Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

سرگودھا میں منتہا کیس سے جڑا حنیف کریانہ سٹور ختم۔ آگے دیوار بنا کر بند کردیا گیا لیکن کیس سے جڑے سوالات باقی ہیں۔۔ کیا باقی افراد گھناونے جرم میں ملوث ہیں؟ اگر نہیں تو انہوں نے بچی کے دکان سے چلے جانے کا جھوٹ کیوں بولا تھا؟ اگر...

45,570 просмотров • 2 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

چونکہ پشاور جلسہ عمران خان کی خصوصی کال اور ہدایت پر منعقد ہوا اور جاری فاشزم کے خلاف تھا جس کا سب سے بڑا وکٹم عمران خان خود ہیں، تو اس جلسے میں علیمہ خان کو بطور انکی فیملی باقاعدہ دعوت دے کر اسٹیج پر بلایا جانا چاہیے تھا، ان سے درخواست کی جاتی کہ انہوں نے اڑھائی سال میں اپنے بھائی کے ساتھ پیش آنے والے معاملات دیکھے ہیں، ان سے ملاقاتیں کی ہیں انکی حالت ملاحظہ کی ہے انکی صحت کو ملاحظہ کیا ہے انکے ارادوں کی مضبوطی کو دیکھا ہے انکے پیغامات عوام تک unfiltered پہنچائے ہیں، وہ اپنے یہ تجربات، یہ سب کچھ سٹیج سے عوام کے ساتھ دوبارہ شیئر کریں، عمران خان کے پیغامات کا خلاصہ، نظریے اور سوچ کا خلاصہ، انکے ارادے اور لائحہ عمل لوگوں کو بتائیں۔ یوں جلسے کا اصل مقصد پورا ہوسکتا تھا۔ اس سے جلسے کا مومینٹم ہی کچھ اور ہوتا۔ لوگوں کے جذبات بھرپور ہوتے، خیالات میں مزید حدت پیدا ہوتی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ یا ہونے نہیں دیا گیا۔ حالانکہ جلسے میں شامل ہونے والے کئی درجن اور بھانت بھانت کے تمام رہنماؤں سے زیادہ عوام عمران خان کی بہنوں کو عزت اور احترام دے رہے تھے، انکی طرف متوجہ تھے، ان سے عقیدت اور جذباتی لگاؤ کا اظہار کررہے تھے، جیسے وہ عمران خان کیلیے کرتے ہیں۔ باقی کسی بھی پارٹی رہنما کو تو عوام اب کچھ سمجھتے ہی نہیں، رہنماؤں سے اُکتا چکے ہیں۔ نجانے کیوں علیمہ خان کو سٹیج پر نہ بلا کر یہ اہم ترین موقع ضائع کیا گیا، اور جلسے کو ایک لایعنی اور وقت کے ضیاع جیسی ایکٹویٹی بنا کر رکھ دیا گیا۔ انتظامات میں دیگر خرابیاں اور کوتاہیاں اسکے علاؤہ تھیں، اب رب جانے کہ یہ سب دانستہ تھا یا غیر دانستہ ہوا ہے۔

Obaid Bhatti

42,678 просмотров • 11 месяцев назад

لامین یامال کی درد ناک کہانی!؟ صحافی نے لامین یامال سے پوچھا کہ صرف 18 سال کی عمر میں اسپین کی ٹیم کا دباؤ وہ کیسے سنبھالتے ہیں؟ لامین یامال نے جواب دیا: "میری والدہ نے مجھے صرف 16 سال کی عمر میں جنم دیا، وہ اصل دباؤ تھا۔ میرے والد پیٹ پالنے کے لیے سڑکوں سے چیزیں چنتے تھے، وہ دباؤ تھا۔ مجھے تو صرف فٹبال کھیلنی ہے۔" یہ جواب ان کی پوری زندگی کی کہانی بیان کرتا ہے، جس کے پیچھے ایک جذباتی ماضی چھپا ہے لامین کی پیدائش سے پہلے ان کے والدین کرایہ نہ دے سکے۔ دو پڑوسیوں، لامین اور یامال نے ان کی مدد کی۔ والد نے عہد کیا کہ بیٹے کا نام انہی محسنوں پر رکھیں گے۔ یہ نام ایک ایسے قرض کا ریکارڈ ہے جسے خاندان کبھی پیسوں سے ادا نہیں کر سکا۔ والدین کی علیحدگی کے بعد والدہ نے فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں کام کر کے انہیں پالا۔ اسی نوکری کے دوران ان کی ملاقات "CF La Torreta" کلب کے کوآرڈینیٹر سے ہوئی، جنہوں نے لامین کی صلاحیت دیکھ کر فیس معاف کر دی۔ لامین نے بچپن میں والدین سے کہا تھا: "اگر میں عام نوکری کروں گا تو ہم مشکل میں رہیں گے، لیکن فٹبالر بن گیا تو آپ کو زندگی بھر فکر نہیں کرنی پڑے گی۔" انہوں نے صرف 15 سال کی عمر میں یہ وعدہ سچا کر دکھایا۔ لامین ہر گول کے بعد وہ انگلیوں سے 304 بناتے ہیں۔ یہ ان کے غریب محلے "روکافونڈا" کا پوسٹل کوڈ ہے، جہاں ان اجنبی پڑوسیوں نے ان کے خاندان کی مدد کی تھی۔آج، 19 سال کی عمر میں وہ دنیا کے سب سے بڑے فٹبال اسٹیج پر کھیل رہے ہیں۔ آج رات اگر وہ گول کرتے ہیں، تو اربوں اسکرینوں پر 304 کا اشارہ چمکے گا اور ان دو پڑوسیوں کے احسان کی گونج پوری دنیا سنے گی۔

ZEShan ⚫

37,444 просмотров • 1 месяц назад

میں ایک صحافی ہونے کے ناطے چند گزارشات رکھنا چاہتی ہوں۔ آپ سب اس تحریر کو پڑھ کر اپنی رائے ضرور دیں میری تمام ویڈیوز اور تصاویر میں میں نے ہمیشہ حجاب اور شلوار قمیض پہنی ہے، کبھی بھی غیر مہذب لباس استعمال نہیں کیا۔ پھر بھی کچھ لوگوں کو مجھ سے اعتراض ہے تو میں ان سے سوال کرتی ہوں: کیا یہی لباس آپ کی بہن یا بیٹی نہیں پہنتی؟ اگر وہ بھی شلوار قمیض ہی پہنتی ہیں تو پھر میرا قصور کیا ہے؟ یہ حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ بڑے نیک اور مولوی بننے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن حقیقت ان کے رویے اور کمنٹس میں نظر آ جاتی ہے۔ میں صرف اتنا کہتی ہوں کہ دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے خود کو بھی دیکھ لینا چاہیے۔ جہاں تک یہ بات ہے کہ میں فیک ہوں یا ریئل، تو ان شاءاللہ میں اپنا ثبوت ضرور دوں گی کہ میں ایک لڑکی ہوں۔ لیکن جنہوں نے مجھے فیک کہا، اگر میں نے اپنی سچائی ثابت کر دی تو کیا ان پر بھی کوئی جرمانہ ہوگا؟ یہ سوال باقی سب کے لیے چھوڑتی ہوں۔ تحریر: نادیہ ملک، صحافی

Nadia Malik

67,265 просмотров • 9 месяцев назад

بلوچ سر زمین پر بلوچ نسل کشی ہر ریاستی پالیسی میں عیاں ہے۔ زہری میں عام عوام کی زندگی اجیرن کردی گئی ہے، گزشتہ 4 دنوں میں محض شہر سے 12 شہریوں کو جبری گمشدہ کیا گیا ہے جبکہ دور دراز علاقوں سے کئی افراد اٹھائے گئے ہیں جن کا ڈیٹا تا حال مکمل نہیں مل سکا۔ آپریشن کے دوران ایک 16 سالہ نوجوان کو گولیاں مار کر شہید کردیا گیا۔ کل سے لواحقین نے شا ہ راہ کو دو جگہوں “زہری کراس” ، اور سوراب زیروں پوائنٹ کے مقام پر بندھ کیا تھا۔ جسکے بعد دھرنے کو ایک جگہہ منظم کرنے کے لیے لواحقیں نے زہری کراس سے لیکر سوراب تک پیدل مارچ کیا، ٹھٹھرتی سردی میں پچھلے 24 گھنٹوں سے لواحقین سڑک پر بیٹھ کر انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں، دوسری جانب سڑک بند ہونے کی وجہ سے مسافر بھی ازیت کا شکار ہے، مگر نسل کش ریاست کے لیے یہ انسان نہیں، جسمانی ازیت سے لیکر زہنی ازیت تک ہر بلوچ ریاستی بلوچ نسل کش پالیسیوں کی وجہ سے متاثر ہے۔ آج دھرنے کا دوسرا دن ہے اور سوراب میں نیٹورک مکمل بند کی گئی ہے #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide

Sabiha Baloch

11,336 просмотров • 1 год назад

پہلے زمانے میں والدین اپنی بیٹیوں کو بیچ دیتے تھے تو ایک ہی بار رقم ملتی تھی، رقم ختم ہوئی تو معاملہ بھی ختم۔ اب اس کا ایک نیا طریقہ آ گیا ہے: بچوں کو بچپن سے ہی TikTok کے لیے تیار کیا جاتا ہے تاکہ بڑے ہوتے ہوتے وہ مستقل کمائی کا ذریعہ بن جائیں۔ اس بچی کو یہ تک نہیں معلوم کہ لائک کیا ہے، گفٹ کیا ہے، گانا کیا ہے یا ویڈیو کیوں بنائی جا رہی ہے۔ اسے بس موومنٹ سکھائی جا رہی ہے کہ یہ کرو، ایسے کرو، تاکہ کل یہ ہمارے لیے کمائی کا ذریعہ بنے۔ اور اس میں بچوں سے زیادہ والدین شریک ہیں۔ جو لڑکے لڑکیاں کم عمری میں TikTok پر لائیو آتے ہیں یا ایسی ویڈیوز بناتے ہیں، ان کے پیچھے اکثر والدین کی رضامندی اور حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ بچے نہ خود اتنے سمجھدار ہوتے ہیں کہ یہ سب فیصلہ کر سکیں، نہ اپنی مرضی سے موبائل اور یہ سب سہولیات خرید سکتے ہیں۔ انہیں اس وقت تک کوئی نہیں پوچھتا جب تک وہ مشہور ہو کر کمائی کا ذریعہ نہ بن جائیں۔

its me میٹھو

24,809 просмотров • 4 дней назад

مخصوص خفیہ ایجنسی اورسی ٹی ڈی پر مشتعمل درجنوں اسلحہ بردار افراد نے مجھے اسلام آباد میں اپنے گھر سے گزشتہ جمعہ کی رات کو 12:10 منٹ پر اغوا کیا تھا۔ میں اپنے والدین کا ایک ہی بیٹا ہوں۔ اغوا کے لئے خفیہ ایجنسی کی کالی ویگو، سی ٹی ڈی کے دو ڈالے اور ایک ٹویوٹا فیلڈر گاڑی کو استعمال کیا گیا۔ گاڑی میں بٹھاتے ساتھ ہی میری آنکھوں پر پٹی اور کالا کپڑا باندھ دیا گیا تھا۔ متعلقہ جگہ پر پہنچے تو مجھ سے کہا گیا کہ آپ ہم سے تعاون کریں اور ہم آپ سے۔ وہ سوالات پوچھتے گئے کہ آپ نو مئی کو کہاں تھے وغیرہ وغیرہ اور میں جوابات دیتا گیا۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ ایک وڈیو بناؤ جس میں بتاؤ کہ میں احتجاج اور سوشل میڈیا پر ریاست پاکستان کے خلاف جو بھی کمپین کرتا ہوں اس کا حکم عمران خان اور پارٹی کی سینئر قیادت دیتی ہے اور معافی مانگو۔ میں نے یہ کام کرنے سے انکار کر دیا کہ عمران خان کے خلاف کوئی بیان نہیں دوں گا۔ پھر یہ سنتے ساتھ ہی انہوں نے مجھ پر بدترین تشدد کرنا شروع کر دیا۔ میرے سر اور جسم پر جوتوں، مُکوں اور مختلف اوزاروں سے کئی گھنٹوں تک تشدد کرتے گئے۔ تشدد کے نشانات ابھی تک میرے جسم پر موجود ہیں ہیں اور تصاویر بھی ریکارڈ کا حصہ بن گئی ہیں۔ میں عمران خان اور پارٹی کے خلاف بیان کے لئے نہیں مانا اور نا ہی وڈیو بنوائی۔ بدترین تشدد کے بعد جب میری حالت بے زار ہوگئی تو انہوں نے مجھے پانی پِلایا اور کہا کہ ہم آپ کو چھوڑنے لگے ہیں اور مجھے امادہ کیا گیا کہ میں اپنے اغوا کی تفصیلات کسی کو نہیں بتاؤں گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ میری اتنی جلدی رہائی جسٹس محسن اختر کیانی کی وجہ سے ہوئی۔ اگر مجھے رہا نا کیا جاتا تو میرے والدین ہائی کورٹ میں پیٹیشن دائر کرتے جس کے لئے میں نے پہلے سے ہی ایک بیان حلفی لِکھ کر اپنے دوست کو دیا ہوا ہے جس میں لکھا ہوا ہے کہ مجھے اغوا کر کے غائب کر دیا جائے تو ذمہ داران کے نام لکھے ہوئے ہیں جس کا ڈائرکٹ الزام خفیہ اداروں پر جاتا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی جس طرح سے احمد فرحاد کا کیس چلا رہے ہیں اس سے حساس اداروں پر سخت ترین دباؤ ہے۔ میرا موبائل فون آج دن تک واپس نہیں کیا گیا جس میں میری ذاتی زندگی کی بہت معلومات ہیں۔ نا تو میں بلیک میل ہوں گا اور نا ہی میں کبھی عمران خان اور اپنی پارٹی کی خلاف جاؤں گا بے شک مجھے قتل کر دیا جائے۔ میں اپنے خون کے آخری قطرے تک عمران خان کا وفادار رہوں گا، انشاءاللہ۔ اس کے علاوہ میں تمام پی ٹی آئی ورکرز، سوشل میڈیا وارئرز اور دوستوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے وقت ضائع کئے بغیر میری رہائی کے لئے آواز اٹھائی اور دعایئں کی۔ میں ساری زندگی آپ لوگوں کا احسان مند رہوں گا۔ PTI

Wajahat Sami

666,190 просмотров • 2 лет назад