Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

ساحل ندیم کو برین واشنگ کےلیے پشاور لایا جاتا ہے، پختونوں کو غیور قرار دے کر یہاں کلاشنکوف کا رواج قائم کیاجاتا ہے۔ مگر آج صوابی میں ANP کے زیرک رہنما سلیم لالا نے ہتھیار زمین پر مار کر ایک نیا رجحان متعارف کرایا اور فیکٹری کے نام نہاد...

104,232 Aufrufe • vor 1 Jahr •via X (Twitter)

11 Kommentare

Profilbild von Eusafxae 1520 ▪️
Eusafxae 1520 ▪️vor 1 Jahr

Za ba um ala omanam che da Toor Makho na G3 walay ao hagha maat k 😉

Profilbild von ZAC OS
ZAC OSvor 1 Jahr

اے این پی کمپنی کی کتیا ہے اور کمپنی نے ہی پختونوں کو اس طرف ڈالا ہے

Profilbild von Shafiq
Shafiqvor 1 Jahr

جس دن بہادروں نے اپنا ہتھیاریابندوق چھوڑ دی حدا کی قسم پنجاب کے ظالم آپ اللہ کی زمین تنگ کرے گا دفعہ ہو جاو

Profilbild von Banana Republic of Pakistan - 804
Banana Republic of Pakistan - 804vor 1 Jahr

ہتھیار بیغرت ڈالتے ہے۔ ANP ویسے بھی ھیجڑوں کا پارٹی ہے.

Profilbild von Harvest goddess
Harvest goddessvor 1 Jahr

پندرہ سال "ہمارے بہادر اور غیرت مند پٹھان بھائی آگے آئیں"کے نعرے کونسی جماعت لگاتی رہی ہے؟ اور ہمارے بیوقوف کے پی والے ڈنڈے، بوتلوں والے بم اور غلیلیں لے کر مار کھانے کے لئے سب سے آگے کھڑے ہوتے تھے۔

Profilbild von Si
Sivor 1 Jahr

A disarmed society is an enslaved society. Why is there always a push to disarm Pashtuns before operations in Tribal areas? Mush did it too. Anyone promoting this is either misguided or saboteur

Profilbild von Waqar Dawar
Waqar Dawarvor 1 Jahr

اگر صوابی میں سلیم لالا نے ہتھیار پھینک کر کوئی نیا پیغام دیا ہے، تو اس کا مقصد شاید یہ ہو کہ پختون قوم کو بندوق کی سیاست سےنکال کر دانشمندی اور اجتماعی مزاحمت کی طرف لایا جائے۔ لیکن دوسری طرف،اگر کوئی قوم غیرمسلح ہو جائے اور دشمن کے رحم و کرم پر رہ جائے، تو اس کا انجام کیا ہوگا؟

Profilbild von Elise Oyin
Elise Oyinvor 1 Jahr

Let all in creation call Yahweh the author of confusion before ALL DEATH n impediment IN ELISE OYINKROMEINEIFA'S tongue n mouth r NOT 100% OVERTURNED, DESTROYED n 100% OF YAHWEH'S ZOE LIFE INFUSED INTO THEM NOW PERMANENTLY in the name of Jesus Christ of Nazareth u900gtefsfbaiCnYH

Profilbild von Haji_AZzaM
Haji_AZzaMvor 1 Jahr

دا بیغیرتان نه نران دي نه ښځې🤣

Profilbild von Riaz Hussain
Riaz Hussainvor 1 Jahr

ساحل ندیم کا کلپ نظر سے گزرا ہے جس میں ایک بچی باچہ چان کا حوالہ دے رہی تھی ۔ اور یہ خبیث اسے بڑے بھونڈے انداز سے روک ٹوک رہا تھا۔ ترس آتا ان لوگوں پر جنہوں نے ان جیسے لوگوں کو رہبر اور راہنما بنایا ہوا ہے

Profilbild von فخر خیبر
فخر خیبرvor 1 Jahr

د پختون د تاریخ نہ چی ٹوپک او ٹوپک ماران لری کڑی ھسی ھجڑاگان پاتے کیگی ۔انقلاب پہ ٹوپک رازی او چاچی ٹوپک غورزولئ غلام شوی دا نن چی پختون غلام دی ہم دا علت یی دی

Ähnliche Videos

آج ہم پر معاشی دباؤ ہے، پاکستان کو معاشی بحران کا شکار بنایا جا رہا ہے، ہماری اسٹیبلشمنٹ بھی اگر چاہتی ہے کہ ملک کو طاقتور اور توانا بنائے ان کو بھی بلیک میل کیا جا رہا ہے، ہماری فوج کو بلیک میل کیا جا رہا ہے، ہماری بیوروکریسی کو بلیک میل کیا جا رہا ہے، ان کو اپنی ڈگر پر لانے اور ان کی خواہشات کے مطابق پاکستان کی ریاست کو تشکیل دینے کے لیے ان کا ہم پہ دباؤ بڑھ رہا ہے، پاکستان کی معاشی استاد یہ کسی حادثے کی بنیاد پر نہیں! گزشتہ چار پانچ سالوں میں اور آپ کے صوبے میں گزشتہ آٹھ دس سالوں سے ایک ایجنڈے کے تحت یہاں ایسی حکومتیں قائم کی گئی کہ پاکستان کو مذہب سے بھی دور کر دے، پاکستان کی تہذیب کو بھی تباہ کر دے، پشتون تہذیب کو زمین بوس کر دے اور ان کی معیشت کا خاتمہ کر کے پاکستان کے وجود کو ختم کردیں! ہم نے ان قوتوں کا مقابلہ میدان میں کیا ہے، ہم نے وطن کو بچایا ہے۔ مولانا فضل الرحمان/ پشاور میں خطاب Maulana Fazl-ur-Rehman #Peshawar_JUI_Ka

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

21,276 Aufrufe • vor 2 Jahren

اگر مقصد واقعی بلوچ حقوق ہیں تو راستہ تعلیم، شعور، سیاست اور ترقی ہونا چاہیے نہ کہ کم عمر بچیوں کو مختلف حربوں سے ورغلا کر، دھمکا کر بارود اور شدت پسندی کی طرف دھکیلنا۔ بلوچ نوجوانوں کے ہاتھ میں کتاب ہونی چاہیے بندوق نہیں۔ بلوچ بیٹیوں کو یونیورسٹیوں میں ہونا چاہیے پہاڑوں کے عسکری کیمپوں میں نہیں۔ کیونکہ جو اسپانسرڈ عناصر بلوچ نسل کو جنگ کی آگ میں جھونک رہے ہیں وہ بلوچ قوم کے مستقبل اور تشخص کو تباہ کر رہے ہیں۔ آج سامنے آنے والی ویڈیو نے ایک تلخ حقیقت واضح کر دی۔ شہناز بلوچ یہ دعویٰ کر رہی ہیں کہ بلوچ قوم شعوری طور پر ایک مخصوص عسکری جدوجہد کا فیصلہ کر چکی ہے مگر دوسری طرف ان کے کیمپ میں جن چہروں کو تربیت دی جا رہی ہے ان میں تمام تر لڑکیاں کم عمر اور نابالغ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ واقعی ایک شعوری سیاسی فیصلہ ہے تو پھر معصوم بچیوں کو ورغلا کر ان کے ذریعے جنگ اور خودکش تربیت کی طرف کیوں دھکیلا جا رہا ہے؟ کیا معصوم ذہنوں کو جنگی نفسیات دینا انسانی حقوق کے اصولوں کے خلاف نہیں؟ بلوچ اور اسلامی روایت میں خواتین کے احترام کو بنیادی حیثیت حاصل ہے مگر آج آزادی کے نام پر بلوچ بیٹیوں کو پہاڑوں پر عسکری تربیت دینا بلوچ ننگ، ثقافت اور تشخص کے سراسر خلاف ہے۔ یہی عناصر روز ریاستی اداروں پر بلوچوں کو اٹھانے کے الزامات لگاتے ہیں مگر جب درجنوں خواتین اور نابالغ لڑکیاں عسکری کیمپوں میں موجود ہوں تو ایک منطقی سوال پیدا ہوتا ہے کیونکہ یہ خود چاہتے ہیں کہ ریاستی ادارے کل ان کے خاندان والوں سے تحقیقات کریں ۔تاکہ یہی عناصر دوبارہ لاپتہ بلوچ” کا بیانیہ بنائیں ؟ خواتین کی اس حد تک بے حرمتی اور نسل کشی ہر بلوچ خاتون کی راہ میں منفی اثرات اور مشکلات چھوڑتی ہیں۔

Meena Majeed Baloch, MPA

38,639 Aufrufe • vor 4 Monaten

گلگت بلتستان میں 23 مارچ کو ایک بار پھر عوام نے ثابت کر دیا کہ پاکستان اور پاک فوج سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ یہ ایک کامیاب اور تاریخی تحریک تھی جس کی قیادت سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور صوبائی صدر مسلم لیگ (ن) Hafiz Hafeez ur Rehman نے کی۔ اس دن جی بی کے لوگوں نے واضح پیغام دیا کہ پاکستان سے وفاداری میں ہم سب سے آگے ہیں، اور کوئی بھی ہمیں اپنے ملک اور اداروں کے خلاف استعمال نہیں کر سکتا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جب بھی سیاسی جماعتوں کو نظر انداز کر کے چند من مانے اور دو نمبر لوگوں کو آگے لایا جاتا ہے تو حالات خراب ہوتے ہیں۔ گلگت بلتستان ایک حساس خطہ ہے، یہاں فیصلے ہمیشہ عوامی نمائندوں اور سیاسی جماعتوں کے ذریعے ہی ہونے چاہئیں۔ اداروں سے گزارش ہے کہ ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرایا جائے۔ پہلے بھی ڈھائی سال ایک نام نہاد سیٹ اپ بنا کر گلگت بلتستان کو نقصان پہنچایا گیا، جس کے اثرات آج تک نظر آ رہے ہیں۔ اس بار ایسے لوگوں کو آگے لایا جائے جو عوام کے ووٹ سے آئے ہوں، جو سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہوں، اور جو پاکستان اور ریاست کے ساتھ کھڑے ہوں۔… پاکستان زندہ باد 🇵🇰 گلگت بلتستان پائندہ باد

Sajid usmani

10,558 Aufrufe • vor 6 Monaten

آج اس تاریخی اور فقید المثال اجتماع کا انعقاد کر کے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ سرزمین فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور اس سرزمین پر صہیونیت کا کوئی حق نہیں ہے، چند مہینے قبل یہاں اسی اجتماع میں جس اجتماع کو ہم نے طوفان اقصیٰ کا نام دیا تھا اور ہم نے اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا ہم آج بھی ان کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ہم ایک مضبوط موقف پہ قائم ہیں اور جس طرح آپ میدان جنگ میں ہیں ہم بھی پاکستان کی سرزمین پر آپ کے شانہ بشانہ اور قدم بقدم آپ کے جہاد میں شریک ہیں۔ امریکہ ہو یا مغربی دنیا انسانی حقوق کے علمبردار بنتے ہیں مجھے ان کی تاریخ بھی معلوم ہے مجھے ان کا کل بھی معلوم ہے اور آج بھی معلوم ہے۔ جنگ عظیم اول میں اسی مغربی دنیا نے کروڑوں انسانوں کا قتل عام کیا تھا، جنگ عظیم دوم میں اسی مغربی دنیا میں کروڑوں انسانوں کا قتل عام کیا تھا اور آج 20 سال تک افغانستان میں افغانوں کا قتل عام ہوتا رہا، عرب دنیا میں عرب مسلمانوں کا قتل عام ہوتا رہا، آج غزہ کے مسلمانوں پر بمباریاں ہو رہی ہیں، 50 ہزار کے قریب وہ اپنے شہداء دے چکے ہیں، اسرائیل مجاہدین کی مقابلے میں میدان میں نہیں ٹھہر پا رہا وہ معصوموں اور بے بس مسلمانوں پر بمباری کر رہے ہیں، اس وقت بھی اگر 50 ہزار شہدا ہیں جو 15 مہینوں میں دے چکے ہیں 75 فیصد اس میں چھوٹے بچے اور خواتین ہیں، آپ بتائیں کہ اس ظلم اور فلسطینیوں کی اس نسل کشی پر اگر امریکہ انہیں سپورٹ کر رہا ہے، اگر برطانیہ ان کو سپورٹ کر رہا ہے، اگر نیٹو ممالک ان کو سپورٹ کر رہے ہیں تو کیا ان کو آج کے بعد انسانی حقوق کی بات کرنے کا حق حاصل ہے؟ جن کے ہاتھوں انسانی حقوق کا قتل عام ہو رہا ہے، جن کے ہاتھوں انسان کی جان محفوظ نہیں، جن کے ہاتھوں انسان کا مال محفوظ نہیں، جن کے ہاتھوں انسانوں کی عزت و آبرو محفوظ نہیں اور چھوٹے چھوٹے شیر خوار بچے آج وہاں پر یہ نہیں سمجھ پائیں گے کل کہ ہم کس کی اولاد ہیں میرے باپ کا نام کیا تھا اور میری ماں کا نام کیا تھا۔ کیا ان کو بھی انسانی حقوق کی بات کرنے کا حق حاصل ہے؟ تمہارے ہاتھوں سے انسانوں کا خون ٹپک رہا ہے، انسانیت کا خون ٹپک رہا ہے، انسانی حقوق کا قتل عام ہو رہا ہے، تم انسانیت کے قاتل ہو۔ اگر صدام حسین کو اس بنیاد پر پھانسی دی جاتی ہے کہ آپ نے ایک شہر میں آپریشن کیا اور اتنے لوگ آپ نے قتل کیے تھے تو اتنی انسانیت کے قتل عام پر کیا نیتن یاہو کو پھانسی پہ چڑھانا ان کا حق نہیں بنتا؟ یہ انسانیت کا دشمن ہے۔ امریکہ اور مغربی دنیا انسانیت کے قاتل ہیں اور ان شاءاللہ ہم نے یہاں پر حق و انصاف کی آواز بلند کی ہے، ہم نے اس خطے میں انسانیت کو شعور عطا کیا ہے پتہ چل جائے کہ دنیا میں مظلوم کون ہے اور ظالم کون ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

30,555 Aufrufe • vor 1 Jahr

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مندوب نے پی ٹی آئی کی زبان بولی ہے ، آپ کو ماننا پڑے گا کہ ہم نے جو نشاندہی کی تھی وہ اب درست ثابت ہورہی ہے، اسرائیل امریکہ اور مغرب کے ہاتھوں کا ایک خنجر ہے جس نے فلسطین کی پیٹھ پر گھونپ کر مقدس سر زمین پر قبضہ کیا،بیت المقدس پہ قبضہ کیا اور عالمی قوتیں ایک ناجائز ملک کا تحفظ کر رہی ہیں، اسرائیل وہ ملک ہے جو قیام پاکستان کے ایک سال بعد 1948 میں وجود میں آیا،جس کے پہلے وزیراعظم نے خارجہ پالیسی پر پہلا پالیسی بیان دیا کہ اسرائیل کی خارجہ پالیسی کا اساس اور اس کا بنیادی ہدف دنیا میں ایک نو زائدہ مسلم ریاست (پاکستان) کا خاتمہ ہوگا،اسرائیل اپنے قیام کے بعد اپنی زندگی کا آغاز پاکستان کے خاتمے کے اہداف سے کرتا ہے اور پاکستان میں لوگ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مہم جوئی کر رہے ہیں،یہ وہ غلامانہ ذہنیت ہے جس کے خلاف ہم میدان عمل میں ہیں، یہ وہ جنگ ہے جو ہم لڑ رہے ہیں،یہ تہذیب کی جنگ ہے اور اس کے پیچھے سیاسی جنگ ہے، پھر اس کے پیچھے اقتصادی جنگ ہے۔اور ہم انشاءاللہ اسرائیل اور اس کے ایجنٹوں کا ہر محاذ پر راستہ روکیں گے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

202,636 Aufrufe • vor 3 Jahren