Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

سرگودھا سے چنیوٹ کی طرف چلنے والی الیکٹرک بس کے عملے کی اعلیٰ اخلاقیات، معذور خاتون بس میں سفر کرنا چاہتی تھی لیکن چل نہیں سکتی تھی، ڈرائیور بس روک کر خود نیچے اترا اور عملے کی مدد سے خاتون کو سوار کیا اور منزل پر پہنچا کر اسی...

15,853 views • 1 year ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

کوئی ریگولیٹری اتھارٹی نہیں رہی ہمارے ملک میں ، ایک دوست نے ابھی بتایا ہے کہ پچھلے 24 گھنٹوں سے فیصل موورز نے اسلام آباد سے کراچی جانے والی سواریوں کو ذلیل کر رکھا ہے۔ 15 اپریل کی رات 11 بج کر 20 منٹ پر 26 نمبر ٹرمینل سے فیصل موورز کی سلیپر بس کراچی کے لیے روانہ ہوئی، تقریبا رات 1 بج کر 30 کے آس پاس گاڑی سالٹ رینج پہنچی تو اچانک بند ہو گئی اور گاڑی میں شدید جلنے کی بدبو پھیل گئی اور دھواں آنے لگا جس پر بس موجود عورتوں، بچوں سمیت دیگر سواریوں کو شدید مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ اب وہ بس آگے چلنے سے قاصر تھی تو پھر اسلام آباد ٹرمینل سے دوسری بس منگوائی گئی اور وہ خالی بس ڈیڑھ گھنٹے کا سفر 4 گھنٹے میں طے کر کے سالٹ رینج پہنچی، تاہم وہاں سے آگے کا سفر اس بس پر شروع کیا۔ شام کے تقریبا 5 بجے فیصل موورز کی اس بس نے روھڑی انٹرچینج جیسے ہی کراس کیا تو وہ بھی اچانک بند ہو گئی اور رات کے 10 بج رہے ہیں اور پچھلے 5 گھنٹوں سے لوگ یہاں پر بچوں عورتوں کے ساتھ ذلیل اور خوار ہو رہے ہیں اور ابھی تک فیصل موورز کی انتظامیہ جن کو متعدد بار فون پر شکایات بھی درج کرائی جا چکی ہیں مگر یہ بیغیرت انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہو رہی اور نہ ہی یہاں پر موٹروے پولیس یا کوئی لوکل پولیس سواریوں کی مدد کر رہی ہے موٹوے پولیس والے آئے انھوں نے کہا کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے یہ آپ کا اور فیصل موورز کا معاملہ ہے۔

Siddique Jan

117,290 views • 5 months ago

میرے کزن سرفراز پڑھتے تھے یو ای ٹی تو میں ان کے پاس illegal رہتا تھا تب مجھے UET اور انجئنرز کے ساتھ گپ شپ اور ان کے شب و روز دیکھنے کا موقعہ ملا انجئنرز ویسے زندہ دل لوگ تھے امتحان میں سپلی کی کبھی پرواہ نہیں کرتے تھے ساری رات جاگتے تھے دن کو سوتے تھے یونیورسٹی کی کلاس کوئی کوئی لیتا تھا شام کو جب بس کا روٹ انار کلی مال روڈ پر جاتا تھا تو کوئین میری کالج کو دیکھنے کے لیے سب بس کی چھت پر سفر کرتے تھے اندر سے بس خالی ہوتی تھی یونیورسٹی کے پیچھے گھوڑے شاہ سے وی سی آر کراے پر لیکر آتے تھے میں چھوٹا تھا مجھے نکال دیتے تھے کمرے سے مگر رات کو جس کمرے کے باہر بہت سے جوتے پڑے ہوتے تھے اور کوئی آواز نہیں آ رہی ہوتی تو پتہ چل جاتا تھا کہ کون سی فلم چل رہی ہوسٹلوں کی کنٹین ساری رات آباد رہتی تھی پراٹھے انکی مرغوب غذا تھی استیشن سے 12 نمبر وین یو ای ٹی آتی تھی جس میں کبھی سیٹ نہیں ملتی تھی ہمیشہ جھک کر منہ ڈرائیور سائیڈ کو کرنا پڑتا تھا

KHURRAM

304,204 views • 2 years ago