Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

۔ سنگین الزام، اسحاق ڈار کا نواسہ ملوث نکلا؟ ۔ معاملہ ٹائیں ٹائیں فش، یا CCD فیصلہ سنائے گی؟ ۔ فیلڈ مارشل مقابلہ کپتان۔ برطانوی اخبار نے تہلکہ مچا دیا! ۔ مریم نواز کی آب بیتی نے روتے روتے ہنسا دیا! مکمل ویڈیو لنک:

15,961 Aufrufe • vor 1 Monat •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان بہترین ورکنگ ریلیشن شپ اور کوآرڈینیشن ہے، تاہم ملک کے مستقبل، انتظامی یونٹس، این ایف سی اور وفاق و صوبوں کے اختیارات جیسے معاملات پر اصلاحات زیرِ بحث ہیں۔ محسن نقوی کی تقریر میں نوجوانوں کی مایوسی، خصوصاً ووٹ کے درست استعمال کے احساس، کا ذکر ہے جبکہ رانا ثناء اللہ نے حکومت کا مؤقف پیش کرتے ہوئے الزام تراشی کے بجائے نظام کے اندر ذمہ داری لینے پر زور دیا۔ محسن نقوی ایک کامیاب کاروباری شخصیت، میڈیا سے وابستہ اور اسٹیبلشمنٹ، شہباز شریف، نواز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے قریب ہیں ،فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعیناتی کے وقت وہ بھی متحرک تھے، جبکہ نواز شریف کو قائل کرنے میں مریم نواز کا اہم کردار تھا، اور مقتدرہ آج بھی سمجھتی ہے کہ نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی۔ حکومت گرانے کا کوئی فارمولا موجود نہیں، البتہ این ایف سی، انتظامی یونٹس اور دیگر نامکمل اصلاحاتی ایجنڈوں پر اتفاقِ رائے ہو چکا ہے، جنہیں مناسب وقت پر نافذ کرنے کی تیاری مکمل ہے۔ منیب فاروق

میاں عامر 🦁

36,299 Aufrufe • vor 1 Monat

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ایک 13 سیکنڈ کی شارٹ ویڈیو سوشل میڈیا پر غلط تشریح کے ساتھ وائرل کی جا رہی ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ ان کی چھوٹی بیٹی نے 13 سال کی عمر میں گریجویشن مکمل کی۔ اس دعوے کی حقیقت جاننے کے لیے ہم نے سپریم کورٹ میں قیدیوں سے متعلق ریفارمز کانفرنس میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی تقریباً 15 منٹ کی مکمل تقریر لفظ بہ لفظ سنی۔ تقریر میں انہوں نے دراصل کہا جن الفاظ کی ہو بہو تشریح اس طرح تھی: جیل کی سلاخوں کے پیچھے موجود کسی قیدی کے لیے اپنے پیاروں سے ملاقات محض ایک ملاقات نہیں ہوتی، بلکہ یہ اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی بھی ہوتی ہے کہ ان دیواروں کے باہر زندگی اپنی رفتار سے آگے بڑھتی رہتی ہے۔ “میری چھوٹی بیٹی، جس نے حال ہی میں گریجویشن مکمل کی، وہ 13 سال کی تھی جب جیل میں مجھ سے ملنے آتی تھی اور روتے ہوئے واپس جاتی تھی۔” واضح ہے کہ 13 سال کی عمر کا تعلق بیٹی کے جیل میں ملاقات کے زمانے سے ہے، نہ کہ گریجویشن مکمل کرنے سے۔ مریم نواز شریف یہ واقعہ قیدیوں اور ان کے اہلِ خانہ کو درپیش مشکلات اور قیدیوں کے حقوق کے تناظر میں بیان کر رہی تھیں۔ لیکن ان کی بات کا ایک مختصر حصہ سیاق و سباق سے کاٹ کر اس کا مطلب بدل دیا گیا اور پھر اسے پروپیگنڈے کے طور پر پھیلایا گیا۔ نتیجتاً، یہ دعویٰ کہ مریم نواز نے اپنی بیٹی کی 13 سال کی عمر میں گریجویشن کا دعویٰ کیا، جھوٹ، گمراہ کن اور سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کی گئی معلومات پر مبنی ہے۔

Expose Propaganda

16,252 Aufrufe • vor 1 Monat

🚨🚨 بریکینگ نیوز : وقار ملک کے تہلکہ خیز انکشافات. نواز شریف ڈٹ گیا ہے, وہ ڈٹ گیا ہے بس اب نہیں چھوڑے گا۔🔥🔥🛑 خبر یہ ہے کہ فوج نے جو ری سیٹ پلان دیا ہے۔ نون لیگ نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اسکو ٹکر دیں گے ۔ہم فوج کو ٹکر دیں گے ۔ خبر یہ ہے کہ ن لیگ یہ سمجھ رہی ہے کہ محسن نقوی نے بات کی چلو خیر تھی لیکن جب DGISPR نے بھی وہ ہی بات کردی تو اب اسکا مطلب ہے ہمیں کچھ بولنا پڑے گا ۔ اگر اب ہم نے چوں, چا نا کی تو بہت دیر ہو جائیگی ۔اور ہم ساری زندگی پچھتائیں گے ۔تو میرے پاکستانیوں نواز شریف کیا کرسکتا ہے میں وہ آپکو بتا دیتا ہوں ۔ میں نے اس پر پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے ۔ تو میں نے اس پر ایک پوسٹ بھی کیا ہے ۔ میں نے لکھا ہے کہ ن لیگی صحافیوں کیمطابق نواز شریف ڈٹ گیا ہے, اور ووٹ کو عزت دو والے بیانیے کو سٹور سے نکال کر صاف کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے ۔ آگر جرنیل نا مانیں تو نواز شریف اگلی فلائیٹ سے مزاحمت کرنے لندن چلے جائینگے ۔اور پھر پکے ناراض ہو جائینگے ۔ اور کبھی واپس نہیں آئینگے ۔ تو میری یہ بات یاد رکھیئے گا کہ نواز شریف کی ٹوٹل مزاحمت یہ ہے کہ اگر اس بار حالات نے پلٹا کھایا تو نواز شریف پاکستان میں رہنے کی غلطی نہیں کرینگے. نواز شریف راتوں رات وہ کام کرے گا۔ جو 2017 میں اسحاق ڈار نے بڑی سمجھداری سے کیا تھا ۔اور خاقان عباسی کی جہاز میں لندن پہنچ گیا تھا ۔ اس بار نواز شریف بھی پرائیویٹ جہاز پکڑے گا اور سیدھا لندن چلا جائیگا ۔ پتہ نہیں مریم کو لیکر جائیگا۔ یا ہمیشہ کیطرح چھوڑ جائیگا پیچھے ہی۔ لیکن نواز شریف ٹھہرنے والے بندوں میں سے نہیں ہے ۔ نواز شریف کو جیسے ہی لگتا ہے کہ زمین گرم ہونے والی ہے تو وہ فوراً بھاگنے کی کرتا ہے ۔ تو میرے خیال میں نواز شریف یہی دھمکی لگائے گا۔کہ بھائی میں ناراض ہوکر چلا جاؤں گا ۔ میں روس جاؤنگا ۔ پھر آپ مجھے منانے آتے رہینگے ۔ کیونکہ میں آپکا لاڈلا بچہ ہوں ۔ منانے تو آپ نے پھر آجانا ہے ۔ تو اس بار میں ہکا ناراض ہو جاؤں گا ۔ بس یہ نواز شریف کی ٹوٹل اوقات اور حیثیت ہے ۔اس سے زیادہ نواز شریف کچھ نہیں کرسکتا ۔🔥🔥🚨

Anisha KHAN

45,318 Aufrufe • vor 29 Tagen

کیا رضا ڈار پی ٹی آئ کے عمر ڈار کا بھانجا اور ریحانہ ڈار کا نواسہ ہے ؟ سراسر جھوٹ کیا رضا ڈار نائب وزیراعظم ،وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا نواسہ ہے؟ جی ہاں سو فیصد درست(منیب فاروق نے اپنے ویلاگ میں کنفرم کیا ہے) پھر کچھ ن لیگی سوشل میڈیا ورکرز رضا ڈار کو عمر ڈار ریحانہ ڈار اور پی ٹی آئ سے کیوں جوڑ رہے ہیں ؟ غریب ٹھرکیوں کے نیفے میں سیدھا پستول اور امیر ٹھرکیوں کے خلاف قانون پر عمل؟ کیا بگاڑ لے گا یہ سسٹم رضا ڈار کا ؟ آج جسمانی ریمانڈ پر ہے کل جوڈیشل ریمانڈ پر جیل جاۓ گا پرسوں کوئ بڑا وکیل کروڑوں روپے فیس لیکر رضا ڈار کو ضمانت پر رہا کرا لے گا اور تیسرے دن پتا چلے گا کہ غیر ملکی خواتین اور رضا ڈار کے درمیان تمام معاملات باہمی رضامندی و خوش اصلوبی سے طے پا گۓ ہیں لہذا "مٹی پاؤ" ایک منٹ کے لیے مان لیتے ہیں یہ جنسی زیادتی وغیرہ کا کیس نہیں بلکہ کاروباری لین دین کا معاملہ ہے تو کیا کاروباری معاملات میں بیرون ملک سے خواتین کو بلا کر گھمایا پھرایا جاتا ہے ؟ جی بلکل مہمان نواز کی جا سکتی ہے تا کہ کاروبار کے مثبت نتائج نکل سکیں ۔ لیکن کیا گھمانے پھرانے کے بعد ان غیر ملکی خواتین کو اغواہ کر کے کہیں قید کیا سکتا ہے ؟ جی بلکل بھی نہیں کیوں کہ کاروبار میں ایسا نہیں ہو سکتا جب تک کاروباری بندہ فراڈیا دو نمبر نا ہو اب یا تو رضا ڈار دو نمبر کاروباری فراڈیا ہے یا پھر جنسی درندہ اگر کاروباری فراڈ کا معاملہ ہوتا تو خواتین کو بازیاب کروا کے انکے بیانات اور میڈیکل کروا کے انہیں فوری انکے ملک واپس نا بیجھ دیا جاتا بلکہ انہیں روک کر کاروباری فراڈ پر تحقیقات آگے بڑھائ جاتیں

𝐈𝐦𝐫𝐚𝐧 𝐇𝐚𝐛𝐢𝐛

39,770 Aufrufe • vor 1 Monat

9 مئی کا واقعہ مجھے لگتا ہے کہ مکمل طور پر پری پلان تھا۔ وہاں کچھ لوگ اکسا رہے تھے کہ ہمیں کور کمانڈر ہاؤس کی طرف جانا چاہیے۔ میں نے وہاں جو سب سے اہم چیز نوٹ کی، وہ یہ تھی کہ جو ورکرز تھے، ان کو کسی چیز کا علم نہیں تھا۔ وہ صرف روڈ بلاک کرنے اور نعرے بازی کرنے کے لیے موجود تھے۔ جو لوگ کور کمانڈر ہاؤس کی طرف اکسا رہے تھے، وہ ورکرز سے بالکل ہٹ کر تھے۔ ان کی باڈی لینگویج اور ان کا فزیکل اپیئرنس بالکل مختلف تھا۔ تو مجھے تھوڑی سی تشویش ہوئی کہ کیا کرنا چاہیے، پھر میں فوراً کور کمانڈر ہاؤس پہنچا۔ انہوں نے جو ڈنڈے پکڑے ہوئے تھے، وہ وہی تھے جو پولیس کے پاس ہوتے ہیں، لیکن وہ سول وردی میں تھے۔ اس کے علاوہ، میں اس سلیکشن سینٹر میں موجود تھا جب وہ جل رہا تھا۔ وہاں میں نے ریکارڈنگ کی، کیونکہ میڈیا کو بین کیا گیا تھا اور انہوں نے کوریج نہیں کرنی تھی۔ تو میں وہاں اُس وقت پہنچا جب وہ آگ لگا رہے تھے، اس کو جلا رہے تھے یا لوگوں کو اکسا رہے تھے۔ میں نے ان کی کوریج کی، جو توڑ پھوڑ کر رہے تھے، ان کی بھی کوریج کی، کیونکہ وہاں میڈیا موجود نہیں تھا۔ جب میں وہاں سے ویڈیو بنا کر باہر نکلا تو مجھے تین، چار بندوں نے گھیر لیا۔ وہ بالکل مختلف تھے۔ ان کی باڈی لینگویج، ان کے بولنے کا انداز اور ان کی مینٹیلٹی مختلف تھی۔ ان میں سے ایک بندے نے مجھے کہا کہ آپ ہماری ویڈیو ڈیلیٹ کریں۔ میں نے کہا کہ میں کیوں ڈیلیٹ کروں؟ اور میں سمجھتا ہوں کہ جو ورکر ہوتا ہے، وہ خود ویڈیو میں آنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی پارٹیسپیشن دکھاتا ہے۔ انہوں نے میرا کیمرہ مجھ سے چھین لیا اور اسے پھینکنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد میں نے بہت اصرار کیا کہ بھائی، آپ کیوں توڑ رہے ہیں؟ آپ ایسا کریں کہ میرا کیمرہ نہ توڑیں، صرف ویڈیو ڈیلیٹ کر لیں۔ تو ان میں سے ایک اور آدمی نے کہا کہ میں آئی ٹی کا بندہ ہوں اور مجھے پتا ہے کہ یہ دوبارہ ریکور ہو جائے گی۔ آپ ایسا کریں، یا تو اپنا کیمرہ مجھے دے دیں، یا پھر کیمرے میں سے جو کارڈ ہے وہ نکال کر دے دیں۔ میں نے بڑی کوشش کی کہ میں انہیں نہ دوں، لیکن وہ چار، پانچ بندے تھے اور کوئی ورکر نہیں تھے، کوئی اور لوگ تھے۔ اس کے بعد انہوں نے کارڈ لیا اور جلا دیا۔ اس صحافی کی ویڈیو سب کچھ واضح کر دیتی ہے۔ اس ویڈیو کو عمران خان نے بھی شیئر کیا تھا۔ 9 مئی کے فالس فلیگ آپریشن کی حقیقت، عینی شاہد صحافی انس نواز کی زبانی۔ Anas Nawaz انس نواز #May9th_FalseFlag

PTI North Punjab

28,063 Aufrufe • vor 3 Monaten

کاہنہ واقعہ کے بعد نہ نقلی کمیٹی بنی، نہ فائل دبی --سیدھا فیصلہ، سیدھا ریلیف سانحہ کاہنہ کے غم کو وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب کے گھروں کو محفوظ بنانے کے عزم میں ڈھال دیا پنجاب حکومت کا اپنی چھت اپنا گھر سے اپنا گھر--محفوظ گھر تک کا سفر اپنی چھت اپنا گھر کی کامیابی کے بعد نیا باب۔۔ایک لاکھ سے زائد گھر بن چکے،اب موجودہ گھر محفوظ ہوں گے وزیر اعلی مریم نواز شریف نے کاہنہ جیسے سانحات کی روک تھام کے لیے “اپنا گھر، محفوظ گھر پروگرام شروع کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا اپنی چھت، اپنا گھر" پروگرام کا دائرہ کار مزید وسیع: اپنا گھر، محفوظ گھر" کے تحت 2 نئی کیٹیگریز متعارف اپنا گھر --محفوظ گھر کے تحت کمزور چھتوں والے خستہ حال اور مکدوش گھروں کو محفوظ بنا کر رینویشن کے لئے 5 لاکھ دیے جائیں گے اپنا گھر --محفوظ گھر کے تحت نئی بلڈنگ سٹوری یا اضافی فلور بنانے کے لئے سود فری آسان اقساط پر 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے وزیر اعلی مریم نواز شریف کی زیر صدارت اپنی چھت اپنا گھر' اور 'اپنی زمین اپنا گھر' کے حوالے سے اہم اجلاس باکو میں 'پنجاب پاکستان پویلین' کی شاندار کامیابی کی رپورٹ پیش کی گئی،خصوصی دستاویزی ڈاکومنٹری پیش اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کے تحت 1 لاکھ 80 ہزار سے زائد بے گھر خاندانوں کو سود فری آسان اقساط قرض منظور اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کے تحت 1 لاکھ 70 ہزار خاندانوں کو قرض فراہم کر دیا گیا اپنی چھت اپنا گھر' منصوبے کے لیے 217.8 ارب روپے جاری کر دیے گئے وزیر اعلی مریم نواز شریف کے اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کے تحت پنجاب بھر میں 1 لاکھ 34 ہزار 343 گھر مکمل پنجاب بھر میں اپنی چھت اپنا گھر کے تحت ساڑھے 27 ہزار گھر تکمیل کے آخری مراحل میں پنجاب کے 12 لاکھ 78 ہزار سے زائد بے گھر خاندانوں کی اپنی چھت اپنا گھر پروگرام سے گھر سکیم کے لئے درخواستیں وزیر اعلی مریم نواز شریف کا اپنی چھت اپنا گھر کی دوسری قسم کو تین دن کے اندر اندر عوام کو جاری کرنے کا حکم بحران میں بیانات نہیں،اقدامات نظر آنا ہی گڈ گورننس ہے-مریم نواز شریف '10 لاکھ روپے کی نئی کیٹیگری کے ساتھ گھر پر اضافی منزل بنانے کی تجویز منظور-بریفنگ خستہ حال یا بوسیدہ چھت کی مرمت کے لیے 5 لاکھ روپے کی تجویز منظور 'اپنی زمین اپنا گھر' کے تحت 23 اضلاع میں 2 ہزار پلاٹ دیے گئے-بریفنگ 'اپنی زمین اپنا گھر' کے تحت علاقوں کی بحالی اور ترقیاتی کاموں کی رپورٹ پیش کی گئی جن 2 ہزار بے گھر خاندانوں کو حکومت نے مفت پلاٹ دیے اب انکو گھر بنانے کے لئے قرضہ بھی دیا جائے گا-مریم نواز شریف وزیر اعلی مریم نواز شریف کی گھر بنانے کے لئے آسان قرض پہلے سے بھی آسان بنانے کی ہدایت جن کے گھر مکدوش اور یا چھتیں کمزور ہیں پنجاب حکومت محفوظ اور بہتر بنانے میں معاونت کرے گی-مریم نواز شریف اپنی چھت اپنا گھر اور منسلک تمام پروگرامز پنجاب حکومت کا فلیگشپ پراجیکٹ ہے،کوتائی برداشت نہیں کرونگی-مریم نواز شریف غریب پر نہ کوئی بوجھ ڈالیں نہ ہی قرض کے حصول کے ضوابط میں کوئی تبدیلی ہو-مریم نواز شریف

Azma Zahid Bokhari

35,586 Aufrufe • vor 1 Monat

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے قومی اتحاد وحدت ،یکجہتی اور دفاع وطن کے عزم مصمم کی علامت یادگار فتح کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی اور خطاب کیا. صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یادگار فتح کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار،چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور مسلح افواج کی قیادت، سروسز چیفس، چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی، وفاقی وزرا ء،غیر ملکی سفارت کاروں، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے گورنرز،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، ارکان پارلیمنٹ اور بڑی تعداد میں سول وعسکری حکام موجود تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ پوری قوم کو جشن آزادی کی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔یادگار فتح ہمارے عزم و ہمت، مسلح افواج کی مہارت اور برتری کی علامت ہے۔ وزیراعظم نے معرکہ حق میں عظیم کامیابی پر صمیم قلب سے قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ معرکہ حق میں کامیابی پر فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کا غرور خاک میں ملا دیا، یہ معرکہ تاریخ کا ناقابل فراموش باب ہے۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کی کامیابی میں پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے سربراہان کی قیادت میں افواج کا کردار لائق تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ 8 ماہ کے قلیل عرصے میں یادگار فتح کی شاندار تعمیر فیلڈ مارشل کی ذاتی دلچسپی کا نتیجہ ہے،یہ یادگار فتح قومی اتحاد کی علامت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں کامیابی نےقوم کا سر فخر سےبلند کر دیا۔ دشمن معرکہ حق میں عبرتناک شکست ہمیشہ یاد رکھےگا۔ انہوں نےمعرکہ حق کے شہداء کو خراج عقیدت اور اور غازیوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ہم خطےمیں امن و استحکام کی ضمانت بن چکے ہیں ۔ 2025ء کے معرکے کا پیغام پوری دنیا میں پہنچ چکا ہے. وزیر اعظم نےکہا کہ بھارت نےسندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر معطل کرکےخود کو امن کا دشمن ثابت کیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان کے پانی کی ایک ایک بوند ہماری ریڈ لائن ہے۔ پانی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ بھارت اگر راہ راست پر نہ آیا تو اسےبراہ راست جواب دیں گے. وزیر اعظم نے نئی نسل کو ترقی کے نئے مواقع کی فراہمی کو حکومت کی ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاشی ترقی کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا ہے.وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ دنیا نئے تنازعات سے محفوظ رہے۔ہم تنازعات کو اقوام متحدہ کے اصولوں اور انصاف کے تقاضوں کےمطابق حل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔اسی جذبے سے پاکستان نے ایران-امریکہ جنگ کےخاتمے کےلئے اپنا کردار ادا کیا۔ اس سلسلے میں فیلڈ مارشل کا تاریخی کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ سال برادر اسلامی ملک سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ کیا ۔حال ہی میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کئے۔ یہ دفاعی معاہدہ عالم اسلام کے لئے امن کی نوید اور دنیا میں استحکام کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینیوں کے حقوق کے لئے اپنے اصولی موقف پر قائم ہے۔ ہم ان کے حق خود ارادیت اور مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کی اور پائیدار امن کیلئے اپنی حمایت جاری رکھیں گے. وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان میں ہم امن و استحکام چاہتے ہیں لیکن افغانستان کی سرزمین کا دہشت گردی کیلئے استعمال ناقابل برداشت ہے۔ افغان قیادت کو مخلصانہ مشورہ ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ بننے سے فی الفور روکے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ چین اور پاکستان کی دوستی ہمالیہ سے بلند اور چٹان سے زیادہ مضبوط ہے۔ چین ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہا ہے۔ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی میں صدر ٹرمپ کے کردار کو لائق تحسین قرار دیا اور کہا کہ آنے والے وقت میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ وزیرِ اعظم نے سعودی عرب، قطر، کویت ، ترکیہ، آذربائیجان اور دیگر برادر اسلامی ممالک کے تعاون کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان سےہمارے تعلقات پھلتے پھولتے رہیں گے۔وزیراعظم نے زور دیا کہ جنگ کی طرح امن کے وقت میں بھی قوم اتحاد کا مظاہرہ کرے۔ اختلافات بھلا کر نفرتوں کو ختم کریں اور بھائی چارے کو فروغ دیں۔ انہوں نےزور دیا کہ آج قوم اپنے فرائض دیانتداری محنت اور لگن سےادا کرنے کا عہد کرے۔ انہوں نے کہا کہ یادگار فتح کے بظاہر ساکت نظر آنے والے ستون قوم کےجذبہ تعمیر کی ترجمانی کرتے ہیں ۔یہ جذبہ تعمیر آج سب چہروں پر بھی نظر آرہا ہے اور ہمارے روشن مستقبل کی نوید ہے. #FreedomWithPride2026

Prime Minister's Office

88,083 Aufrufe • vor 17 Tagen

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ خالق کائنات کا بے حد شکریہ ادا کرتے ہیں جس نے پاکستان کو یہ عزت عطا فرمائی کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوا، اس کیلئے پوری پاکستانی قوم اس ایوان کے تمام اراکین کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں کئی ممالک اور قومیں ایسی عزت کی تلاش میں صدیاں گزار جاتی ہیں لیکن وہ اس طرح سے عزت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتیں جس طرح آج پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے عزت عطا فرمائی ہے۔ پاکستان کے اس کردار پر اس ایوان سے ایک متفقہ قرارداد جانی چاہئے جو اس عظیم کامیابی کیلئے اس ہائوس کی جانب سے بھرپور تائید ہو گی اور اس سے دنیا میں یکجہتی، اتفاق اور اتحاد کا پیغام جائے گا۔ انہوں نے اپوزیشن کو بھی دعوت دی کہ وہ سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر ملکر اس مبارک دن اللہ کا شکر ادا کریں اور دنیا کو بتائیں کہ سیاسی اختلافات کے ساتھ ساتھ قومی مفادات کیلئے ہم ایک ہیں اور ایک رہیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس عظیم کامیابی میں سب سے کلیدی کردار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ادا کیا، انہوں نے امن کے قیام کیلئے اڑھائی مہینے دن رات کام کیا. انہوں نے کہا کہ وہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس عمل میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا، اسی طرح وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے بھی ایران کے حوالے سے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں، ان کے اراکین ، اتحادی جماعتوں اور ان کے قائدین کو بھی مبارکباد پیش کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ روز ان کی ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے آدھا گھنٹہ ٹیلیفون پر بات ہوئی جس میں انہوں نے پاکستان اور پاکستان کے عوام کا ایران کی حکومت اور ایرانی قوم کی جانب سے دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس مشکل وقت میں ایران کا ساتھ دیا اور پاکستان ایران کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہا۔ ایرانی صدر نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا بھی شکریہ ادا کیا۔ میں نے انہیں دورہ پاکستان کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ قوم آپ کا پاکستان میں والہانہ استقبال کرنے کیلئے منتظر ہے تاکہ دنیا کو یہ بتایا جا سکے کہ ایران اور پاکستان صرف ہمسایہ ملک نہیں بلکہ برادر ملک ہیں اور ہمارے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ ایرانی صدر نے پہلی فرصت میں پاکستان آنے کا عندیہ دیا ہے کہ وہ پاکستان آ کر وہاں کے عوام کا شکریہ ادا کرینگے۔ اس موقع پر انہوں نے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین جو 3 یا 4 جولائی کو ہونی ہے اس میں شرکت کی دعوت دی ہے جس پر انہیں کہا ہے کہ یہ ہمارا فرض ہے اور ان شاء اللہ وہاں پر پاکستان موجود ہو گا تاکہ ہم دنیا کو بتا سکیں کہ ان کیلئے ہمارے دلوں میں کتنا احترام ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس جنگ بندی کے نتیجے میں اس خطے میں معاشی خوشحالی آئے گی۔ خطے میں جنگ بندی کے بعد اب تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آ رہی ہیں اور اس میں مزید کمی آئے گی۔ اس پر ہفتہ وار نظرثانی آج ہو گی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب تین ماہ قبل جنگ چھڑی تو اس وقت تیل کی عالمی قیمتوں کو آگ لگ گئی اور مہنگائی کا ایک طوفان کھڑا ہوا۔ پاکستان کے عوام نے جس طرح اس دوران تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کیا وہ اپنی مثال آپ ہے اس پر پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مہنگائی کے اس طوفان سے عام آدمی کو بچانے کیلئے حتیٰ المقدور کوشش کی ،پٹرولیم مصنوعات پر 128 ارب روپے کی سبسڈی دی تاکہ عوام پر مہنگائی کا کم سے کم بوجھ پڑے۔ وزیر اعظم نے صوبائی حکومتوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس مشکل وقت میں وفاق کی بھرپور معاونت کی اور انہوں نے اپنے عوام کو ریلیف پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ انہوں نے وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر منصوبہ بندی، نائب وزیراعظم، سیکرٹری خزانہ اور سیکرٹری پٹرولیم کا بھی شکریہ ادا کیا کہ سب نے ملکر اس میں اپنا حصہ ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ ان مشکل ترین حالات کے باوجود پاکستان نے پیٹرول پمپوں پر لائنیں نہیں لگیں، کوئی بلوے نہیں ہوئے جبکہ سری لنکا اور بنگلہ دیش میں جو صورتحال پیدا ہوئی وہ سب کے سامنے ہے۔ وزیراعظم نے امریکا کی قیادت بالخصوص صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکراتی عمل میں بھرپور حصہ ڈالنے پر ان کا بھی شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے برادر ملک قطر، سعودی عرب ، ترکیہ کے کردار کو بھی سراہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین جو پاکستان کا ہمالیہ کی طرح بلند دوست ملک ہے اس کا اس عمل میں بڑا کردار رہا۔ اس کی لیڈر شپ نے امن عمل میں بھرپور معاونت کی۔ انہوں نے اس عمل میں حصہ ڈالنے والے دیگر ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا۔

Prime Minister's Office

22,617 Aufrufe • vor 2 Monaten

وزیر اعظم شہباز شریف آگاہ ہیں کہ عمران خان کی بیماری اور علاج پر سپریم کورٹ کے حکم عدولی کا معاملہ حکومت کے لیے ایک بڑے آئینی اور سیاسی بحران میں بدل سکتا ہے پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہ ہونے زمہ دار وزیراعظم شہباز شریف انکے وزیر قانون اور وزیر اطلاعات کو ٹھہرایا ہے اور ان تمام شخصیات کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی درخواست دائر کردی ہے۔ اس حوالے سے یاد رکھنا ضروری ہے کہ یوسف رضا گیلانی کی وزارت عظمیٰ کا خاتمہ بھی سپریم کورٹ کے حکم عدولی کی پاداش کی نتیجے میں ہوا تھا،یہ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہوا جب عمران خان کو عدالتی حکم کے مطابق شفاء انٹرنیشنل لے جانے کے بجائے پمز منتقل کیا گیا اور چند گھنٹوں بعد دوبارہ اڈیالہ جیل پہنچا دیا گیا۔اب وزیراعظم نے انکوائری کمیٹی قائم کردی ہے جبکہ نواز شریف کی جانب سے بھی اس فیصلے پر سوالات اٹھائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ دوسری طرف درجنوں چوٹی کے سابق عالمی کرکٹرز بھی عمران خان کے مناسب علاج کا مطالبہ کررہے ہیں، اصل سوال صرف عمران خان کی صحت نہیں ہے پاکستان کی اولین ضرورت یہ ہے کہ عوام کا خون چوس فرسودہ نظام حکومت تبدیل ہو چھوٹ صوبے بنیں یا خود مختار ایڈمنسٹریٹیو یونٹس تشکیل دئیے اور اس مشن کی تکمیل اسی وقت ممکن ہے جب حکومت پی ٹی آئی محاذ آرائی ختم کرکے سیاسی مفاہمت کا راستہ نکالیں آج کے انتہائی دلچسپ On My Radar کی مکمل کہانی دیکھنے کے لیے OMR کا YouTube لنک ضرور کلک کریں

Kamran Khan

89,677 Aufrufe • vor 6 Tagen

فواد بھائی انسان کا علم کسی بھی موضوع پر کم ہو یا تو اس موضوع پر مکالمہ (جو اب پاکستان میں تہذیب و اخلاق سے عاری بحث و گالی گلوچ میں تبدیل ہوگیا ہے ) سے گریز کرے- یا پھر کوشش کرے کہ کچھ وقت مطالعہ کو دے دے تاکہ معاملہ سمجھ میں آسکے - میں کم عمر رکن اسمبلی بنا 1997 میں - میاں نواز شریف کی حکومت تھی - اس عرصہ میں بلوچستان میں کوئی مسلح مزاحمت نہیں تھی تاہم بوچستان کے ہر گھر میں بے روزگاری، بھوک، مایوسی، اندھیرا اور خوشحال مستقبل کے حوالے سے امکانات مسدود ہوتے جارہے تھے - میں نے تاریخی تناظر میں ، جسمیں پاکستان کے پہلے مارشل لاء کیخلاف بابو #نوروز_خان کی مزاحمت کا حوالہ بھی دیا - انکی مزاحمت ون یونٹ اور مارشل لاء کیخلاف تھا- انکی جدوجہد #بلوچوں کے وقار کےساتھ کلواڑ کیخلاف تھی، بلوچستان کی شناخت کے خاتمے کیخلاف - اس بزرگ شخص کو پاکستان میں مارشلاء کے خلاف مزاحمت کے استعارے کے طور پر پڑھانے کی بجائے آپ اسے بھارت کا ایجنٹ اور بیرونی سازش کی بنیاد پر مزاحمت کرنے والا کردار بتاتے ہیں - یہی سے وہ زہنی اور شعوری فا صلہ جہاں آپ مارشل لاء کیخلاف مزاحمت کو بیرونی سازش اور ھم آہین و قانون کیلے جدوجہد قرار دیتے ہیں - مجھے اندازہ ہے کہ آپ اور ۂزاروں قارئین #بلوچستان کو بغیر سنے اور بغیر پڑھے سمجھنا چاہتے ہیں جو ممکن نہین - اگر وقت ملے تو تقریر کا یہ حصہ ضرور سنیں اگر مکمل تقریر سننے سے دلچسپی ہے تو لنک 👇

Sana Ullah BALOCH

38,479 Aufrufe • vor 6 Monaten

اسلام آباد: 10 اگست 2026. وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس کے آغاز میں کابینہ نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی جس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ان کی مدبرانہ اور دور اندیش قیادت، پاکستان کا عالمی تشخص بلند کرنے اور ملک کے قومی مفادات کے مؤثر دفاع پر خراج تحسین پیش کیا گیا۔ کابینہ ارکان نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کو بھی اہم سفارتی و دفاعی پیش رفت قرار دیا۔ قرارداد نے اس معاہدے کو امت مسلمہ کے مابین اتحاد و اتفاق کو مزید تقویت دینے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔ کابینہ نے نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2026ء اور اس پر عملدرآمد کےلئے ایکشن پلان کی منظوری دے دی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ نیشنل ہاؤسنگ پالیسی قومی و بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل ورکنگ گروپ نے تیار کی، جبکہ اس کی تیاری کے دوران وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور ترقیاتی شراکت داروں سے بھی مشاورت کی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ پالیسی کا بنیادی مقصد تمام شہریوں کے لیے پائیدار، محفوظ اور معیاری رہائش کی فراہمی ہے۔ کابینہ نے ہدایت کی کہ ہاؤسنگ منصوبوں میں زوننگ قوانین کی مکمل پابندی یقینی بنائی جائے اور زمین کے مؤثر استعمال کے لیے عمودی رہائش (Vertical Housing) کو ترجیح دی جائے۔ ساتھ ہی کابینہ نے ہدایت کی کہ انرجی ایفیشنسی کوڈز کو بھی نیشنل ہاؤسنگ پالیسی کا لازمی حصہ بنایا جائے تاکہ نئی تعمیرات توانائی کے مؤثر اور ماحول دوست تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔ کابینہ کو وزیراعظم کے ’اپنا گھر‘ اسکیم کے تحت پیش رفت پر بھی بریفنگ دی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ اپنے گھر کے خواہشمند درخواست گزاروں کو مختلف بینکوں کی جانب سے 220 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو 32 ارب روپے سے زائد کی رقوم بھی جاری کی جا چکی ہیں۔ کابینہ نے بورڈ آف انویسٹمنٹ کی جانب سے پیش کی گئی سمری پر پاکستان اور سویڈن کے درمیان 1981ء میں طے پانے والے دو طرفہ سرمایہ کاری کے معاہدے کے خاتمے کا نوٹس واپس لینے کی منظوری دے دی۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے کابینہ کو پاکستان انفارمیشن سکیورٹی فریم ورک 2026ء (PISF 2026) کا مسودہ پیش کیا گیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ یہ فریم ورک CERT Rules 2023ء کے تحت تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد انفارمیشن سکیورٹی کے بنیادی یکساں معیارات کا ایک جامع اور متحد نظام وضع کرنا اور مرکزی نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔ کابینہ نے پاکستان انفارمیشن سکیورٹی فریم ورک 2026ء کی منظوری دیتے ہوئے اسے سائبر سکیورٹی کے لیے ایک اہم راہنما دستاویز قرار دیا اور ہدایت کی کہ اس پر مقررہ مدت کے اندر مؤثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ وفاقی کابینہ نے 28 جولائی کو منعقدہ کابینہ کمیٹی برائے توانائی (CCoE) کے اجلاس میں لئے گئے فیصلے کی بھی توثیق کی۔ اس فیصلے کے تحت پاکستان آئل ریفایننگ پالیسی 2023 میں مجوزہ ترامیم کی توثیق کی گئی جن کے مطابق آئل ریفائنریز کی اپگریڈیشن کی جائے گی تاکہ ملکی توانائی کی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کیا جا سکے۔ کابینہ نے 27 جولائی اور 4 اگست کو منعقدہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کے اجلاسوں میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ اجلاس میں کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی (CCLC) کے 24 جولائی کو منعقدہ اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی گئی.

Prime Minister's Office

29,661 Aufrufe • vor 20 Tagen

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان اورچین کی فارما سیوٹیکلز کمپنیوں کی بزنس ٹو بزنس کانفرنس میں شرکت کی اور خطاب کیا۔ وزیراعظم نے پاکستان اور چینی کمپنیوں کے مابین فارما سیوٹیکلز کے شعبے میں 44کروڑ ڈالرسے زائد مالیت کے 9معاہدوں کا خیرمقد م کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کی نجی کمپنیوں کے مابین اشتراک سے پاکستان میں فارما سیوٹیکلز کے شعبوں کو ترقی ملے گی، چین پاکستان کا سب سے قابل اعتماد اور آزمودہ دوست اور اس کی معاشی و تزویراتی ترقی دنیا کےلئے ایک مثال ہے،چینی شہریوں کی سلامتی کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔ اس موقع پر وفاقی وزراء، معاونین خصوصی اور اعلیٰ سرکاری حکام کے علاوہ پاکستان میں چین کے سفیر اور ملکی و چینی فارما سیوٹیکلز کمپنیوں کے نمائندے بڑی تعداد میں موجود تھے۔ وزیراعظم نے کانفرنس کے انعقاد اور اس میں چینی و پاکستانی سرمایہ کاروں کی شرکت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی فارماسیوٹیکلز کمپنیوں کے مابین 44کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے 9 معاہدے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے اس سلسلے میں دونوں ممالک کی بزنس کمیونٹی کے علاوہ وفاقی وزیر صحت ، معاون خصوصی برائے صنعت وپیداوار، پاکستان میں چین کے سفیر اور چین میں پاکستان کے سفیر کی کاوشوں کو بھی سراہا۔ وزیراعظم نے اس توقع کا اظہار کیا کہ یہ معاہدے عملی شکل اختیار کریں گے۔ انہوں نے چین کو پاکستان کا سب سے قابل اعتماد اور آزمودہ دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہرمشکل گھڑی میں چین نے پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور پاکستان کی اقتصادی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے، چین نے تمام عالمی فورمز پر پاکستان کی حمایت کی ، سی پیک ون کے تحت 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئی ۔ وزیراعظم نے چین کی غیرمتزلزل حمایت پر چینی قیادت کاشکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ وژنری لیڈر ہیں جنہوں نے چینی معاشرے اورمعیشت کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ انہوں نے چینی ترقی کو بے مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین نے نہ صرف معاشی بلکہ تزویراتی ترقی کے میدان میں بھی اپنا لوہا منوایا ہے۔ وزیراعظم نے چینی عوام کی تعلیم ، ریسرچ و ڈویلپمنٹ سمیت ہر شعبے میں بے مثال محنت اور کارکردگی کو بھی سراہا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ فارماسیوٹیکلز کی ترقی اور سرمایہ کاری کےلئے آج بڑا موقع ہے ، دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں کے مابین مینوفیکچرنگ ، ویکسین کی تیاری اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے شعبوں میں اشتراک سے فارماسیوٹیکلز کے تمام شعبوں میں ترقی ہوگی ۔ وزیراعظم نے خطے میں حالیہ بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس بحران نے دنیا بھرکےلئے بڑے مسائل پیدا کردیئے ہیں ، پاکستان نے امریکہ اور ایران کے مابین ثالثی میں اہم کردار ادا کیا جس کےلئے چین سمیت دوست و برادر ممالک نے بھرپور تعاون کیا ، صدر شی جن پنگ نے بہت خلوص سے ان کوششوں کی بھرپورحمایت کی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے مابین طے ہونے ہونے والی’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ میں پاکستان ثالث ہے ۔ انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں ان کا کردار یاد رکھا جائے گا۔ وزیراعظم نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی کاوشوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے عالمی رہنمائوں سے رابطے کئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاک چین دوستی ہمالیہ سے بلند ، شہد سے میٹھی اور فولاد سے زیادہ مضبوط ہے۔ وزیراعظم نے چین سے 300وفود کی فارماسیوٹیکلز کانفرنس میں شرکت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں چینی شہریوں کی سلامتی ہمارے لئے سب سے اہم ہے، اس سلسلے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا جائے گا، چینی شہری ہمارے مہمان ہیں، ان کی خوشی ہماری خوشی ہے۔ کانفرنس میں پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان فارماسیوٹیکل سے متعلقہ شعبوں کے حوالے سے 44 کروڑ ڈالرز سے زائد مالیت کے 9 معاہدے ہوئے جن میں مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری، بائیو ٹیکنالوجی، ادویات کی تیاری، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور ہیپاٹائٹس سے بچائو سے متعلق معاہدے شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ حفاظتی ٹیکوں کے قومی پروگرام کے حوالے سے تعاون کا معاہدہ بھی طے پایا۔

Prime Minister's Office

16,416 Aufrufe • vor 1 Monat

اسدطور معمہ: لوگوں کو حیرت ہوتی ہے کہ اسد طور اتنا کھلم کھلا کیسے جرنیلوں کا نام لے لے کر ان پر تنقید کررہا ہے۔ آج کے بعد آپ کی حیرت ختم ہوجائے گی ۔ جب کوئی صحافی یا چ ٹیوبر عوام کو نیوٹرل بھی دکھائی دے رہا ہو۔ فوج کا ماوتھ پیس بھی بنا ہو۔ انکا ایجنڈا بھی چلا رہا ہو تو انہیں کیا ضرورت ایسے شاندار اثاثے کو ضائع کریں۔ اس ویڈیو میں اسد طور نے تین موقف اپنائے ہیں جو کہ تینوں سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں۔ سب سے پہلے جناب کا موقف جان لیں پھر ان کے جھوٹوں کو بےنقاب کرتے ہیں * فوج اس وقت نیوٹرل ہوئی جب دسمبر 2020 میں جنرل فیض حمید نے عمران خان کے کہنے پر کراچی میں مریم نواز کے بیڈ روم کا دروازہ توڑا شدید تنقید ہوئی۔ پھر کور کمانڈرز کی میٹنگ میں جرنیلوں کی گرما گرمی ہوئی۔ فیض حمید کو تنقید کا نشانہ بنایاگیا اور فیصلہ کیا گیا کہ اب ہم عمران خان سے دوری اختیار کریں گے۔ * سائفر مکمل جھوٹا بیانیہ ہے۔ عمران خان کو نکالنے میں امریکہ کا کوئی کردار نہیں۔ * عمران خان کو اس لیے ہٹایا گیا کہ عمران خان سے معیشت نہیں چل رہی تھی۔ گورننس نہیں ہوپارہی تھی اور سعودی عرب چین وغیرہ سے عمران خان نے تعلقات خراب کردیے تھے۔ پہلی غلط بیانی: دسمبر میں مریم نواز کے بیڈ روم کا دروازہ توڑا گیا تو اس کے بعد کے واقعات کے باعث فوج نے عمران خان سے دوری اختیار کی۔ دسمبر سے صرف ایک مہینہ پہلے نواز شریف جنرل باجوہ کیساتھ ڈیل کرکے ملک سے طبی بنیادوں پر فرار ہوگئے تھے۔ خواجہ آصف کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ نواز شریف کو فوج نے باہر بھجوایا عمران خان نے نہیں۔ نومبر 2020 میں نواز شریف لندن پہنچ چکا تھا۔ یعنی معاملات اس سے بھی مہینہ دو یا تین قبل طے پا چکے تھے۔ کور کمانڈرز کی میٹنگ میں گرما گرمی ہوئی نہیں جنرل باجوہ کے کہنے پر کچھ جرنیلوں کی جانب سے کی گئی۔ کیونکہ جنرل باجوہ اپنے کچھ ساتھیوں سمیت نواز شریف سے معاملات طے کرچکا تھا اور فیض حمید کو نشانہ بنانا باقی تھا۔ کور کمانڈر اتنی گرما گرمی جوگے ہوتے تو آج عاصم منیر نے پورا ملک ڈبو دیا ہے کسی کی سی نہیں نکل رہی۔ اگلی غلط بیانی کہ سائفر مکمل جھوٹ ہے۔ یعنی جس سائفر پر سلامتی کمیٹی کی میٹنگ ہوچکی۔ امریکہ سے ڈی مارش کیا جاچکا ۔ جس کے مندرجات میں لکھا ہے کہ عدم اعتماد کامیاب ہوگئی تو تمہیں معاف کردیا جائے گا اور اس کے مندرجات سے کسی نے آج تک انکار نہیں کیا چ ٹیوبر کے مطابق وہ سائفر جھوٹ ہے۔ شاندانہ گلزار نے بتایا کہ امریکی ایمبیسی کی بہن یعنی برطانوی ایمبیسی نے انہیں بلایا اور کہا کہ آپ عمران خان سے علیحدگی اختیار کرلیں۔ شاندانہ کے بقول چھ مزید خواتین اراکین اسمبلی کو بھی یہی کہا گیا جو ڈر کے مارے خاموش ہیں۔ ایک خاتون کو جس کے بچے امریکہ میں تھے اسے اس ذریعے سے کہلوایا گیا۔ بطور ضمنی سوال کوئی چ ٹیوبر سے پوچھ لے کہ کیا اسکے بعد بھی اراکین اسمبلی اسی تواتر سے امریکن ایمبیسی جاتے آتے پائے گئے ہیں؟ جواب ہے نہیں ! اگلی غلط بیانی یہ کی کہ عمران خان نے سعودی عرب چین وغیرہ سے تعلقات خراب کیے۔ عمران خان کے دور میں محمد بن سلمان پاکستان آیا۔ جبکہ عاصم منیر نے ترلے کر دیے کہ دورہ انڈیا کے دوران چند گھنٹوں کے لیے شہزادہ پاکستان آجائے لیکن وہ نہیں آیا۔ چین نے رول اوور کے علاوہ ابھی تک پاکستان کو آلو بھی نہیں دیا۔ الٹا عاصم منیر صاحب امریکی سفیر کو گوادر لے گئے۔ یعنی عمران خان کے دور میں اگر تعلقات خراب تھے تو فوج کے آنے سے تو بالکل ختم ہوچکے۔ چ ٹیوبر کی آخری غلط بیانی یہ کہ عمران خان سے معیشت نہیں چل رہی تھی۔ چھ فیصد گروتھ ، ریکارڈ ترسیلات ، ریکارڈ ایکسپورٹس ، ریکارڈ جاب کرئیشن اگر معیشت کی تباہی تھی تو اس شخص کی ذہنی حالت پر پھر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ چ ٹیوبر کے بقول فوج دسمبر 2020 کے بعد عمران خان سے فاصلے پر ہوئی، پھر اس کے بقول ندیم انجم نے آصف زرداری اور شہباز شریف سے عدم اعتماد کی تحریک پیش کروائی اور خود ندیم انجم کے بقول فوج نے فروری 2022 میں نیوٹرل ہونے کا فیصلہ کیا۔ “ایک ہی ذات میں فطرت کے تضادات اتنے “ آخر میں ایک بار پھر ضروری وضاحت کہ یہ شخص جب وہ تمام باتیں پھیلا رہا ہے جو فوج پھیلانا چاہتی ہے تو انہیں ہلکا پھلکا نام لے کر تنقید کرنے سے بھلا کیا تکلیف ہوگی۔ البتہ فائز عیسی کی جھولی میں بیٹھ کر شاید اس نے فائز عیسی کی داڑھی ہکڑ لی تھی جو اس نے اسے جھولی سے اتار دیا۔ لیکن جب جب یہ جرنیلوں اور فائز عیسی کا منہ نوچے گا ہم اسے سنیں گے بھی اور مزہ بھی لیں گے۔ امید ہے آپ کے ذہن کے بہت سے خدشات دور ہوگئے ہوں گے۔ اسد طور صاحب اپنا موقف دینا چاہیں تو طور صاحب اپنے یوٹیوب چینل سے ہی جواب دے سکتے ہیں۔

Enkidu Reborn

295,446 Aufrufe • vor 2 Jahren

مینارِ پاکستان سے صدر پیپلز پارٹی لاہور فیصل میر اور مجید غوری کی میڈیا سے گفتگو پاکستان پیپلز پارٹی لاہور کے صدر فیصل میر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے جلسے کی اجازت دینے پر ہم مشکور ہیں۔ پرنسپل سیکرٹری نے آگاہ کیا ہے کہ اجازت دے دی گئی ہے، اب ہمیں انتظامات مکمل کرنے کے لیے صرف ایک دن درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلسے کی اجازت دے کر مریم نواز نے جمہوری روایات کو فروغ دیا ہے۔ ہم آج 23 جولائی سے ہی مینارِ پاکستان پہنچ گئے ہیں اور تمام رات یہیں موجود رہیں گے۔ پولیس کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے اجازت مل چکی ہے۔ فیصل میر نے کہا کہ اگر ضلعی انتظامیہ گراؤنڈ سے پانی نہیں نکالتی تو پیپلز پارٹی کے کارکن خود پانی نکال کر جلسہ گاہ تیار کریں گے۔ جلسے کے لیے 100 فٹ لمبا اور 24 فٹ چوڑا اسٹیج تیار کیا جا رہا ہے، جہاں گلوکار انقلابی ترانے پیش کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ 25 جولائی کو رات 8 بجے جلسہ شروع ہوگا جبکہ 26 جولائی کو رات 12 بج کر ایک منٹ پر صدر آصف علی زرداری کی سالگرہ کے موقع پر 24 فٹ اونچا کیک کاٹا جائے گا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے، جبکہ راجہ پرویز اشرف، حسن مرتضیٰ اور قمر زمان کائرہ بھی شرکاء سے خطاب کریں گے۔ لاہور کے ہر ٹاؤن سے کارکنوں کے قافلے جلسے میں شرکت کریں گے۔ فیصل میر نے واضح کیا کہ ہم نے کوئی گیٹ نہیں توڑا، گیٹ پہلے سے کھلا ہوا تھا۔ پیپلز پارٹی کے کارکن بھی اسی شہر کے شہری ہیں اور انہیں بھی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح اپنے جمہوری حق کے استعمال کا پورا حق حاصل ہے۔ اس موقع پر مجید غوری نے کہا کہ جیالے اسٹیج کا سامان لے آئے ہیں۔ بارش ہو یا شدید گرمی، پیپلز پارٹی کے کارکن اپنے عزم پر قائم ہیں اور ہر صورت جلسہ کامیاب بنائیں گے۔ #PPP #PakistanPeoplesParty #Lahore #MinarEPakistan #AsifAliZardari #BilawalBhuttoZardari Bilawal Bhutto Zardari Faisal Mir

PPP LAHORE Official

16,429 Aufrufe • vor 1 Monat

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے آج وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی جس میں انہوں نے خطاب کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ جمعہ کو مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین دفاعی معاہدہ طے پایا جس پر سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور میں نے دستخط کیے۔ انہوں نے کہا کہ دہائیوں سے پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مل کر حرمین شریفین کی حفاظت کا فریضہ نبھاتا رہا ہے، گزشتہ سال اس سلسلے میں باقاعدہ معاہدہ طے پایا تھا. تینوں ممالک کے درمیان یہ معاہدہ خطے میں امن، سلامتی اور خوشحالی کے لئے ہے، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان بھی دہائیوں پر محیط تعاون موجود ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ دفاعی معاہدہ پہلے سے موجود تعاون کا تسلسل ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حرمین شریفین کے تحفظ کی ذمہ داری پاکستان کے عوام اور افواج کے لئے اہم فریضہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سہ فریقی دفاعی معاہدہ کسی کے خلاف قطعاً جارحیت نہیں، یہ صرف اور صرف دفاعی مقاصد اور خطے کے امن ترقی اور خوشحالی کیلئے ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ معاہدہ امت مسلمہ کے لئے باعث تقویت ہے۔ وزیراعظم نے سہ فریقی معاہدے کے لئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کئی برسوں کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ وزیراعظم نے وطن عزیز سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے قومی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے بعض علاقوں میں دہشت گردی کا بازار گرم کیا. مختلف واقعات میں ہمارے پولیس اور افواج پاکستان کے آفیسرز اور جوان شہید ہوئے ۔ ہنگو، سوات اور دیگر علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ انہوں نے میجر حافظ احسان الٰہی، کیپٹن حمزہ اکرم، ڈی ایس پی دیار خان سمیت تمام شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے بہادر سپوتوں نے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ انشاء اللہ وطن عزیز سے ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ ہوگا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کے دیرینہ رفیق اقبال چنڑ کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے مرحوم کی سیاسی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اقبال چنڑ مشکل وقت میں مسلم لیگ ن کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہے، ان کے پایہ استقلال میں لغزش نہیں آئی۔ وزیراعظم نے کابینہ کو بتایا کہ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں عوام نے مسلم لیگ ن پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، پہلے دو مراحل میں مسلم لیگ ن کو واضح کامیابی ملی ہے، انتخابی نتائج قائد محمد نواز شریف کی قیادت پر اعتماد کا اظہار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر ایک بار پھر ترقی اور خوشحالی کا سفر شروع کرے گی۔ انہوں نے آزاد کشمیر کے عوام کی طرف سے اعتماد کے اظہار پر شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں لاقانونیت کی اجازت نہیں دی جا سکتی، مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر نے آزاد کشمیر کے حالات جان بوجھ کر خراب کرنے کی کوشش کی، واضح ثبوت موجود ہیں کہ وہ اغیار کے اشاروں پر کام کر رہے تھے۔ الیکشن سے قبل مظفر آباد میں آل پارٹیز کانفرنس جس میں ایک کے سوا تمام جماعتیں موجود تھیں، میں معاملات پر ہر پہلو سے گفتگو ہوئی۔ تجویز دی گئی کہ مہاجرین کی نشستوں کے حوالے سے انتخابات کے بعد نو منتخب اسمبلی میں اپنا مقدمہ لیکر آئیں، جو اکثریت سے آئین و قانون کے مطابق فیصلہ ہوگا اسے قبول کیا جائے گا، تمام باتیں طے ہوگئیں لیکن وہ اڑے رہے، بے جا ضد سے معاملات خراب ہوگئے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ مذاکرات کا سلسلہ نئی حکومت کے معرض وجود میں آنے کے بعد آگے بڑھے گا، جو لوگ تلے ہیں کہ صرف خرابی کرنی ہے ان کو انارکی و بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی لیکن جو امن ، تحمل اور برداشت کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں نئی حکومت ان کیلئے موقع فراہم کرے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ جشن آزادی کی آمد آمد ہے، قوم روایتی اور شایان شان طریقے سے جشن آزادی منانے کے لیے بھرپور تیاریاں کر رہی ہے، صوبوں کے ساتھ مل کر 14 اگست بھرپور شان و شوکت کے ساتھ منائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ترقی، امن اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے پرعزم ہیں اور پاکستان کو صحیح معنوں میں قائد کا پاکستان بنائیں گے، امانت و دیانت کے ساتھ پاکستان کو دنیا میں اس کا باوقار مقام دلائیں گے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کابینہ اجلاس میں جام شہادت نوش کرنے والے بہادر سپوتوں اور اقبال چنڑ کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کرائی ۔

Prime Minister's Office

20,965 Aufrufe • vor 20 Tagen

ایران نے پاکستان میم مزاکرات میں شریک نہ ہو کر ایک لحاظ سے زیادتی کی ہے۔ آپ کو اسلام آباد آکر امریکن کے منہ پر انکار کر دینا چاہئے تھا کہ ہم ہرموز نہیں کھولیں گے جب تک blocade ختم نہیں ہوگا۔ پاکستان نے آپ کا بہت ساتھ دیا ہے اور آپ کے آنے سے پاکستان کے ہاتھ مضبوط ہوتے اور امریکن پر تاثر جاتا کہ ایرانی پاکستان کو وزن دیتے ہیں لہذا اگر پاکستان کہہ رہا ہے تو ہمیں بھی ان کی شرائط ماننا ہوں گی۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر تین دن تہران میں رہے تو کم از کم آپ کا اسلام آباد آنا بنتا تھا بے شک بریک تھرو نہ ہوتا۔ ایران کی ہر طرح حمایت کی وجہ سے سعودی عرب اور بڑی حد تک متحدہ عرب امارت ناراض ہوئے ہیں اور اس ناراضگی کی ہم نے قیمت ادا کی ہے۔ دوسری طرف اب اکثر ایرانی صحافی اور یونیورسٹی پروفیسرز بھارتی ٹی وی چینلز پر دن رات بیٹھے ہیں جہاں پاکستان ٹارگٹ ہے۔ وہی بھارت جس نے ایران پر حملے کی مذمت تک نہ کی، ایت اللہ علی خامنہ ای کی تعزیت نہ کی، پونے دو سو معصوم سکول بچیاں ہوں یا سمندر میں جان بحق 87 نیوی افسران بھارت خاموش رہا بلکہ حملے سے دو دن پہلے مودی صاحب اسرائیل گئے،ایرانی دوستوں کو ان کی قیادت پر کوئی غصہ نہیں نہ ہی وہ بھارتی چینلز /اینکرز اور ماہرین سے پوچھتے ہیں کہ تم کس منہ سے پاکستان پر برس رہے ہو ہمارے تو آپ سے تعلقات زیادہ تھے اور آپ کے منہ سے اف تک نہ نکلی۔ پاکستان جیسا بھی تھا حملوں کی مذمت کی، سیز فائر کرائی، مزاکرات کرانے کی کوشش کی اور بھارت نے کیا کیا۔ لیکن الٹا وہاں چینلز پر پاکستان کو گالیاں پڑ رہی ہوتی ہیں اور ہمارے ایرانی دانشور وہاں بیٹھے سن رہے ہوتے ہیں۔ پاکستان کا اتنا بنتا تھا کہ ایرانی پاکستان کی بھی کچھ عزت رکھتے۔ مزاکرات کے لیے اسلام آباد آتے اور یہاں امریکن کے منہ پرانکار کر کے چلے جاتے۔ اسلام آباد نہ آکر ایران نے جہاں کسی حد حد تک دنیا کی رائے کو اپنے خلاف کیا وہیں پاکستان کی پوزیشن بھی امریکہ اور دنیا کے دیگر ملکوں کی آنکھ میں کمزور کی۔ پاکستان کی کمزور پوزیشن کا ایران کو نقصان ہوگا فائدہ نہیں۔ مکمل پروگرام لنک 👇 via YouTube Neo News Fawad Ahmed Nasrullah Malik Rabeea

Rauf Klasra

75,112 Aufrufe • vor 4 Monaten