Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

" ریچھ کو کتوں کے ساتھ لڑاتے تھے " ہم آج اس لیے بولے ہیں کہ نا چھیڑ ملنگاں نوں ورنہ بہت نقصان اٹھاو گے، محمود خان اچکزئی

42,538 görüntüleme • 2 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

رپورٹر: محمود خان اچکزئی نے تو یہ کہا ہے کہ اگر عمران خان سے ہماری ملاقات کروائی جائے تو پھر ہم مذاکرات شروع کر لیں گے۔ ​علیمہ خان: اگر عمران خان سے... ایک سیکنڈ... میں پی ٹی آئی کی بات کر رہی ہوں۔ ​رپورٹر: تحریک تحفظ آئین نے شرط رکھی ہے... ​علیمہ خان: آپ میری بات سنیں۔ مجھے بہت اچھی طرح معلوم ہے کہ اچکزئی صاحب کیا کہتے ہیں۔ وہ بہت واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ ان تمام پارٹیوں کو شامل کر لیں جو آئین کی بحالی، جمہوریت کی بحالی اور انسانی حقوق کے لیے کھڑی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ آپ سب کو منوا لیں، ہم عمران خان کو منوا لیں گے۔ ​عمران خان بھی یہی چاہتے ہیں، وہ (اچکزئی صاحب) بھی یہی چاہتے ہیں، اسی لیے وہ ایک پیج پر ہیں۔ عمران خان نے اسی لیے انہیں ساتھ دینے کا کہا تھا۔ اس لیے جب آپ بات کریں گے، تو مجھے بہت واضح طور پر معلوم ہے کہ اچکزئی صاحب کیا کہتے ہیں۔ ​پچھلے منگل کی رات جب ہم اڈیالہ جیل کے باہر تھے، تو علامہ راجہ ناصر صاحب بھی ہمارے ساتھ تھے۔ ہم نے ان سے کئی بار درخواست کی کہ آپ یہاں سے چلے جائیں، مگر وہ وہاں سے نہیں اٹھے۔ آپ کو پتہ ہے کہ وہ وہاں تین چار دفعہ گرے، لیکن پھر بھی دیکھ لیں کہ وہ ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ عمران خان کا ساتھ دیا ہے۔

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

22,294 görüntüleme • 2 ay önce

ہم تین دن سے ادھر پارلیمنٹ ہاؤس میں ہیں. ہم نے تیس سال تحریکِ انصاف میں بہت بڑی جدوجہد کی ہے. ہم نے بہت اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں، اپنی جوانی اس تحریک کو وقف کی ہے. عمران خان کے ساتھ رشتہ بڑے اور چھوٹے بھائیوں جیسا ہے. ہم ایک مقصد کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں. عمران خان کے ساتھ ہمارا جو تعلق اور رشتہ ہے، وہ بھی ایک مقصد کے لیے ہے. محمود خان اچکزئی صاحب نے تمام اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی کو مشاورت کے لیے بلایا. مشاورت سے یہ فیصلہ ہوا کہ ہم نے پارلیمنٹ کے سامنے دھرنے کے لیے بیٹھنا ہے. ہم نمازِ جمعہ کے بعد ادھر آئے تو انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کو تالے لگا دیے. پارلیمنٹ لاجز اور خیبر پختونخوا ہاؤس کی بھی تالہ بندی کی گئی، ہم تین جگہوں پر بیٹھ گئے. ہم سادہ سا مطالبہ کر رہے ہیں اور ہمارا دھرنا عمران خان کی صحت کے لیے ہے. عمران خان کو ہسپتال منتقل کیا جائے. عمران خان نے خود علامہ صاحب اور اچکزئی صاحب کو ذمہ داری سونپی ہے. ہم نے عمران خان کے حکم پر ان دونوں شخصیات کا ساتھ دینا ہے. محمود خان نے کہا ہے کہ اگر انہیں اکیلے بھی بیٹھنا پڑا تو بیٹھیں گے. ایک بات واضح ہے کہ عمران خان کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے. حکومت کو مجبور کریں گے کہ عمران خان کو ہسپتال منتقل کرے.

Asad Qaiser

21,957 görüntüleme • 6 ay önce