکلیف ہوتی ہے، اسٹنٹ کیسا ہوتا ہے، کہاں لگتا ہے اور دل کی نالی میں کیسے پہنچایا جاتا ہے۔ چونکہ اب یہ پروسیجر بہت عام اور محفوظ ہو چکا ہے، اس لیے آج ہم نے اپنی ایک بزرگ مریضہ کی اجازت سے ایک مختصر ویڈیو ریکارڈ کی ہے تاکہ آپ اس پورے عمل کو آسان انداز میں سمجھ سکیں۔ اینجیوپلاسٹی کے آغاز میں مریض کے ہاتھ میں ایک کینولا لگایا جاتا ہے۔ اسی راستے سے ایک باریک ٹیوب، جسے کیتھیٹر کہا جاتا ہے، دل کی نالیوں کے دہانے تک پہنچائی جاتی ہے۔ اس کیتھیٹر کے ذریعے ہلکی سی ڈائی دی جاتی ہے تاکہ اسکرین پر دل کی نالیوں کی تصویریں واضح نظر آئیں اور معلوم ہو سکے کہ تنگی کہاں موجود ہے۔ اس کے بعد ایک نہایت باریک وائر نالی کے اندر سے گزارتے ہوئے تنگ حصے کو کراس کر کے آگے نارمل حصے تک پہنچائی جاتی ہے۔ پھر اسی وائر کے اوپر ایک چھوٹا سا بیلون لے جایا جاتا ہے جو تنگ جگہ پر راستہ بنانے میں مدد دیتا ہے۔ بعد ازاں اسی وائر کے ذریعے اسٹنٹ مطلوبہ مقام تک پہنچایا جاتا ہے۔ جب اسٹنٹ بالکل تنگی والی جگہ پر آ جاتا ہے تو بیلون کو پھلا کر اسٹنٹ کو نالی میں مکمل طور پر کھول دیا جاتا ہے۔ یوں اسٹنٹ نالی کی دیوار کا حصہ بن جاتا ہے اور خون کا بہاؤ بحال ہو جاتا ہے۔ پھر بیلون اور باقی آلات باہر نکال لیے جاتے ہیں اور پروسیجر مکمل ہو جاتا ہے۔ اسی تمام عمل کی مختصر مگر مکمل تفصیل اس ویڈیو میں دکھائی گئی ہے۔ امید ہے کہ اس سے آپ کو اینجیوپلاسٹی اور اسٹنٹ کے بارے میں بہتر آگاہی ملے گی اور آپ یہ پیغام دوسروں تک بھی پہنچا سکیں گے کہ یہ کوئی خوفناک یا پیچیدہ عمل نہیں بلکہ ایک محفوظ، مؤثر اور نسبتاً سادہ پروسیجر ہے جو روزانہ ہزاروں مریضوں میں کامیابی سے انجام دیا جاتا ہے۔

Yasir Bashir

14,282 просмотров • 4 месяцев назад