Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

سمی دین بلوچ کو کراچی ایئرپورٹ پر مسلسل 4 گھنٹے تک ہراساں کیا گیا، اسد بلوچ #Balochistan #Quetta

29,490 Aufrufe • vor 2 Jahren •via X (Twitter)

9 Kommentare

Profilbild von Rehan khan
Rehan khanvor 2 Jahren

بلوچستان پاکستان کا حصہ تھا بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے بلوچستان پاکستان کا حصہ رہے گا انشاءاللہ ✌️ جن بلوچوں کو پاکستان پسند نہیں وہ بحیرہ عرب میں چھلانگ لگا دیں یا انڈیا چلے جائیں ان ہندوؤں کے پاس جن سے پیسے لے کر دہشت گردی کرتے ہیں... تیسرا آپشن کوئی نہیں👍 پاکستان زندہ باد 🇵🇰

Profilbild von Farhat Hussain
Farhat Hussainvor 2 Jahren

لوڑا ھراساں کیا گیا

Profilbild von Wahid
Wahidvor 2 Jahren

اس کے خلاف 3 مقدمات ہیں۔ بلوچستان حکومت نے اس کا نام ECL میں ڈالا ہے ۔ اس لیے بھاگنے نہیں دیا جائے گا

Profilbild von Muneeb Anwar
Muneeb Anwarvor 2 Jahren

Usba khud videos ma kaha hai wo khud bethe hui thi

Profilbild von Shikari
Shikarivor 2 Jahren

Too much aggression for cancellation of meeting with foreign investors😁😁lagta hy dollars ki bari amount hath sa nikal gae

Profilbild von Aqib Rehan
Aqib Rehanvor 2 Jahren

Paise khane wale bolaen gae

Profilbild von Aqib Rehan
Aqib Rehanvor 2 Jahren

Sami Deen nae road block kr kr pathar marre ue wkt Khan thy Tum

Profilbild von raja Zafran
raja Zafranvor 2 Jahren

Mascat kaya karnay jaa rha hai tha ??? Hindu say phudi marwanay ????

Profilbild von M.H.Baloch
M.H.Balochvor 2 Jahren

تم بھی دلال ہو۔ تمھارے ناپاک زبان سے سمی کا نام اچھا نہیں لگتا

Ähnliche Videos

آج ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی جبری گمشدگی کو سولہ سال مکمل ہو چکے ہیں۔ ڈاکٹر دین محمد بلوچ ایک معالج، ایک باشعور انسان، اور ایک متحرک بلوچ سیاسی رہنما ہے۔ ان کی جبری گمشدگی کے خلاف ان کی بیٹی، سمی دین، گزشتہ سولہ برسوں سے مسلسل جدوجہد کر رہی ہیں۔ میرے نزدیک ان سولہ برسوں میں صرف ڈاکٹر دین محمد ہی لاپتہ نہیں رہے، بلکہ انصاف بھی لاپتہ رہا۔ یہاں عدلیہ خاموش رہی، سچ کی آواز دبا دی گئی، حق چھین لیا گیا، اور انصاف کے تمام تقاضے مسلسل پامال ہوتے رہے۔ آپ سمی دین کو محض ایک فرد یا ایک بیٹی سمجھتے ہوں گے، لیکن میرے نزدیک ان کی جدوجہد پورے ریاستی نظام پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ: کیا سمی دین نے ان سولہ سالوں میں پاکستان کے کسی ادارے سے انصاف نہیں مانگا؟ انہوں نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا، عدالتوں سے لے کر تحقیقاتی کمیشنز، پارلیمانی کمیٹیوں سے لے کر دیگر تمام اداروں تک لیکن ہر جگہ سے صرف جھوٹ، تاخیر اور مایوسی ملی۔ ان سولہ برسوں میں جتنی حکومتیں آئیں، وہ سب انصاف مہیا کرنے میں ناکام رہیں۔ جتنی عدالتیں اور جتنے بینچ بنے، سب نے ان کی فریاد کو نظرانداز کیا۔ سمی کی جدوجہد صرف انفرادی نہیں، بلکہ ایک اجتماعی علامت ہے—ہر اس بلوچ خاتون کی کہانی جو انصاف کی تلاش میں ریاستی در و دیوار سے ٹکرا رہی ہے۔ یہ کہانی ہم سب کی کہانی ہے، اور یہ درد ہم سب کا مشترکہ درد ہے۔ ذرا ان بلوچ بیٹیوں کے بارے میں سوچیے جو بولنے کی طاقت نہیں رکھتیں، جن کے پاس کوئی سہارا نہیں، جو آگے بڑھنے سے قاصر ہیں۔ سمی کی جدوجہد نے ان تمام خاموش کہانیوں کو منظرِ عام پر لا کھڑا کیا ہے۔ اور اس دوران خود سمی کو بارہا ہراساں کیا گیا، گرفتار کیا گیا، جیلوں میں ڈالا گیا، اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ لیکن میں سمجھتی ہوں وہ سمی نہیں تھی جو تشدد کا نشانہ بنی، وہ سچ اور حق کا بیانیہ تھا جسے توڑنے کی ہر کوشش کی گئی۔ آج جب ہم جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں، تو ہمارے ساتھیوں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، شاہ جی بلوچ، بیبرگ بلوچ، بیبو بلوچ ،گلزادی بلوچ اور دیگر ساتھیوں کو جیل کیا گیا ہے، انہیں دھمکایا جارہا ہے ڈرایا جارہا ہیں، میں بھی آج لواحقین کے ساتھ کھڑی ہوں تو میرے والد کو بھی جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تاکہ ہم خاموش رہے تاکہ اس مسئلے سے توجہ ہٹائی جاسکے۔ ہم آپ سے اپیل کرتے ہیں کہ اس جدوجہد میں تمام متاثرین کا ساتھ دیں، کیونکہ یہ صرف سمی دین کی لڑائی نہیں، یہ ہم سب کی لڑائی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ: •ڈاکٹر دین محمد بلوچ سمیت تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے •بلوچ یکجہتی کمیٹی کے گرفتار رہنماؤں کو رہا کیا جائے •اور میرے والد کو فی الفور بازیاب کیا جائے #ReleaseDrDeenMohammad

Sabiha Baloch

16,239 Aufrufe • vor 1 Jahr