Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

سپریم کورٹ اگر پارلیمنٹ کے بنائے قانون کو ختم کردے تو پارلیمنٹ کو چاہئے پھر قانون بنا دے، پھر ختم کرے تو پھر بنا دے، ایک بار فیصلہ ہو جائے کہ اس ملک پر حکومت عوام کے منتخب نمائیندوں نے پارلیمنٹ کے ذریعےکرنی ہے یا سرکاری ملازموں نے !!!

101,740 Aufrufe • vor 2 Jahren •via X (Twitter)

10 Kommentare

Profilbild von Kippsam Malik
Kippsam Malikvor 2 Jahren

بلکل ایسا ہی ہونا چائیے اگر سرکاری ملازم قانون کو اُڑا دے تو اگلے ہی روز پھر قانون بنا لیں انج تے فر انج ای سئی

Profilbild von Hukam Saeed
Hukam Saeedvor 2 Jahren

آپ کے نزدیک اگر آپ کی پسندیدہ جماعت اپوزیشن میں ہے پھر حکومت کا حق سپریم کورٹ کا ہے اور اگر وہی جماعت حکومت میں ہو تو بس پھر حکومت کا حق صرف پارلیمنٹ کو ہے، ہائے منافقت

Profilbild von 🇵🇸طاغوت کش
🇵🇸طاغوت کشvor 2 Jahren

Qanoon na hogya absar alam ki ammi se taluq hogyaa jo baar baar banaya ja skta hai😡

Profilbild von شبانہ شوکت
شبانہ شوکتvor 2 Jahren

بہترین تجویز

Profilbild von FASEEH NAQVI
FASEEH NAQVIvor 2 Jahren

ابصار سر ، حقیقی طور پر بتائیں کیا اس وقت پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگ عوام کے حقیقی نمائندے ہیں ؟ اگر نہیں ہیں تو انکو یہ آئینی ترمیم کرنا سوٹ ہی نہیں کرتا اور ، ہمارے سیاستدان بھی کونسا سیاست دان ہیں! وہ تو عوامی نمائندے ہی نہیں بلکے خود ایک اکیسویں گریڈ کے بھرتی کیے ملازم ہیں۔

Profilbild von Abbas Nasir
Abbas Nasirvor 2 Jahren

👏🏿👏🏿👏🏿

Profilbild von Saqib Shabbir
Saqib Shabbirvor 2 Jahren

عوام کے منتخب نمائندے

Profilbild von ਸਨਾ ਫਾਤਿਮਾ 🇵🇸
ਸਨਾ ਫਾਤਿਮਾ 🇵🇸vor 2 Jahren

یہ کیابات ھوئی کہ پارلیمان آئین بنائےاور SC اسے ختم کردے! آئین نہ ھوگیا مذاق ھو گیا۔ ایسے تو کھلونے بھی نہیں بنتے ٹوٹتے۔ پہلے70 سال فوج کو جھیلا اب اس عدلیہ کو جھیلیں؟ فوج کیلئے تو خان ہی سزاکافی ھے لیکن عدلیہ کاحل یہ ھے کہ پارلیمنٹ اور سیاستدان خود کومضبوط کرکےاسکاہتھوڑا توڑیں۔

Profilbild von N Kamal
N Kamalvor 2 Jahren

۔ ایک غیر قانونی حکومت کس طرح قانون بنا سکتی ہے ؟ اس گدھے ابصار عالم کو کوئ بتائے کہ عدالت کو اس پرُاعتراض نہیں ہوگا کہ پارلیمنٹ قانون بنا سکتی ہے یا نہیں، مسئلہ یہُ ہے کے یہُپارلیمنٹ عوام کے ووٹ سے نہیں آئ۔ ایکُدفعہ عوام کے نمائندوں کو پارلیمنٹ دے دیں، پھر جو قانون بنائے جائیں گے وہُ قانونی ہوں گے ۔

Profilbild von Najam Ali
Najam Alivor 2 Jahren

💯

Ähnliche Videos

میں یہ سوچتا ہوں کہ محسن نقوی نے کس capacity میں یہ باتیں کی ہیں، وہ کابینہ کے رکن ہیں، اگر ناکام ہو چکا ہے تو پھر یا تو اپنی حکومت سے کہیں کہ مستعفی ہو جائےیا پھر کم از کم خود مستعفی ہو کر میدان میں آجائے، نوکری بھی اسی تنخواہ پر کرنی ہے اور باتیں بڑی بڑی کرنی ہیں تو میں اب کیا کہہ سکتا ہوں ، '''چھوٹے لوگوں کو بڑا کہنا بڑا ہے مجھ کو اکثر ایسی تکلیف کئی بار اٹھائی میں نے''' یہاں پر پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہو گئی ہے، ہم تو کہتے ہیں کہ اس کا حل ہے آج بھی ہے کل بھی تھا وہ ملک کا آئین ہے آئین کے مطابق ملک کو چلاو، جمہوریت بھی ٹھیک ہو جائے گی، قانون سازی شروع ہو جائے گی، عوام میں خوداعتمادی بھی آجائے گی، اصل میں ہماری مرضی کی حکومت ہونی چاہئے، ہم پر جبرا حکومت مسلط نہ کی جائے لیکن وہ دھاندلیوں کے ذریعے دھوکہ دیتے ہیں جیسے واقعی عوام کی حکومت ہے جبکہ یہ بھی انہی کی حکومت ہوتی ہیں اور پیچھے لگام ان کے پاس ہوتی ہے، مولانا فضل الرحمن کا محسن نقوی کے بیان پر ردعمل

Siddique Jan SMT

15,684 Aufrufe • vor 27 Tagen

ہمارے ملک میں ایک آئین ہے، اور اس آئین کی روح سے ایک پارلیمنٹ ہے۔ یہ عوام کی نمائندہ ہے، اور اس پارلیمنٹ کا فرضِ منصبی ہے کہ وہ عوام کی قوت کو مضبوط کرے، عوام کے حقوق کی جنگ لڑے، عوام کو طاقتور بنائے۔ لیکن آج ہماری پارلیمنٹیں مقتدرہ کی قوت میں اضافہ کر رہی ہیں اور عوام کو کمزور بنا رہی ہیں۔ پاکستان کے عوام آج کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ پاکستان کے عوام ووٹ ڈالتے ہیں، لیکن عوام کا ووٹ منظرِ عام پر نہیں آتا، پتہ نہیں کہاں غائب ہو جاتا ہے۔ گلگت میں الیکشن ہوا، اور ایک پولنگ اسٹیشن پر، جہاں جمعیۃ علماء کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ جیت رہی تھی، اس کے بکسے دریا میں ڈال دیے گئے۔ اب بتاؤ، دریا میں بکسے کہاں ڈھونڈو گے؟ ووٹ کہاں سے گنو گے؟ اب اس قسم کے عوام کے حقِ رائے دہی پر ڈاکا ڈالا جائے گا، اس کے حقِ بیعت پر ڈاکا ڈالا جائے گا، اور پارلیمنٹ عوام کے حق کی جنگ نہیں لڑے گی، بلکہ مقتدرہ کو طاقتور بنانے کی جنگ لڑے گی، جو دھاندلی کراتی ہے، جو نتائج تبدیل کراتی ہے، جو عوام کے ووٹ کو اپنے قبضے میں لے کر اپنی مرضی کے نتائج سامنے لاتی ہے، ان کو طاقتور بنائے گی، تو پھر یہی انداز ہوگا کہ نہ آپ کو گندم ملے گی اور نہ آپ کو چاول ملے گا۔ پھر بھوک اور افلاس کے علاوہ آپ کے پاس کچھ نہیں ہوگا، پھر فساد کے علاوہ آپ کے حصے میں کچھ نہیں ہوگا۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا قصور میں خطاب #مولانا_کی_للکار

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

20,900 Aufrufe • vor 1 Monat