Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

سندھ سالڈ ویسٹ بورڈ کا بجٹ 43 ارب، مگر کراچی سے کچرا نہیں اٹھتا، واٹر بورڈ کا بجٹ 47 ارب مگر شہر کی سیوریج کی لائنیں تباہ حال ہیں سندھ حکومت اپنے مئیر کو اتنا اختیار تو دے کہ وہ کچرا اٹھا سکے۔

11,847 просмотров • 4 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

یہ کراچی کے میئر ہیں، جو واٹر بورڈ (KWSB) کے چیئرمین بھی ہیں۔ شاہراہ بھٹو سے گزرنے والی گاڑیوں کی گنتی تو انہیں بالکل معلوم ہے، مگر عید سے صرف ایک دن پہلے پورا #کراچی پانی کی ایک بوند کو ترس رہا ہے، اس کی کوئی فکر نہیں نیز کراچی میں پانی کی کمی کا الزام وہ وفاق پر لگا رہے ہیں لیکن یہ بھول گئے کہ 22 سال سے تاخیر کا شکار K-IV پروجیکٹ پر ورلڈ بینک نے جو اعتراض لگا کر کام روک دیا ہے، وہ بھی پیپلز پارٹی کی ہی حکومت کے دور میں شروع کیا گیا augmentation کا کام تھا۔ مگر انہیں جھوٹ بولتے ذرا سی شرم نہیں آرہی۔ شہر کو ضرورت سے 50 فیصد کم پانی میسر ہے اور اس کا بھی آدھا حصہ غیر قانونی ہائیڈرنٹس کے ذریعے چوری ہو جاتا ہے یا ٹینکر مافیا کے پاس چلا جاتا ہے۔ کوئی ان سے پوچھے کہ حکومت کس کی ہے؟ پانی کی چوری کسے روکنی تھی؟ لوگ مجبوراً ٹینکروں سے مہنگا پانی خرید کر گھروں میں بھرواتے ہیں، کیونکہ واٹر بورڈ کی بچھائی گئی پانی کی لائنوں میں سے پچاس فیصد شہر کو ایک قطرہ پانی بھی نہیں ملتا۔ یہ وہی میئر اور واٹر بورڈ چیئرمین ہیں جنہوں نے نہ ٹینکر مافیا کو روکا، نہ اس سادے سے حل پر عمل درآمد کروا سکے کہ: کراچی کی اصل ضرورت 1200 MGD ہے، جبکہ دستیاب پانی صرف 550 MGD ہے۔ اگر پورے شہر میں ایک دن چھوڑ کر (alternate days) منصفانہ طور پر پانی سپلائی کیا جائے تو ہر گھر تک ایک دن چھوڑ کر پانی ضرور پہنچ سکتا ہے۔ مگر ایسا ہوا تو ٹینکر مافیا کا کاروبار ختم ہو جائے گا، اور یہ کون نہیں چاہتا؟ آگے عوام خود سمجھدار ہے۔

Amber Danish

10,412 просмотров • 2 месяцев назад