Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

سہیل آفریدی نے اپنے خطاب کے اختتام پر جیسے ہی کہا کہ “جیل اصلاحات کا آغاز اڈیالہ جیل سے ہونا چاہیے”، ویڈیو کے 9 ویں سیکنڈ پر واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ مریم نواز بھی اس پر تالیاں بجاتی نظر آ رہی ہے،سہیل آفریدی کی تقریر...

43,290 görüntüleme • 2 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ایک 13 سیکنڈ کی شارٹ ویڈیو سوشل میڈیا پر غلط تشریح کے ساتھ وائرل کی جا رہی ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ ان کی چھوٹی بیٹی نے 13 سال کی عمر میں گریجویشن مکمل کی۔ اس دعوے کی حقیقت جاننے کے لیے ہم نے سپریم کورٹ میں قیدیوں سے متعلق ریفارمز کانفرنس میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی تقریباً 15 منٹ کی مکمل تقریر لفظ بہ لفظ سنی۔ تقریر میں انہوں نے دراصل کہا جن الفاظ کی ہو بہو تشریح اس طرح تھی: جیل کی سلاخوں کے پیچھے موجود کسی قیدی کے لیے اپنے پیاروں سے ملاقات محض ایک ملاقات نہیں ہوتی، بلکہ یہ اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی بھی ہوتی ہے کہ ان دیواروں کے باہر زندگی اپنی رفتار سے آگے بڑھتی رہتی ہے۔ “میری چھوٹی بیٹی، جس نے حال ہی میں گریجویشن مکمل کی، وہ 13 سال کی تھی جب جیل میں مجھ سے ملنے آتی تھی اور روتے ہوئے واپس جاتی تھی۔” واضح ہے کہ 13 سال کی عمر کا تعلق بیٹی کے جیل میں ملاقات کے زمانے سے ہے، نہ کہ گریجویشن مکمل کرنے سے۔ مریم نواز شریف یہ واقعہ قیدیوں اور ان کے اہلِ خانہ کو درپیش مشکلات اور قیدیوں کے حقوق کے تناظر میں بیان کر رہی تھیں۔ لیکن ان کی بات کا ایک مختصر حصہ سیاق و سباق سے کاٹ کر اس کا مطلب بدل دیا گیا اور پھر اسے پروپیگنڈے کے طور پر پھیلایا گیا۔ نتیجتاً، یہ دعویٰ کہ مریم نواز نے اپنی بیٹی کی 13 سال کی عمر میں گریجویشن کا دعویٰ کیا، جھوٹ، گمراہ کن اور سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کی گئی معلومات پر مبنی ہے۔

Expose Propaganda

16,252 görüntüleme • 2 ay önce

"چل جھوٹی " آج جس وقت سپریم کورٹ میں مریم نواز شریف اپنے جیل میں قید ہونے کے دکھ سنا رہی تھیں کہ "میری تیرہ سالہ بیٹی جب ملنے آتی تھی ' روتے ہویے جاتی تھی" تو عین اس وقت پنجاب کی جیل میں قید ڈاکٹر یاسمین راشد کینسر سے لڑ رہی تھی ' صنم جاوید اور فلک جاوید محض سیاسی بغض میں مہینوں سے جیل میں قید تھیں اور ایمان زینب مزاری محض ایک ٹویٹ پر جیل میں قید چیف منسٹر کی منافقت کو منہ چڑھا رہی تھی - جس وقت مریم نواز جیلوں میں اصلاحات جیسے کہ قیدیوں کیلئے وڈیو کالز ' خاندان سے ملاقات کیلئے الگ کمروں کا ذکر کر رہی تھیں ؛ اس وقت پنجاب کی ہی ایک اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے سات ماہ سے اپنے گھر والوں سے نہیں ملا تھا - اس کے بچوں سے اسکی بات اور اس کی بہنوں سے اسکی ملاقات پر پابندی چیخ چیخ کر اس اداکاری کا پردہ فاش کر رہی تھی - جس وقت مریم نواز یہ کہ رہی تھیں کہ جیل میں قید چاہے کوئی میرا مخالف ہی کیوں نہ ہو ' بنیادی انسانی حقوق پر اس کا حق ہے ' اس وقت جیل میں قید بشری بیبی اپنی بیمار آنکھ پر ہاتھ رکھے اپنے بنیادی انسانی حقوق چھن جانے پر اس جھوٹ اور مکاری پر مسکرا رہی تھیں - اس تقریر کو سننے والے سامنے بیٹھے چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحیی آفریدی کو بھی خوب معلوم تھا کہ یہ سب جھوٹ ' بکواس ' کوڑ اور کذب ہے ' پر وہ بھی اپنی تنخواہ والی ڈیوٹی پوری کر رہے تھے یعنی سر ہلا رہے تھے - اور اس ہال میں موجود ہر چیز ہر در و دیوار ہر کرسی و محراب سمیت ہرشخص تقریر کے دوران جس طرح مسکرا رہا تھا مجھے لگ رہا تھا کہ زبان حال سے جیسے کہ رہا ہو "چل جھوٹی " --------------------------------------------------- Sabir Shakir Moeed Pirzada Imran Riaz Khan Maryam Riaz Wattoo

Dr Waqas Nawaz

12,194 görüntüleme • 2 ay önce

سمگلر نامزد وزیراعلی خیبرپختونخوا کے کرتوت دنیا کے سامنے‼️ نامزد وزیراعلیٰ پر سنگین الزامات بھائی کی گاڑی سے منشیات برآمدگی کا انکشاف‼️ نامزد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر منشیات اسمگلنگ میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حیات آباد پولیس نے کارخانو چیک پوسٹ پر ایک مشکوک گاڑی کو روکا جسے مبینہ طور پر سہیل آفریدی کے بھائی عامر آفریدی چلا رہا تھا۔ ذرائع کے مطابق گاڑی کی تلاشی کے دوران 20 کلو گرام آئس اور مبینہ طور پر ڈانس پارٹی میں استعمال ہونے والی ممنوعہ اشیاء برآمد ہوئیں۔ تاہم یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے اس معاملے کو دبا دیا گیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او حیات آباد طارق نے مبینہ طور پر سی سی پی او قاصم علی خان کو اطلاع دی کہ گاڑی میں منشیات کی موجودگی کی تصدیق ہو چکی ہے مگر بعد ازاں مبینہ حکم پر ملزم کو رہا کر دیا گیا۔ مزید یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ سہیل آفریدی اکثر اسلام آباد کے دورے کرتے ہیں جہاں وہ مبینہ طور پر ایک معروف اسمگلر ابراہیم شنوری سے ملاقات کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق قطر میں گرفتار حماد نامی ایک ملزم نے اپنے بیان میں کہا کہ اسے سہیل آفریدی کی جانب سے ہر ٹرپ کے 10 لاکھ روپے ملتے تھے، اور وہ سعودی عرب کے لیے دو ٹرپس بھی کر چکا ہے۔

PakVocals

64,301 görüntüleme • 11 ay önce

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی اور نورین خانم نیازی کی بالآخر ملاقات ہو گئی اس موقع پر سہیل خان آفریدی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جس نوعیت کی فسطائیت ظلم اور جبر اس وقت پنجاب میں مسلط ہے اس کی مثال شاید ہی ملتی ہو قریب ایک ہزار کے لگ بھگ کارکنان گرفتار کیے جا چکے ہیں اور اب صورت حال یہ ہے کہ محض تصویریں بنانے اور یادگاری تصاویر لینے والے افراد کو بھی حراست میں لیا جا رہا ہے پنجاب پولیس شدید خوف میں مبتلا دکھائی دیتی ہے اور اسی خوف کے زیر اثر وہ ایسے اقدامات کر رہی ہے سہیل خان افریدی نے مزید کہا کہ عمران خان نے مجھ پر ایک نہایت اہم اور باوقار ذمہ داری عائد کی ہے اور میں اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار ہوں اللہ تعالیٰ ہر انسان پر اتنی ہی آزمائش ڈالتا ہے جتنا اس کے کندھوں میں برداشت کی قوت ہوتی ہے سہیل خان افریدی نے تحریک لبیک پاکستان کے حوالے سے کہا کہ ان کے ساتھ روا رکھا جانے والا ظلم انتہائی قابل مذمت اور شرمناک ہے ان کے ہزاروں کارکنان کو گرفتار کیا جا رہا ہے اور اگر ہم نے آج ان کے ساتھ کھڑے ہونے سے گریز کیا تو کل یہی جبر ہم سب کے حصے میں آئے گا نورین خانم نیازی نے کہا کہ پنجاب میں فسطائیت کی تمام حدیں پار کی جا چکی ہیں لاہور میں کسی شہری کو یہ حق تک حاصل نہیں رہا کہ وہ اپنی پسند کے مطابق پرامن احتجاج کر سکے انہوں نے کہا کہ یہ ظلم زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا یہ جبر کے آخری ایام ہیں جو اس وقت جاری ہیں ہم اس ظالمانہ نظام کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے نورین خانم نیازی نے مزید کہا کہ اگر سہیل خان افریدی میری رہائش گاہ پر تشریف لے آتے تو اس میں کوئی بات نہ ہوتی آخر میں انہوں نے کہا کہ جب تک ہمارا بھائی ڈٹا ہوا کھڑا ہے ہم بھی اس کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے اور اختتام پر سہیل خان افریدی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا

Agha Sheikh Sarwar

23,942 görüntüleme • 8 ay önce