Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

عطا آباد جھیل کے عین درمیان تعمیر ہونے والے ہوٹل کا سیوریج کہاں جا رہا ہے؟ ⚠️ مسئلہ یہ ہے کہ: جب تک کوئی “گورا” سیاح یا ویلاگر کسی چیز کو ہائی لائٹ نہیں کرتا، نہ میڈیا توجہ دیتا ہے، نہ حکومت ایکشن لیتی ہے، نہ ہی عوامی شعور...

38,837 görüntüleme • 1 yıl önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں
0:30

Sensitive content

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں

Khawaja Yaseen Usmani

73,664 görüntüleme • 2 yıl önce

عطا قباد جھیل۔گزشتہ سال کا یہ منظر اور آج کی تشویش۔۔ یہ عطااباد جھیل کا گزشتہ سال کا خوبصورت منظر ہے، جب جھیل کا نیلا شفاف پانی سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتا تھا اور لوگ اس کے ٹھنڈے پانی میں خوب انجوائے کرتے نظر آتے تھے۔ 💙🏔️ مگر آج صورتحال تشویشناک دکھائی دے رہی ہے۔ پانی کی سطح میں کمی کے ساتھ جھیل کے کئی حصوں میں ریت اور مٹی جمع ہوتی جا رہی ہے، جس سے اس خوبصورت قدرتی اثاثے کا حسن بھی متاثر ہو رہا ہے۔ عطاباد جھیل صرف ہنزہ ہی نہیں بلکہ پورے گلگت بلتستان کی سیاحت کا ایک اہم مرکز اور قدرت کا انمول تحفہ ہے۔ اگر پانی کی کمی، ریت اور مٹی کے جمع ہونے اور دیگر ماحولیاتی مسائل پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو مستقبل میں اس جھیل کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکامِ بالا سے گزارش ہے کہ اس جھیل کی موجودہ صورتحال کا فوری جائزہ لیا جائے، ماہرین کی مدد سے اس کے تحفظ کے لیے مؤثر اور دیرپا اقدامات کیے جائیں، تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس خوبصورت جھیل کے نیلے پانی اور حسین مناظر سے لطف اندوز ہو سکیں۔ اتاباد جھیل کو بچانا صرف ہنزہ کی نہیں، پورے گلگت بلتستان کی ذمہ داری ہے۔ 🏔️💙

Gilgit Baltistan Tourism.

29,353 görüntüleme • 12 gün önce

فوج نے اسٹنٹ مین Mian Abbad Farooq کو کسی وجہ سے رہا کیا ہے۔ لوگوں نے جب جیل وین میں بلند کیے گئے مکے والی اس کی منظم تصویر دیکھی، تو یہ سمجھا کہ وہ باہر آکر اڈیالہ جیل پر چھاپہ مارے گا اور عمران خان کو آزاد کروائے گا۔ لیکن رہا ہونے کے بعد سے اب تک اس اسٹنٹ مین نے صرف تماشے ہی کیے ہیں، چاہے وہ سیاسی قیدیوں کے لیے چندہ جمع کرنے کی خاطر ذاتی ویب سائٹس بنانا ہو (جبکہ پی ٹی آئی کے پہلے سے کئی ایسے پلیٹ فارمز موجود ہیں)، یا یہ دعویٰ کہ پنجاب میں عوام کو متحرک کرنا مشکل ہے کیونکہ وہاں پی ٹی آئی کی حکومت نہیں ہے، جو دراصل کچھ نہ کرنے کا بہانہ ہے۔ اگر یہ سب باتیں بے معنی لگیں، تو اس کا کے پی کا بجٹ سپورٹ کرنا، غدار علی امین گنڈاپور کے ساتھ کھڑا ہونا، عمران خان کی ہدایات کی کھلی خلاف ورزی کرنا، اور فوج کے مائنس عمران خان فارمولے کا حصہ بننا یقیناً سب کچھ واضح کر دیتا ہے۔ اگر عمران خان نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ بجٹ اُن کی منظوری کے بغیر منظور نہیں ہو سکتا، تو آپ کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والے کہ اگر بجٹ پاس نہ ہوا تو حکومت گر جائے گی؟ ایسی حکومت رکھنے کا کیا فائدہ جو فوج کی کٹھ پتلی ہو؟ جیل میں گزارا ہوا وقت نہ تو وفاداری کی ضمانت ہے اور نہ ہی اہلیت کی۔ اس کا مختلف صلاحیتوں کا حامل بیٹا اس کی حراست کے دوران انتقال کر گیا، جو ایک گہری ذاتی قربانی ہے، لیکن یہ بھی نہ وفاداری کی ضمانت ہے اور نہ ہی قابلیت کی۔ مبارک زیب کا بھائی ریحان زیب کو دہشت گردوں نے قتل کر دیا، اور آج مبارک زیب کس شکل میں سامنے آیا ہے، سب کے سامنے ہے۔ پی ٹی آئی کے حمایتیوں کو صرف دکھاوے اور ڈرامے کی بنیاد پر ایسے اسٹنٹ مین کو ہیرو بنانا بند کرنا ہوگا۔

Pakistan Walli

75,986 görüntüleme • 1 yıl önce

نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد ملتان سروسز کلب میں—اس زمانے میں سروسز تھا، پھر ایم جی ایم بنایا انہوں نے—ایک فل کرنل کے ساتھ میرا مذاکرہ ہوا، جو حاضر سروس تھا اور تازہ تازہ ڈیفر (defer) ہوا تھا کہ ترقی نہیں ہوئی تھی۔ بلوچستان پر گفتگو ہوئی تو میں نے اسے کہا کہ، ”یہ اکبر بگٹی کو آپ لوگوں نے اس حالت میں مار کے بہت بڑا نقصان کیا ہے، اپنا بھی اور ہمارے ملک کا بھی۔“ کہنے لگا کہ، ”نہیں، آپ کو نہیں پتا۔“ میں نے پوچھا کہ، ”کیا نہیں پتا؟ خیر بخش مری سے زیادہ نیشنلسٹ تو کوئی بھی نہیں ہے بلوچستان میں، نہ کوئی تھا۔ وہ تو کہتا ہے کہ اکبر بگٹی کبھی بھی ان کے ساتھ نہیں تھا، کاش کہ ان کے ساتھ ہوتا!“ پھر کہتا ہے کہ، ”نہیں، آپ لوگوں کو نہیں پتا۔“ میں نے کہا کہ، ”بتاؤ پھر۔“ وہی ٹپیکل منجن کہ وہ پاکستان دشمن ہو چکا تھا، نواب اکبر بگٹی۔ وہ ڈاکٹر کے ریپسٹ کو پکڑوانا—اگر وہ فوجی ہے—تو وہ پاکستان دشمن ہو گیا؟ جب ذوالفقار علی بھٹو نے فوج کشی کی، خیر بخش مری اور اس کے قبیلے کے خلاف، تو یہی نواب اکبر بگٹی اس وقت بھٹو کا گورنر تھا؛ اور ان کو بڑا پتا چلتا ہے کہ گورنر اسٹیٹ کا نمائندہ ہوتا ہے، حکومت کا نہیں۔ تھوڑی دیر تو میں نے اس کی بکواس برداشت کی، پھر میں نے کہا، ”کہاں کے رہنے والے ہو؟“ کہتا ہے، ”چکوال کا۔“ میں نے کہا، ”ریٹائرمنٹ کا کیا پلان بنایا ہے؟“ کہتا، ”یہ میری ذاتی زندگی ہے۔“ میں نے کہا، ”تمہاری ذاتی زندگی تمہارے باپ نے تمہیں دی ہے؟ تمہاری آبائی زمین کا نہیں پوچھ رہا، یہ پوچھ رہا ہوں کہ تم نے تنخواہ میرے سے لی ہے، ریٹائرمنٹ کی پینشن مجھ سے لو گے! دو تین ڈیفنسوں میں اور کنٹونمنٹ میں جو تمہیں پلاٹ مل رہے ہیں، یہ میری زمین ہے۔ تم چکوال میں جا کے استنجا کرو گے اور میں کوہِ سلیمان میں بیٹھتا ہوں۔ مجھے دوسری سائیڈ والے بلوچ بے غیرت کہتے ہیں کہ میں پنجابیوں کے ساتھ ملا ہوا ہوں۔ تم ریٹائرمنٹ کے بعد چکوال میں جا کے بیٹھو گے اور میں وہیں بیٹھوں گا، ڈائریکٹ ان کی ہٹ (hit) میں!“ یہ ہیں جی ہمارے فیصلے کرنے والے، اور ان کا والد ان کے ورثے میں وہ ٹکسال بھی چھوڑ کے گیا تھا، جس میں یہ غدار اور غیر مسلم کا سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہیں! آخری بات بھی تم لوگوں نے کہ اب سخت فیصلے کیے جائیں گے، مجھے اپنے تین سالہ دور میں نرم فیصلے بتاؤ ؟ پنجاب پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ فاٹا کشمیر اور بلوچستان میں کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سندھ زرداری کو دے کہ تو کوئی سندھ پہ نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سب سے بڑی پولیٹیکل پارٹی کو اس حد تک دیوار سے لگا کے تو تم نے ملک پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ ڈروز وقت سے کہ یہ سب مل کے جب تم پہ ایک سخت فیصلہ مسلط کریں گے !

Jack~The~Ripper

19,361 görüntüleme • 2 ay önce

دلجیت دوسانج نہ اتنا بڑا اداکار ہے کہ اس جیسا کوئی اور اداکار ساؤتھ ایشیاء میں موجود نہ ہو اور گلوکار تو خیر وہ بہت ہی ایوریج سا ہے مگر اس میں کیا ایسی بات ہے کہ اس نے اس قدر پزیرائی حاصل کی ہے؟ میرے نزدیک اسکی مقبولیت کی بڑی وجہ اسکا خود کو ایک اچھے اور بڑے انسان کے طور پر پیش کرنا ہے۔ اس سے فرق ہی کوئی نہیں پڑتا کہ آپ لمبی لمبی چھوڑنے کی بجائے اپنی کمزوریوں کا اعتراف کھلے عام کریں۔ یہ کام اس سے پہلے عطااللہ خان عیسیٰ خیلوی کر چکا ہے۔ وہ جب بھی بات کرتا ہے تو اعتراف کرتا ہے کہ میں کوئی گلوکار نہیں میں صرف دل سے گانے والا ایک عام آدمی ہوں جس نے کسی قسم کی کلاسیکل موسیقی کی تعلیم حاصل نہ کی،مگر کیا اسکے ان اعترافات سے لوگوں نے اسے سننا چھوڑ دیا؟ عطااللہ جیسا عروج شاید اس خطے کے فنکاروں کی خواہش ہوتی ہے۔ یہ کام دلجیت دوسانج بھی کر رہا ہے کبھی لمبی لمبی نہیں چھوڑتا کبھی بڑے فنکاروں سے اپنا موازنہ نہیں کرتا بلکہ انکا ذکر نہایت ادب سے کرتا ہے۔ کبھی کسی کے جزبات کو مجروح کرنے والی بات نہیں کرتا۔۔۔ اور عروج دیکھیں کہ آج ساؤتھ اشیاء کے کسی دوسرے ملک میں سب سے بڑے شو کا اعزاز اس کے نام ہوا۔ بڑا فنکار ہونا ایک چیز ہے مگر بڑا انسان ہونا الگ بات۔ دلجیت دوسانج نے ابھی تک خود کو بڑا انسان ثابت کیا ہے جسے میں اسکے عروج کی بڑی وجہ سمجھتا ہوں ورنہ اس جیسے اداکار اور گلوکار تو سینکڑوں اس خطے میں موجود ہیں۔ (منقول)

Asad R Chaudhry

33,274 görüntüleme • 21 gün önce

شبر زیدی صاحب! اگر آپ کے منطقی پیمانے کو ہی ترازو مانا جائے، تو پھر میرا اور آپ کا بھی نہ کھانا ملتا ہے، نہ گانا ملتا ہے اور نہ ہی زبان ملتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم دونوں کے درمیان 'آئین' کے ایک قانونی رشتے کے علاوہ کوئی چیز سانجھی نہیں ہے۔ آپ کو احمد آباد کی زبان اور کھانا مبارک ہو، لیکن اس حقیقت سے نظریں نہ چرائیں کہ اس سرزمین کا ایک بڑا حصہ یعنی خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی بیلٹ، تاریخی، جغرافیائی، لسانی اور خون کے رشتے سے افغانستان کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ ڈیورنڈ لائن ایک سیاسی لکیر ہو سکتی ہے، لیکن وہ ہزاروں سال کی تاریخ، ثقافت اور اس 'پشتون ولی' کو ختم نہیں کر سکتی جو ہمیں ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ آپ کی زبان اور کپڑا نہیں ملتا؟ تو صاحب، ہماری زبان بھی ایک ہے، ہمارا لباس (پشتون لباس) بھی ایک ہے اور ہماری غیرت کے کوڈز بھی ایک ہیں۔ اگر آپ کو اپنی جڑیں گجرات میں نظر آتی ہیں، تو ہمیں اپنی جڑیں قندھار، جلال آباد اور کابل میں نظر آتی ہیں۔ آپ اپنے احمد آباد کے قصے سنائیں، لیکن ہمیں ہمارے بھائیوں سے دور کرنے کی کوشش نہ کریں۔ SyedShabbarZaidi

Hashim Khan

16,927 görüntüleme • 5 ay önce

اگر ادارے سو رہے ہیں تو اب جاگنے کی ضرورت ہے نیند کا وقت گزر گیا وہ شخص جو خود کو عشقِ عمران میں مبتلا کہلاتا ہے آج وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی ہے اور وہ ایسے بیانات دے رہا ہے جس میں ہماری مسلح افواج کو بدنام کیا جا رہا ہے “سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوجی حکومت پشتونوں کی قاتل ہے اور وہ اس کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہوں کیونکہ فوجی حکومت نے پشتون علاقوں پر زبردستی قبضہ کر رکھا ہے” یہ سراسر بیہودہ الزامات اور قوم کو منتشر کرنے کی سازش ہے یہ بیانات نہ صرف ملکی مفاد کے خلاف ہیں بلکہ ایسے بیانات کو بیرونی عناصر اور افغان صفحات پر خوشی سے شیئر کیا جا رہا ہےقومی سلامتی اور اداروں کی ساکھ اتنی آسانی سے پامال نہیں ہونے دینی چاہیے قومی مفاد میں ضروری ہے کہ کوئی بھی سیاستدان یا افسر ایسا پروپیگنڈا پھیلائے تو آئینی اور قانونی راستے سے جواب دیا جائے تنقید کا حق ہر کسی کو ہے مگر بے بنیاد الزامات برداشت نہیں کیے جائیں گے ہم پاکستانی آنکھیں بند کر کے ایسے ہراپوگینڈے کو پھیلنے نہیں دے سکتے پاکستان زندہ باد 🇵🇰

Safina Khan

85,543 görüntüleme • 11 ay önce

ایک خاتون تیماردار اس وقت مریض کے ساتھ موجود ہیں۔ ڈاکٹر صاحب مریض کا گلاسگو کومہ اسکیل (GCS) جانچنے کے لیے Painful Stimulus استعمال کر رہے ہیں، جو طبی معائنے کا ایک معمول، مستند اور عالمی طور پر تسلیم شدہ طریقہ ہے۔ وہ یہ معائنہ مکمل پیشہ ورانہ انداز میں انجام دے رہے ہیں۔ نہ کوئی غیر مناسب حرکت ہے، نہ کوئی مذاق، اور نہ ہی کوئی ایسا رویہ جس پر اعتراض کیا جا سکے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کل بغیر حقائق جانے کیمرہ نکال کر لوگوں کو بدنام کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک شخص نے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دی، حالانکہ اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ ڈاکٹر مریض کی اعصابی حالت جانچنے کے لیے کن طبی طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔ جن ڈاکٹر صاحب کی ویڈیو بنائی گئی، ان کے بارے میں ساتھیوں اور مریضوں کی رائے یہی ہے کہ وہ ایک نہایت قابل، محنتی اور ذمہ دار معالج ہیں، جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انتہائی دیانت داری اور لگن کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اگر ڈاکٹر مریض کا مکمل اور باریک بینی سے معائنہ کرے تو بھی اعتراض، اور اگر جلدی میں معائنہ کرے تو بھی شکایت۔ آخر ڈاکٹر جائیں تو جائیں کہاں؟ ایک طرف ہم چاہتے ہیں کہ مریض کو بہترین طبی نگہداشت ملے، اور دوسری طرف انہی طبی طریقہ کار کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کر کے ڈاکٹروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ تنقید ضرور ہونی چاہیے، لیکن حقائق، علم اور انصاف کے دائرے میں رہ کر۔ کسی چند سیکنڈ کی ویڈیو کی بنیاد پر کسی معالج کی نیت یا کردار پر فیصلہ دینا نہ منصفانہ ہے اور نہ ہی ذمہ دارانہ طرزِ عمل.

Dr M Shujat Rasool

122,023 görüntüleme • 4 ay önce

ایک بیل، ایک عیدگاہ اور ایک لمحۂ فکر یہ واقعہ کراچی کے علاقے نارتھ کراچی سیکٹر 9 کی ایک عیدگاہ کا بتایا جا رہا ہے، جہاں عیدالاضحیٰ کی نماز کے دوران ایک بیل رسی تڑوا کر نمازیوں کے اجتماع میں جا پہنچا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس نے نہ کوئی بھگدڑ مچائی، نہ کسی کو نقصان پہنچایا اور نہ ہی اشتعال کا مظاہرہ کیا، بلکہ خاموشی سے ایک طرف کھڑا ہو کر ماحول کا حصہ بن گیا۔ اس ویڈیو کو دیکھ کر بعض افراد کے ذہن میں یہ سوال آ سکتا ہے کہ شاید یہ مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک حقیقی واقعہ ہے۔ یہ بیل میرے ایک عزیز دوست کا ہے اور یہ ویڈیو بھی ان کے گھر والوں نے اپنے موبائل فون سے خود ریکارڈ کی ہے۔ یقیناً ہم یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ اس واقعے میں کوئی غیر معمولی روحانی راز پوشیدہ ہے، لیکن یہ منظر انسان کو غور و فکر کی دعوت ضرور دیتا ہے۔ جانور عموماً شور، خوف اور اشتعال پر فوری ردِعمل دیتے ہیں، جبکہ سکون، اطمینان اور محفوظ ماحول ان کے رویّے پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ہزاروں نمازیوں کے درمیان پہنچنے کے باوجود یہ طاقتور جانور پُرسکون رہا۔ یہ مختصر سا منظر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عبادت صرف انسان کے دل و دماغ پر ہی اثر نہیں ڈالتی بلکہ اس کے اردگرد کے ماحول میں بھی سکون، نظم اور اطمینان پیدا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اپنے اپنے انداز میں اس کی قدرت اور حکمت کی گواہی دیتی ہے۔ کبھی پرندوں کی چہچہاہٹ، کبھی چیونٹیوں کی نظم و ضبط، کبھی شہد کی مکھیوں کا نظام، اور کبھی ایک طاقتور بیل کا غیر متوقع سکون انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ اس کائنات کی ہر شے اپنے رب کے حکم کی پابند ہے۔ یہ ویڈیو اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک خوبصورت جھلک اور غور و فکر کا ایک موقع محسوس ہوئی، اس لیے آپ کے ساتھ شیئر کر دی۔ "آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات اور دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔" #عیدالاضحی #قربانی #عیدگاہ #اللہ_کی_قدرت #قدرت_کے_مناظر #غور_و_فکر #اسلام #نماز #خشوع_و_خضوع #روحانیت #EidUlAdha #Qurbani #Faith #Prayer #Spirituality #NatureAndFaith #SubhanAllah #MashaAllah

Dairy & Cattle Farmers Association (DCFA) Pakistan

29,059 görüntüleme • 4 ay önce

سوشل میڈیا: نئی نسل کا دوست یا دشمن؟ سویڈن نے سکولوں میں سکرین اور ڈیجیٹل طریقہ تعلیم پر پابندی لگا کر دوبارہ سے روایتی طریقہ تعلیم کو فروغ دیا ہے اس وقت دنیا بھر میں بالخصوص ترقی یافتہ ممالک میں سوشل میڈیا کے اثرات زیر بحث ہے کئی ممالک نے سولہ سال تک کے بچوں کو سوشل میڈیا تک رسائی ختم کر دی ہے کئی ممالک نے ختم نہیں کی محدود کر دی ہے تاہم ایک بات پر اتفاق ہے کہ سوشل میڈیا لوگوں کو کند ذہن بنا رہا ہے کیونکہ یہ انکو دماغی لحاظ سے سہل پسند اور غیر تنقیدی بنا رہا ہے اسکے سبب ذہنی یکسوئی ختم ہوتی جا رہی ہے صارفین کا کسی بھی نقطے پر سوچ کو مرتکز کرنا چند سیکنڈ تک محدود ہو گیا ہے اور یہ بحران بچوں کے معاملے میں اور خطرناک ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ انکی دماغی اور جسمانی نشوونما کی عمر ہوتی ہے وہ ذہنی طور پر پسماندہ ہو رہے ہیں کھیل کود کی بجائے سکرین پر زیادہ ٹائم گزار رہے ہیں جس سے وہ کئی ذہنی امراض کا شکار ہو رہے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ ان میں بین الشخصی تعلق بنانے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے وہ ایک دوسرے سے بات کرنے کی بجائے سوشل میڈیا میں مصروف رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ان میں emotional intelligence کا فقدان ہے سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان میں اس بارے سوچ بچار پائی جاتی ہے جواب بدقسمتی سے نفی میں ہے حکومت تو دور کی بات والدین کو بھی اس بارے زیادہ آگاہی نہیں بلکہ وہ فون کو کھلونے کا درجہ دیتے ہیں کہ بچے کے ہاتھ میں دے دیں وہ اس فون پر لگا رہے اور یہ اپنے فون پر

Umar Cheema

13,621 görüntüleme • 6 ay önce

ابھی ابھی آغا شیخ سرور سے بات ہوئی، وہ کوریج میں مصروف تھا اور لوگوں کی کوریج کرنے کے لیے قافلے کی مرکزی گاڑیوں سے الگ ہو کر ایک موٹر سائیکل سوار سے لفٹ لے کر لوگوں کے درمیان کوریج کر رہا تھا، ویڈیوز بنا رہا تھا، اپنی کمنٹری کر رہا تھا کہ اچانک ایک ڈالہ اس بائیک کے آگے آیا اور ڈالے میں سوار لوگ اترے اور وہاں سے امین اللہ نام کا شخص اترا اور پھر انہوں نے آغا شیخ سرور کو مارنا شروع کر دیا۔ آغا شیخ سرور کو مارتے ہوئے وہ یہ بھی کہہ رہا تھا اپنے گارڈز سے کہ اس کو گولی مار دو۔ آغا شیخ سرور نے بتایا کہ اس کے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے اور جبڑے ڈسلوکیٹ ہوئے ہیں زبان پہ کٹ لگے ہیں اور وہ بری طرح سے زخمی ہے۔ صرف آغا شیخ سرور کو نہیں زعیم لغاری اور ان کے ساتھ ساتھ شاکر اعوان کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ وہ کہتے ہیں اگر مینا خان آفریدی بیچ میں آ کر نہ بچاتے تو مجھے گولی ماری جا سکتی تھی۔ آغا شیخ سرور نے یہ بھی کہا کہ اس کو کارکنوں نے بھی بہت سپورٹ کیا اور مارنے والوں سے بچانے میں مدد کی۔ میں نے پوچھا کہ یہ امین اللہ نام کا شخص کیوں تشدد کروا رہا تھا، کیوں آپ کی جان کے پیچھے پڑ گیا؟ تو اس نے کہا مجھے کسی نے یہ بتایا کہ امین اللہ ہی ٹی آئی حیدر آباد کا کوئی عہدیدار ہے اور اسے اس بات پر غصہ تھا کہ لیاری کی کوریج کے موقع پر آغا شیخ سرور نے جب ایک جگہ کوریج کی تو امین اللہ کے کسی مخالف کو کوریج ملی تھی اور امین اللہ کو اس بات کا شدید رنج تھا۔ اب یہ تینوں صحافی اس کوریج کا بائیکاٹ کرنے ارادہ رکھتے ہیں

Tariq Mateen

72,391 görüntüleme • 1 ay önce