正在加载视频...

视频加载失败

روتے ہوئے بچوں کی ویڈیوز دیکھا کر کہا جا رہا ہے کہ بچے ماں کو مس کر رہے کیا دہشتگردوں کی سہولتکاری کرنے والی خواتین کو مشتعل جتھوں کو لیڈ کرنے والی خودکش بمبار کی سہولتکاری خواتین کو یہ کہہ کر چھوڑ دیں کہ ان کے بچے ہیں اس...

15,330 次观看 • 3 年前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

اور اب ان کو زندہ جلانے والے کہہ رہے ہیں کہ ہمارے خلاف کوئی کاروائی نہ کی جائے۔۔ اب آپ بتائیں ان کے ساتھ کیا کیا جائے؟ اب وہ شیعہ کارڈ کھیل رہے ہیں ہمارے سپہ سالار کو گالیاں دے رہے ہیں صرف اس لیے کہ اس نے یہ کہا ہے کہ ان دونوں کا خون معاف نہیں ہوگا۔۔ یہ ہمارے سپہ سالار پر اس لیے حملے کر رہے ہیں کہ فوج نے مطالبہ کیا ہے کہ جن لوگوں نے سکردو میں فوج کی تنصیبات پر حملے کیے آرمی پبلک سکول کو جلایا اور دو سپاہیوں کو زندہ جلا کر شہید کیا ان کو فوج کے حوالے کیا جائے۔۔ سارا جھگڑا اسی بات کا ہے ‌‌ مگر یہ حرام زادے یہ بات نہیں بتائیں گے۔ اور اب بھی صرف ایران چلے جانے والی بات کو پکڑ کر طوفان برپا کر رہے ہیں۔ ایران جانے والی بات پورے سیاق و سباق کے ساتھ کی گئی تھی۔۔ اگر آپ پاکستان کو آگ لگاتے ہیں پاکستان کو تباہ کرتے ہیں ہمارے سپاہیوں کو شہید کرتے ہیں فوج پر حملے کرتے ہیں اور پاکستان کے قانون کا احترام نہیں کرتے تو پھر آپ ایران چلے جائیں۔۔ اور انہوں نے پہلے والی ساری بات گول کر دی اور صرف ایران چلے جانے والی بات کو پکڑ کر ماتم کر رہے ہیں۔ دھمکی دے رہے ہیں فوج میں بغاوت کرانے کی بات کر رہے ہیں شام جیسی خانہ جنگی کرانا چاہتے ہیں۔۔ ان بے غیرتوں کو کوئی کہے کہ اس وقت اگر ایران کی کوئی مدد کر رہا ہے تو یہی ہمارے سپہ سالار اور یہی ہماری فوج کر رہی ہے۔۔۔ اور یہ ہمارے سپہ سالار پر حملے کر رہے ہیں تاکہ ایران کی آخری امید بھی ختم ہو جائے۔ اب ایران نے مظاہروں کے دوران پولیس اور پاسداران انقلاب (ایرانی فوج) پر حملے کرنے والے 3 مزید لوگوں کو پھانسی دے دی۔ پاکستان میں فوجیوں کو زندہ جلانے شہید کرنے والوں کے خلاف سخت بات بھی نہ کی جائے! 😡 یہ ناسمجھ چھوٹے بچے تو نہیں ہیں کہ کہیں کہ جاہل لوگوں نے ایسی بات کر دی۔۔۔‌ یہ خوارج کی ذہنیت، یہ حرام زدگی ان میں کہاں سے آئی؟ کیا یہ پاکستانی ہیں؟ کیا یہ مسلمان ہیں؟ ایسے وقت جب تمام مسلمان ملک تباہ کیے جا رہے ہیں یہ پاکستان میں خانہ جنگی کروانا چاہتے ہیں شام کی طرح؟ یہ کس کی خدمت کر رہے ہیں کس کی تنخواہ پر ہیں؟ ان میں اور خوارج جہنم کے کتوں میں پھر کیا فرق ہے؟

⚡️Faisal🤺

14,844 次观看 • 6 个月前

خواتین کو ٹویٹر پر جنسی طور پر ہراساں کرنے والے چند این جی او کی نمائندہ چند اہم خواتین کے دوست جانور کی گردن کیسے توڑی گئی؟ خواتین کو ہراساں کرنے والے کو ہمیشہ کیلیے فِکس کر دیا گیا۔دیکھیے کس طرح میڈیا سے متعلق خواتین پر ان کا نام لے کر مسلسل سیکس کے الزامات لگائے گئے۔ یہ ایک ہی شخص تھا جس نے محترمہ بے نظیر بھٹو پر ان کے مرنے کھ بعد گندے الزامات لگائے گئے۔ یہاں تک لکھا گیا کہ ان کے بچوں کی شکلیں نہیں ملتیں۔ اسی شخص نے کلثوم نواز کے بارے میں لکھا کہ وہ لاہور کے میئر کے ساتھ سوتی تھی۔ اگلے بندے کی تذلیل کرنے کیلیے بھائی کو بہن سے سیکس کروایا گیا۔ اسی شخص نے انسانی حقوق کیلیے کام کرنے والی پاکستان کی تاریخ ساز شخصیت محترمہ ماروی سرمد کے اوپر گھٹیا الزاما ت لگائے گئے۔ فروری دو ہزار پچیس میں میری والدہ کو گالیاں نکالنے کا سلسلہ شروع کیا گیا، نام لکھ کر بچوں کو ناجائز لکھا گیا۔ چند این جی اوز کی چند نام نہاد روشن خیال خواتین سے اس بُلّی کے یارانے کی وجہ سے آج تک کبھی بُلّی کے خلاف آواز نہ اٹھنے دی گئی۔ میں مسلسل خاموش رہا۔ پھر شواہد کی بنیاد پر سچ لکھنا شروع کیا تو چند لوگوں کو اخلاقیات بھی یا دآئیں۔ اب میں نے اپنی والدہ کی بات کی، آواز نہ اٹھانے کی بات کی، تو جواز تراشنے کے ٹویٹ آنے لگے۔ خواتین کے حقوق کیلیے کام کرنے والی اچھی تنظیمیں ہیں مگر چند این جی اوز اور ان میں کام کرنے والی چند نام نہاد لبرل خواتین نے بُلّیز کو تحفظ دینے کا ایک پورا نظام کھڑا کیا ہوا ہے۔ عورت مارچ نے پاکستان کے بڑے شہروں میں عورتوں کے حقوق اور عورت اور مرد کی ہر حوالے سے برابری کیلیے شعور بیدار کرنے پر بے مثال کام کیا ہے۔ جو قابل تحسین ہے۔ میں نے اسلام آباد میں عورت مارچ کیلیے جس طرح ممکن تھا، ہر طرح کا کام کیا کیا۔ انتہاپسند جو اس مارچ کے خلاف تھے، انہیں ایکسپوز کیا۔ امریکہ آنے سے پہلے تک آن گراؤنڈ کام کیا۔ ابھی میرے بھائیوں کو فوج نے اغواہ کیا تو عورت مارچ کراچی نے باقائدہ مذمتی بیان جاری کیا۔ پاکستان کے خاص ماحول میں ایسا کرنا یقیناً بہت مشکل تھا۔ یہ خواتین کے حقوق کیلیے اپنی استطاعت کے مطابق کوشش کرنے والے عظیم لوگ ہیں۔ مگر یہ حقیقت اپنی جگہہ ہے کہ چند این جی اوز اور ان میں کام کرنے والی چند نام نہاد لبرل خواتین بُلّیز کو مسلسل تحفظ دیتی ہیں۔ دیکھیے بُلیز کو کنٹرول کرنے میں میری مہارت اور میں نے کس طرح ڈیجیٹل میڈیا کی تاریخ کے پاکستانی خواتین کردار کشی کرنے والے جانور کی گردن توڑی۔

Ahmad Noorani

24,407 次观看 • 8 个月前