Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

زیرحراست بالاچ سمیت تین نوجوانوں کوسی ٹی ڈی پولیس کی جانب سےجعلی مقابلےمیں مارےجانے کےخلاف بالاچ کےلواحقین تربت میں میت کےساتھ دھرنادیےبیٹھے ہیں بین کرتی بالاچ کی بہن بےدردی سےقتل ہونےوالےاپنےبھائی کیلئےاحتجاج کررہی ہے کیایہ بہن انصاف کی امیدرکھ سکتی ہے؟

51,381 görüntüleme • 2 yıl önce •via X (Twitter)

6 Yorum

بےنام آدمی profil fotoğrafı
بےنام آدمی2 yıl önce

'ریاست ہو گی ماں کے جیسی' پر اصل میں یہ تو جلاد سے بھی بدتر ہے

Fayaz Baloch profil fotoğrafı
Fayaz Baloch2 yıl önce

Such brutal massacre against the innocent Balochs should come to an end? Otherwise centre will lose its control and the fate of the nation will be decided by the people themselves and there will be utter anarchy like Sudan, Lebanon, Syria and Africa.

Abdulwahab profil fotoğrafı
Abdulwahab2 yıl önce

اچھا ہوا ايک دہشت گرد ہلاک ہوا

Miss begum profil fotoğrafı
Miss begum2 yıl önce

This Blood will find it's way back to every Pakistani .

Mandravi profil fotoğrafı
Mandravi2 yıl önce

@gabeeno جواب ہم سب کو پتہ ہے 💔😔

Saraj Ahmed Mengal profil fotoğrafı
Saraj Ahmed Mengal2 yıl önce

😭😭😭😭

Benzer Videolar

ماورائے عدالت قتل۔۔۔ شہید حمدان کی بہن “یہ تصویر جو آپ میرے ہاتھ میں دیکھ رہے ہیں، یہ میرے بھائی شہید حمدان کی ہے، جسے 29 دسمبر 2025 کو گھر سے لاپتہ کیا گیا، اور تقریباً ایک ہفتے بعد اس پر جھوٹے الزامات لگا کر میڈیا میں پیش کیا گیا۔ اس کے بعد میرے بھائی کو تین مرتبہ عدالت میں بھی پیش کیا گیا، لیکن وہ ہر بار کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔ اسی ناکامی کو چھپانے کے لیے، اگلی پیشی کی تاریخ سے ایک دن پہلے، میرے بھائی حمدان اور دیگر تین بلوچ نوجوانوں کو اپنی کسٹڈی میں تشدد کرکے ماورائے عدالت قتل کیا گیا، اور پھر اسے مقابلے کا نام دیا گیا۔ اگر یہ مقابلہ تھا تو اس میں صرف بلوچ نوجوان ہی کیوں مارے گئے؟ آپ کے اہلکاروں کا ایک بندہ تک کیوں نہیں مرا؟ اور پھر اسی طرح، بنا ثبوت اور ناانصافی پر مبنی فیصلے کے تحت ڈاکٹر ماہ رنگ اور ان کی دیگر ساتھیوں کو آپ کی عدالت نے عمر قید سنائی ہے۔ میرا یہ ویڈیو بنانے کا مقصد یہ ہے کہ سرفراز بگٹی صاحب کہتے ہیں کہ اہلکار شبیر بلوچ کے لواحقین کے ساتھ انصاف ہوا ہے۔ اگر ایک واقعے پر مکمل طور پر ردِعمل آ سکتا ہے، اگر لوگوں کو سزائیں سنائی جا سکتی ہیں، تو پھر ہمارے بھائی حمدان بلوچ کے معاملے میں خاموشی کیوں ہے؟ کیوں ہمارے بھائی کے کیس کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے؟ اگر آپ کی عدالت بے گناہ لوگوں کو عمر قید کی سزا سنا سکتی ہے، تو اُن سی ٹی ڈی اہلکاروں کی کیا سزا ہونی چاہیے جنہوں نے بلوچ نوجوانوں کو اپنی کسٹڈی میں تشدد کرکے انہیں ماورائے عدالت قتل کیا؟ اگر بقولِ آپ کے شبیر کے لواحقین کو انصاف ملا ہے، تو حمدان بلوچ کے لواحقین کا انصاف کہاں ہے؟ اگر آپ انصاف کی بات کر رہے ہیں، تو ہمارے لیے آپ لوگوں کے منہ اور عدالتوں کے دروازے کیوں بند ہو جاتے ہیں؟ ہم بھی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ہمارے اہلِ خانہ کو انصاف دیا جائے اور ان سی ٹی ڈی اہلکاروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ اگر ان کو سزا نہیں دی گئی تو یہ آنے والی نسلوں کے لیے خطرہ ہے۔ اسی لیے ہمارے خاندان کو انصاف دیا جائے۔”

Baloch Yakjehti Committee

13,732 görüntüleme • 2 ay önce

2006 میں کوہلو سے لاپتہ ہونے والی زرینہ مری کی بہن "زیم ٹی وی" سے بات کررہی ہیں جنکا کہنا ہے کہ ان کی بہن ایک سکول کے ٹیچر تھیں اور انہیں پاکستانی فوج نے لاپتہ کردیا تھا. پاکستان میں حال ہی تک تنخواہیں اور ریکارڈز کو مینول طریقے سے اندراج اور انکی ادائگی ہوتی رہی ہے۔ تو ایک ہاتھوں سے لکھی گئی ریکارڈ کیپنگ سسٹم سے کسی کا نام غائب کرنا کوئی مشکل بات نہیں۔ یہاں افغانستان اور ایران سے آئے غیر ملکی لوگوں کو بلوچستان کا با شندہ بنانا اور انہیں عوامی نمائندہ دکھا کر انتخابات کروائے جا سکتے ہیں تو انکا نام مٹانا کوئی بڑی بات نہیں۔ زرینہ مری کی فیملی 2013 تک سراپہ احتجاج رہی ہیں۔ یہ انٹرویو 2012 کی ہے جن میں انکی بہن کو دیکھا جا سکتا ہے۔ جب پنجاب میں یونیورسٹی میں ریپ کا پروپیگینڈا کیا گیا تھا تو نا مجرم کا پتہ تھا لوگوں کو اور نہ ہی جسکا ریپ ہوا تھا کیونکہ وہ جھوٹ تھا۔ اور یہاں انکی بہن سامنے ہیں, کاغزی کاروائی سے آپ کسی انسان کے وجود کو نہیں ختم کر سکتے۔ یہ انکی فیملی ہے، انکی فیملی کو ٹریس کر کے انکے وجود کا پتہ انکے ہمسایوں، علاقہ مکینوں اور بلوچ قوم سے معلوم کی جا سکتی ہے۔ #ReleaseZarinaMarri

Naeema Zehri

31,593 görüntüleme • 1 yıl önce

آج خیبر میں کربلا تھی خیبر میں پرامن پٹھان جو بیابان میں بیٹھے ہیں جرگے کے انتظامات کررہے ہیں ان پر صوبائی حکومت کے احکامات پر پولیس نے کارروائی کرکے تین افراد کو شہید اور 12کو زخمی کردیا میں وہاں جانے لگا تو پولیس نے مجھے وہاں جانے نہیں دیا میں اس معزز ایوان کا حصہ ہوں اور فارم 45کا ممبر ہوں فارم 47کی پیدوار نہیں ہوں سٹبلشمنٹ ، صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کو شکست دے کرآیا ہوں عوام کی طاقت اور جرات سے آیا ہوں کوئی خوش ہوتا ہے یا خفا ہوتا ہے خیبر پختونخوا کی عوام پر ظلم اور بربریت جاری ہے وفاقی حکومت نے پی ٹی ایم پر پابندی لگائی ہے جو آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے پرامن تنظیم وہ جوان کو گزشتہ 20سال سے جاری جنگ اور بدامنی سے تنگ آگئے ہیں اپنے عوام کیلئے امن مانگ رہے ہیں پولیس کیلئے امن مانگ رہے ہیں اس پرامن تنظیم پر وفاقی حکومت نے پابندی لگادی انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997کے تحت پابندی لگی ہے جو رجسٹرڈ تنظیم بھی نہیں ہے یہ آئین ہمیں تنظیم پارٹی تحریک چلانے اور پرامن طریقے سے جدوجہد کرنے کا حق دیتا ہے اس تحریک نے آج تک کوئی غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام نہیں اٹھایا جس قانون کے تحت پابندی لگی ہے اس کے تحت تین روز میں وفاق پابند ہے کہ وجہ بتائے کہ اس تنظیم نے کہاں دہشتگردی کی ہے یہ اس مٹی کے بچے ہیں چاہے یہی کہ ریاست اس کے سوالات کے جوابات دے مسائل کو حل کرے آج وفاقی ہو یا صوبائی حکومت ہو۔۔۔ دونوں بے اختیار ہیں صوبائی حکومت کہتی ہے آئی جی میرے اختیار میں نہیں بہت افسوس کی بات ہے چیف سیکرٹری اور آئی جی آپ کے اختیار میں ہیں آئین یہی کہتا ہے کیسے پولیس اپنے احکامات پر پرامن نوجوانوں پر کارروائی کرتی ہے تین بار کارروائی کی گئی شیلنگ کی گئی خیمے جلائے گئے جس طرح پی ٹی آئی کے کارکنوں پر وفاقی حکومت نے شیلنگ کی اورآپ لوگ اسے ظلم کہتے تھے ویسے ہی صوبائی حکومت نے ان پر تین بار شیلنگ کی آنسو گیس استعمال کی ایف سی بھیجی گئی جس کے حکم پر گئی ؟ آئی جی کو اس ہاﺅس میں طلب کیاجائے اور سوال کیاجائے کہ کس کے کہتے پر یہ کارروائی کی گئی عوامی نیشنل پارٹی اس ظلم اور بربیت کی مذمت کرتی ہے اور سوال کرتے ہیں ریاست سے صوبائی اور وفاقی حکومت سے کہ کیوں ظلم اور بربریت کی گئی عوامی نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی نثار باز

Muhammad Faheem

64,104 görüntüleme • 2 yıl önce

میں آج اس بات پر بہت افسوس کرتا ہوں کہ کل عمران خان کی بہن علیمہ خان کے گھر کی چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی کی گئی۔علیمہ خان کے بیٹے، جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، کو اغوا کیا گیا۔علیمہ خان کے بیٹے کی پی ٹی آئی کے کسی بھی ایونٹ میں کوئی تصویر تک نہیں ہے۔جس طرح اسے اغوا کیا گیا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک میں ریاست ماں کے جیسی نہیں ہے۔ظلم و جبر کا نظام ہے، اس ملک میں قانون کا کوئی احترام نہیں ہے۔عدالتوں میں وہ سکت نہیں رہی کہ شہریوں کو محفوظ رکھ سکیں۔آج علیمہ خان کے دوسرے بیٹے شیرشاہ کو اغوا کیا گیا۔میں مریم نواز سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جس طرح پنجاب پولیس کر رہی ہے یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔اتنا ظلم کریں، جتنا کل کو برداشت کر سکیں۔ہم نے تو ہمیشہ اصول کی سیاست کی ہے، ہم ہمیشہ قانون کے احترام کی بات کرتے ہیں۔اب تمام راستے اور حدود کراس کر دی گئی ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عدلیہ ہمیں میرٹ کے مطابق انصاف دے۔جو 8 دنوں کا ریمانڈ دیا گیا ہے، کس بنیاد پر دیا گیا ہے۔واضح ہو گیا ہے کہ یہ سب کچھ حکومت کی ایما پر ہو رہا ہے۔حکومت نے عدالت پر اثر انداز ہو کر سب کچھ کیا ہے۔پنجاب کی فاشسٹ حکومت کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔اسمبلی میں بھی آواز اٹھائیں گے، آپ کے حربوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ہم اپنی تحریک کو آگے بڑھائیں گے اور ظلم کی تاریک رات جلد ختم ہوگی۔

Asad Qaiser

36,456 görüntüleme • 1 yıl önce

اسلام آباد: خاتون صحافی روخانہ رحیم وزیر اور خاندان کی مبینہ بے دخلی، انسانی حقوق پر سنگین سوالات اسلام آباد سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق خاتون صحافی اور کالم نگار روخانہ رحیم وزیر اور ان کے خاندان کو مبینہ طور پر ڈی پورٹ کرنے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں فارن ایکٹ کی دفعہ 14-A کے تحت آج کیمپ میں زبردستی انگوٹھے لگوائے جا رہے ہیں اور براہِ راست طورخم بارڈر منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔ روخانہ رحیم وزیر کا تعلق وزیرستان سے بتایا جاتا ہے اور وہ اسلام آباد میں قائم “نوے ژوند ادبی، ثقافتی و فلاحی تنظیم” کی پریس سیکرٹری بھی ہیں۔ وہ آئی بی سی اردو IBC URDU کی مستقل کالم نگار ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان کا خاندان گزشتہ تین ماہ سے شناختی کارڈ بلاک ہونے کے باعث افغان مہاجر ہونے کے شبے میں سی ٹی ڈی اسلام آباد کی تحویل میں حاجی کیمپ میں رکھا گیا ہے۔ان کی باقی فیملی پاکستانی ہے ہے یہ افغانی ، عجیب صورتحال ہے ۔ اس پیش رفت نے انسانی حقوق کے حوالے سے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ قانونی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ کیا کسی پاکستانی شہری کو محض شبے کی بنیاد پر اپنے ہی ملک سے بے دخل کیا جا سکتا ہے؟ ناقدین کے مطابق اگر ایسا ہے تو یہ اقدام آئینِ پاکستان اور بنیادی انسانی حقوق کی واضح خلاف ورزی کے مترادف ہو سکتا ہے۔ سماجی و صحافتی حلقوں کی جانب سے اربابِ اختیار اور ریاستی اداروں سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے۔ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس کارروائی کو فی الفور روکا جائے، معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرتے ہوئے انہیں باعزت شہری کے طور پر زندگی گزارنے کا حق دیا جائے۔

Sabookh Syed | Journalist

25,358 görüntüleme • 6 ay önce