Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

ریڑھی چھینی تو چھینی... غریب کا خون پیا تو پیا... پنجاب کے غریبوں پر مسلط یہ خودنمائی کے مرض میں مبتلا مریم کا کٹھ پتلی راج عوام پر ایک عذاب ہے، جو طاقت کی ہوس میں اندھا ہو کر اب غریبوں کے چولہے بجھانے پر اتر آیا ہے۔ ریڑھی...

14,103 Aufrufe • vor 2 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

🚨🚨 مریم نواز صاحبہ، یہ ایک عورت پر تشدد کا واقعہ ہے۔ اس کی انکوائری کروائیں۔ شفقت عباسی پی ٹی آئی کا ایم این اے ہے اور ایک بدمعاش کی مدد کے لیے آگیا ہے۔ میں نے میانوالی سے پتا کیا ہے کہ مرسلین خان ایک بدمعاش غنڈا ہے۔ وہ اور اس کا بیٹا اپنی بہو کو مار رہے تھے اسے گھر میں بند کر رکھا تھا ۔ اس نے 15 پر کال کی تو پولیس فوری آئی اور انہیں نے مزاحمت کی پولیس پر حملہ کیا جس پر اسے تھانے لے گے تھانے میں اس نے اپنے کپڑے اتار کر شرمگاہ پکڑی اور پولیس سے کہا: میرا یہ دیکھو، تم نے ہمارے گھر کے معاملے میں مداخلت کیوں کی؟ پھر گالی گلوچ شروع کر دی۔ جھگڑا ہوا تو تھانیدار نے پکڑ کر اس کی مونچھیں مونڈ دیں۔ یہ تھانے کی ویڈیو ہے، اس کی گالی گلوچ سنیں۔ مرسلین کا قبیلہ اور برادری میانوالی میں طاقتور ہے، اس لیے سب اس کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ ڈی ایس پی نے ایس ایچ او کو معطل کر دیا اور وہ مظلوم عورت جس پر تشدد ہوا، اس کی جان خطرے میں ہے۔ یہ ہے پنجاب میں عورت کی اوقات۔

RAShahzaddk

14,220 Aufrufe • vor 3 Monaten

یہ زیشان روکھڑی کی بانہوں میں جھولنے والی لڑکی کا نام زینب یوسف ہے ۔۔۔ جی وہی مشہور ٹک ٹاکر جو اجکل ٹرینڈنگ میں ہے جیسے شوگر ڈیڈی کی تلاش ہے کچھ دن پہلے مسٹر پتلو کے گیم شو میں ہوسٹنگ کر چکی ہے ۔۔ اس کی وجہ شہرت صرف اک کلپ بنا تھا جس میں اس نے کہا تھا مر جاونگی پھوپھو کے بیٹوں سے شادی نہی کرونگی ۔۔ کچھ دن پہلے نیشنل ٹی وی پر بیٹھ کر اس نے لڑکوں کو مشورہ دیا انٹیاں پھنساو اور ان سے گاڑیوں کی بجاے کیش نکلواو ۔ اب اس نے لڑکیوں کو کہا ہے کہ شوگر ڈیڈی رکھو اور خوب ان سے پیسہ نکلواو ۔ اور یہ سب ٹی وی پروگرام میں اس ملک میں بولا جارہا ہے جسکا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ۔۔ اور اب اس کا یہ کلپ بھی سن لیں جس میں وہ کہ رہی ہے اسے کسی تگڑے بکرے کی تلاش ہے جس کے پاس پیسہ ہو ۔۔ فضا علی اسے اشاروں میں زیشان روکھڑی کا نام بتاتی ہے اس کے بعد یہ اس کے پاس پہنچ جاتی ہے ۔۔ اور ان کا لیونگ ریلیشن اسقدر اگے چل جاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر یہ بھی مشہور ہوجاتا ہے کہ دونوں نے شادی کر لی ہے ۔۔ مگر وہ اس کیلے بکرا تھا ۔ مطلب کہ اس عورت کے خیالات دیکھیں اور اس کے حالات دیکھیں ۔۔ اور کبھی یہ لاہور کے شہزاد ڈوگر کا انٹرویو کرنے پہنچ جاتی ہے ۔۔ تو کبھی رجب بٹ کے بگ بردار ملک زمان کا انٹرویو کرنے پہنچ جاتی ہے ۔۔۔ تو کبھی عثمان ورک اور زیشان روکھڑی کے ساتھ ہارس رائیڈنگ کرتی پھر رہی ہوتی ہے ۔ اسے صرف بکروں کی تلاش ہے یا پھر اسے بہترین شوگر ڈیڈی کی تلاش ہے ۔۔ جسکے پاس دولت ہو ۔۔۔ یہ اسکا زاتی فعل ہے وہ جو بھی کرے مگر اس بے حیای کو کھلے عام پرموٹ کرنا اور اس ملک کے نوجوان لڑکے لڑکیوں کو پیغام دینا اپنی زندگی اسان بنانی ہے تو شوگر ڈیڈی اور شوگر ممی ہائیر کرو ۔۔ یہ تو بیغرتی بیشرمی سے بھی اگے کا لیول ہے ۔ ریاست پاکستان سے بس اتنی سی التماس ہے اگر ان ڈیجٹل کھوٹوں کو بند نہی کر سکتے تو پھر اس ملک کے ساتھ اسلامی جمہوریہ پاکستان سے لفظ اسلامی ہٹا کر ساتھ میں 18 + لازمی لکھ دیں ۔۔
2:55

Sensitive content

یہ زیشان روکھڑی کی بانہوں میں جھولنے والی لڑکی کا نام زینب یوسف ہے ۔۔۔ جی وہی مشہور ٹک ٹاکر جو اجکل ٹرینڈنگ میں ہے جیسے شوگر ڈیڈی کی تلاش ہے کچھ دن پہلے مسٹر پتلو کے گیم شو میں ہوسٹنگ کر چکی ہے ۔۔ اس کی وجہ شہرت صرف اک کلپ بنا تھا جس میں اس نے کہا تھا مر جاونگی پھوپھو کے بیٹوں سے شادی نہی کرونگی ۔۔ کچھ دن پہلے نیشنل ٹی وی پر بیٹھ کر اس نے لڑکوں کو مشورہ دیا انٹیاں پھنساو اور ان سے گاڑیوں کی بجاے کیش نکلواو ۔ اب اس نے لڑکیوں کو کہا ہے کہ شوگر ڈیڈی رکھو اور خوب ان سے پیسہ نکلواو ۔ اور یہ سب ٹی وی پروگرام میں اس ملک میں بولا جارہا ہے جسکا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ۔۔ اور اب اس کا یہ کلپ بھی سن لیں جس میں وہ کہ رہی ہے اسے کسی تگڑے بکرے کی تلاش ہے جس کے پاس پیسہ ہو ۔۔ فضا علی اسے اشاروں میں زیشان روکھڑی کا نام بتاتی ہے اس کے بعد یہ اس کے پاس پہنچ جاتی ہے ۔۔ اور ان کا لیونگ ریلیشن اسقدر اگے چل جاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر یہ بھی مشہور ہوجاتا ہے کہ دونوں نے شادی کر لی ہے ۔۔ مگر وہ اس کیلے بکرا تھا ۔ مطلب کہ اس عورت کے خیالات دیکھیں اور اس کے حالات دیکھیں ۔۔ اور کبھی یہ لاہور کے شہزاد ڈوگر کا انٹرویو کرنے پہنچ جاتی ہے ۔۔ تو کبھی رجب بٹ کے بگ بردار ملک زمان کا انٹرویو کرنے پہنچ جاتی ہے ۔۔۔ تو کبھی عثمان ورک اور زیشان روکھڑی کے ساتھ ہارس رائیڈنگ کرتی پھر رہی ہوتی ہے ۔ اسے صرف بکروں کی تلاش ہے یا پھر اسے بہترین شوگر ڈیڈی کی تلاش ہے ۔۔ جسکے پاس دولت ہو ۔۔۔ یہ اسکا زاتی فعل ہے وہ جو بھی کرے مگر اس بے حیای کو کھلے عام پرموٹ کرنا اور اس ملک کے نوجوان لڑکے لڑکیوں کو پیغام دینا اپنی زندگی اسان بنانی ہے تو شوگر ڈیڈی اور شوگر ممی ہائیر کرو ۔۔ یہ تو بیغرتی بیشرمی سے بھی اگے کا لیول ہے ۔ ریاست پاکستان سے بس اتنی سی التماس ہے اگر ان ڈیجٹل کھوٹوں کو بند نہی کر سکتے تو پھر اس ملک کے ساتھ اسلامی جمہوریہ پاکستان سے لفظ اسلامی ہٹا کر ساتھ میں 18 + لازمی لکھ دیں ۔۔

Saleem Speaks

217,140 Aufrufe • vor 6 Monaten

رات ایک پروگرام میں موصوف شیر افضل مروت صاحب بھی کسی کی چابی بن کر مجھ پر تنقید کر رہے تھے۔ میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ پارٹی میں اندرونی معاملات پر بطور عہدیدار نہ بات کروں۔ لیکن اس شخص کا ہمیشہ سے مخصوص ایجنڈا رہا ہے اور اندرونی طور پر میں نے ہمیشہ اس کو رانگ نمبر کہا کہ یہ نوسر باز ہے اور مخصوص ایجنڈا کے تحت مخصوص لوگوں کو ٹارگٹ کرتا ہے۔ میں تو حقیر سا ورکر ہوں اس شخص کو سب سے پہلے Azhar Mashwani سے مسئلہ تھا جس کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھُپی نہیں جو شادی کے دوسرے ہفتے اٹھایا گیا جس کے خاندان پر زمین تنگ کر دی گئی، پھر اس نے عمران خان صاحب کے خاندان خاص کر Aleema Khanum آپا پر مسلسل الزامات کی بوچھاڑ کر رہا ہے ان پر بھی اس کو اعتراض ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جب بھی کوئی تحریک چلنے لگتی ہے یا کوئی ہلچل ہونے لگتی ہے تو چابی والا بندر میدان میں آ جاتا ہے پھر Intazar Hussain Panjutha پر بھی اعتراض ہے اس کو۔ جو ظلم انتظار پنجوتہ صاحب کے ساتھ ہوا ہے کیا وہ سارے پاکستان نے نہیں دیکھا اس لیے یہ پاگل ہو چکا ہے ہے اور جو پیچھے سے پرچی پر لکھ کر دیا جاتا ہے یہ اردلی کا کردار ادا کرتا ہے۔ میری پارٹی کے لیڈران سے گزارش ہے کہ جس پروگرام میں یہ شخص بھیجا جاتا ہے اس کا بائیکاٹ کریں کیوں کہ ان کی اہمیت صرف اس پٹاخے کی ہے جو چل چکا ہے اور اب صرف اس کی واحد جگہ کوڑے دان کا ہے

Ehsan Toor

11,345 Aufrufe • vor 1 Jahr

آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔ جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔ ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزاج بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔ لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔ ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟ اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔ آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔ جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔ صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟ نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔ ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔ اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

33,721 Aufrufe • vor 16 Tagen

امام مہدی ہونے کا دعویٰ کرنے والا شخص پولیس نے گرفتار کر لیا مسلمانوں میں امام مہدی کی آمد کا ایک معروف نظریہ پایا جاتا ہے۔ اسی طرح تقریباً ہر مذہب میں کسی نہ کسی نجات دہندہ، مسیح یا اوتار کے ظہور کا تصور موجود ہے۔ میں نے بہت عرصہ پہلے کہیں لکھا تھا کہ دنیا کے تقریباً تمام مذاہب اور مسالک نے اپنے اپنے ویٹنگ روم بنا رکھے ہیں، جہاں وہ کسی عظیم ہستی کی آمد کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ ان کے نزدیک وہ آئے گا، ظالموں کو نیست و نابود کرے گا، مظلوموں کو سربلندی عطا ہوگی، اور انتظار کرنے والے اس کے لشکر کا حصہ بن جائیں گے۔ اس تصور کے تحت سب اس کی آمد کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔ سب کسی امام مہدی یا اوتار کے منتظر ہیں۔ یہ ان کا فکری اور اعتقادی زاویہ ہے۔ لیکن دلچسپ اور المیہ پہلو یہ ہے کہ جب کوئی شخص واقعی امام مہدی یا اوتار ہونے کا دعویٰ کر دے تو اسے فوراً رد کر دیا جاتا ہے۔ کبھی اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے، کبھی اسے قتل کر دیا جاتا ہے، اور کبھی اس کی گرفتاری کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہر گروہ اسے “جعلی” امام سمجھتا ہے۔ اس کے باوجود، اس نام نہاد “جعلی” امام کو بھی کچھ لوگ مل ہی جاتے ہیں جو اس پر ایمان لے آتے ہیں اور اس کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ میٹرک کے زمانے میں میں نے ایک کتاب پڑھی تھی: “انتظارِ مہدی و مسیح”۔ یہ علامہ محمد اقبال اور علامہ تمنا عمادی مجیبی پھلواروی کے درمیان خطوط کا مجموعہ تھا۔ اس کتاب میں علامہ تمنا عمادی کا موقف یہ تھا کہ مہدی اور مسیح کی دنیا میں آمد کے انتظار کا تصور قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آپ کا اس بارے میں کیا موقف ہے؟کمنٹ باکس میں اپنی رائے ضرور لکھیں۔ شکریہ سبوخ سید

Sabookh Syed | Journalist

56,959 Aufrufe • vor 7 Monaten

مریم صفدر کے کمپلین سیل میں انصاف کی امید لے کر جانے والے ایک باپ کو شاید یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ دراصل ظلم کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ ایک ایسا نظام جہاں شکایت کرنا جرم بن چکا ہو، وہاں ایک معصوم بچے کی جان بھی محفوظ نہیں رہتی۔ یہ واقعہ صرف ایک خاندان کا المیہ نہیں بلکہ پورے نظام کی سفاکی اور بے حسی کا کھلا ثبوت ہے۔ ایک ڈاکٹر، جسے مسیحا ہونا چاہیے تھا، اگر انسانیت سے اس قدر گر جائے کہ ایک بچے کو تجربہ گاہ کا سامان بنا دے، تو پھر یہ صرف ایک فرد کا قصور نہیں رہتا بلکہ پورا نظام مجرم بن جاتا ہے۔ یہ وہی نظام ہے جس میں طاقتور کے لیے قانون ایک کھلونا اور کمزور کے لیے پھانسی کا پھندا بن چکا ہے۔ یہ ملک اب انصاف کا نہیں بلکہ طاقت اور بے رحمی کا اکھاڑا بن چکا ہے، جہاں حکمرانوں کے دل پتھر سے بھی زیادہ سخت اور ضمیر مردہ ہو چکے ہیں۔ ادارے، جو عوام کی حفاظت کے لیے تھے، اب ظلم کے سہولت کار بن گئے ہیں۔ انسانیت، اخلاق اور انصاف جیسے الفاظ صرف کتابوں میں رہ گئے ہیں۔ فارم 47 کی حکومت نے اس ملک کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں مظلوم کی چیخ بھی دب جاتی ہے اور ظالم مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔ عوام کی تکلیف ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی، کیونکہ اقتدار کی ہوس نے ان کی آنکھوں پر اندھے پن کی چادر ڈال دی ہے۔ ایسے حالات میں عوام کا غصہ اور مایوسی فطری ہے۔ لوگ ایک ایسی قیادت چاہتے ہیں جو ان کے درد کو سمجھے، انصاف بحال کرے، اور اس ظلم کے نظام کو توڑے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان کی رہائی اور واپسی کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں، کیونکہ عوام کو ایک ایسے رہنما کی تلاش ہے جو کم از کم ان کی آواز سن سکے۔ یہ کہانی صرف ایک واقعے کا ردعمل نہیں بلکہ ایک پورے نظام کے خلاف فردِ جرم ہے ایک ایسا نظام جو اگر نہ بدلا گیا تو مزید کتنی زندگیاں اس کی بھینٹ چڑھیں گی، اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ #نااہل_حکمراں_عوام_پریشان

PTI North Punjab

17,320 Aufrufe • vor 3 Monaten

ارب پتی جاگیردار مزاریوں کا یہ غریب چیلا اور اسد نام کا یہ چوٹھے درجے کا صحافی پھر اپنی اوقات بھول گیا ہے۔ یہ اب ایک ایسے آدمی کے بارے میں جھوٹی بک بک کر رہا ہے جسے پورا پاکستان اسکی شکل، آواز، نام اور اس کے گانوں کی وجہ سے جانتا ہے۔ Asad Ali Toor آج اسے سٹپٹایا ہئوا دیکھ کر مجھے یہ اچھی طرح سمجھ آ گئی ہےکہ اسے ریاست نے کیوں سبق سکھایا تھا اور کیوں لوگ اس غلیظ فطرت آدمی سے اتنی نفرت کرتے ہیں۔ اس لیے کہ ایسے جھوٹے اور منافق لوگ اپنی کرتوتوں کی وجہ سے ہی نقصان اٹھاتے ہیں۔ اپنے طبقے کا غدار یہ وہ بے غیرت ہے جو مڈل کلاس کا ایک صحافی ہو کر بھی مزاریوں جیسے جاگیرداروں کی چمچہ گیری کرتا ہے اور ان کی شہہ پرخود کو ایک گھٹیا سا باغی سمجھتا ہے۔ میں تو اس فراڈیے کو صرف ترس کے قابل سمجھتا ہوں جو میرے جیسے پاکستان کی تاریخ کے سب سے مقبول سنگرز میں سے ایک کے بارے میں مکمل غلط بکواس کر رہا ہے۔ اسے چاہیے کہ یہ سوشل میڈیا پر لائیو مائیک لے کر سب سے پہلے اپنے دادکے اور نانکے خاندان میں ہی چلا جائے اور ہر ایک سے یہ پوچھے کہ وہ جواد احمد کو جانتے ہیں یا نہیں۔ مگر یہ ایسا کبھی نہیں کرے گا کیونکہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے پر میں اس کے بارے میں یہ ضرور بتا سکتا ہوں کہ جس جگہ یہ رہتا ہے وہاں دو گلیاں چھوڑکر اس کے محلے والے بھی اسے نہیں جانتے۔ کم ظرفی اورجھوٹ بولنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ میں نے اپنا کیریر 26 سال پہلے شروع کیا تھا مگر میں نے 2003 کے بعد سوشل ورک اور فلاحی کاموں اور پھر سیاست کی وجہ سے پاکستان میں کوئی البم نہیں نکالا پھر بھی میرے بہت سے طاقتور گانے اس وقت سے لے کر اب تک پوری دو نسلوں کو یاد ہیں۔ پھر بھی 2026 میں آج بھی جب پاکستان میں 18 سال بعد بسنت ہوئی تو میرا گانا "اچیاں مجاجاں والی" ہی انسٹاگرام، فیس بک اور ٹک ٹاک وغیرہ کی ٹرینڈنگ میں نمبر 1 پر تھا اور ہر چھت پر وہی بج رہا تھا۔ یہ تو میڈیا کا آدمی ہے مگر کیا اس جاہل کو اتنا بھی پتا نہیں؟ کیا اسے پتا نہیں کہ میں ایک نہیں بلکہ تین صدارتی ایوارڈز پانے والا پاکستان کا واحد آرٹسٹ ہوں؟ یہ یو ٹیوب پر پیسے بنانے کے لیے کس حد تک گر سکتا ہے وہ اس وڈیو میں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ یہ میرے جیسے ایک سوشلسٹ انقلابی آدمی کی سیاست کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے جو اس ملک کے مڈل کلاس اور غریب لوگوں کو اس ملک کا حاکم بنانا چاہتا ہے اور اس کئے لیے ہر قسم کی ذاتی قربانی کر رہا ہے۔ میں اپنی ذات پر کچھ بھی برداشت کر لیتا ہوں مگر صرف پاکستان نہیں بلکہ دنیا کے تمام مڈل کلاس اور غریب عام لوگوں کے لیے اپنی صاف شفاف سوشلسٹ سیاست پر جھوٹ بول کر اسے نقصان پہنچانے کو برداشت نہیں کر سکتا۔ جو بھی اس پر بات کرے گا وہ میرے سے اپنی اصل اوقات کے بارے میں سنے گا تاکہ آئندہ اسے ایسا جھوٹا گھٹیا پن کرنے کی ہمت نہ ہو۔ مگر مجھے پتا ہے کہ یہ بیچارہ مجبور ہے۔ اگر عمران کی طرفداری کرنے پر PTI والے اسے ویوز نہ دیں تو یوٹیوب پر اس کی روزی روٹی بند ہو جائے۔

Jawad Ahmad

28,733 Aufrufe • vor 6 Monaten