Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

سالہا سال سے آوارہ اور بدبودار معاشرے کو قانون پر عملدرآمد کا پابند بنائیں گے تو ردعمل تو آئے گا پنجاب میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ہونے والے جرمانوں اور درج ہونے والی ایف آئی آرز پر شہریوں کا ردعمل سامنے آرہا ہے ضروت اس چیز کی...

27,325 просмотров • 8 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

18 سال سے کم عمر شادی کے حوالے سے قانون سازی پر ہم نے ایوان میں کہا تھا کہ اس بل کو پہلے اسلامی نظریاتی کاونسل میں بھیجا جائے جو شرعی رہنمائی کا قانونی ادارہ ہے،لیکن ہماری بات نہیں مانی گئی۔ اس کے بعد ایوان کے فلور پر وزیر خارجہ صاحب نے میری گفتگو کا جواب دیا اور میری ان سے فون پر بھی بات ہوئی مگر مزید کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایسے قوانین کے پیچھے لکھا ہوتا ہے کہ یہ UN,FATF اور IMF جیسے بیرونی اداروں کے مطالبے پر قانون سازی کی گئی ہے،ہم نے اپنے آئین کا حلف لیا ہے، اقوام متحدہ کا حلف تو نہیں لیا،پھر کیوں اس طرح قرآن و سنت کے خلاف قوانین بنائے جارہے ؟ آپ کی قانون سازی سے مسلح گروہوں کو تقویت مل رہی ہے،ہماری طویل جدوجھد اور صلاحیتوں کا ضیاع ہے،پوری مذھبی حلقہ کی نمائندگی آئین اور قانون کے ساتھ کھڑی ہے اور اسکی یہ سزا دی جارہی ہے؟ ہم یہ کسی طور پر قبول نہیں کرسکتے،ہم ایسی قانون سازی کو نہیں مانتے اور عوامی سطح پر اسکی بھرپور خلاف ورزی کریں گے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

12,305 просмотров • 7 месяцев назад

آئینی ترمیم کے معاملے پر جس عجلت سے حکومت کام لے رہی ہے، وہ ناقابلِ فہم ہے۔ ایسی کوئی ایمرجنسی نظر نہیں آ رہی جس کی بنیاد پر اس ترمیم کو فوری طور پر پاس کرنے کی ضرورت ہو۔ ہمیں ماضی میں کہا گیا کہ اگر ترمیم اتوار کو منظور نہ کی گئی تو پیر کو بڑا بحران آئے گا، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ یہ جلد بازی ہمیں کسی طور پر قابلِ قبول نہیں ہے۔ بل میں موجود تفصیلات اور اصولوں پر ہمیں سخت اعتراضات ہیں، اور ہم کسی بھی قیمت پر حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ حکومت کی ترجیحات حیران کن ہیں۔ 1973 سے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر قانون سازی کا مطالبہ موجود ہے، جسے آئین میں سات سال کے اندر مکمل کرنے کا ذکر ہے، لیکن آج 2024 میں ایک بھی سفارش پر قانون سازی نہیں ہوئی۔ تاہم، جب سیاسی مفادات کی بات آتی ہے تو راتوں رات آئینی ترامیم منظور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے لیے ہم نے نو مہینے لگائے، اور آج ہم سے 24 گھنٹوں میں ایک نئی ترمیم منظور کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جو بالکل ناقابلِ قبول ہے۔ ملک میں، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں، جہاں حکومتی رٹ ختم ہو چکی ہے، موجودہ قوانین اور اختیارات کافی ہیں۔ نئی قانون سازی یا ترامیم کی ضرورت نہیں ہے۔ ملٹری کورٹس اور عدلیہ میں اصلاحات کی باتیں بھی ہو رہی ہیں، جنہیں ہم مانتے ہیں کہ ضروری ہیں۔ تاہم، یہ اصلاحات عدالتوں کے فیصلوں میں شفافیت کے ساتھ ہونی چاہئیں اور انہیں کسی "سیل پرچیز" کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ ہم عدالت کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں، لیکن اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ان فیصلوں کا غلط فائدہ نہ اٹھایا جائے، جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

32,812 просмотров • 1 год назад

اللہ کی فوج کے ساتھ لاکھ سپاہیوں سے دوسرا سوال: آپ کے ادارے کے سربراہ اس سدیوں میں پیدا ہونے والے لیڈر کو torture کر رہے ہیں۔ یہ وہ بندہ ہے جس سے آپ کے ملک کی پہچان ہے اور جب آپ یہ وڈیو دیکھیں گے تو مانیں گے کہ یہ سچ میں ہماری قوم کے غریبوں کے لیے درد رکھتا ہے! آپ سب فوج میں آکر شاید اپنے آپ کو عام پاکستانیوں سے الگ سمجھنے لگے ہیں، اس لیے شاید درد نہیں ہوتا آپ کے دل میں جب قوم کے لیڈر کو اس طرح ٹارچر کیا جارہا ہو ؛ آج آپ شاید محفوظ ہوں مگر یہ جو نانصافی اور ظلم ہے ، یہ آپ کے گھر تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ بس پوچھنا یہ تھا کہ ادارے کے بڑوں کو خط یا WhatsApp بھیجنے کی اجازت ہے؟ اور اگر ہے تو کچھ گلہ کیا یا پھر یہ سمجھانے کی کوشش کی اتنا ظلم بےگناہوں پر نہیں کرنا چاہیے؟ اور اگر نہیں ہمت ہوئی یہ سب کہنے کی تو کس منہ سے اپنے بچوں کو بہادری اور حق بات کرنا سکھائیں گے؟ بندوق استعمال کرلینا بہادری نہیں ہوتی، وہ تو جنگ کے کچھ دنوں میں چلتی ہے، مگر روز مرہ زندگی میں تو اصولوں کی جنگ ہوتی ہے، کس منہ سے اصول سکھائیں گے؟ جب وہ بڑے ہو کر پچھلے تین سال کے واقعات پڑھ کر آپ سے پوچھیں گے کہ آپ کی ظالموں تک رسائی تھی مگر پھر بھی کچھ نہیں بولے ان کو! لوگوں کو بہت مان تھا آپ سب پر۔ ایک ظلم کو جھیلنے کا دکھ تو ہے ہی سب کو مگراس سے بڑا دکھ شاید مان ٹوٹنے کا ہے۔ کچھ کریں ناُ کریں، موقعہ ملے تو یہ ضرور پوچھیے گا اپنے بڑوں سے اور کچھ ساتھیوں سے کہ گولی کیوں چلائی اللہ کی فوج نے اللہ کے پر امن اور نہتے بندوں پر !

Jibran Ilyas

45,518 просмотров • 8 месяцев назад

🚨🚨 مریم نواز صاحبہ، یہ ایک عورت پر تشدد کا واقعہ ہے۔ اس کی انکوائری کروائیں۔ شفقت عباسی پی ٹی آئی کا ایم این اے ہے اور ایک بدمعاش کی مدد کے لیے آگیا ہے۔ میں نے میانوالی سے پتا کیا ہے کہ مرسلین خان ایک بدمعاش غنڈا ہے۔ وہ اور اس کا بیٹا اپنی بہو کو مار رہے تھے اسے گھر میں بند کر رکھا تھا ۔ اس نے 15 پر کال کی تو پولیس فوری آئی اور انہیں نے مزاحمت کی پولیس پر حملہ کیا جس پر اسے تھانے لے گے تھانے میں اس نے اپنے کپڑے اتار کر شرمگاہ پکڑی اور پولیس سے کہا: میرا یہ دیکھو، تم نے ہمارے گھر کے معاملے میں مداخلت کیوں کی؟ پھر گالی گلوچ شروع کر دی۔ جھگڑا ہوا تو تھانیدار نے پکڑ کر اس کی مونچھیں مونڈ دیں۔ یہ تھانے کی ویڈیو ہے، اس کی گالی گلوچ سنیں۔ مرسلین کا قبیلہ اور برادری میانوالی میں طاقتور ہے، اس لیے سب اس کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ ڈی ایس پی نے ایس ایچ او کو معطل کر دیا اور وہ مظلوم عورت جس پر تشدد ہوا، اس کی جان خطرے میں ہے۔ یہ ہے پنجاب میں عورت کی اوقات۔

RAShahzaddk

14,220 просмотров • 2 месяцев назад