Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

سکردو میں موجود جنت کی جھیل اپر کچورا جھیل

19,904 Aufrufe • vor 1 Jahr •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

سکردو انے والے سیاح حضرات یہ تحریر ضرور پڑھ لیں بہت مفید معلومات پیش خدمت ھے ۔ گلگت بلتستان تین ریجن پر مشتمل ہیں گلگت، دیامر، بلتستان, بلتستان ریجن کے اندر مزید چار ضلعے آتے ہیں سکردو، گانچھے، کھرمنگ اور شگر جبکہ سکردو ڈسٹرکٹ بلتستان ریجن کا صدر مقام ہے۔باقی تین اضلاع میں جانے کیے لیے بھی سکردو سے ہی روٹ لینا پڑتا ہے۔سکردو ڈسٹرکٹ ترقی اور آبادی دونوں میں باقی تمام اضلاع پر برتری حاصل ہیں۔باقی تمام اضلاع کے لوگ بھی زیادہ تر روزگار زندگی کیےلیے سکردو ڈسٹرکٹ کی طرف روخ کرتے ہیں۔ اس ڈسٹرکٹ میں جو تاریخی اور سیاحتی مقامات ہیں ان کا نام درجہ ذیل ہیں: 1)دیوساٸی پلین 2)کھرفوچو(تاریخی قلعہ) 3)شنگیریلا لیک 4)اپر کچورا لیک 5)کچورا ژھوق ویلی 6) بشو جنگل 7)چندا ویلی 8)سدپارہ ڈیم 9)بدھاراک 10)حسین آباد میوزیم(جس میں زمانہ قدیم کے ہر آلات موجود ہیں) 11)سٹی پارک 12) سرد صحرا 13) کتپناہ لیک 14)اور سب سے اہم سکردو ڈسٹرکٹ میں ایک organic village بھی ہیں جہاں ابھی بھی قدیم طرز زندگی ہیں۔۔۔۔۔۔ وغيرہ وغيرہ {2} اس کے بعد ضلع گانچھے کی بات کروں تو یہ ڈسٹرکٹ سکردو سے دو گھنٹے کی دوری پر ہے۔یہ ڈسٹرکٹ خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے اس ڈسٹرکٹ کی چند تاریخی اور سیاحتی مقامات درجہ ذیل ہے, 1)خپلو فورٹ 2)چقچن مسجد(یہ مسجد کٸی سو سال پرانی مسجد ہیں) 3)سیاچن گلیشیرز 4)سلنگ پارک جوکہ قدرتی پارک ہے۔ 5)دریا شیوک ( جو بھارت سے آتے ہیں) 6)انڈین باڈر 7)ہوشے ویلی 8)بلغار سپنگ 9)مشہ بروم ویؤو پوائنٹ سرمو 10)فرانو ترتک باڈر 11)گیاری یادگار وغيرہ وغيرہ ۔۔۔۔۔۔ {3}ضلع شگر کے بارے میں بتاتے چلوں تو یہ خطہ نہ صرف خوبصورت پہاڑوں سے مانے جاتے ہیں بلکہ بہت ہی خوبصورت تاریخی مقامات بھی موجود ہیں {دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی k2 بھی اس ڈسٹرکٹ میں موجود ہے اور دنیا میں 8000 اونچاٸی سے اوپر والی 5 پہاڑ بھی اس خطہ میں موجود ہیں}یہ ڈسٹرکٹ سکردو سے آدھ گھنٹےکی فاصلے پر موجود ہے ڈسٹرکٹ شگر کےتاریخی اور سیاحتی جگہوں کا نام مندرجہ ذیل ہیں: 1) شگر فورٹ 2)بلینڈ لیک{blind lake} 3)دنیا کی بلند ترین اور سرد ریگستان{world highest cold desert} 4)کے ٹو پہاڑ {k2} 5)تھلے لہ 6)خشوپی باغ 7)خانقاہ ملعی{ 600 سال پرانی مسجد ہیں} 8)دریا سندھ اور داسو ٹنل وغيرہ وغيرہ۔۔ {4۔ اب آخر میں میں ضلع کھرمنک کے بارے میں بتاتے چلوں تو یہ ڈسٹرک باقی تمام اضلاع کی طرح خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہیں۔یہاں کے لوگ بہت زیادہ مہمان نواز ہیں.... تاریخی اور سیاحتی مقامات 1منٹھوکھا واٹر فال سات سو سال پرانہ خانقاہ معلٰی منٹھوکھا 2)ھیڈن ویوپوائنٹ غاسینگ 3)خموش واٹر فال۔ 4)کھرمنگ فورٹ 5)غوراشے جھیل 6)آستانہ شیخ علی مرحوم برولمو یہاں مانگی گئی کوئی دعارد نہیں ہوتی ہے 7)پاک انڈیا بارڈر دو دریاؤں کاسنگھم وغيرہ وغيرہ موجود ہیں۔ تحریر: سلیم عباس

Gilgit Baltistan Tourism.

45,859 Aufrufe • vor 2 Jahren

عطا آباد جھیل کے عین درمیان تعمیر ہونے والے ہوٹل کا سیوریج کہاں جا رہا ہے؟ ⚠️ مسئلہ یہ ہے کہ: جب تک کوئی “گورا” سیاح یا ویلاگر کسی چیز کو ہائی لائٹ نہیں کرتا، نہ میڈیا توجہ دیتا ہے، نہ حکومت ایکشن لیتی ہے، نہ ہی عوامی شعور بیدار ہوتا ہے لیکسس Lexus Hotel ہنزہ کے بعد اب Dolphin Floating Resort کا سیوریج بھی براہ راست جھیل میں چھوڑے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ جب تک کوئی گورا سیاح یا ویلاگر کسی مسئلے کو ہائی لائٹ نہ کرے، وہ بات وائرل نہیں ہوتی، اور نہ ہی حکومت کوئی ایکشن لیتی ہے عطاء آباد جھیل کے درمیان بنے اس ہوٹل کے بارے میں سنجیدہ خدشات سامنے آ رہے ہیں کہ اس کا سیوریج براہِ راست جھیل میں چھوڑا جا رہا ہے۔ ہم نے پہلے بھی لیکسس ہوٹل کے بارے میں نشاندہی کی تھی، لیکن تب بھی حکومت نے تب تک کوئی قدم نہیں اٹھایا جب تک ایک غیر ملکی سیاح نے ویڈیو وائرل نہیں کی۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ مقامی لوگوں کی آواز کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے، جب کہ اصل زمینی حقائق سے ہم ہی واقف ہوتے ہیں۔ اب دوبارہ ہم سوال اٹھا رہے ہیں: ❓ کیا واقعی اس ہوٹل کا گندہ پانی جھیل میں جا رہا ہے؟ ❓ کیا کسی ادارے نے اس کی منظوری سے پہلے سیوریج اور ماحولیاتی نظام کا معائنہ کیا تھا؟ ہم حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ: •فوری طور پر اس ہوٹل کی تحقیقات کی جائیں۔ •اگر الزامات درست ہوں تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے — چاہے جرمانہ ہو یا عارضی بندش۔ یہ صرف ایک ہوٹل کا معاملہ نہیں، پورے عطاء آباد جھیل کے قدرتی ماحول، پانی کے معیار اور سیاحتی ساکھ کا سوال ہے۔ تمام مقامی لوگ، ماہرین، اور باخبر شہری اس پر ایک آواز ہو کر اپیل کر رہے ہیں کہ حکومت سنجیدگی سے ایکشن لے۔

Gilgit Baltistan Tourism.

38,784 Aufrufe • vor 11 Monaten