正在加载视频...

视频加载失败

سنتا جا، شرماتا جا! ایک ایسی ویڈیو جو آپ کے اندر سوال بھی پیدا کرے گی اور خون بھی گرمائے گی۔ اس ویڈیو میں دیکھیں گے کہ عوام کے دلوں میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اتنا شدید غصہ آخر کیوں پیدا ہوا۔ عمران خان کے ساتھ ہونے والا سلوک،...

19,531 次观看 • 21 天前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

ہم جس حال میں خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہے ہیں، کوئی ہمیں حکومت کرنے کے لیے چھوڑ بھی نہیں رہا . صوبے کے چیف منسٹر کو اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرنے دیا جا رہا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کو نہیں روکا جا سکتا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کی جا سکتی ہے۔ عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور ایک منتخب چیف منسٹر اس سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ کیا پاکستان کسی ضابطے اور اصول پر چلتا ہے نہیں، یہ صرف ڈھنڈے سے چلتا ہے۔ ظلم اور ڈھنڈے کا یہ نظام ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے۔ اس ملک میں اگر ہم نے رہنا ہے تو قانون اور آئین کے تحت رہنا ہے۔ یہ جو ظلم ہو رہا ہے، یہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں ہو رہا، عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عوام سے ان کے ووٹ کا حق چھینا گیا، یہ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا ہے کہ ہم نے کس کو ووٹ دینا ہے۔ ووٹ ڈالنے والے سے ووٹ گننے والا اہم ہے۔ اگر کسی ممبر عوامی نمائندے کو معلوم ہو کہ اس کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں، تو کیا وہ آپ کی بات مانے گا۔ عوام کے پاس ووٹ کا حق ہے تو آپ کا نمائندہ آپ کی قدر کرتا ہے۔ ابھی جو ہری پور ضمنی انتخابات میں ہوا ہے، ووٹ کسی اور کو پڑا اور رکن کوئی بن گیا۔ فارم 45 کے مطابق سب کچھ ٹھیک ہے، لیکن کمپیوٹر پر بیٹھا آدمی اپنی مرضی کا ڈیٹا فیڈ کر رہا ہے۔ کس قسم کی عدالت، کس قسم کی الیکشن کمیشن، عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کیا گیا ۔

Asad Qaiser

16,009 次观看 • 8 个月前

عمران خان کے علاج سے متعلق تین ججز کے فیصلے کو حکومت اور انتظامیہ نے ردی کی ٹوکری پھینک کر ججز کے منہ پر طمانچہ مارا ہے، ایک دفعہ پھر اس ملک کے " ان ٹچیبل" نے ثابت کیا کہ وہ آئین و قانون سے بالاتر ہیں، ہمارے خلاف عدالت ، ایف آئی اے یا کوئی اور ادارہ حکم دیتا ہے تو ایک گھنٹے میں اس پر عملدرآمد ہو جاتا ہے ، پندرہ منٹ میں پولیس پہنچ جاتی ہے، عمران خان کے علاج کے لیے عدالتوں نے دو دنوں کا وقت دیا مگر جو خود کو آئین و قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں، فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا، اگر عدالتیں ان " ان ٹچیبل" کو کٹہرے میں نہیں لا سکتیں تو انہیں مظلوموں کو بھی سزا سنانے کا کوئی حق نہیں، اگر ظالموں اور طاقتوروں کو سزائیں نہیں سنائی جا سکتی تو عدلیہ سے گزارش ہے کہ جن کمزور لوگوں کو قید کیا ہے انہیں بھی آزاد کر دیں, یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک ملک میں کمزور کے لیے ایک قانون ہو اور طاقتور کے لیے دوسرا قانون ہو, عمران خان نے حقیقی آزادی کی جو جد و جہد شروع کی ہے اسکا مقصد کمزور اور طاقتور کے لیے ایک قانون ہے, عدالتوں کو سوچنا ہوگا کہ یہ ملک کو کس طرف لے جا رہے ہیں، کسان پریشان ہے ، صنعتکار سرمایہ ملک سے باہر منتقل کر رہا ہے, اگر انکا فیصلہ ہے کہ انہوں نے طاقتور کو بچانا ہے تو ہم اس فیصلے سے باغی ہیں, نوجوانوں نے ملک کا فیصلہ کرنا ہے ، انہیں اپنے مستقبل کے لیے کھڑا ہونا ہے, پی ٹی آئی خواتین پر ظلم و جبر کیا جا رہا ہے ، عمران خان کی بہنوں کی بے توقیری کی گئی،اب ان کے پاس عورت کارڈ کا پتا بھی ختم ہو گیا, عمران خان سے ہم جنون کی حد تک عشق کرتے ہیں، ہم خان کی بہن کے ایک ایک آنسو کی قیمت چکائیں گے، 27 تاریخ کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ ہوگا ، اب20 نہیں 40 لاکھ لوگ لے کر جائیں گے، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کا ہنگو میں ابوبکر صدیق چوک میں اسٹریٹ موومنٹ شرکاء سے خطاب!

Tehreek-e-Insaf

41,935 次观看 • 21 天前

اس وقت پاکستان میں طاقت حق بن چکی ہے، اور ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے کہ جس کی لاٹھی، اس کی بھینس۔ طاقتور اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے وہی ہو رہا ہے۔ جج خود فیصلے نہیں لکھ رہے، فیصلے لکھوائے جا رہے ہیں، ڈکٹیٹ ہو رہے ہیں، اور عدلیہ اپنی ساکھ اور استقلال کھو چکی ہے۔ پارلیمنٹ کے ذریعے عوام پر ظلم ہو رہا ہے، عدلیہ کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے، پولیس کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے۔ بے گناہوں کو قتل کیا جا رہا ہے، مبینہ پولیس مقابلے ہو رہے ہیں، اور یہ سب کچھ واضح طور پر اخبارات میں آ رہا ہے۔ پاکستان کے عوام بھی غیر متعلق کر دیے گئے ہیں، اور پاکستان کی پارلیمنٹ بھی غیر متعلق ہو چکی ہے۔ اب کوئی چیز اپنی جگہ پر باقی نہیں رہی۔ پاکستان میں جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ کھنڈر ہیں۔ عدلیہ کی جو عمارتیں ہمیں پیچھے نظر آتی ہیں، وہ بھی اس وقت کھنڈر بن چکی ہیں۔ یہاں عادل نہیں ملتا، یہاں عدل و انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر پاکستان کے عوام کے حق میں قانون سازی نہیں ہوتی، بلکہ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ پولیس کیا کر رہی ہے، عدالتیں کیا کر رہی ہیں، بیوروکریسی کیا کر رہی ہے—سب آپ کے سامنے ہے۔ ایک طرف پاکستان کی ریاست اور اس کی سالمیت پر یلغار ہے، اور دوسری طرف بدترین مہنگائی ہے۔ پھر ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جن سے عوام کو مزید تکلیف پہنچے۔ عمران خان صاحب کے ساتھ اس وقت پاکستان کے عوام کی نوّے فیصد اکثریت کھڑی ہے۔ جو بھی آج ان کا مخالف ہے، وہ دراصل انتہاکت واروں کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم سب ایک ہیں، اسی لیے ان کی پوری کوشش ہے کہ ہمیں مایوس کریں، ناامید کریں، اور لوگوں سے کہیں کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن حقیقت میں یہ ان کی بزدلی اور پریشانی کی علامت ہے۔ یہ لوگ ہار چکے ہیں، اور جو اپنے عوام سے لڑتے ہیں وہ کبھی جیت نہیں سکتے۔ پاکستان کے نظام پر عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، اور اس وقت پاکستان عوام کے بغیر چلایا جا رہا ہے۔ یہ لوگ دنیا میں جا کر جو فیصلے اور معاہدے کر رہے ہیں، ان کی دو ٹکے کی حیثیت بھی نہیں۔ پاکستان کے عوام انہیں قبول نہیں کرتے۔ ہم آج ہونے والے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ قابلِ مذمت ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جس طرح کے ٹرائل ہو رہے ہیں، جس طرح کی صورتحال بنائی جا رہی ہے—جنوری سے عمران خان صاحب کے کیسز ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہیں، ان کی سماعت نہیں ہو رہی۔ یہ پک اینڈ چوز کی صورتحال ہے، اپنی مرضی کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے فیصلے انہیں بچا لیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ استثنا لینے کے باوجود ان کا خوف ختم نہیں ہو رہا۔ ڈر کے سائے میں ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ خدا نہ کرے کسی ملک پر بزدل، حقیر اور چھوٹے لوگ مسلط ہو جائیں۔ یہ لوگ پست ترین سطح پر جا کر مخالفت کرتے ہیں۔ ہم خداوندِ عبدالمطلب کے بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ان ظالموں، بونوں اور حقیر لوگوں سے نجات عطا فرمائے۔ یہاں آئین کی بالادستی ہو، قانون کی حکمرانی ہو، اور پاکستان کے عوام کو انصاف اور ان کا حق ملے۔

Senator Allama Raja Nasir

29,309 次观看 • 8 个月前

بنوں میں امن کی آواز اٹھانے والے پر امن لوگوں پر سیکورٹی فورسز کی فائرنگ ناقابلِ یقین اور افسوسناک عمل ہے پتا نہیں طاقتور حلقے ملک کو کس طرف لے جانا چاہتے ہیں، آپریشنز اور جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہیں یہ مسئلوں کا حل کیا دیں گے، عمران خان نے بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخواہ اور قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشنز کی ہمیشہ سے مخالفت کی ہے اور معاملات کے سیاسی حل اور بات چیت کے حامی رہے ہیں، عمران خان نے 9/11 کے بعد امریکہ کے افغانستان پر حملے کی سی این این پر تب مخالفت کی تھی جب جنرل مشرف سمیت پوری دنیا امریکہ کے آگے لیٹ گئی تھی، 'وار آن ٹیرر' کے نام پر اس جنگ سے پاکستان کی اکانومی کو تقریباً 100 بلین ڈالر کا نقصان ہوا ایک لاکھ سے زیادہ شہادتیں ہوئیں اور امریکہ نے کھربوں ڈالرز گنوا کر 20 سال بعد پھر وہی کام کیا جو عمران خان نے بتایا تھا یعنی مذاکرات کر کے امریکہ اور نیٹو افغانستان سے نکلے۔ عمران خان کی اسی پالیسی کیوجہ سے خیبرپختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کی گزشتہ حکومت میں دہشت گردی کا تقریباً خاتمہ ممکن ہوا جس میں خیبرپختونخواہ حکومت کو عوام کا تعاون حاصل تھا، عوام کے تعاون کے بغیر کہیں بھی امن و امان قائم نہیں کیا جا سکتا ہے، فارم 47 کی وفاقی حکومت اور اس کے ھینڈلرز کو نہ ہی عوام کی حمایت حاصل ہے اور نہ انہیں آپریشنز اور جنگ کی تباہ کاریوں کا احساس ہے کیونکہ ان تمام لوگوں کے کاروبار اور جائیدادیں ملک سے باہر پڑی ہوئی ہیں اور استحکام کے نام پر آپریشن اور تباہی پھیلا کر ڈالرز جمع کر کے یہ سب ملک سے باہر بھاگ جائیں گے اور عوام دربدر ہو جائے گی اسی وجہ سے عمران خان نے جیل سے اس مرتبہ بھی خیبرپختونخواہ میں کسی بھی قسم کے آپریشن اور طاقت کے استعمال کی مخالفت کی ہے اور ملک کی 95 فیصد عوام کو عمران خان پر اعتماد ہے۔ #BannuBleed #BannuAmanMarch #UndeclaredMartialLaw

Qasim Khan Suri

28,531 次观看 • 2 年前